مکالماتی نظم

Monday,22 May 2006
از :  
زمرات : میری پسند, اردو

اس نے کہا مجھ سے کتنا پیار ہے؟
میں نے کہا تاروں کا بھی کوئی شمار ہے؟
اس نے کہا کہ کون تمہیں ہے بہت عزیز
میں نے کہا دل پہ جس کا اختیار ہے
اس نے کہا کون سا تحفہ تمہیں میں دوں
میں نے کہا وہی شام، جو اب تک ادھار ہے
اس نے کہا خزاں میں ملاقات کا جواز؟
میں نے کہا قرب کا مطلب بہار ہے
اس نے کہا سینکڑوں غم زندگی میں ہیں
میں نے کہا غم نہیں، جب غمگسار ہے
اس نے کہا ساتھ کب تک نبھاوں گی؟
میں نے کہا جتنی یہ سانس کی تار ہے
اس نے کہا مجھ کو یقین آئے کس طرح؟
میں نے کہا، نام میرا اعتبار ہے۔

تبصرہ جات

“مکالماتی نظم” پر 4 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Shoiab Safdar says:

    اچھی ہے!!

  2. پاکی منڈا says:

    اسلام علیکم جہانزیب صاحب بہت اچھی نظم لکھی ہے بہت اچھے

  3. indscribe says:

    Brilliant lutf aa gaya. Saada magar khoobsoorat, dil ko chhone wali nazm.
    Adnan

  4. Anonymous says:

    O hero ..tumhara blog..wow..tum nai bataya hi naheen ..hud hai wasay…..colourful mashallah buhat acha lag raha hai.

    aur nazam…bay hud khusoorat.

    churi kar sakti hou?:P
    kash k meri pasand b assi hoti.

    lalah

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔