اجارہ داری۔

Sunday,1 February 2009
از :  
زمرات : اردو

پچھلی ایک تحریر میں، میں نے کہا تھا کہ علم کا فروغ ہی علم کی معراج ہے ۔ہم میں موجود اور بہت سی برائیوں میں ایک برائی علم پر اجارہ داری قائم رکھنے کی بھی ہے ۔ جس کو جستجو ہوتی ہے وہ ضرور اپنا مقام پیدا کر لیتا ہے، لیکن اُس کے راستے کٹھن کر دئے جاتے ہیں ۔ اپنے معاشرے میں نچلے طبقہ سے اوپر تک دیکھ لیں، علم بانٹنے میں کنجوسی برتی جاتی ہے ۔ ورکشاپ میں کام کرنے والے چھوٹے کو اُستاد گُر نہیں بتائے گا کہ وہ اُس کا دستِ نگر رہے، اور اکثر چھوٹے کئی کئی سال اِس مہربانی کی بدولت چھوٹے ہی رہتے ہیں ۔ موسیقار گھرانوں کو دیکھیں،اُستاد جی بڑے چُن کر اپنے شاگرد بناتے ہیں،اور اُس کے لئے بھی سو جتن کرنے پڑتے ہیں کہ اُستاد فلاں اپنی شاگردی میں لے لیں ۔اور تو اور صوفی اسلام کے بارے میں پڑھیں وہاں بھی پیرِ صاحب کسی کسی کو ہی مریدی کا مرتبہ بخشتے ہیں، باقی علم حاصل کرنے والے جوتیاں گھستے رہ جاتے ہیں مگر مرد قلندر کی آنکھ جوہر کو تلاش کر کے صرف اسے ہی علم کا اہل سمجھتی ہے ۔
انٹرنیٹ کو ایک لامحدود دنیا کے نام سے پکارا جاتا ہے، جہاں تھوڑی سی جستجو سے آپ مطلوبہ مقام تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں ۔ ہم لوگوں نے انٹرنیٹ پر بھی اپنی عادات نہیں بدلیں ہیں، وہی دشنام طرازی اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی بجائے ٹانگ کھینچنے کا عمل یہاں بھی جاری ہے، اور انٹرنیٹ پر اردو کمیونٹی اور بھی مختصر ترین ۔ آج سے تین چار سال پہلے انٹرنیٹ پر تحریری اردو میں مکمل ویب سائٹ بی بی سی تھی، اِس کے بعد چند اِکا دکا بلاگ ویب کی زینت بننے لگے ۔ بلاگ سے ایک مربوط کمیونٹی بنانے کا عمل شروع ہوا، پہلے اردو سیارہ اور اُس کے بعد اردو محفل ترتیب دی گئی ۔ اردو محفل کا آغاز اردو بلاگنگ کے لئے تازیانہ ثابت ہوا، اسی کی بدولت آج ویب پر کم سہی مگر بہت سی اردو ویب سائٹس اور بلاگز کا آغاز ہوا ۔ اردو محفل بنانے میں کئی ایک لوگوں کا ہاتھ ہے، جس میں ترجمہ کرنے والے، ترجمہ کرنے والوں کی محنت کو لے کر اسے ایک عملی شکل دینے والے ۔ لیکن سب سے بڑی خصوصیت جو تھی، وہ ایک عدد آزاد مصدر ویب بیسڈ جاوا سکرپٹ پر مبنی اردو ویب پیڈ کا تشکیل دینا اور اسے استعمال کرنا تھا، جو اس سے پہلے اس صورت میں کسی ویب سائٹ پر موجود نہیں تھا، اس ویب پیڈ کی بدولت بغیر کسی اضافی مدد کے صارف ویب پر اردو لکھ سکتے ہیں، بالکل جیسے انگریزی لکھی جاتی ہے، اور اب بیشتر اردو ویب سائٹ میں اِس کا استعمال ہو رہا ہے ۔ اِس ویب پیڈ کے بنانے والے نبیل حسن نقوی جرمنی میں مقیم ہیں، اور “منڈے کھنڈے” نہیں بلکہ خانگی ذمہ داریوں میں گھرے ہیں، بغیر کسی لالچ کے انہوں نے یہ تحفہ اردو کمیونٹی کو دیا ۔
لیکن جناب چین کہاں تھا، یہاں بھی رونا ڈال دیا گیا وہی بچوں کی طرح “سر اِس نے چیٹ کیا ہے”، اِس رونے کی تفصیل ایک عدد بلاگر پہلے بھی لکھ چکے ہیں، لیکن چونکہ لکھ کر مٹانے کی عادت ہے،اِس لئے وہ دیکھا نہیں جا سکتا ۔ رونے کی مختصر داستان یوں ہے کہ ایک عدد ویب سائٹ پر ایسا ویب پیڈ استعمال ہو رہا تھا، لیکن ایسی صورت میں جیسے اب ہر سائٹ پر ہے ویسے نہیں، بلکہ اجارہ داری کی طرز پر کہ ہماری سائٹ پر آؤ، وہاں بھی دوسری جگہ جاؤ، وہاں عبارت لکھو، کاپی کر کے واپس آؤ اور پھر پیسٹ کرو ۔ویب سائٹ کے منتظم صاحب سے التجا کی گئی کہ صاحب اِسے عام کر دیں، جس پر انہوں نے انکار کر دیا، جو اُن کا حق تھا ۔ اُسی ویب پیڈ سے متاثر ہو کر نبیل نے کچھ عرصہ بعد موجودہ ویب پیڈ بنا کر عام کر دیا، تو ایڈمن صاحب کی ویب پر اردو کی اجارہ داری ختم ہوتی نظر آئی، انہوں نے بیان کردہ بلاگر کو جس کا ویب پیڈ سے تعلق ہی نہیں تھا، کو ای میل کھڑکا دی کہ “تُسی چور او”، فلاں ہو وغیرہ وغیرہ ۔
آج اِس بات کو چار سال گزر چکے ہیں، لیکن موصوف کا رونا ختم نہیں ہوا ۔ القمر آن لائن کا میں گاہے بگاہے مطالعہ کر لیتا تھا، ایک دن وہاں گیا تو وہاں بھی تبصروں میں ایک دوسرے کے خلاف جنگ چھڑی ہوئی تھی، اور کچھ لکھنے والوں کی طرف سے کہ ہمارا القمر سے کوئی تعلق نہیں ہم نے ڈیڑھ اینٹ کی اپنی مسجد عالمی اخبار کے نام سے بنا لی ہے، وہاں مِلو ۔ میں وہاں ملنے گیا اور ہم سے ملئے میں مندرجہ ذیل عبارت

یہ جو آج جگہ جگہ ویب بیسڈ اردو رائڑرز دستیاب ہیں ان سب کا باوا آدام دراصل اردو پیڈ ہی ہے۔ کچھ لوگ اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں، اور کچھ لوگ بھول بھی جاتے ہیں۔ مگر انہیں اس بات کا کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہے،ان کا کہنا ہے کہ چلیے کسی حال میں سہی اردو کا نام تو سر بلند ہو رہاہے۔ ہماری خیر ہے۔

صاحب آپ نے تو انکار کر دیا تھا اسے عام کرنے سے، اب کھمبا کِس لئے نوچ رہے ہیں؟ آج اردو سیارہ پر عالمی اخبار کی تحریر دیکھی ۔ پتہ نہیں جنگ، بی بی سی، اردو پوائنٹ بلاگرز کو سیارہ پر جگہ نہیں ملی، عالمی اخبار کے بلاگرز کو خصوصی رعائت؟
ویسے حیرت کی بات یہ ہے کہ عالمی اخبار میں پیش کردہ اقتباس میں جس باوا آدم کا ذکر ہے، اُس کی بجائے نبیل کے کاکے کا استعمال بھی دھڑا دھڑ کیا جا رہا ہے ۔
میں بہت معذرت کے ساتھ یہ تحریر ارسال کر رہا ہوں، میں ہمیشہ اِس بات پر کاربند رہا ہوں کہ اردو ویب سائٹس یا ان کے چلانے والوں کے خلاف کچھ نہ کہا جائے، پہلے ہی چھوٹی کمیونٹی اوپر سے لوگ بدمزہ ہو جاتے ہیں ۔ لیکن بعض اوقات سند کے لئے لکھنا پڑتا ہے، انہی بعض اواقات میں یہ تحریر شامل ہے ۔

تبصرہ جات

“اجارہ داری۔” پر 20 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. خاور says:

    ھوں !!!!!!!!!!!!!!!!!!ـ

  2. خاور says:

    علم میں اضافه هوا ـ

  3. شکاری says:

    یہ چھوٹی سی اردو کمیونٹی اور پھر چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوجانے کی عادت مجھے بہت بری لگتی ہے. ابھی کچھ دن پہلے بلاگز کے معاملے میں ایک صاحب اور اردو محفل کی انتظامیہ میں جھگڑا ہو چکا ہے حالانکہ بات کچھ بھی نہ تھی.

  4. بہت اعلٰی… فرقہ بندیوں میں ہم لوگوں کو کوئی مات نہیں دے سکتا خاص طور پر فرقے کی بنیاد جو باتیں بنتی ہیں وہ تو بذات خود اعلٰی درجے کا مزاح پیدا کرتی ہیں..

  5. کیوں پریشان ہوتے ہیں بھائی………………. “کتے بھونکتے رہیں گے اور قافلے چلتے رہیں گے”

  6. ڈفر says:

    اردو ویب سائٹس یا ان کے چلانے والوں کے خلاف کچھ نہ کہا جائے، پہلے ہی چھوٹی کمیونٹی اوپر سے “لوگ بدمزہ ہو جاتے ہیں” والی بات بالکل صحیح ہے اور شکاری نے ایک بڑی بر محل یاددہانی کروائی،
    بات ساری راشدکامران والی ہی ہے، ہم لوگ گروہ بندی کے اتنے نشئی ہو کے ہیں کہ ہم ہر جگہ گروپ بازی شروع کر دیتے ہیں.
    اردو پیڈ کی یہ ساری تاریخ مجھے آج پتا چلی ہے میں تو آج تک اردو اور ویب پیڈ کو ایک ہی سمجھ رہا تھا. اب تو میری طرف سے نبیل صاحب کا شکریہ واجب ہو گیا ہے اور جس نے اسکو چھپا کر رکھا ہوا تھا اس کے لئے … اچھا اسکو رہنے ہی دیں. میرا پیغام محبت، جہاں تک پہنچے 😉

  7. بہت اچھا کیا کہ آپ نے اُردو بلاگنگ کی بہت مختصر مگر جامع تاریخ لکھ دی ۔ ایک طرف تو بات ہوتی ہے کہ اُردو بلاگنگ ترقی کیوں نہیں کرتی حالانکہ میرے خیال کے مطابق ترقی کر رہی ہے دوسری طرف جسے دیکھو وہ اُردو کی بجائے اپنا نام اُونچا کرنے کی کوشش میں سب حدود پار کر جاتا ہے ۔ کچھ لوگوں کو جھگڑا پیدا کرنے کا فن آتا ہے ۔ انفرادی طور پر تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن جو لوگ خود ویب سائٹ کے مالک بننے کا دعوٰی کرتے ہوئے جھگڑے پیدا کرتے ہیں وہ ناقابلِ برداشت ہے ۔

  8. نبیل says:

    شکریہ جہانزیب، واقعی ہم لوگ خود ہی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے لیے کافی ہیں،
    کچھ دوستوں نے جھگڑے کا ذکر کیا ہے تو اس بارے میں عرض یہ ہے کہ بہتر یہ ہوتا کہ ہر ایک اپنی حدود پہچانے، اپنی حدود سے تجاوز کرنا ہی خرابی کا باعث بنتا ہے، اور کچھ لوگوں کو خود اپنا تماشا لگانے کی عادت ہوتی ہے، اس میں ہم ان کی مدد نہیں کرتے

  9. نبیل says:

    اور نبیل کے کاکے کے استعمال کی بات بھی خوب کی 🙂

  10. فیصل says:

    کچھ سمجھ آیا کچھ نہیں آیا. خیر پتہ نہیں لوگ اتنا وقت کیسے نکال لیتے ہیں اس لڑائی جھگڑے کیلئے. ایک طرف تو اوپن سورس کی دھوم مچی ہے دوسری طرف ایک پیڈ پر جھگڑا؟ بڑی بات ہے جی.

  11. نعمان says:

    میں فیصل اور راشد کے تبصرہ جات سے متفق ہوں۔ کیا اردو پیڈ اوپن سورس اپلیکیشن نہیں ہے؟ میرے خیال میں اس کو تقسیم کرتے وقت اردو ویب پر ایسی کوئی ہدایت نہیں دی جاتی کہ ان سوفٹویر کے لکھنے والوں کو کریڈٹ دیا جائے۔ اگر کوئی نہیں دینا چاہتا تو نہ دے۔ اور اگر کسی کو اپنی مسجد بنانے، اپنی تعریفیں کرنے یا کچھ بھی کرنے کا شوق چرایا ہے تو کرنے دیں۔

    • نبیل says:

      نعمان اور فیصل،میں آپ کی بات سے متفق ہوں، اوپن سورس کا مقصد کمیونٹی کی سروس ہوتا ہے نہ کہ اس پر اجارہ داری قائم کرنا،

  12. میں ابھی 2 سال ہوئی اردو بلاگنگ میں آئی ۔ پہلے پہلے کبھی لکھنے کا شوق تھا پھر چھوڑ دیا ۔ دوبارہ شروع کیا تو سمجھ سے باہر ہے کہ اور ادب میں اگر سچا اور کھرا نہیں لکھا جا سکتا تو پھر جھوٹ بول کر کم ازکم اردو کی عزت تو رکھ لو۔ ھر کچھ نام ایسے ھیں جو نہیں چاہتے کے نیے آنے والے سامنے آہین اور اگر آہیں بھی تو ھماری مرضی سے ۔ اگر ھم نے تھوڑا بہت سیکھایا ھے تو بس ھمارے نوکر بن کر رہیں ۔ وہ اپنی بڑائی قائم رکھنے کو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ ھم لوگوں کو اردو سیکھا رہئے

  13. نبیل says:

    ارے واہ، ابھی تک یہاں تبصرے کیے جا رہے ہیں،
    کسی کے جھوٹ اور منافقت کی نشاندہی کر دو تو وہ آپے سے باہر ہی ہو جاتا ہے اور شور مچانے لگ جاتا ہے کہ اجارہ داری قائم کی جا رہی ہے اور بڑائی ثابت کی جا رہی ہے،

  14. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    واقعی آپ کی بات بالکل درست ہےکہ علم کسی کی معراج نہیں ہےلیکن لوگ پتہ نہیں کوئی چیزبناء کرسمجھتےہیں کہ اب کوئی اورایساکرنہیں سکتالیکن رب تعالی نےہرسیرکےلیےسواسیررکھاہواہے۔ہمیں چاہیےکہ جس نےچیزبنائی ہےاسکی تعریف کریں ناں کہ اس کوبرابھلاکہیں۔

    والسلام
    جاویداقبال

  15. قیصرانی says:

    مزے کا بلاگ ہے۔ بلکہ کئی لوگوں کو اپنے فشار خون پر اجارہ داری رکھنے کے لئے باقاعدہ بلڈ پریشر کی ادویات بھی لینی پڑیں گی۔ آخر ان کا مقابلہ “نبیل کے کاکے” سے جو آن پڑا ہے 😀

  16. چار سال بعد یہ تحریر پہلی بار یہاں پڑھی ہے۔ شکریہ جہانزیب صاحب۔
    چار سال بعد بھی کسی نے کیڑے نکالے تو ہم کو بھی یہاں کچھ لکھنے پر مجبور ہونا پڑا ۔۔۔ جہاں آپ نے تبصرہ کر کے اپنی اس یادگار تحریر کی طرف متوجہ کیا ، شکریہ
    خنجر چلے اردو پہ ، تڑپتے ہیں ہم مگر ۔۔۔

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔