الجہاد فی النار

Wednesday,11 February 2009
از :  
زمرات : امریکہ

آسٹریلیا کے جنگلوں میں آگ لگی، بہت سے دائیں بازو کے بلاگز اور ویب سائٹس اور ریڈیو اسٹیشنز نے ملبہ ایک بار پھر مسلمانوں پر گرا دیا ہے ۔
اِن دائیں بازو کے حامیوں سے اگر مسلمان کی تعریف پوچھی جائے تو شائد کچھ یوں ہو گی ” ایسا شخص جو دن میں چوبیس گھنٹے، ہفتہ میں سات دِن اور سال میں تین سو پینسٹھ دِن غیر مسلموں کو قتل کرنے کے منصوبہ جات تیار کرتا رہتا ہے” اور مسلمان کی خصوصیات میں “ہر مسلمان دنیا کے دوسرے مسلمانوں کو نام سے جانتا ہے”، ” تمام مسلمان عربی پر عبور رکھتے ہیں” اِس لئے تمام دہشت گرد ویب سائٹ پر عربی میں ہدایات لکھی ہوتی ہیں، پھر جتنے مغربی ممالک میں مسلمان آباد ہیں وہ ایک “جامعہ منصوبہ بندی کر کے یہاں آباد ہوئے ہیں” ۔
اور سب سے زبردست، ماڈریٹ مسلم صرف وہ ہے، جو قرآن کی تعلیمات کو خاطر میں نہ لاتا ہو ۔ باقی جتنے مسلمان قرآن کی تعلیمات کو حق، سچ مانتے ہیں وہ مسلمان، دہشت گرد کے سِوا کچھ اور نہیں ہو سکتے ۔
ویسے یہ نام نہاد دائیں بازو کی قوتیں، مغربی طالبان ہیں، اور اِن کی ہرزہ سرائیوں کے شر سے اللہ آسٹریلیا میں مقیم مسلمانوں کو مخفوظ رکھے ۔

تبصرہ جات

“الجہاد فی النار” پر 7 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. انہی رویوں سے انتہاپسندی جنم لیتی ہے۔ ویسے میں نے فلم “خدا کے لیے” نہیں دیکھی لیکن سنا ہے کہ اس کی مرکزی کہانی بھی یہی ہے۔ فی الوقت تو آگ دونوں جانب برابر لگی ہوئی ہے اور ہاتھیوں کی اس لڑائی میں گھاس کا خانہ خراب ہو رہا ہے۔

    • میں ابو شامل صاحب سے اتفاق کرتا ہوں دراصل وہ زمانہ اب نہیں کی اقبال کی زبان میں دہرایا جائے برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
      خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ کی حیثیت آج کسی بھی گرجا،مندر یا گردوارے سے کم نہیں۔۔۔۔زیارات،عمرہ،حج سب کچھ ہورہا ہے مگر اخوت کی جہان بانی کہاں ہے محبت کی فراوانی ہے سلطانی کہاں ہے دنیا بھر کے اتنے مسلمانوں کی موجودگی کے باوجود ہر جگہ پسپائی کا سن کر دیکھ کر اللہ میاں کے خاموش تماشائی کا کردار اداکرنے کا شکوہ کرنے والوں کو خود اپنے گریبان میں منھ ڈالنا زیاد مناسب نہیں؟و انتم الاعلون ان کنتم مومنین۔۔۔غلبہ اللہ اسی کو دے گا جو اس کے بتائے ہوئے اصولوں کی پاسداری و روبکاری کرے گا چاہے ۔۔۔۔مومن ہو،یہودی ہو،ستارہ پرست ہو یا بت پرست اللہ تو رب العالمین ہے صرف کعبہ،مدینہ،مساجد اور یا الہٰی دشمنان اسلام کو نیست و نابو د کردے”ہم ذرا اپنی تجوریاں بھر لیں اپنے مفاد پورے کرلیں“والوں کا نہیں!؟اگر آپ اس کو مانتے ہیں تو صورت حال واضح ہوجائے گی محض واویلا اور پرجوش خیالات کا اظہار کوئی معنی نہیں رکھتا۔سید انورجاوید ہاشمی

  2. آپ نے بجا فرمایا۔
    زمانہ قبل جب کوئی وبا پھیلتی تو یہودیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا کہ یہ ان کی بددعا کا اثر ہے۔
    یہی کچھ اب مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے، اور عام طور پر یہودی ہی ایسے فتنے پھیلانے لگے ہیں۔

    لیکن شاید انجانے میں آپ نے دائیں بازو والوں کا کیچڑ طالبان پر اچھال دیا ہے۔ اس میں طالبان کا کیا قصور؟

    • اردوداں، بہت عرصہ بعد آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، پاکستانی طالبان کے نام پر جو عفریت پاکستانی شمالی علاقوں میں شر پھیلا رہا ہے، ان میں اور اِن مغربی دائیں بازو والے انتہا پسندوں میں صرف بندوق کا فرق ہے .

  3. انتہا پسندی کو نا معلوم کیوں مذہب سے جوڑ دیا گیا ہے حالانکہ روشن خیال انتہا پسند بھی دنیا کے امن کے لیے اتنا ہی خطرہ ہیں جتنا مذہبی انتہا پسند. دونوں ہی اپنا طرز زندگی دوسروں پر تھوپنا چاہتے ہیں اور اس کا خمیازہ بگھتنے کو ہم عوام. فاکس نیوز طرز فکر کے لوگوں کی نظر میں مسلمان کی تعریف آپ نے بالکل درست لکھی ہے.

  4. فیصل says:

    میں تو روز ٹی وی دیکھ رہا ہوں، جہاں تک مجھے علم ہے ایسی کوئی بات قومی میڈیا میں تو نہیں آئی کم از کم.

    • فیصل امریکہ میں بھی سوا فاکس یا فکس نیوز چینل کے کسی قومی چینل پر یہ نہیں آیا، لیکن امریکہ میں ٹیلیویژن کے متوازی میڈیا ریڈیو ہے، ٹیلویژن کے برعکس ریڈیو پر دائیں بازو کے حمایتیوں کا غلبہ ہے، یہ شوروغل انہوں نے ہی برپا کیا ہے، اس کے علاوہ انہی ریڈیو پرگراموں سے تحریک پا کر بلاگرز اور ان کی حمایتی ویب سائٹس ایسی خبر کو اس شدومد اور تواتر کے ساتھ انٹرنیٹ پر فروغ دیتی ہیں کہ جب آپ اس کے بارے میں سچ جاننا چاہیں تو پہلے دو تین صحفہ انہی کے پروپیگنڈہ سے بھرے ہوتے ہیں، اَس کا ثبوت ابھی حالیہ آسٹریلیا کی آگ کو گوگل میں تلاش کر کے دیکھ لیں .
      پھر اوپر جو تلاش کا ربط میں نے دیا ہے، اس پر کلک کریں تو جو شخص ریڈیو سے سن کر آ کر ویب پر تفاصیل دیکھنا چاہے گا، اسی پر یقین کر بیٹھے گا کہ واقعی مسلمانوں کا اس میں ہاتھ ہے، اس کا اثر کتنا ہوتا ہے؟ کہ آسٹریلیا میں پولیس کو خاص طور پر وضاحت کرنا پڑی ہے کہ اس میں مسلمانوں کے ملوث ہونے کے کسی قسم کے ثبوت نہیں ہیں .

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔