ہممم

کيا لکھوں کچھ ہے ہی نہيں لکھنے کو دو ہفتے سے مسلسل سوچ رہا ہوں کيا لکھا جائے مگر دماغ نے جواب دے ديا ۔ميں نے سوچا چلو کچھ بلاگ پڑھ لو شايد کہ وھاں سے ہی کوئی موضوع مل جائے اور اسکے لئے اردو سيارہ سے بہتر جگہ کوئی نہيں ہے۔ وہاں افتخار اجمل صاحب کی گذارش پڑھی۔ ميں تو اردو ميں ہی لکھتا ہوں جيسا بھی لکھوں البتہ بعض اوقات اپنی جاب سے تبصروں ميں رومن اردو يا انگريزی کا استعمال کر ليتا ھوں کہ وياں اردو انسٹال نہيں ہے۔
اسماء نے لکھا کہ وہ انگريزی ميں اس لئے لکھتی ہيں کہ اس زبان ميں ٹائپ کرنا نسبتا آسان ہے اردو کے۔ ميں اردو ميں بلاگ لکھتا ہی اس لئے ہوں کہ مجھے انگريزی ميں ٹائپ کرتے دقت ہوتی ہے اب ہر لفظ کے سپيلنگ کون چيک کرے؟ دوسرا مسلہ کہ اتنی انگريزی آتی نہيں ہے دوسرا کہ يہاں آکے پتا چلا سپينش سيکھنا زيادہ بہتر ہے بجائے انگريزی کے ايک تو ہر جگہ سپينش بولنے والا نمائيندہ موجود ہوتا ہے دوسرا اس سے کام نکلوانا بھی کسی گورے کے مقابلے ميں نسبتا آسان ہوتا ہے ا آخر کار وہ بھی بارڈر پار سے آيا ہے ۔۔ تو سپينش سيکھنے کے چکر ميں انگريزی بھی بھلا بيھٹا۔۔
اسی سے ايک مزاحيہ اداکار يا شايد اسکو بھانڈ کہنا زيادہ مناسب ہو ہوذے منسيا خود بھی ميکسيکن ہے تو کہہ رہا تھا کہ امريکہ ہر بات ميں پوری دنيا سے آگے ہے کيونکہ يہاں دنيا بھر سے بہترين لوگ آ کر بسے ہيں۔۔تو جب امريکہ دنيا ميں کسی ملک کا بارڈر پار کرتا ہے تو کسی کو پتا بھی نہيں چلتا کہ ايسا کب ہوا کيونکہ ہمارے پاس ايسے لوگ ہيں جن کو پتا ہے بارڈر کس طرح پار کرتے اور کرواتے ہيں۔۔
باقی دانيال کے بلاگ سے ايک موضوع ميرے ذہن ميں آيا ہے اس پر بعد ميں لکھوں گا۔ اگر کوئی يھی سوچ رہا يا رھی ہے کہ اس سب کا مقصد کيا تھا تو اسکا کا مقصد يہی تھا کہ آپ سوچيں 😛

تبصرہ جات

“ہممم” پر 12 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. آپ کا نام جب میں نے پہلی بار پڑھا تو مجھے اچھا لگا ۔ جہاں زیب اور اشرف بھی ۔
    نامعلوم میرے ہموطن انگریزی کو ہی سب کچھ کیوں سمجھتے ہیں ؟ پورے یورپ میں برطانیہ کے علاوہ کوئی انگریزی پسند نہیں کرتا ۔ آپ انگریزی میں کچھ پوچھیں تو کئی لوگ انگریزی جانتے ہوئے بھی جواب نہیں دیتے ۔ افریقہ میں لوگ فرانسیسی ۔ اطالوی اور جرمن زبانیں زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ مراکش کے لوگ سپینش جانتے ہوں ۔  

    Posted by Iftikhar Ajmal Bhopal

  2. ميرے عربی کے استاد تھے تو وہ جب بھی کلاس ميں آتے امتحان ميں جب پرچے واپس کرتے تو ہميشہ يھں کہتے تھے کيا لڑکيوں جيسے مطلب والا نام رکھا ہے۔ حالانکہ ميں نے خود تو رکھا نہيں تھا۔
    اور مراکش ميں سپينش بولی بھی اور سمجھی بھی جاتی ہے۔اسکے علاوہ الجزائر کے کچھ علاقوں ميں بھی سپينش بولی جاتی ہے۔ 

    Posted by جہانزيب

  3. Asma says:

    Assalamo alaykum w..w!

    Oh,I’ve always listened to Jahanzaib as a boys name 🙂

    Anyways, a trend is actually spreading in Pakistan, that if you would be speaking pure urdu others would surely rate u bit paindoo to be precise 🙂

    Language when spoken should be pure, i dont say i practice pure language very often but alhamdolillah my urdu’s far better than many in paksitan … in schools more stress is given on english as a result urdu is neglected and our youth is more and more turning towards eng. and away from urdu.

    Its our national language we should take pride in speaking it as all other nations do!!!

    BTW, Nice post 🙂

    wassalam n Allahafiz 

    Posted by Asma

  4. اسماء ويسے تو يھ نام لڑکوں کا ہی رکھا جاتا ہے ميں نے کہا تھا کہ مطلب کے لحاظ سے لڑکيوں جيسا نام لگتا ہے۔
    اب جہانزيب کا مطلب دنيا کی خوبصورتی يا زينت ہو گا تو اس طرح کے مطلب والے نام لڑکيوں کے ہوتے ہيں لڑکوں کے نام تو ايسے ھونا چاہيے ہيں کہ سن کر ہی دل دہل جائے جيسے دلاور، شير علی وغيرہ وغيرہ۔
    اور دوسری بات کہ اپنی زبان کی شامت ہم لوگ خود ہی لے کر آئے ہيں اس ميں حکمرانوں کا بھی قصور ہے جنہوں نے ايک طرف تو سارے سرکاری سکولوں کو اردو ميڈيم کر ديا جہاں غريب کا بچہ پڑھتا تھا اور اپنے بچوں کے لئے وہی برطانوی اور امريکی سکول رہنے ديے۔ جب ان برطانوی اور امريکی سکولوں سے پڑہ کر وہ لوگ اعلی عہدوں پر فائز کر دئے گئے تو غريب کے بچے ميں ايسا احساس کمتری اور امير کے بچے ميں احساسِ برتری پيدا ہونا ہی تھا۔ جو وقت کے پہيے کے ساتہ ايک سٹيٹس کی علامت بن گيا اور ہر ايک نے يھ سمجھ ليا کہ ترقی کرنا ہے تو انگريزی ميڈيم سکول سے پڑھنا ہو گا۔ اب اس دوڑ ميں نقصان سراسر غريبوں کا ہو رہا ہے جو اپنا پيٹ کاٹ کر اور اپنے بچوں کی خوشياں چھين کر انکو مہنگے سکولوں ميں داخل کرواتے ہيں تا کہ ان کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔ 

    Posted by جہانزيب

  5. Iftikhar Ajmal Bhopal says:

    Such a nice offer. I am much obliged. Please make the template and send that to me. Or, if you send me your e-mail address, I will send you copy of the present template. You can make it perfect and send back to me. Choice is yours.

    My private E-mail Address is bhopal@isb.comsats.net.pk  

    Posted by Iftikhar Ajmal Bhopal

  6. shuaib says:

    بلاگ پر لکھنے کیلئے کچھ مواد نہ ملے تو بہتر ہے اپنی روز مرّہ لکھ کر پوسٹ کردیں ـ 

    Posted by Shuaib

  7. ارے شعیب کیا دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔۔ میری روزمرہ کی زندگی تو ہے ہی نہیں وہی روز ١٠ گھنٹے کی جاب جو گھر آتے جاتے ١٢ گھنٹے بن جاتے ہیں۔۔ اسکے بعد ٣-٤ گھنٹے کمپیوٹر پر بیٹھنا ۔۔ گھر والوں کو شکایت کہ انکو وقت نہیں دیتا مجھے شکایت کہ میرے اپنے پاس اپنے لئے بھی وقت نہیں ہے۔۔ ایسے میں پاکستان میں اپنے چچازاد اور ماموں زاد یاد آتے ہیں جو کہتے ہیں کہ یار وقت کیسے گزارا جائے۔۔ رشک بھی آتا ہے کبھی کبھی۔۔اور میرے بلاگ پر آنے کا شکریہ 

    Posted by جہانزیب

  8. lalah rukh says:

    ummm……..meray paas buhat waqt hai gher walo k liyea ..ju thangh hain…k kabhi kahi aur b busy ho jaoo ..

    miss mughal 

    Posted by Anonymous

  9. lalah rukh says:

    aur haan ..dhakh lo teacher nai sahee kaha tha

    jahanara

    miss mughal

  10. lalah rukh says:

    miss asma……app english bol kar kiya zahir karna chahty hain?aur mera nahi khayal k app ko urdu aatty ho gee

    desi born american confused hain

    miss mughal

  11. zeeast says:

    hahahajhahahaha@ jahanara…..

    well ye baat aap theek karee jahanzaib…..konsee baath aap ne ithna kuch kaha hai mei tu confuse hugayee houn….eik daffa doobara nazer dooratee houn….:p 

    Posted by Zeeast

  12. Zeeast says:

    haan time walli……time really buhaat kum hugaya hai…..mujh khud aapne liye time nahi milta….

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔