کلامِ شاعر بزبانِ شاعر

Wednesday,8 August 2007
از :  
زمرات : پاکستان, میری پسند, اردو, سیاست

چشمِ نَم جامِ شوریدہ کافی نہیں
تہمتِ عشق پو شیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پابجولاں چلو
دست افشاں چلو
مست و رقصاں چلو
خاک بَر سر چلو
خوں بداماں چلو
راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو

خاکمِ شہر بھی
مجمع عام بھی
صبحِ ناشاد بھی
روز ناکام بھی
تیرِ الزام بھی
سنگ دُشنام بھی
ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے؟
شہرِ جاناں میں اب با صفا کون ہے؟
دست قاتل شایاں رہا کون ہے
رخت دل باندھ لو، دل فگارو چلو
پھر ہم ہی قتل ہوں، یارو چلو ۔

تبصرہ جات

“کلامِ شاعر بزبانِ شاعر” پر 3 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. پسند کرنے کا شکریہ شعیب

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔