امریکی حملہ ۔

Friday,13 June 2008
از :  
زمرات : پاکستان, امریکہ

رواں ہفتہ میں امریکی طیاروں اور زمینی دستوں کی جارحیت سے پندرہ پاکستانی اہلکار شہید ہو گئے، تو جیسے پاکستان کے بلاگستان پر ایک بھونچال سا آ گیا ہے۔

لیکن میرا ایک سادہ سا سوال ہے، پچھلے دو سال میں تقریباً ایک ہزار کے قریب پاکستانی اہلکاروں نے اِس جنونی جنگ میں جامِ شہادت نوش کیا ہے، اُن کی شہادت کو بھی فتوؤں کے ذریعے متنازعہ بنایا جاتا رہا، اسلام کے نام پر اُن کے گلے کاٹ کر انٹرنیٹ پر ویڈیوز جاری کی گئیں ، تب اُن شہادتوں پر  ایسا ردعمل دیکھنے میں کیوں نہیں آیا؟

پندرہ جوانوں کی شہادت پر مُلک کی سالمیت پر خطرات سے آگاہ کرنے والے پہلی ہزار شہادتوں پر خطرہ محسوس کیوں نہیں کر پائے؟

تبصرہ جات

“امریکی حملہ ۔” پر 4 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. جناب اگر آپ اس معاملے کا بغور جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہ حملہ امریکی فوج نے براہ راست پاکستانی فوجیوں کو ٹارگٹ کر کے کیا ہے . پہلے جن فوجیوں کے گلے کٹتے تھے ، وہ طالبان کے ہاتھوں‌شہید ہوتے تھے . باہر سے آ کر کوئی نہیں مارتا تھا . اپنے ہی لوگوں پر حملے کرتے تھے اور اپنوں ہی کے ہاتھوں‌مارے جاتے تھے . بات تب بھی غلط تھی اور اب بھی غلط ہے .

    آپ کا پہلا فقرہ ظاہر کرتا ہے کہ جیسے پندرہ بندوں کا مرجانا ایسی بات ہے کہ اس کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے . آپ کا بھائی ان مرنے والوں میں شامل ہوتا تو میں دیکھتا آپ کیسے اس طرح کی بات کرتے ہیں .

  2. پہلی غلط جنگ لڑ کر ہم نے آپ کو انتہا پسندی کو تحفہ دیا اور دوسری جنگ لڑ کر طالبانائزیشن کا. امریکیوں کو یہ راستہ دکھایا کس نے ہے؟ اب واویلا مچانے سے کچھ نہیں ہوگا.. بلکہ پر امید امریکن صدارت کے امیدوار براک اوبامہ تو یہ کہہ چکے ہیں کے وہ افغانستان اور پاکستان سرحد پر توجہ دیں گے اور یہ تو آپ کو معلوم ہے امریکی توجہ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے.. اپنی غلط پالیسیوں کا خمیازہ ہمیں خود ہی بگھتنا ہوگا.. میں جارحیت کی حمایت نہیں کررہا بلکہ یہ کہنا چارہا ہوں کے ببول بو کے ببول کاٹنا ہوگا ناشپاتی تو ملنے سے رہی

  3. اجمل says:

    محترم پروپیگنڈا سے متاثر ہونے کی بجائے اصل حالات کا مطالعہ کرنے کی کوشش کیجئے ۔ اللہ آپ کی مدد فرمائے ۔

  4. قدیر میرا پہلا جملہ ایسا کچھ ظاہر نہیں کرتا، اور جو شہید ہوئے ہیں وہ میرے بھائی ہیں ۔ لیکن میں جذبات میں آ کر اصل مسلہ کو فراموش نہیں کرنا چاہتا۔ پاکستان کا بیرونی خطرہ اتنا نہیں ہے جتنا اندرونی ۔ اور میری ضمانت ہے جب ہم نے خود اِن اندرونِ خانہ عناصر سے نمٹ لینا سیکھ لیا باہر سے کسی کی ہمت نہیں کہ ایسے بزدلانہ اقدام کرتا پھرے ۔
    اجمل انکل، میں ہمیشہ اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ میرا فہم کھول دے، اور معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت دے ۔ آپ اگر “اصل حالات” پر روشنی ڈالیں تو شاید میرے نظریے میں فرق آ جائے ۔ لیکن ابھی ہفتہ قبل میرا پھپھو زاد بھائی یہاں سے واپس پاکستان گیا ہے، اُس کا پیشہ “مسلمانوں کو مارنا” مطلب پاکستان آرمی ہے، اور اس شورش زدہ علاقہ میں چھ مہینہ خدمات انجام دے چکا ہے، اُس کے بیان کردہ حالات تو “اصل حالات” سے بھی کہیں بدتر ہیں ۔

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔