میرا ایک خواب ہے ۔

Tuesday,20 January 2009
از :  
زمرات : امریکہ

براک حیسن اوبامہ،سرکاری طور پر امریکہ کے چوالسیویں صدر بن چکے ہیں۔بلاشبہ آج کا دن امریکی تاریخ میں یاد گار کی حثیت رکھتا ہے، امریکیوں پر لگا نسل پرستی کا داغ آج دھل گیا ہے ۔مارٹن لوتھر کنگ کا دیکھا خواب آج امریکہ میں حقیقت بن چکا ہے ۔

امریکہ سے باہر زیادہ لوگوں کو براک اوبامہ کے صدر بننے سے زیادہ خوشی جارج بش کے جانے کی ہے، اور لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جس جادو کی چھڑی کے نہ ہونے کا گلہ بش نے کیا تھا، شائد وہ اوبامہ کے پاس ہو ۔ آج بی بی سی اردو پر قارئین کے تبصرے پڑھ کر ایسے لگا کہ شائد امریکہ میں صدر، پاکستان کے کام سدھارنے کے لئے بنایا جاتا ہے ۔ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں انہیں یہ باور کروانے کی کوشش کروں گا کہ براک اوبامہ امریکہ کا صدر ہے، اور امریکی مفاد ہی اُن کی اولین ترجیع ہے ۔
امریکہ میں قیام کے دوران یہ میرے دوسرے انتخابات تھے، اور حقیقی معنوں میں ۲۰۰۸ کے انتخابات ہی پہلے انتخابات تھے، جس میں نہ صرف میں نے عملی طور پر حصہ لیا بلکہ امریکی انتخابی نظام کو قریب سے سمجھنے کی بھی کوشش کی ۔ان انتخابات کے دوران کئی لوگوں کے لئے میرے دل میں عزت بڑھی، جن میں جان مکین سرِ فہرست ہیں ۔ اس طویل ترین انتہابی مہم کے دوران کئی مراحل ایسے آئے جہاں جان مکین کو اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کی تراکیب بتائی گئیں، لیکن انہوں نے معزر طریقہ اپناتے ہوئے اِن پر کوئی کان نہیں دھرے ۔ اسی وجہ سے جان مکین کو انہی کے حامیوں کی طرف سے جان مک شیم جیسے القابات بھی نوازے گئے ۔ انتخابات کی شام جب براک اوبامہ کی جیت یقینی ہو گئی تو جان مکین کے خطاب نے ان کی عزت اور زیادہ بڑھا دی ۔ اگر مجموعی طور پر پڑے ووٹوں کے تناسب کو دیکھا جائے تو جان مکین نے بش کے آٹھ سالہ دور کی ناکامیوں، خاص طور پر اقتصادی ناکامیاں جو عین انتخابات کے دوران وقوع پذیر ہونا شروع ہوئی تھیں، کے باوجود صرف سات فی صد ووٹوں کے فرق سے الیکشن ہارا ہے ۔یہ کہنا مناسب ہو گا کہ براک اوبامہ کی جیت میں سب سے بڑا ہاتھ سابق صدر جارج بش کا ہے، جیسا کہ سارہ پیلن، انتخابات کے بعد سے کہے جا رہی ہیں ۔
دوسری بات جس سے میں متاثر ہوا ہوں، اس کا تعلق جارج بش اور اقتدار کی منتقلی سے ہے، پاکستان سے تعلق ہونے کی بناء پر ذہن میں ایسا تصور تھا کہ اب اقتدار سونپنے سے پہلے بش، شائد اوبامہ کی راہ میں روڑے اٹکائیں گے ۔ بلکہ کئی کانسپریسی تھیوریز کے مطابق اوبامہ کے حلف لینے سے پہلے پہلے، اسرائیل ایران پر حملہ کر سکتا ہے کا شد ومد کے ساتھ پرچار کیا جا رہا تھا، اور گارڈین کی ستمبر میں آنے والے خبر سے یہ بھی پتہ چلا کہ ایسا ہونا، ناممکن نہیں تھا، لیکن بش انتظامیہ نے اسرائیل کے بار بار پو چھنے کے باوجود اس امر کی اجازت نہیں دی تھی ۔
میرے خیال میں ہمیں ان اوپر دو باتوں سے سیکھنے کی ازحد ضرورت ہے، اول کہ سیاست دشمنی نہیں ہوتی، اور دوسرا انتخابات کے بعد اقتدار کی پرامن منتقلی، بجائے بچوں کی طرح شور مچانے سے کہ “سر اس نے چیٹ کیا ہے ”
بہرحال امریکہ کے سامنے اب نیا افق ہے اور مجھے امید ہے کہ براک حسین اوبامہ توقعات پر پورا اتریں گے، جس میں سرفہرست معاشی صورتحال سے باہر نکلنا ہے ۔براک حیسن اوبامہ کا حلف اٹھانے کے بعد مکمل خطاب یہاں پڑھ سکتے ہیں ۔

تبصرہ جات

“میرا ایک خواب ہے ۔” پر 7 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. براک اوبامہ کا الیکشن اور آج کی تقریب بلاشبہ ایک مضبوط جمہوری معاشرے کی عکاس تھی. جان مکین کی تقریر اور جارج بش انتظامیہ کی طرف سے اقتدار کی منتقلی کے عمل کے بارے میں آپ کے تاثرات سے پوری طرح متفق ہوں اور امید ہے کہ پاکستان میں بھی کبھی نہ کبھی اس طرح کا جمہوری عمل دیکھنے کو ملے گا.

  2. راشد بھائی پاکستان آئندہ کئی برس تک آزاد جمہوریت کی پٹری پر نہیں چڑھ سکتا کیونکہ اس عوام کی گھُٹی میں رشوت اور ھیرا پھیری ہے..

  3. جہانزیب میرے دو سوال ہیں:
    ہم جانتے ہیں کہ امریکہ کا نظام عدل کافی مضبوط ہے. عراق و افغانستان تو خیر بیرونی مسائل ہیں، لیکن بش کی نااہلی کے سبب جن اندرونی محازوں پر امریکہ کو شکست کھانا پڑی، کیا اُس کے لیے بش کا محاسبہ کیا جا سکتا ہے؟
    دوسرے ایک صدارتی انتخاب ہار جانے والے دوبارہ کیوں نہیں لڑتے؟ کیا کوئی قانونی پابندی ہے یا انکی پارٹی اُسے ہارا ہوا جواری سمجھ کے اگلی دفعہ نامزد نہیں کرتی؟ الگور، جان کیری اور اب میک کین یہ دوبارہ کیوں نہیں صدارتی انتخاب نہیں لڑتے.
    شکریہ

  4. بلوُ says:

    جو بھی ہو براک حیسن اوبامہ امریکہ کا صدر ہے اور اس کے لئے سب سے پہلے پاکستان نہیں امریکہ ہے ہمارے ہاں‌کافی لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا پتہ نہیں کیی خوش فہمی ہے

  5. جو کچھ آپ نے تحریر فرمایا ہے قابل تعریف ہے لیکن ایسا پہلے بھی ہوتا آیا ہے کیونکہ امریکہ میں عملی طور پر جمہوریت ہے ۔ البتہ اوباما کا طرز تقریر متاثر کن ہے اور جان مکین نے بہی اعلی ظرفی کا مظاہرا کیا
    آپ نے مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا ذکر کیا ہے ۔ میں نے اسے اپنی جوانی کے دنوں میں سنا اور پڑھا ۔ اس کا طرز تخاطب دل میں چبھنے اور دماغ میں بیٹھنے والا ہوا کرتا تھا ۔ کل میں بنیادی طور پر مارٹن لوتھر کنگ کی لاثانی تقریر بار بار سننے کیلئے دوپہر سے آدھی رات تک ٹی وی کے سامنے بیٹھا رہا اور لطف اندوز ہوتا رہا ۔ اور اسی بہانے حلف برداری کی تقریب بھی دیکھ لی

  6. عبدالقدوس صاحب. امریکہ کو بھی کم و بیش دو سو سال لگے ہیں یہاں پہنچنے کے لیے اس لیے امید ہے کہ تسلسل سے جمہوری عمل جاری رہے تو اپنے آپ کو خود نکھارتا جاتا ہے.

  7. شکاری says:

    اس کا مطلب ہے ہم اپنے ملک کو کام یاب ریاست کے طور پر نہیں دیکھ سکتے.

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔