ماحول کا اثر

Thursday,8 July 2010
از :  
زمرات : پاکستان, اردو

آپ اسی کی دہائی میں پاکستان میں پیدا ہوئے ہوں، اور لفظ خلاصہ سے نامانوس ہوں، ممکن ہی نہیں ۔ سونے پر سہاگہ کے مصداق دوران تعلیم اگر کسی ایسے استاد کے ہتھے چڑ جائیں جو ایک عدد خلاصے کے ادیب بھی ہوں، تو کیا کہنے ۔ جماعت نہم میں ہمارے ایک استاد تھے، انہوں نے بھی ایک عدد خلاصہ چھپوایا ہوا تھا، ظاہر سی بات ہے نصاب کی کتابوں کے علاوہ ان کا لکھا ہوا خلاصہ خریدنا بھی شاگرد پر قرض تھا، اور امتحانات میں خلاصہ سے اقتباسات پیش کرنے پر اضافی نمبر ملنے کے مواقع یقنی تھے ۔ وہ ہمیں اردو پڑھاتے تھے ۔ چند جملے خلاصہ میں ایسے تھے کہ ردوبدل کے بغیر ہی ہر جگہ بخوبی استعمال کئے جا سکتے تھے ۔

ایک جملہ جس کا استعمال میں نے ہر بڑے انسان پر مضمون لکھنے سے لے کر غالب کے اشعار کی تشریح لکھتے وقت، ہر مقام پر اتنا کیا ہے کہ ابھی تک خواب میں مجھے اس کی بازگشت دیکھائی دیتی ہے، جملہ کچھ یوں تھا “ہر ادیب اور شاعر اپنے ماحول اور گردوپیش کا عکاس ہوتا ہے” چاہے غالب کے شعر کی تشریح ہو یا الطاف حیسن حالی پر مضمون لکھنا ہو، یہ جملہ تمام مقاصد پورا کرتا ہے ۔

میں نے زندگی میں کبھی کسی لڑکی کو نہیں چھیڑا، وجہ میری شرافت نہیں بلکہ اس چھترول کا خوف تھا جو عموماً ہمارے علاقہ میں ایسے مواقع پر ہو جانے کا اندیشہ رہتا تھا ۔ بعد میں پنجاب میں ہر بڑے شہر اور حتی کہ کراچی میں دوران قیام اس بات کا اندازہ ہوا کہ کم و بیش ہر جگہ اس چھترول کا خوف کسی نہ کسی حد تک موجود ہے ۔ بحثیت قوم ہمارے ہاں ایسے مواقع پر خواتین کے خدائی مددگار نمودار ہو جاتے ہیں، ان کا جوش دیدنی ہوتا ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل افراد سے اس “دبڑ کٹ” کی زیادہ تفصیلات سنی جا سکتی ہیں ۔

اب اردو بلاگستان کو دیکھ لیں، ایک خاتون فرانس سے ایک تحریر لکھتی ہیں ۔ تحریر پر ایک تبصرہ نگار امریکہ سے تبصرہ کرتا ہے، جبکہ اُس تبصرے کا جواب کینیڈا سے موصول ہوتا ہے، اور یوں ایک نئی کہانی چل پڑتی ہے ۔ خلاصے کی بات بلاگستان کے لئے بھی درست لگتی ہے کہ “پر ادیب اور شاعر اپنے ماحول اور گردوپیش کا عکاس ہوتا ہے” ۔

تبصرہ جات

“ماحول کا اثر” پر 21 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. بال بال بچ گئے ہيں کہ ميری اولاد بھی اسی کی دہائی سے قبل پيدا ہو گئی تھی

  2. واقعی یہ بات ٹھیک ہے کہ ہر ادیب اور شاعر اپنے ماحول اور گرد و پیش کا عکاس ہوتا ہے لیکن ساتھ ساتھ وہ اپنے ارد گرد کے لوگوں سے کچھ ہٹ کر بھی سوچتا ہے اور یہی بات اُسے لکھنے اور اپنا مطمح نظر کے ابلاغ پر مجبور کرتی ہے . رہی بات اردو بلاگستان کی تو یہاں لوگ انجانے میں کچھ دھڑوں میں بٹ گئے ہیں اور نتیجتاً لکھنے والے اپنی عقل کو بھی اپنے نظریات کے تحفظ کے لئے استعمال کرتے ہیں اور یہاں آزادانہ سوچ اور غیر جانب دار تجزیوں کی رمق بامشکل ہی نظر آتی ہے.

  3. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    واقعی یہ بات توہےکہ شاعریاادیب اپنےوقت کی بہترین عکاسی کرتاہےلیکن اس کی سوچ اس کےخیالات اوراس کالکھنےکااندازسب سےجداہوتاہے۔

    والسلام
    جاویداقبال

  4. ماحول کے اثر والی بات کچھ کچھ تو ٹھیک ہے مگر آپ ایک اور بات دیکھیں وہ ہے مکتبہ فکر…… اب ماحول کا اثر کم ہوتا ہے.
    اور احباب کی سوچ و عمل مختلف نظریات کے زیر اثر ہے. اور ہر طرح کی سوچ ملک کے اندر پروان چڑھ رہئ ہے ملک کے اندر بلکہ دو مختلف انتہاؤ کے لوگ ایک ہی گحر میں مل جائیں گے.

  5. عکاسی والی بات تو سولہ آنے درست ہے. لیکن بلاگستان کے لئے اردگرد کا لفظ حزف کر کے دور دور کا لفظ لگا دیں تو مناسب رہے گا. چھترول والی بات پر غوروغوص کے بعد آج مجھے پتہ چلا کے میں کیوں تھوڑا شریف رہ گیا.

  6. عثمان says:

    بھائی جان
    آپ نے میری واٹ کیوں لگا دی؟ میں پھپھے کٹنی کے بلاگ پر ایسا کیا لکھا ہے؟ اور کس کو لکھا ہے؟

  7. عثمان says:

    ویسے آپ ایک بہت بڑی بات بالکل گول کر گئے۔

    آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اردو بلاگستان میں خواتیں کی تعداد انتہائی کم کیوں ہے؟

  8. عثمان says:

    اور ایک اور بات۔۔۔
    جنہوں نے غلیظ تحریریں لکھیں ہیں ان کی ہجو تو آپ نے کی نہیں۔ سیدھی سادھی دو لائینیں لکھنے والوں پر آپ چڑھ دوڑے۔ میری تحریر ” تکلفات ” کسی خاتون بلاگر کے درد مین نہیں بلکہ ایک بزرگ بلاگر سے ان کی بزرگی کی وجہ سے بحث نہ کرسکنے کی وجہ سے تھی۔
    اس بلاگستان میں کینیڈا سے صرف میں ہی لکھ رہا ہوں۔

    باقی فلسفہ میں پھر کبھی بیان کروں گا۔

    • میرا خیال ہے اس تحریر کے آغاز میں فلمی طریقہ سے لکھ دینا چاہیے تھا کہ نام اور مقامات کی مماثلت سے صرف نظر کیا جائے .
      اس تحریر میں جو مضمون بیان کیا گیا ہے اس کے مطابق مجھے بذات خود ایسا محسوس ہوا ہے کہ خواتین کے بلاگز پر مجھے ایسا رویہ دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے کہ تبصرہ نگار، مصنف سے کچھ پوچھتا ہے لیکن مصنف کے جواب دینے سے پہلے ایک تیسرا بندہ اس کا جواب مصنف کی جانب سے دے رہا ہوتا ہے . اب اس رویہ پر اگر بات کرنی ہو تو ہو سکتی ہے . مقامات، شخصیات کی یہاں پر قید نہیں، تحریر میں مقامات اس لئے نہیں دئے کہ صرف یہی لوگ ایسا کرتے ہیں صرف بات کو واضح کرنا مقصد تھا .
      ویسے دیکھیں تو امریکہ میں، میں خود رہتا ہوں اور میرا پاکستان والے افضل صاحب بھی کینیڈا میں رہتے ہیں . آپ زیادہ ہی جذباتی ہو گئے .

      • عثمان says:

        جس تیسرے بندے کی آپ نے بات کی ہے وہ بارہ سنگھا کے نام سے مشہور ہیں۔ اور ان کا کل وقتی کام ہی خواتین بلاگر کے ساتھ Co-Blogging کرنا ہے 🙂 اور وہ غالبا سعودی عرب سے ارشاد فرماتے ہیں.

        بہرحال وضاحت کا شکریہ.

        خواتین بلاگر کی کمی کی بڑی وجہ ہمارا معاشرتی مزاج ہے جس میں خواتین کی اپنے خیالات اور آراء کا سرعام بے دھڑک اظہار بڑی حد تک معیوب سمجھا جاتا ہے. کوشش کروں گا کہ کبھی اس پر تفصیلی بات کروں.

        • عبداللہ says:

          سوال یہ ہے کہ کسی کے کو بلاگر بن کر جواب لکھنے پر اگر اعتراض کا حق ہے تو وہ صاحب بلاگ کو ہے،اور اگر صاحب بلاگ کو کوئی اعتراض نہیں تو باقی لوگوں کے پیٹ میں درد اٹھنے کی وجہ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
          ایک اور راز کی بات جانوروں کو جانوروں ہی سے دلچسپی ہوتی ہے،اسی لیئے وہ انسانوں کو بھی اپنے جیسا جانور سمجھتے ہیں اور ان کی اس مجبوری کو تمام سمجھدار لوگ خوش دلی سے نظر انداز کردیتے ہیں!
          کہیں آپ کا شمار بھی ایسے ہی انسان نما جانوروں میں تو نہیں؟؟؟؟
          🙂

          • عثمان says:

            بارہ سنگھے کو یاد کیا
            بارہ سنگھا آگیا!

            مجھے خوشی ہے کہ کم از کم آپ نے اپنی شناخت تسلیم تو کی.
            🙂

          • عبداللہ says:

            مثال کے طور پر آپکو میری کس بات سے لگا کہ میری کوئی شناخت آپ نے ڈسکور کی ہے اور میں نے اسے تسلیم بھی کر لیا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
            آپ فی الحال اپنی شناخت ڈھونڈیں یہ آپ کے حق میں ذیادہ بہتر ہوگا!!!!!
            🙂

    • ویسے اس تحریر سے دو تحریریں پہلے بقول آپ کے غلیظ تحریروں پر بطور خاص لکھی تھی .

  9. نعمان says:

    اردو بلاگستان ایک بہت چھوٹی کمیونٹی ہے۔ اور اتنے سالوں بعد بھی چھوٹی ہی رہ گئی ہے بڑی نہ ہوسکی۔

  10. عثمان کی بات قابل غور ہے کہ اردو بلاگستان ميں خواتين کی تعداد کم کيوں ہے ؟
    پاکستان کے تدريسی ماحول ميں خلاصے کی بہت اہميت ہے جہاں ٹيچر کچھ پڑھائيں ہی نہ وہاں کم از کم خلاصہ تو ہونا چائيے خصوصا ميتھ کا

  11. جعفر says:

    اور اس قسم کے ماما خوامخواہ قسم کے تبصرہ نگار زیادہ تر صنف نازک کے بلاگز پر ہی جھاڑیوں میں الجھے پائے جاتے ہیں۔۔
    اور ہر مخالف رائے والے کی ہوا کو بھی تلواریں مارتے ہیں۔۔۔ حیرانی تو اس بات پر ہے کہ تبصرے حاصل کرنے کے لئے بلاگرز بھی اس رویہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔۔
    تازہ ترین مثال مظفر گڑھ کے نواھ میں ہونے والی ایک واردات پر لکھے گیا بلاگ ہے۔ جہاں کچھ ‘نامعلوم‘ فرد یا افراد پنجابیوں کو گدھے کے لقب سے پکارتے ہیں اور صاحبہ بلاگ اس پر اپنی خوشی چھپا نہیں سکتیں۔۔۔۔
    اب شاید نامعلوم فرد کو گدھے میں شفقت پدری نظر آتی ہو۔۔۔

    • آپ لوگوں کا مسلہ یہ ہے کہ سیاق و سباق سے ہٹ کر مخصوص الفاظ کو پکڑ کر اپنے مرضی کے مطابق معنی پہنا لیتے ہیں، حالانکہ اگر وہ پورا تبصرہ پڑھا جائے تو انہوں نے میسیحیوں کو کھانا روکنے پر مخصوص لوگوں کو ہی اس لقب سے پکارا ہے :p

    • عبداللہ says:

      کیوں اپنی دم پر پاؤں پڑا تو بلبلا اٹھے،
      🙂

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔