تبدیلی

Wednesday,28 January 2009
از :  
زمرات : پاکستان, امریکہ

امریکہ میں تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے، اس وقت سب سے بڑی تبدیلی وہائٹ ہاؤس کے اندر آئی ہے جہاں لورا بش اور جارج بش کی بجائے براک اوبامہ اور میشل اوبامہ سوتے ہیں ۔ باقی تبدیلیوں کی ابھی صرف امید ہے ۔بین الاقوامی سطح پر “سر منڈاتے ہی اولے پڑے” کے مصداق اوبامہ کے صدر نامزد ہوتے ساتھ ہی اسرائیل نے غزہ پر چڑھائی کر دی،اپنی آبائی ریاست ہوائی میں چھٹیاں مناتے ہوئے اوبامہ سے جب اس بارے استفسار کیا گیا تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ۔جبکہ اِس سے پہلے ممبئی میں دہشت گردی کے واقعہ پر براک اوبامہ کھل کر اِس واقعہ کی مذمت کر چکے ہیں ۔بعد میں بھی غزہ کے حالات پر بات کرتے ہوئے روایتی امریکہ کی طرح اس سب کا الزام حماس کے سر دھر گیا ۔
اِس کے بعد ایک اور بین الاقامی محاذ جو امریکہ کو درپیش ہے” پاکستان” وہاں پر امریکی لائحہ عملی میں جیسے کہ پاکستان کے بہادر وزیرِ اعظم سوچ رہے تھے کہ براک اوبامہ کے آنے سے شمالی علاقہ جات میں امریکی ڈرون حملے بند ہو جائیں گے، یہاں بھی کسی تبدیلی کی توقع نہیں ہے ۔ امریکی ڈیفنس سیکریٹری رابرٹ گیٹس نے سینٹ کے ارکان کو بتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے اندر حملے جاری رکھیں جائیں گے ۔ اور ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے کہ یہ حملے روک دئے جائیں،کیونکہ یہ حملے کافی نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں ۔سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ سینیٹر کارل لِیون نے جب یہ سوال پوچھا کہ کیا حکومت پاکستان کو اس بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے؟ تو رابرٹ گیٹس نے اس کا اثبات میں جواب دیا ۔
اب پتہ نہیں یوسف رضا گیلانی اگلے امریکی انتخابات کا انتظار کریں گے

تبصرہ جات

“تبدیلی” پر 4 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. لیکن اوبامہ کا العربیہ کو دیا گیا ٹی وی انٹرویو تو خاصا متوازن تھا اور لب و لہجے میں بھی خاصی تبدیلی دکھائی دی ہے. ساتھ ساتھ القاعدہ کے فلسفہ کو اوبامہ نے اب جس انداز سے چیلنج کیا ہے وہ بھی مختلف ہے اور اگر وہ اپنے الفاظ کو عملی جامہ پہناتے ہیں اور کم از کم فلسطین اور اسرائیل کے معاملے میں ہی کچھ پیش رفت ہوجاتی ہے تو یہ تبدیلی کا آغاز ہوسکتا ہے. پاکستان کے بارے میں تو دیکھیں ہم نے خود پیروں پر کلہاڑی ماری ہے طالبان کی پرورش بھی کرتے رہے ہیں اور ساتھ ساتھ امریکی امداد بھی کھاتے رہے ہیں اور دہشت گردی کی عالمی جنگ کا حصہ بھی بنے رہے ہیں اور سفارتکاری کا حال صرف ہلال قائد اعظم دینے کی حد تک ہے.

  2. یہ تبدیلی انہی کیلیے سود مند ہو گی جن کی خدمت کیلیے اوبامہ منتخب ہوئے ہیں. غریب پہلے بھی مر رہے تھے اور اب بھی مرتے رہیں گے.

  3. ابھی گزشتہ روز (28 جنوری) کو جنگ میں ایک اوبامہ کے حوالے سے ایک بیان پڑھا، گو کہ اس کی صحت پر مجھے یقین نہیں، کہ ایسا آمر نہیں پال سکتے جو طالبان سے امن معاہدے کرے۔ اگر یہ بیان حقیقتاً اوبامہ نے دیا ہے تو یہ ایک جملہ بہت ساری وضاحتوں پر بھاری ہے۔ مشرف کی وردی اتروانا، ان کی رخصت اور زرداری کا آنا اور جمہوری حکومت کے قیام کے ساتھ ہی قبائلی علاقوں میں امریکی میزائل حملوں میں اضافہ اور پاکستان کا صرف زبانی احتجاج، وہ سب واضح ہو جاتا ہے۔ قوی امکان ہے کہ مشرف کو اس لیے راہ سے ہٹا دیا گیا ہو کہ وہ میزائل حملوں کی کھلی اجازت دینے سے انکاری ہوں، جبکہ بی بی نے یہ یقین دہانی کرائی ہو کہ وہ امریکی افواج کو پاکستان میں کاروائی کی مکمل اجازت دیں گی۔ اسی یقین دہانی پر امریکہ نے مشرف حکومت پر دباؤ ڈال کر سابق وزرائے اعظم کو ملک میں واپسی کی اجازت دینے اور مقدمات ختم کرنے کا کام کروایا ہو۔
    ویسے اس خبر میں اوبامہ کے بیان کے صرف دو جملے ہیں اس لیے اس خبر کی صحت پر مجھے شبہات ہیں۔
    باقی رہی تبدیلی کی بات تو ایک حوالے سے تو تبدیلی آئی ہے کہ امریکہ میں ایک سیاہ فام صدر کے عہدے تک پہنچا ہے البتہ دنیا بھر کے لیے تبدیلی کی جہاں تک بات ہے تو اس کے لیے شاید انتظار کرنا پڑے۔ لیکن پاکستانیوں کی خوش فہمی کا خاتمہ ہو چکا ہے کہ اوبامہ کی آمد کےبعد پاکستان پر میزائل حملے بند ہو جائیں گے۔

    تحریر سے ذرا ہٹ کر: آج آپ کا یہ تھیم پہلی بار دیکھا ہے،بہت اچھا ہے، بس ایسا کریں (اگر ممکن ہو تو) کہ سائیڈ بار میں محفوظات کو ڈراپ ڈاؤن مینیو میں کر لیں تاکہ روابط بہت زیادہ نیچے نہ چلے جائیں۔

  4. ڈفر says:

    تبدیلی آئی ہے
    چھتر چٹے سے کالا ہو گیا ہے
    اور چھتر مارنے کے لئے تازہ دم بندہ آ گیا ہے

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔