ڈالر کا نشہ

Tuesday,18 August 2009
از :  
زمرات : امریکہ

کہنے والے کہتے ہیں کہ ڈالر میں نشہ ہے، ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہتے۔
میساچیوسٹ یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق تقریباً نوے فی صد ڈالر کے نوٹوں پر کوکین کی مقدار پائی جاتی ہے ۔ دارلحکومت مطلب واشنگٹن ڈی سی یہاں سرِ فہرست ہے جہاں ۹۵ فیصد نوٹوں پر کوکین کی مقدار پائی گئی جبکہ سالٹ لیک سٹی جہاں مورمن عیسائیوں کی اکثریت ہے وہاں سب سے کم مقدار میں کوکین نوٹوں پر پائی گئی ۔
چلو ڈالر کی قیمت گرِ رہی ہے، کوکین کی قیمت کم ہونے کا اندیشہ کم ہے ۔ میں تو ذرا اپنے ڈالر دھو کر کوکین علیحدہ کر لوں، کل کا کسے پتہ ۔
ویسے سب سے شریف پیسہ جاپان کا نکلا ہے، جہاں یہ مقدار بارہ فی صد کرنسی نوٹوں پر پائی گئی ہے ۔

تبصرہ جات

“ڈالر کا نشہ” پر 9 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. ہماری کرنسی کا کیا حال ہے ۔زہر کی مقدار 100 فیصد

  2. ہمارے نوٹوں پر ۵۰ فیصد نسوار ہو گی اور پچاس فیصد پر پان 😀

  3. ڈفر آپ نے تھوک کا فیصد نہیں بتایا. میرا مطلب منہ کا تھوک، پیش کے ساتھ.

  4. واہ یار.. اس کا مطلب اگر ہزار بارہ سو ڈالر کسی نے یونہی جیب میں رکھ کر ہوائی سفر کا ارادہ کیا تو سگ طیارہ گاہ تو اس کو سونگھ سونگھ کر پاگل کردیں گے.

  5. جعفر says:

    یہ کوکین کیا ہوتی ہے
    کوئی بتائے گا

  6. عبداللہ says:

    انیقہ ڈفر شائد شرمندہ ہوگئے ہیں اس لیئے جواب نہ دیں ویسے ان کا تبصرہ پڑھ کر ہنسی آئی کہ دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت ،ہر وقت یہ رونا ڈالے رکھتے ہیں کہ کچھ بھی بات کرو لوگ اس میں لسانیت اور تعصب گھسیٹ لاتے ہیں اور خود بے چارے 🙂
    جہانزیب کوکین سے ڈالر کا نشہ دوآتشہ ہوگیا ہے 🙂

  7. التمش says:

    جہانزیب بالکل سہی بات ہے کئی سال پہلے میں ڈسکوری چینل پر اس باری میں داکیومینٹری دیکھ چکا ہوں- اس میں مائیکرو دوربین سے جو تصویریں دیکھائی گئی اس میں پتا چلا کہ نوٹ پر ڈرگس کے ذرات تھے-

  8. تُھوک، پان اور نسوار، ویسے نسوار کا ایک فائدہ پاکستان میں گاڑیوں کے مستری بھی اٹھاتے ہیں کہ جب گاڑی کے ریڈی ایٹر میں چھوٹا سوراخ ہو جائے تو اسے چالو رکھنے کے لئے سوراخ کو نسوار سے بند کر دیتے ہیں .:D

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔