منفی رويے

Monday,7 March 2005
از :  
زمرات : میری زندگی, اردو

اسلام و عليکم
آج کافی دنوں بعد بلاگ پر آنا ہو رہا ہے۔ اُس کی وجہ کچھ مصروفيات تھيں۔ کيا مصروفيت تھی اسکے بارے ميں يہاں گاہے بگاہے ذکر ہوتا رہے گا۔ مگر ابھی ايک دوست کی ای ميل پڑھی ہے جس ميں انہوں نے ايک کہانی بھيجی ہے اور کہا ہے کہ اُسے بلاگ پر شائع کر دوں۔ مگر اُس سے پہلے اُس بات پر تھوڑا تبصرہ کر لوں اور بعد ميں اُنکی ای ميل لکھوں گا۔ تو جو واقع انہوں نے بھيجا ہے اسکا تعلق اسلامی جمہوريہ پاکستان ميں ہمارے غير اسلامی رويہ کا ہے۔ جس کا مشاہدہ ہم ميں سے اکثر لوگوں کو ہے اور شايد ہم ميں سے کچھ خود بھی اسی بات ميں ملوث ہوں اور وہ بات ہے کہ اگر کسی سے کوئی غلطی سر زد ہو جاے تو اُس کی آنے والی نسلوں کو بھی خميازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ طعنے سننا پڑتے ہيں اور جو اس طرح کے رويوں کو برداشت کرتے ہيں اُنکی شخصيت ہی مسح ہو جاتی ہے اور بعض اوقات وہ اس تاثر سے باہر نکل نہيں پاتے اور منفی طور طريقے اپنا ليتے ہيں جس کا ذمہ دار سراسر معاشرہ ہے۔ہم لوگوں ميں بحثيت قوم ايک بری عادت ہے وہ ہے دوسروں کے نجی معاملات ميں دخل انداذی کرنا اور اگر کسی ميں کوئی خامی ہو تو بجائے اسکی خامی دور کرنے ميں مدد کريں الٹا اسکو طعنے مارے جاتے ہيں خير اب ميں ای ميل لکھتا ہوں اور آپ پر چھوڑتا ہوں کہ قصور کس کا ہے۔

ميں نے اپنے آپکو اس واسطے ديکھا نہيں

آينے کی دسترس ميں عکس ہے چہرہ نہيں

جسم ميں پھيلی ہوئی بوسيدگی کو ديکھ کر

ميں تو اپنے سائے ميں بھی آج تک ٹھہرا نہيں

بہت سے لوگ زندگی ميں آتے ہيں ليکن کچي لوگ ايسی گہری ياديں دے جاتے ہيں جو سانسوں کی طرح ہمارے ساتھ چلتی رہتی ہيں۔ اور يہ کہانی ميری دوست شمائلہ کی ہے۔ جس کے ليے خوشياں، دلی سکون ، گھر کا خواب ايک خواب ہی تھا۔

کالج سے چھٹی ہو چکی تھی اور ميں اپنی ايک دوست کے ساتھ بس سٹاپ پر کھڑی تھی۔ ليکن بس سے زيادہ مجھے اُس لڑکی کا انتظار تھا جس کا چمکتا ہوا چہرہ ايک بھر پور مسکراہٹ کے ساتھ سلام کرتا گزر جاتا تھا۔ آج بھی وہ روز کی طرح مسکراتی ہوئی آئی اور سلام کر کے گزر گيی۔ تو ميں نے اپنی دوست سے اس لڑکی کے بارے ميں پوچھا کہ کتنی پياری لڑکی اور کتنے اچھے اخلاق کی حامل ہے۔ تو ميری دوست کہنے لگی تمہيں پتا ہے اسکی امی مطلقہ ہيں۔ اور اسکے ابا نے دوسری شادی کی ہوئی ہے اور امی ہسپتال ميں کام کرتی ہيں۔ مجھے اپنی دوست کا رويہ بہت برا لگا اور ميں نے اسے کہا کہ اس بات ميں اسکا يا اسکی امی کا کيا قصور ہے۔ ليکن بات وہيں ختم ہو گئی۔
ليکن اس سے ملنے کی تمنا ميرے دل ميں تھی اور جب ميں اس سے ملی تو اسکے اخلاق کی قائل تو پہلے ہی تھی مگر ملنے کے اسکی گرويدہ ہو گئی۔ اسکے ليۓ دنيا بہت بے رنگ اور بے معنی تھی مگر ميں اسکو زندگی کی خوبصورتی دکھانا چاہتی تھی۔ ليکن وہ تھوڑی دير خوش ہوتی اسکے بعد ويسے ہی اداس ہو جاتی۔ اسکو کسی کی محبت اور رشتوں کا اعتبار نہ تھا۔ شايد بہت سے امتحانوں سے گزر چکی تھی۔ وقت اپنی ڈگر پر چلتا گيا اور ہم سب دوست اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ايک دفعہ يوں ہوا کہ اسکے پڑوس ميں ايک لڑکی تھی اور ہمارے ہی کالج ميں پڑہتی تھی اسنے اسکے ساتھ مذاق کر ديا اور شمائلہ پورا دن روتی رہی۔ اور اسکے بعد بہت دنوں تک وہ کالج ہی نہيں آئی۔ جب آئی تو پتا چلا کہ اسکا ايک بھائی بھی ہے اس سے ايک سال بڑا جو اپنے والد کے ساتھ رہتا ہے اسنے کسی بات پر دلبرداشتہ ہو کر اپنی جان لينے کی کوشش کی تھی اور ايسا دوسری بار ہوا تھا۔ شمائلہ کے مطابق وہ زيادہ تر والد کے ساتھ رہتا تھا مگر جب دوسری امی کوئی بات کہہ ديتی تو يہاں آ جاتا اور امی سے لڑتا تھا۔پڑہائی بھی نہيں کرتا اور سب کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ اسکے بعد کالج ختم ہو گيا اور شمائلہ کے ساتھ رابطہ بھی نہيں رہا۔ پھر ايک دن پتا چلا شمائلہ کی امی کا انتقال ہو گيا ہے اور جس دن يہ ہوا تب شمائلہ گھر سے نکلی تھی اور اسکے بعد سے اسکا کوئی پتا نہيں کہ وہ کہاں گيی۔ دعا کرتی ہوں وہ جہاں بھی ہو خوش ہو اور خيريت سے ہو آمين۔

فی امان اللہ

تبصرہ جات

“منفی رويے” پر 3 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. سا ئر ہ عنبر ین says:

    ميں نے اپنے آپکو اس واسطے ديکھا نہيں
    آينے کی دسترس ميں عکس ہے چہرہ نہيں
    جسم ميں پھيلی ہوئی بوسيدگی کو ديکھ کر
    ميں تو اپنے سائے ميں بھی آج تک ٹھہرا نہيں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زبردست

    یہ ایک المیہ ہے کہ نہ صر ف رو یے غیر اسلا می ہیں بلکہ پا کستا ن میں ہر جگہ غیر اسلامی اقدا ر کا دور دورہ ہے۔ ہم لو گ دعوے تو بہت کر تے ہیں مسلما ن ہو نے کے لیکن وہ سبق یا د نہیں رکھتے جس کی تر غیب اسلا م ہمیں دیتا ہے۔

  2. Zaheer says:

    sad image of pakistan 🙁

  3. Nazoo says:

    bas nippi parh ker buhat afsoos hua 🙁

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔