خبر باقی ہے ۔

Wednesday,31 December 2008
از :  
زمرات : پاکستان, نیو یارک, اردو

ماوراء نے یہاں اردو اخبارات کے متعلق لکھا ہے ۔اردو اخبارات میں خبروں کے معیار کے علاوہ جو چیز مجھے سب سے زیادہ سے زیادہ تنگ کرتی ہے، وہ خبر کا نا مکمل ہونا ہے ۔ آپ کوئی جناتی قسم کی سرخی پڑھ کر خبر کی تفصیل پڑھنا چاہیں، تو آ جاتا ہے کہ بقیہ نمبر ۳۶ صحفہ نمبر ۷ ۔

اردو  اخبارات

انسان اخبار کم پڑھتا ہے اور ورق الٹ الٹ کر ورزش زیادہ کرتا ہے ۔پاکستان میں تو چلو انگریزی اخبارات بھی اسی ہی قسم کے ہوتے ہیں ۔ لیکن یہاں نیویارک میں چھپنے والے اخبارات میں دو اضافی خوبیاں بھی موجود ہیں ۔ پہلی کہ خبروں کے علاوہ کالم بھی بقیہ کر کے پڑھنا پڑتے ہیں۔ دوسری بات کالم نویس حضرات کی اپنی مشہوری کی بھونڈی کوشش۔ آپ اندازہ کریں اخبار میں سے ایک کالم آپ امریکی انتخابات پر پڑھ رہے ہیں، تھوڑی دلچسپی قائم ہوئی نہیں تو ایسے جملہ آ جاتا ہے ، باراک حیسن اوبامہ کی نئی کابینہ سے اہم توقعات کی امید ہے، اس کالم پر تبصرہ کے لئے cloumn-nigar@yahoo.com پر اپنی آراء بھیجیں ۔ ہیلری کلنٹن کو انتظامیہ ۔ ۔ ۔
مجھے تو آج تک یہی سمجھ نہیں آئی کہ مکمل خبر ایک ہی جگہ دینے سے کیا اخبارات بکنے کم ہو جائیں گے؟

تبصرہ جات

“خبر باقی ہے ۔” پر 5 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. ماوراء says:

    صحیح کہا..یہ بھی ایک مسئلہ ہے. ورزش واقعی اچھی بھلی ہوتی ہے، ایک تو اخبار بھی اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اگر اس کو کھول کر پڑھا جائے تو بازوؤں کو مشرق سے مغرب تک لے کر جانا پڑتا ہے.
    اور ایک پورا الگ سے صفحہ ہوتا ہے، جس میں بقیہ حصے لکھے ہوتے ہیں. اب اس میں ڈھونڈو کہ کون سا نمبر کہاں ہے.
    اور کئی جو چھوٹے اخبار ہوتے ہیں…ان میں تو اکثر نمبر بھی غلط لکھے ہوتے ہیں.

  2. دراصل اس قوم کے ہر فرد کو تجسس قائم کرنے میں مزہ آتا ہے

  3. واقعی یہ بقیہ والی مصیبت تو مجھے بہت ہی بری لگتی ہے۔ ویسے تو اخباروں نے اس روایت کو توڑا ایک اردو نیوز سعودی عرب نے لیکن کیونکہ یہ پاکستان میں نہیں آتا اس لیے اس کے بارے میں بات کرنا بیکار ہی ہے، بہرحال ابھی گزشتہ برس جاری ہونے والے ڈیلی ٹائمز کے اردو اخبار “آج کل” نے اس روایت کا خاتمہ کر دیا اور خبر میں بقیہ کی مصیبت سے چھٹکارہ حاصل ہو گیا۔ آج کل کی طباعت بہت اعلی ہے اور اس میں خبروں کا انداز بھی روایتی اردو اخباروں سے بالکل مختلف ہے۔ انٹرنیٹ ایڈیشن آپ یہاں بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں:
    http://www.aajkal.com.pk/

  4. بدتمیز says:

    کوفت تو ہوتی تھی پر اب میں اسی کو اخبار میں سب سے زیادہ مس کرتا ہوں.

  5. فیصل says:

    ایکسپریس اخبار کے آنلائن ایڈیشن میں تو ایسا نہیں ہوتا، اگرچہ اخبار کا مجموعی معیار بس یونہی سا ہے.

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔