الٹا سيدھا۔۔

Tuesday,2 August 2005
از :  
زمرات : پاکستان, میری زندگی, اردو

دانيال نے لکھا ھے کہ اردو بلاگرز اپنے روزمرہ واقعات کو اتنا موضوع بحث نہيں بناتے جتنا دوسرے امور کو اور اس سلسلے ميں ايک کڑی شروع کی ہے کہ وہ ايک موضوع شروع کريں گے اور سب اردو بلاگرز کو اس ميں دعوت عام ہے کہ اپنا اظہار کريں۔
پہلے تو مجھے سمجھ نہيں آ ريا تھا کيا لکھوں اور اگر لکھوں تو کيا دوسرے لوگ اسکو پڑھنا بھی چاھيں گے؟اب ميں پہلے کونسا يھ سوچ کر لکھتا ھوں۔۔ مسلھ يہ ھے کہ جب بھی اپنا کوئی واقعہ لکھنا ہو تو لاکھ دفعہ سوچنا پڑتا ہے کيونکہ ميرے گھر والوں ميں سے کچہ لوگ اور باقی کچہ قريبی دوستوں ميں سے بھی ميرا بلاگ پڑھ ليتے ہيں تو يہ نا کہيں اوئے اے کی لکھيا ای۔۔ بڑے جھوٹ بولتے ہو۔۔
تو دانيال نے جو موضوع بحث پيش کيا ہے اسکا نام ہے گناہ بے لذت۔۔
جب ميں نويں کلاس کا طالب علم تھا اس وقت مجھے ناک اور گلے ميں خراش کی تکليف تھی اور ہر دو مہينے بعد ڈاکٹر کے پاس جانا ہوتا تھا۔ميرے ابا سرکاری ملازم تھے اس لئے ڈاکٹر کا خرچ بھی سرکار کے ذمے تھا اور مالِ مفت دلِ بے رحم والا حساب کہ چھينک آئی نہيں ڈاکٹر کو دکھانے پہنچ جاتے تھے۔اب ايک دفعہ مجھے تکليف کے ساتھ بخار بھی ہو گيا جس ميں عموما خوشی ہوتی تھی کہ سکول سے ناغہ کر ليتا تھا تو ميں اپنے ايک چچا زاد بھائی کے ہمراہ جو کہ تعليم کے سلسلے ميں ہمارے ساتھ ہی رہتا تھا کے ہمراہ ڈاکٹر کے پاس چلے گئے۔
اب اپنی باری کے انتظار ميں انتظار گاہ ميں انتظار کر رہے تھے اور ہمارے علاوہ وہاں ايک نقاب پوش خاتون بھی موجود تھيں تو ميری عادت ہے کہ اگر کہيں کچھ لکھا ہو تو اسکو پڑھنے لگ جاتا ہوں اور انتظار گاہ وہ بھی کسی مطب خانے کی تو مختلف بيماريوں کے اشتہارات اور انکی علامات اور ان سے بچاؤ کے طريقے ديواروں پر چسپاں تھے میں انتظار کرتے اُنکو پڑھنا شروع ہو گيا۔ اب ايک کے بعد ايک اشتہار پڑھتے ايسی نوبت آئی کہ جہاں وہ خاتون بيٹھی ہوئی تھيں انکے ساتھ والا اشتہار پڑہ رہا تھا اور مجھے اس بات کا بالکل احساس بھی نہيں تھا کيونکہ ميں پڑھنے ميں اسقدر مشغول تھا کہ پتا بھی نہيں چلا کب وہ خاتون وہاں سے اُٹھ گئیں۔
اب ميرا چچا زاد جو باہر کھڑا تھا وہ اندر آيا اور مجھ سے پوچھنےلگا کہ ميں نے اس خاتون کو کيا کہا ہے؟ ميں نے کہا کيہڑی خاتون پائی؟ تو اس نے کہا کہ جو خاتون ابھی يہاں بيٹھی تھی وہ باہر جا کر ميری شان ميں کافی کچہ کہہ رہی ہيں۔ ميں نے کہا چلو ديکھيں تو سہی ميں نے کيا کہہ ديا ہے باہر نکلے تو اُنکے شوہر وہاں تھے انہوں نے مجھے ديکھا اور خاتون ميری طرف اشارہ کر کے ميری شان ميں چند القابات کا اور اضافہ کر چکی تھيں۔۔ ميں پوچھا باجی کی ہويا اے؟ تو اُن کے شوہر نے مجھے کہا بيٹا آپ اندر جاؤ اسکا ويسے ہی دماغ خراب ہے۔ليکن مجھے اس وقت اتنی شرم اور افسوس ہو رہا تھا کہ جب انسان نے کچہ کيا بھی نہيں ہو اور الزامات کی زد ميں آ جائے اور ويسے بھی اس وقت تک مجھے ان باتوں کا اتنا پتا نہيں تھا۔۔
اس کے علاوہ بھی کچھ اور واقعات ہيں جس ميں آپ نے کچہ نہيں کيا ہوتا مگر خوامخواہ شرمندہ ہونا پڑتا ہے ليکن يہ سرِ فہرست تھا۔ باقی اگر کبھی موقع ملا تو وہ بھی لکھوں گا۔۔

تبصرہ جات

“الٹا سيدھا۔۔” پر 10 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Anonymous says:

    rolling..hehehe hud hai bai…..wasay larki kasi thi…yani ankein?
    \\

    miss mughal 

    Posted by Anonymous

  2. Anonymous says:

    یہی تو مسلہ ہوا نا کہ کیا بھی کچھ نہیں اور باتیں بھی سن لی۔۔ویسے اگر دیکھا ہوتا تو ضرور بتا دیتا 

    Posted by jahanzaib

  3. Anonymous says:

    بہت اچھا لکھا ہے۔ ؂؂

    “ميری عادت ہے کہ اگر کہيں کچھ لکھا ہو تو اسکو پڑھنے لگ جاتا ہوں اور انتظار گاہ وہ بھی کسی مطب خانے کی تو مختلف بيماريوں کے اشتہارات اور انکی علامات اور ان سے بچاؤ کے طريقے ديواروں پر چسپاں تھے میں انتظار کرتے اُنکو پڑھنا شروع ہو گيا۔”

    مجھ ے بھی یہی عادت ہے بلکہ میں تو اکثر ان علامات کو اپنے اندر ٘محسوس بھی کرتا ہوں اور باری آنے تک میں اپنی پچھلی تکلیف تقریبا بھول جاتا ہوں ۔  

    Posted by danial

  4. Anonymous says:

    میری بچپن اور لڑکپن میں عادت تھی کہ جو کچھ کہیں بھی لکھا نظر آئے اس کو پڑھنے کی کوشش کرتا تھا یہاں تک کہ سائیکل پر سوار جا رہا ہوتا اور سڑک کے دونوں طرف لگے بورڈ پڑھتا جاتا ۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے حافظہ بھی اچھا دیا تھا ۔ کوئی مجھ سے پوچھتا کہ فلاں دکان یا ادارہ یا سکول کہاں ہے تو ایک لمحہ سوچنے کے بعد میں اس کا محل وقوع بتا دیتا ۔ اس وجہ سے میں محلہ ۔ سکول اور کالج میں بہت مشہور تھا ۔

    آمدن برسر مطلب ۔ ترمیم کے بعد بھیجی ہوئی ٹمپلیٹ میں نے اپنے دونوں روزنامچوں میں نصب کر دی ہے ۔ دیکھ کر بتائیے اب اردو صحیح طرح پڑھی جاتی ہے یا کہ نہیں ۔  

    Posted by افتخار اجمل بھوپال

  5. Anonymous says:

    hahahahaha……kuch tu kara hugga aisa tu hi nahi sakta……ya phir woo ishtehaar theek nahi hugga joo aap perh ra hai te….:p 

    Posted by Zeeast

  6. Anonymous says:

    hahhaaaaa..shuker karein k wo khatoon uth kar chali gayein thein nip bhai..warna apka kuch pata bhi nhi chalta usko side pr kar k parhna shoroo kar dena tha….

    wesy gunah bay lazat isko nhi boltay 

    Posted by tashfeen

  7. Anonymous says:

    میری بھی بچپن سے یہی عادت ہے، ناشتہ کرنے بیٹھوں تب بھی کچھ ہونا چاہیئے پڑھنے کو، چاہے جیم کی بوتل ہی ہو۔ اسے طرح دیواریں، پوسٹر، اشتہار ۔۔۔ لیکن اطراف کا خیال بھی رکھنا چاہیئے

    :P 

    Posted by Asma

  8. Anonymous says:

    uhhh care to translate that in english 

    Posted by lala

  9. Anonymous says:

    شکريہ دانيال ميرے خيال ميں ايسا سب کو ہی لگتا ہے۔۔
    انکل اجمل ميں نے آپکو ايک اور ٹمليٹ بھيجا ھے وہ ملا کہ نہيں؟
    زيست کچھ نہيں کيا تھا تھا بھئی يقين کر لو يا مسجڈ کے امام صاحب کو اپنی گواہی کے لئے لانا پڑے گا۔
    تاشفين بھلا مجھے ہوش ہی کہاں تھا کہ کسی کو سائڈ پر ہٹاتا ويسے ميرے ہٹانے سے کوئی ہٹتا بھی نہيں ہے۔
    اسماء ہاں اسکے بعد سے ميں اطراف کا بہت خيال رکھتا ہوں۔
    لالہ بھئی کيا ترجمہ کرنا ہے انگريزی ميں۔ اب پتا نہيں يہ لالہ رُخ ہے يا لالہ سُدھير۔۔ 

    Posted by جہانزيب

  10. Anonymous says:

    msjid ke imam sahib bhi aap le ker aayein gein…..bass pir mein ker chuki unn ki baat ka yaqeen……:p 

    Posted by Zeeast

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔