ايک غزل

Sunday,16 October 2005
از :  
زمرات : میری پسند, اردو

يہ تو سچ ہے مجھے قدم قدم تيری بے رخی نے رلا ديا
يہی دردِ عشق تھا ہم نشيں مجھے جينا جس نے سکھا ديا

ميرے چار سُو تھی فرسودگی ميرا دل تھا کب سے بُجھا بُجھا
تيری ياد نے يہ کرم کيا يہ چراغ پھر سے جلا ديا

تھی چمک سی جيسے سراب کی، کوئی بات جيسے ہو خواب کی
جو ملا تھا مجھ کو خواب ميں وہ حقيتوں میں گنوا ديا۔

تھا جنوں کا اپنے عجب ہنر کہ وفا کے پُھول کھلا ديے
راہِ يار ہم نے قدم قدم تجھے ياد گار بنا ديا۔

ميرا ہم سفر نا وہ بن سکا يہ ميرے نصيب کی بات ہے
کبھی ياد اُسکی جو آ گئی مجھے ہنستے ہنستے رُلا ديا۔

کيا سُناؤں تم کو ميں ہم نشيں ميرے غم کا قصہ طويل تھا
کسی اور کا نا ميں ہو سکا، مگر اس نے مجھ کو بُھلا ديا۔

تبصرہ جات

“ايک غزل” پر 7 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. سا ئر ہ عنبر ین says:

    umm nice

  2. Jawwad says:

    بہت عمدہ غزل ہے

  3. Asma says:

    Beautiful words!!!!

  4. misbah says:

    buhat buhat achi ghazal hai jahanzaib

  5. جہانزيب says:

    آپ تين خواتين اور ايک حضرت کا بہت بہت شکريہ پسند کرنے کا کيا کسی کو اس کے شاعر کا پتا ہے؟

  6. Anonymous says:

    Allah tuba…humsha achi poetry daitay ho….aur phir kahtay ho kis shaiyar ki hai…..hud hai..pata ker k diya karo:p

    misbah

  7. Anonymous says:

    mai ajj tumari buhat see puranii post phar rahi thi…jin ko phar k buhat enjoy kiya…..aur tum buhat khubsurtii sai apnay jazbat beyan kar laitay ho.tumharay ilfaz muskuratay hain…ju har ek ko muskuranay pay majbor kar daitay hai…..humsha yu hi likhtay raho.

    aur ye tumhari ghazal ajj b phar k buhat acha laga.

    misbah

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔