یکیاں

Wednesday,23 June 2010
از :  
زمرات : اردو

یک سطری باتیں کرنے میں گزرے ہوئے دانشوروں کو کمال حاصل ہے، زندہ دانشوروں کو شائد مختصر بات کرنے میں الجھن ہوتی ہے یا پھر جب تک وہ گزر نہیں جاتے لوگ ان کو دانشور کا درجہ دینے کو تیار نہیں ہوتے ۔ آپ اس پر تحقیق کر لیں جتنے اقوال زریں آپ پڑھتے ہیں، ان کے خالق اپنے خالق سے جا ملے ہوتے ہیں ۔
البتہ ایک بات طے ہے کہ ان سب اقوال میں آسانی سے بہت ہی گہری بات کہہ دی جاتی ہے کہ پڑھنے والا دیر تک عش عش کرتا رہ جاتا ہے، اور جب بھی عش عش کرنے والی بات کی مثال دینے کا پوچھا جائے تو مجھے وارث شاہ کا ایک شعر ہی ہمیشہ یاد آتا ہے، وہی ادھر ایک دفعہ پھر یہاں چھاپ دیتا ہوں ۔
وارث مانڑ نہ کر وارثاں دا
رب بے وارث کر ماردا ای۔

لیکن اب اردو بلاگستان میں بھی ایسے دانشور پیدا ہو گئے ہیں جو یک سطری تبصرے سے زیادہ زخمت گوارہ نہیں کرتے ۔ اپنے تئیں یک سطری تبصروں کے ان دانشوران کے تبصرے “یکی” [پنجابی۔ اس کی اردو ایجاد نہیں ہوئی] کے سوا کچھ نہیں ہوتے ۔ ان کے تبصروں کی سب سے خاص بات تبصرہ کردہ تحریر سے میل نہ کھانا بلکہ اس تحریر کے تبصروں پر تبصرے ہونا ہے بلکہ تبصروں کی بجائے تبصرہ نگاروں پر تبصرے کرنے کا رجحان، دانشوران میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ بالفرض محال اگر آپ کے پاس پانچ منٹ سوچنے کا وقت ہے تو “تنی منٹی” آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ تبصرہ اصل میں ایک اعلی نسل کی “چول” کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ تبصرے کا مقصد صرف دوسرے فریق کو زچ کرنا تھا ۔

لیکن یہ حیرت کا دور ختم ہونے سے پہلے ہی اس یک سطری “چول” پر چھ سو چونسٹھ الفاظ پر مشتمل ایک عدد تبصرہ وارد ہو جاتا ہے اور جواب آں غزل کی صورت میں ایک “چوندی چوندی” یک سطری “چول” پھینک کر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا بلاگی دانشور منہ پھاڑ کر قہقہہ لگاتا ہے۔ مجھے یک سطری دانشوران کی نسبت چھ سو چونسٹھ الفاظ والے تبصروں پر دکھ ہوتا ہے، کیونکہ یک سطری دانشوران کی مثال ایسے دیکھنے والے کی طرح ہے جو دیکھ کر کچھ نہیں دیکھتا اور سن کر بھی کچھ نہیں سنتا، جس تبصرے کا مقصد ہی زچ کرنا مقصود ہو اُس پر اپنی توانائیاں ضائع کرنے کا فائدہ، کیونکہ پنجابی میں کہتے ہیں کچھ لوگوں کا “کاں” ہمیشہ چٹا ہی رہنا ہے، لہذا تسی احتیاط کرو۔ کیچڑ سے بچ کر چلنے سے ہی کپڑے صاف رہ سکتے ہیں “چھال” مارنے سے نہیں ۔

تبصرہ جات

“یکیاں” پر 6 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. دوست says:

    میں تو خاموش رہنا ہی پسند کرتا ہوں۔ بلاگز پر بھی اور اردو ویب محفل پر بھی۔

  2. ابرار حسین says:

    اب ہر بندہ ہر موضوع پر تو بات کرنے سے رہا(اتنا علم تو کسی کے پاس نہیں).ہاں اگر موضوع کے متعلق کسی کے پاس کہنے کو کچھ ہوتو لوگ اپنا نقطعہ نظر بیان کر جاتے ہیں ،ورنہ کوئی پھلجھڑی چھوڑ کر نکل جاتے ہیں.(تاکہ حاضری لگ جائے).

  3. ہی ہی ہی نیٹی نیٹی مزا مزا اگر وقت ھو یہhttp://yaserjapani.blogspot.com/2010/05/blog-post_7381.html پڑھیں جن کا کاں چٹا ھوتا انہیں اس طرح کے لوگ ملتے ہیں اور یک سطری ؛یکی ؛کرکے انجوائے کر تے ہیں۔

  4. شیطان کے شہد لگانے والی کہانی تو سب ہی نے پڑھ سن رکھی ہوگی. بس ہمارے کچھ احباب اس کہانی کو ‘فالو’ کرتے ہوئے اس کے سبق پر عمل پیرا ہیں.

  5. آج کا بلاگر پوسٹتا ہی اس لیے ہے کہ چولیں وجیں اور دنگے ہوں

  6. کاں آجکل بہت ہو گئے ہيں ہر جگہ کائيں کائيں کر رہے ہيں
    آپ کے موضوع پر کئے گئے ابرار حسين کے خيالات جيسے ہيں ميرے خيالات بھی

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔