انتخاب

Friday,31 October 2008
از :  
زمرات : امریکہ

امریکہ میں انتخابات میں چار روز رہ گئے ہیں، اور بش اب بس ایک نگران صدر ہی رہ چکے ہیں ۔ میرے لئے انتخابات میں شروع میں فیصلہ کرنا اتنا مشکل نہیں تھا، کہ میرا خیال تھا ہیلری کلنٹن آخری مرحلہ میں بھی امیدوار ہوں گی،  لیکن یہ ہو نا سکا اور تب سے میں اس کشمکش میں تھا، کہ کس کے ہاتھ پر “بیعت” کروں۔ کچھ عرصہ یہ بھی سوچا، چلو مٹی پاؤ، چھڈو نہیں ڈالتے ووٹ، کونسا میرے ووٹ سے کوئی فرق پڑ جانا ہے، تب مجھے پاکستان کے انتخابات یاد آئے جہاں میں سب کی مخالفت کے باوجود لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر اکساتا رہا ۔ اس کے علاوہ آخرت میں اس سوال کا بھی جواب کہ ۲۰۰۸ میں تم نے ووٹ کیوں نہیں ڈالا؟ویسے بھی امریکہ میں یہ ایک عہد ساز انتخابات ہیں، اس لئے بھی پیچھے نہیں ہٹا جا سکتا۔
باراک حیسن اوبامہ
پاکستان میں یہ مرحلہ بڑی آسانی سے طے ہو جاتا ہے، عموماً آپ کی بجائے آپ کی برادری فیصلہ کرتی ہے کہ “ووٹ کِنوں پانڑا اے” ، مجھے کبھی اس مرحلہ سے تو گزرنا نہیں پڑا، لیکن چشم دید گواہ ضرور رہا ہوں، پاکستان میں ووٹ ڈالنے سے پہلے ہم امریکہ منتقل ہو گئے، پچھلے انتخابات میں میرے پاس شہریت نہیں تھی، سب باتوں کی ایک بات کہ زندگی میں یہ میرا پہلا ووٹ ہو گا، اگر پرائمری الیکشن ملائے جائیں تب دوسرا ۔پہلے ووٹ کے مرحلے پر میں نے سوچا کم از کم مجھے ووٹ سے پہلے تحقیق کر لینی چاہیے کہ دونوں جماعتوں کے نظریات کیا ہیں، اور میرے نظریات کس کے زیادہ قریب تر ہیں، اور پھر سب کچھ خراب ہوتا گیا ۔ کیوں کہ بیشتر معاملات میں یا تو میرے نظریات ریپبلکن پارٹی سے ملتے تھے یا قریب تر تھے ۔اس کے باوجود میں ریپبلکن کو ووٹ نہیں دے رہا ہوں، وجہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کی مثال ہے ۔ آپ نے ضرب مثل سُنی ہو گی کہ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے، اور ریپبلکن پارٹی کے دوستوں (ٹالک ریڈیو) نے مجھے متنفر کیا ہے ۔

سو ان سب باتوں کی ایک بات، میں ۴ نومبر ۲۰۰۸ کو براک حسین اوبامہ کو ووٹ دوں گا ۔ ووٹ ڈالوں کس وقت، اس بات کا تعین کرنا ہے، پرائمریز میں رات کے آٹھ بجے ووٹ ڈالا تھا، ابھی بھی ہجوم سے پہلے یا چھٹننے کے بعد کا انتظار کروں گا ۔

تبصرہ جات

“انتخاب” پر 4 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. ڈفر says:

    اللہ کرے آپکا ووٹ پاکستان کے کام آئے 🙂

  2. چلیں جی بڑی اچھی بات ہے.. آپ نے بالاخر ووٹ کے حقدار کا تعین کرلیا اور سب سے اچھی بات یہ کہ ووٹ ضائع نہیں جائے گا.
    پس موضوع جاننا چاہ رہا تھا کہ کیا اوبامہ کے 30 منٹ کے انفو مرشل نے آپ کے فیصلے میں کوئی کردار ادا کیا ہے؟

  3. ہاہاہا، راشد نہیں، بلکہ میں نے صرف اس کمرشل کے بارے میں سنا ہی ہے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا .ویسے بھی میرا شمار ان ووٹر حضرات میں کیا جانا چاہیے جو نظریات سے زیادہ امیدوار کی پسندیدگی کو ترجیع دیتے ہیں.

  4. ووٹ ضرور ڈالنا چاہیئے ۔ کاش میرے سب ہموطن اپنے ملک کے انتخابات میں ووٹ ڈالا کریں اور قوم کے ہمدرد منتخب ہو سکیں

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔