افتخار اجمل صاحب کی یہ تحریر پڑھنے کے بعد میرا ارادہ تھا کہ وہاں تبصرہ کیا جائے، لیکن تبصرے کے طویل ہونے کے باعث میں نے مناسب یہی خیال کیا کہ اس پر ایک علیحدہ سے تحریر لکھوں ۔
اردو پر معترض ہونے والے زیادہ تر افراد کا تانہ ایک ہی بات پر ختم ہو جاتا ہے کہ اردو میں آج کی ترقی کے حوالے سے اصطلاحات کے نام نہیں ہیں، اس حوالے سے اردو دوسری زبانوں کے الفاظ اپنانے پر مجبور ہے ۔ ایسا اعتراض کرنے والے صرف ظاہری صورت دیکھتے ہیں اور زبانوں کے ارتقاء پذیری کے طریقہ کار کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ دُنیا کی تاریخ میں مختلف ادوار میں مختلف قومیں اپنی ترقی کے عروج پر رہی ہیں، زمانہ قدیم میں یونانی ثقافت اپنے عروج پر تھی، تب اُس وقت کی دیگر زبانوں میں یونانی کے الفاظ بکثرت استعمال ہوئے ۔ بعد میں رومن حکومتوں نے اپنا عروج دیکھا تب دیگر زبانوں میں رومن الفاظ بکثرت استعمال ہونے لگے ۔ اسی طرح ساتویں صدی عیسوی کے بعد ایشیاء،افریقہ اور جبوبی یورپ میں مسلمانوں کے عروج کے ساتھ عربی الفاظ اِن علاقوں میں کثرت سے استعمال ہونے لگے، اور آج بھی انگریزی جو آج ترقی یافتہ زبان کہلاتی ہے وہ ان رومن، یونانی اور عربی اور بہت سی دیگر زبانوں کے ماخذ والے الفاظ استعمال کرتی ہے، جیسے الجبرا کا ماخذ عربی زبان ہے، لیکن جب اُسے انگریزی میں استعمال کیا جاتا ہے تب وہ ایک انگریزی لفظ سمجھا جاتا ہے، اسی طرح کیمرہ کا ماخذ عربی لفظ کمرہ ہے لیکن جب بھی کیمرہ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اُسے انگریزی کا لفظ ہی سمجھا جاتا ہے ۔ ویسے ایک نوٹ کیمرہ کا تصور سب سے پہلے ابن الحیثم نے اپنی کتاب، کتاب المناظر میں بیان کیا تھا ۔
اوپر بیان کئے گئے حقائق سے یہ سمجھانا مقصود تھا کہ زبان نہیں قوم ترقی کرتی ہے، اور ترقی یافتہ اقوام کی زبان کو ہی ترقی یافتہ زبان کی سند حاصل ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ کسی بھی مُلک میں سرکاری زبان اُس خطے میں اُس زبان کے پھلنے پھولنے میں مدد فراہم کرتی ہے، جب رومن ایمپائر کے تحت آدھی دنیا تھی انہوں نے سرکاری خط و کتابت کے لئے رومن کا استعمال کیا، عرب جہاں گئے وہاں انہوں نے عربی کو ہی سرکاری زبان کا درجہ دیا، اسی طرح برطانوی کالونیوں میں انگریزی ہی سرکاری زبان ٹھہری ۔ اس طرح کرنے سے آہستہ آہستہ سرکاری زبان کے الفاظ غیر محسوس طریقہ سے روزمرہ میں معمول بنتے گئے ۔ ہاسپیٹل یا ہسپتال سے پہلے بھی برصغیر میں مطب تھے، اسکول سے پہلے یہاں مدرسے یا مکتب موجود تھے اور ڈاکٹر سے پہلے بھی یہاں طبیب اور حکماء موجود تھے ۔ لیکن جب سرکاری دستاویزات میں آخری اصطلاحات کی بجائے انگریزی الفاظ کا استعمال ہوا اور عوام ان سے آہستہ آہستہ روشناس ہونے لگے تب یہی الفاظ معمول بنتے گئے ۔
اب ہم اردو کی تاریخ پر نظر دوڑائیں، تو اس زبان کے آغاز اور عروج کے زمانہ میں ہی برصغیر میں انگریزوں کا دور شروع ہو گیا، جِس سے اردو میں سرکاری زبان جو کہ انگریزی تھی کی ملاوٹ ہونا نا گزیر تھا ۔انگریزوں کے دور کے اختتام کے بعد پاکستان میں اردو کو قومی زبان کا درجہ تو دے دیا گیا، لیکن ہنوز سرکاری دستاویزات اور سرکاری زبان انگریزی ہی ہے ۔ میرے لئے تو یہ بات ایک انتہائی احمقانہ سوچ ہے، جس ملک کے ستر فی صد لوگ انگریزی زبان پر دسترس نہیں رکھتے اُس ملک کا آئین اور قانون انگریزی زبان میں ہے ۔ اب اگر ہم اعتراض کرتے ہیں کہ اردو جدید تقاضوں پر پورا نہیں اُترتی تب ہم اپنے آپ کو الزام دے رہے ہیں کہ اپنی زبان کو آگے بڑھانے کی صلاحیت ہم میں نہیں تھی ۔ورنہ ایسے نامساعد حالات میں بھی اردو زبان ترقی کرتی رہی ہے ۔ اور اب بھی اگر ایک پنجابی کو ایک پٹھان سے بات کرنے کے لئے ایک ذریعہ کامیابی سے فراہم کر رہی ہے ۔
دوسرا اعتراض ہے محبان اردو سے، میرے خیال میں کچھ اردو سے محبت کرنے والے کافی انتہا پسند واقع ہوتے ہیں ۔ ایک ترقی یافتہ زبان کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اُس زبان میں وقت کے ساتھ بدلنے کی صلاحیت موجود ہو، اُس میں یہ صلاحیت ہو کہ دوسری زبانوں کے الفاظ باآسانی اُس میں سما سکیں ۔ اگر آج ہم اس بات پر مُصر رہیں کہ غالب والی اردو ہی لکھی اور پڑھی جائے تو میرے خیال میں یہ اردو پر احسان نہیں بلکہ اُسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش ہو گی ۔ اگر مطب کی بجائے ہسپتال روزمرہ میں مستعمل ہے ، تو ہمیں ہسپتال استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں بلکہ فخر ہونا چاہیے کہ یہ اردو زبان کا لفظ ہے جس کا ماخذ انگریزی زبان ہے ۔ہم بڑی آسانی سے کوزہ کے لئے گلاس کا استعمال کر سکتے ہیں، اور چاہیں تو دریا کو گلاس میں بند کر سکتے ہیں ۔
یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں



اتوار,4 مئي 2008
میری بیاض کا ربط دینے کا شکریہ ۔
آپ نے اچھی تفصیل دی ہے ۔ کسی زبان میں غیر زبان کا لفظ جذب کرنے کی صلاحیت ہونا اُس زبان کے زندہ ہونے کی علامت ہے ۔ ہمارے ہموطنوں کی جو عادت میری سمجھ سے باہر ہے کہ وہ ضرورت سے بہت زیادہ انگریزی سے چمٹے رہتے ہیں باوجویکہ اُنہیں خود انگریزی پر عبور حاصل نہیں ہوتا ۔ میں جوانی میں کبھی کبھار تفننِ طبع کیلئے گفتگو میں بے ہنگم طریقہ سے انگریزی گھسیڑنے والے سے خالص انگریزی بولنا شروع کر دیا کرتا تھا جس کے نتیجہ میں اُسے انگریزی بھول جاتی ۔
محترم ۔ ستّر نہیں ہمارے ملک کے ننانوےفیصد افراد کو انگریزی پر عبور حاصل نہیں
اتوار,4 مئي 2008
بڑے اچھے طریقے سےآپ نے اعتراضات اٹھائے ہیں اور انکا جواب بھی دیا ہے . میں آپ کی رائے سے متفق ہوں اور زبان ترقی نہیں کرتی بلکہ قوم ترقی کرتی ہے سے پوری طرح متفق ہوں..
جمعتہ المبارک,16 مئي 2008
بری خثسی حوتی حی اردو مین بلگ دیک کر۔
بدھ,21 مئي 2008
اچھی پوسٹ ہے
جہانزیب تھیم میں دوسرے نمبر پر فانٹ تاہوما کر لو تو انگریزی صاف نظر آنے لگے گی