بی بی سی اردو اور زلزلہ

Saturday,22 October 2005
از :  
زمرات : پاکستان, امریکہ, اردو

جب سے ہم لوگ يہاں امريکہ آئے ہيں تقريبا پانچ سال سے تب سے ميں بی بی سی اردو کا ايک مستقل قاری ہوں۔ گاہے بگاہے بی بی سی والے ايسے موضوعات پر بحث کرواتے رہتے ہيں جو کہ ہمارے معاشرے سے ميل نہيں کھاتے۔
مگر پاکستان ميں زلزلہ آنے کے بعد سے بی بی سی والوں کی ساری صحافت کا زور کيڑے نکالنے پر رہا ہے۔ کہيں اگر ايک شخص امدادی سامان کے ٹرک خريد رہا ہے تو ہفتہ بھر اس کو مرکزی صحفے کی زينت بنا ديا جاتا ہے اور باور کروانے کی کوشش کی گئی ہر جگہ ايسا ہو رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف اقوام متحدہ کے ايک کارکن کا يہ کہنا کہ اس نے اپنی پوری زندگی ميں لوگوں کا ايسا جذبہ نہيں ديکھا کو ايک خبر کے اخير ميں اس طرح لکھ ديا گيا جيسے يہ کوئی بات ہی نہيں ہے۔
اقوام متحدہ جو کہ اس طرح کی ہنگامی حالت سے نمٹنے ميں تجربہ اور مہارت رکھتی ہے کے مطابق پاکستان ميں آنے والا زلزلہ سونامی سے زيادہ بدتر ہے کيونکہ متاثرہ علاقوں تک رسائی انتہائی مشکل ہے۔ ميلوں تک سڑکيں تودوں کی وجہ سے قابل استعمال نہيں ہيں اور ان علاقوں ميں ہيلی کاپٹر بھی نہيں اتارے جا سکتے ہيں اس بات کو اقوام متحدہ کے دو اہلکار دھرا چکے ہيں جن ميں سيکٹريری جنرل کوفی عنان بھی شامل ہيں۔ جب اقوام متحدہ جيسا ايک ادارہ جس کو اس طرح کی صورتحال ميں کام کرنے کا تجربہ ہے ايسا کہہ رہا ہے تو پاکستان کو تو اس طرح کی صورتحال سے نپٹنے کا تجربہ بھی نہيں ہے۔ مگر آپ بی بی سی اردو کا صحفہ کھوليں ہر جگہ بدنظمی کی کہانيوں کو رکھا گيا ہے اور اس کو معاشرے کا عکاس ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس ساری کاروائی کے دوران بی بی سی اردو کی ايک مستقل خبر جو مختاراں مائی کے بارے ميں ہوتی تھی سے بھی چشم پوشی برتی گئی ہے۔ آج مختاراں مائی امريکہ ميں ہے اور فاکس چينل کی طرف سے انہيں اس سال کی شخصيت قرار ديا گيا ہے۔ کل فاکس پر مختاراں مائی کے بارے ميں ١٥ منٹ کی ڈاکومنٹری چلائی گئی تھی ميں اس سے مکمل طور پر اتفاق نہيں کرتا کيونکہ اس ميں اس بات پر زور ديا گيا تھا کہ پاکستان ميں پنچائتی نظام عدالتی نظام جيسا ہے اور اس میں کچھ بھی فيصلہ کر ديا جاتا ہے۔ اگر کسی ايک جگہ کسی نے واہيات بات کی ہے تو پورے معاشرہ کو اس ميں ملوث نہيں کيا جا سکتا ہے۔
ايک اور خبر کے مطابق پاکستان ميں امدادی کاروائيوں ميں شامل امريکيوں نے پاکستانی شہروں کے نام امريکی شہروں کے نام پر رکھے ہوئے ہيں تاکہ ان کو آسانی رہے۔ جناب آپ فکر نہيں کريں ہم جلد ہی سب شہروں کے نام خود امريکی شہروں کے ناموں پر رکھ ديں گے تاکہ مستقبل ميں آپ لوگوں کو آسانی رہے۔

تبصرہ جات

“بی بی سی اردو اور زلزلہ” پر 6 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Jawwad says:

    وہ کہتے ہے نا کے ہر کوئ اپنی دوکان چمکا رہا ہے تو بس ایسا ہی ہو رہا ہے

  2. شعیب صفدر says:

    بس یہ اکثر ایسا ہی کرتے ہیں میں نے یہ بھی دیکھا ہے (غور کیا ہے) کہ یہ اکثر خبروں کو مذہبی فرقاواریت کے روپ میں پیش کرتے ہیں

  3. Danial says:

    میں مختاراں مائی کے سلسلے میں بی بی سی کی کوریج سے خاصا مطمئن تھا اور انسانی حقوق کے معاملات کی کوریج بھی انہوں نے بہت اچھی کی ہے۔ لیکن زلزلے کے دوران ان کی بوکھلاہٹ، جانبداری، تعصب اور بے ایمانی بالکل واضح تھی۔ میں آپ صاحبان سے اتفاق کرتا ہوں اور یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہم سب اپنے بلاگز پر بی بی سی کی بےہودہ کوریج، جانبداری، تعصب اور بے ایمانی کا پردہ فاش کریں اس کے علاوہ انہیں ای میل بھی لکھیں۔ کیا خیال ہے آپ لوگوں کا؟

  4. جہانزيب says:

    دانيال دير کس بات کی ہے؟

  5. سا ئر ہ عنبر ین says:

    جب تک رستے جائیں۔۔۔یوں ہی چلتے جائیں
    ایک چرا غ سہی۔۔۔راہ میں دھرتے جائیں

    سچی با ت لکھیں۔۔۔۔جب تک لکھتے جائیں
    باتوں باتوں میں۔۔۔خوشبو ہوتے جا ئیں۔

  6. Asma says:

    Assalamoalaykum w..w!

    Yeah, all international media reprsentatives like BBC, cnn are very much into showing all negative things happening … they wont be showing u the spirit ppl have sowed towards the calamity and in their dekha dekhi our channels are also doing the same … criticizing govt and army and themselves doing nothing!!!!!!

    …………

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔