Atom کی بجائے RSS کا استعمال

Friday,23 September 2005
از :  
زمرات : کمپیوٹر, متفرق, اردو

اسلام و عليکم
بلاگر استعمال کرنے والوں کو بلاگر Atom Feed تجويز کرتا ہے۔ مگر بہت سے فيڈ ريڈر Atom Feed کو مدد فراہم نہيں کرتے، دوسرے الفاظ ميں ايسے تمام فيڈ ريڈر جن ميں ايٹم کو مدد فراہم نا کی جاتی ہو ميں بلاگر کے ديے ہوئے فيڈ نہيں پڑھا جا سکتا۔
اگر آپ ميرے بلاگ کے دائيں جانب ديکھيں تو آپ کو مختلف فيڈ کے نشان نظر آئيں گے جو کہ RSS2.0 پر بنے ہيں۔ آپ بھی اس کو اپنے بلاگ کا مجوزہ (Default) فيڈ بنا سکتے ہيں۔ دوسرا اسکا سب سے بڑا فائدہ يہ ہے کہ اِسے ہم سمارٹ فيڈ کہتے ہيں جس کو ہر طرح کے فيڈ ريڈر کی مدد سے پڑھا جا سکتا ہے۔ دوسرا فائدہ اس کی مدد سے ہم ديکھ سکتے ہيں کہ کتنے لوگوں نے اور کس طرح فيڈ کو پڑھا۔ تيسرا فائدہ کہ عموما فيڈ مختلف کوڈ کی صورت ميں ايک براؤزر ميں نظر آتا ہے جبکہ اس فيڈ کو ہم ايک ويب کے عام صحفے کی طرح ديکھ سکتے ہيں۔ تجرباتی طور پر ميرے بلاگ کا فيڈ ملاخذہ فرمائيں جہانزيب بمقابلہ جہانزيب اب نيچے ميں بتاؤں گا کہ کس طرح آپ بھی RSS Feed حاصل کر سکتے ہيں۔
سب سے پہلے آپ Feed Burner کی ويب سائٹ پر جائيں۔ اور دی گئی جگہ پر اپنے بلاگ کے فيڈ کا پتہ درج کريں يا صرف بلاگ کا پتہ ہی لکھ ديں۔

اس کے بعد دوسرے درجے ميں اپنی فيڈ کا پيش منظر اور پتہ لکھيں اور ديا گيا فارم پُر کرديں۔ اور سب سے نيچے Activate کا بٹن دبا ديں۔ اس کے بعد ايک مبارک باد کا صحفہ آ جائے گا جس ميں آپکا فيڈ کا پتا ديا ہو گا يہاں پر آپ اگلا درجے پر جانے کے لئے Next کا بٹن دبائيں اور مندرجہ ذيل حصہ پر نشان لگا ديں۔ اب اگلے درجے ميں جانے کے لئے بٹن دبائيں۔

اب آپ کے سامنے مندرجہ ذيل صحفہ آ جائے گا۔

اس صحفے ميں سب سے پہلے Optimize پر جائيں اور Browse Friendly اور Smart Feed کے حصے پر جا کر کے اُن کو Activate کر ليں۔ اس صحفے پر اور ترجيحات بھی شامل ہيں اور آپ انکو ديکھ کر خود فيصلہ کر ليں کس چيز کی آپکو ضرورت ہے اور اسے activate کر کے محفوظ کر ليں۔
دوسرے مرحلہ ميں آپکو ايک عدد يا زيادہ بٹن کی ضرورت ہو گی جن کو آپ اپنے بلاگ کے صحفے پر لگانا چاہيں گے۔ اس کے لئے آپ Publicize والے حصے پر جائيں اور وہاں Friendly Graphics پر جا کر کے کوئی ايک يا زيادہ بٹن پسند کر کے منتخب کر ليں اور جو کوڈ ديا جائے اسے اپنے بلاگ پر لگا ديں۔ يہاں پر بھی بائيں جانب مختلف تراکيب ہوں گی آپ ان کو بھی ديکھ ليجيے گا ۔۔
اب يہاں تک تو ہم نے فيڈ کا پتہ حاصل کر ليا ہے اور ايک عدد بٹن بھی جسے ہم اپنے بلاگ پر نصب کر کے ايک قاری کو دکھا سکتے ہيں کہ جی جناب اگر آپ فيڈ ريڈر ميں پڑھنا چاہيں تو يہ رہا پتہ اسے استعمال کجيئے۔ مگر بہت سے سرچ انجن اور بہت سے قاری بغير سائٹ پر آئے ہی فيڈ ريڈر سے يا سرچ انجن کی صورت ميں Robots کے ذريعے آپکا فيڈ ديکھتے ہيں تو وہ ہمارے سانچے (Template) کے بالائی حصہ (Header) سے ہی معلومات ليتے ہيں اور وہاں جو پتا ہو گا وہ بلاگر کے تجويز کردہ Atom Feed کا ہو گا۔ لو ساری محنت پر پانی پڑ گيا نا۔۔ نہيں نہيں پريشان نہيں ہوں ہم اسکا بھی علاج کر ليتے ہيں۔ بلاگر ميں فيڈ کے لئے تمام ٹيگ ايک ہی ٹيگ کے تحت نظم ميں لائے جاتے ہيں۔۔ جو کہ مندرجہ ذيل ہے
<$BlogMetaData$>
اس ايک ٹيگ کے تحت جو کوڈ بنتے ہيں اُنکو ہم بلاگر کے Template والے حصے ميں براہ راست نہيں ديکھ سکتے ہيں اسکی بجائے ہميں صرف اوپر ديا گيا ايک ٹيگ نظر آتا ہے۔ کوئی بات نہيں ہے جی اسکا علاج بھی کر ليتے ہيں آپ اپنا بلاگ کھوليں اور اسکے Source کو ديکھيں۔ انٹرنيٹ ايکسپلورر ميں View–> Source اور فائرفاکس ميں view–> Page source اسکے بعد آپکو مندرجہ ذيل کوڈ نظر آئيں گے۔ اور اگر نہيں آتے تو اسکا مطلب يہ ہے کہ آپکے بلاگر کے سانچے ميں BlogMetaData والا ٹيگ شامل نہيں کيا گيا ہے خير کوئی بات نہيں آپ نچيے والے کوڈ ہی Copy کر کے وہاں title کے بعد لگا سکتے ہيں۔ صرف آپکو اس ميں Blog ID بدلنا ہوگی اگر آپکو اپنے بلاگ کی ID نہيں پتا تو کوئی بات نہيں آپ کمنٹ والے صحفے پر جائيں اور ايڈريس والی پٹی ميں آپکا بلاگ کا نمبر ديا ہو گا ۔۔

<meta content=”true” name=”MSSmartTagsPreventParsing”>
<meta content=”Blogger” name=”generator”>
<link rel=”alternate” type=”application/atom+xml” title=”جہانزيب بمقابلہ جہانزيب” href=”
http://urdujahan.blogspot.com/atom.xml“>
<link title=”جہانزيب بمقابلہ جہانزيب” href=”https://www.blogger.com/atom/********” type=”application/atom+xml” rel=”service.post”>
<link title=”RSD” href=”http://www.blogger.com/rsd.g?blogID=********” type=”application/rsd+xml” rel=”EditURI”>
<style type=”text/css”>
@import url(“http://www.blogger.com/css/blog_controls.css”);
@import url(“http://www.blogger.com/dyn-css/authorization.css?blogID=********”);
</style>

اب اس اوپر ديے گئے کوڈ ميں ہميں صرف ايک لائن تبديل کرنی ہوگی جس سے ROBOTS ہماری فيڈ کا پتا چلاتے ہيں۔ اور وہ لائن تيسری لائن ہے جو کہ مندرجہ ذيل ہے
<link rel=”alternate” type=”application/atom+xml” title=”جہانزيب بمقابلہ جہانزيب” href=”http://urdujahan.blogspot.com/atom.xml“>
ہميں اس اوپر والے کوڈ ميں blogspot والا پتہ حذف کر کے اپنا نيا پتہ لکھنا ہو گا۔ ايک اور ہدايت ميں نے يہ يہاں سے پڑھ کر لکھا ہے۔ مگر جو کوڈ يہاں <style type=”text/css”> اور </style>
کے درميان ہيں جسے ہم عرفِ عام ميں CSS کہتے ہيں اس کو وہاں شامل نہيں کيا گيا ہے اور اسکی وجہ سے فرق يہ پڑتا ہے کہ بلاگر ميں جب ہم sign in ہوں تو جو پوسٹ کے ساتھ فوری طور پر ترميم کرنے کا نشان اور اسکو ای ميل کرنے والا لفافہ شامل نہيں ہوں گے جبکہ اس CSS کو شامل کرنے سے ہم ای ميل کا نشان اور فوری طور پر کسی مضمون ميں ترميم والا نشان ديکھ سکيں گے۔ ليجيے جناب اب تمام سرچ انجن بھی آپکے نئے فيڈ سے آگاہ ہو گئے اور آپ کو يہ بھی پتا ہے کہ فيڈ کہاں اور کون پڑھ رہا ہے۔ تو آپ سب کو يہ سبق کيسا لگا D: تبصرہ ميں لکھنا نہيں بھولئے گا۔۔
ايک اور ياد دہانی آپ اپنے بلاگر کی settings ميں جا کر Site Feed ميں publish site feed کو yes اور Descriptions کو Full ميں کرنا مت بھولئے گا۔
اوپر والے کوڈ ميں جہاں جہاں ******* ہيں ان کو اپنے بلاگ کی ID سے بدل ديں اور Title کو اپنے بلاگ کے پيش لفظ سے بدل ديں۔ جب آپ يہ کوڈ اپنے ٹمليٹ ميں شامل کريں تو blogmetadata والا ٹيگ ہٹا کر اسکی جگہ انکو وہاں رکھيں۔
والسلام

تبصرہ جات

“Atom کی بجائے RSS کا استعمال” پر 4 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Xeesh says:

    yahan kiya ho raha hai bhai

  2. شعیب صفدر says:

    زبردست!!! کافی کام کا مضمون ہے۔۔۔۔۔۔

  3. SHUAIB says:

    انفارمیشن کیلئے آپ کا شکریہ جناب ۔ اب آپ کے بلاگ پر معلوماتی تحریریں بھی شائع ہو رہی ہیں ایک اور بار شکریہ ۔

  4. bdtmz says:

    salam
    thanks 🙂

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔