ويلنٹائن کے دِن کی حقيقت

Monday,14 February 2005
از :  
زمرات : اردو

ہر سال فروری کے مہينے ميں سينٹ ويلنٹائن کے نام پر دَنيا بھر ميں لاکھوں چاہنے والے ايک دَوسرے کو تحأيف کا تبادلہ کرتے ہيں ۔ ليکن سوال يہ ہے کہ يہ انوکھی شخصيت ہے کون اور ہم يہ دِن کس ليے مناتے ہيں ؟

تو ويلنٹائن کے دِن کی اور جِس انوکھی شخصيت کے نام سے يہ دِن منسَوب ہے کی حقيقت کيا ہے؟مگر حقيقت ميں دونوں ہی ايک راز ہيں ۔ ليکن اِس کے باوجود محبت کرنے والوں کے ليے اِس دِن کی اہميت مَسلم ہے۔ تو سينٹ ويلنٹائن کون تھا اور يہ دِن اَن کے نام سے کيسے مخصوص ہوا؟ کيتھولک چرچ کم سے کم تين مختلف سينٹ کا ذکر کرتا ہے جن کا نام ويلنٹائن تھا اور تينوں کی اموات غير طبعی تھيں۔

ايک مفروضہ جو دوسرے سب مفروزوں سے معتبر مانا جاتا ہے کے مطابق ويلنٹائن دوسری صدی ميں روم کا ايک پادری تھا ۔جب روم کے شہنشاہ کلاڈيس دوم نے فيصلہ کيا کے غير شادی شدہ نوجوان اچھے سپاہی ہوتے ہيں بجايے شادی شدہ کے جن کے بيگمات اور بچوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور اس بنياد پر اَس نے نوجوان سپاہيوں پر شادی نا کرنے کی پابندی عائد کر دی۔ سينٹ ويلنٹائن نے اس حکم کی نا انصافی کو محسوس کرتے ہويے نوجوانوں کی چوری چھپے شادياں کرنا جاری رکھا۔ اور جب کلاڈيس کو اسکی حکم عدولی کا علم ہوا تو اس نے ويلنٹائن کی موت کا پروانہ جاری کر ديا۔

دوسرے کئ مفروضوں کے مطابق ويلنٹائن کی موت کی وجہ اسکی بہت سے عيسايي قيديوں کو روم کی قيد خانوں سے فرار ميں مدد کرنے کو کہا گيا ہے جہاں ان قيديوں کے ساتھ غير انسانی برتاو کيا جاتا تھا۔

ايک اور خيال کے مطابق ويلنٹائن نے سب سے پہلے خود ويلنٹائن کی خواہشات کا اظہار ايک لڑکی سے کيا تھا جب وہ ايک قيد خانے ميں بند تھا۔ يہ خيال کيا جاتا ہے کہ وہ لڑکی قيد خانے کے منتظم کی بيٹی تھی۔ اور ويلنٹائن نے اسے تب ديکھا تھا جب وہ قيد خانے ميں ميں ويلنٹائن کی قيد کے دوران آيي تھی۔ اپنے مرنے سے پہلے ويلنٹائن نے اسے ايک پيغام لکھا تھا جس کے آخر ميں دستخط ميں لکھا تھا ” تمہارا ويلنٹائن ” اور يہ الفاظ آج بھی کم و بيش ايسے ہی استمعال ہوتے ہيں۔

قطع نظر اس بات کے کہ اس دن کی اصل حقيقت کيا ہے اس سے جڑی ہويي کہانياں اور محسوسات دل کو موہ ليتے ہيں اور اس بات ميں بھی حيرانی محسوس نہيں ہوتی کہ درميانی صديوں ميں سينٹ ويلنٹائن فرانس اور انگلستان کے مشہور ترين پادريوں ميں شمار ہوتا تھا۔

حوالہ ہسٹری چينل

تبصرہ جات

“ويلنٹائن کے دِن کی حقيقت” پر 6 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Anonymous says:

    Isi liye kehta hoon ke Valentine’s day kiya manana Xee’s day manaya kero sab 😀

  2. Anonymous says:

    Thanks for sharing such an informative stuff. 🙂

    Expecting more information abt Xee’s Day:P

  3. جہانزيب says:

    @ Xee Bhai pehlay hi kharchay walay din kam hain :frown; jo aik aur din bana lo aur muft ka kharcha apnay sar daal lo

    @Anonymous aapka bhi buhat shukriya mujhay batanay ka k is say aapki maalomaat main izaafa howa hai 😀 nahi tau kal kisi ne mujhay kaha thaa yeh kya hai mujhay tau pehlay hi pata thaa yeh sab 😀
    aur xee’s day ki malomaat aapko
    http://www.intel.com se mil jain gi unki smart processor ka naam hai shayad Xeon 😛

  4. Anonymous says:

    Soon you will know about Xee’s day, right now I am finalizing date 😉

    Or nippi valentine ka end achha nahi hai tu kiyun manain main batata hoon achhai end walee story 😀

  5. Anonymous says:

    hahahaaah

    Umeed ki jati hai kai xee’s day end of year wajood main ajayee ga 😉 kion veera sahi kaha na:P

    @ Nip no need to say shukria 😛 coz yeh waqi mairy liee aik new information thi

    Saira

  6. Anonymous says:

    acha hai……
    and new to me as well!
    farva

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔