ہریکین سارا ۔

Thursday,4 September 2008
از :  
زمرات : امریکہ

امریکی انتخابات میں روز بروز بدلتی صورتحال میں اب تک سب سے بڑا طوفان گورنر سارا(سیرہ) پیلن کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔ اب تک کی مہم میں جان مکین کا سب سے اہم اور درست فیصلہ ہے، جب سے امریکہ میں انتخابی مہم کا آغاز ہوا ہے، میڈیا نے جان مکین کے ساتھ یتمیوں والا سلوک ہی روا رکھا ہے، حتیٰ کہ فاکس نیوز جیسے رپبلکن کے حامی چینل پر بھی زیادہ وقت باراک اوبامہ پر ہی صرف کیا جاتا رہا ہے(بے شک جھوٹا پراپیگنڈہ ہی ہو) ۔اسی پر پہلے بھی میں نے لکھا تھا کہ یوں لگتا ہے کہ مقابلہ باراک اوبامہ اور ہیلری کلنٹن کے مابین ہے، نا کہ ڈیموکریٹک کا ریپبلکن سے، لیکن سارہ پیلن کی نامزدگی کے بعد سے جو کوریج جان مکین کی انتخابی مہم کو نہیں مل رہی تھی، وہ حاصل ہو گئی ہے، اور جس اخبار میں جان مکین چوتھے صحفہ پر ہوتا تھا، سارہ پیلن وہاں فرنٹ پیج پر ہے، اور پوری انتہابی مہم میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ باراک اوبامہ سے زیادہ کسی کی کوریج کی جا رہی ہے ۔

میں ایک رجسٹرڈ ڈیموکریٹ ہوں اور اپنی زندگی کا پہلا ووٹ میں نے ہیلری کلنٹن کو پرائمری الیکشن میں دیا تھا، ہیلری کے الیکشن سے باہر ہو جانے کے بعد بھی (ابھی تک) مجھے امید ہے کہ میں شاید ڈیموکریٹک کو ہی ووٹ دوں گا، لیکن اس کی وجہ باراک اوبامہ سے زیادہ موجودہ ریپبلکن پارٹی کا ٹولہ (بش، چینی) ہیں ۔ خارجہ امور کے علاوہ داخلی طور امریکہ میں جو ایشوز ہیں(ٹیکسز، ہم جنسوں کی شادی، ابارشن وغیرہ وغیرہ )، میرا موقف ان پر ڈیموکریٹک کی نسبت ریپبلکن کے زیادہ قریب ہے، اور پچھلے الیکشن سے پہلے تک مسلمانوں کی بھاری اکثریت ریپبلکنز کی ہی حمایت کرتی رہی ہے ۔

باراک اوبامہ کے جادو میں پتہ نہیں میں کیوں مبتلا نہیں ہو پا رہا ہوں، باراک اوبامہ تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے ہیں، لیکن جہاں پہلے وہ تبدیلی لا سکنے کی پوزیشن مطلب سینٹ میں تھے وہاں انہوں نے ہاں یا نہیں کی بجائے سکول کے بچوں کی طرح ایک سو تیس بار “حاضر جناب” کہنے پر ہی اکتفا کیا ہے، اور سینٹ میں کوئی موقف نہ اپنانے والوں میں سرفہرست رہے ہیں ۔
پھر دوسرا واقعہ جس پر میں اوبامہ سے انتہائی متنفر ہوا ہوں، وہ ان کا اپنے چرچ اور پادری سے لا تعلقی کا اظہار تھا، باراک اوبامہ کا جب تک یہ موقف رہا ہے کہ جرمایاہ رائٹ یا ان کے چرچ کے جو بھی خیالات ہیں ضروری نہیں کہ وہ بھی ان سے متفق ہوں، اور جب یہ مسلہ عروج پر تھا تو اوبامہ نے خاص طور پر تقریر کی تھی کہ جیسے میں اپنی دادی سے لا تعلقی اختیار نہیں کر سکتا ویسے ہی میں جس چرچ اور پادری کو بیس سال سے جانتا ہوں اس سے بھی لاتعلق نہیں رہ سکتا، لیکن جب تنقید کا زور بڑھا تو دو ہفتوں میں ہی دونوں سے اپنے لاتعلق ہونے کا اعلان کر دیا ۔ مطلب یہ کہ اپنے مطلب سیدھا کرنے کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، میں اس معاملے میں اوبامہ کے پہلے موقف سے متفق تھا، لیکن دوسرے سے ہرگز نہیں اور اگر ایسا ہی تھا تو اس موقف کو اپنانے میں بیس سال کا عرصہ چہ معنی دارد؟
اس کے علاوہ جوزف بڈن کے ساتھ مشترکہ ٹکٹ سے کونسی خارجہ امور میں تبدیلی آئے گی، جو بڈن پچھلے پینتیس سال سے سینٹر ہیں اور خارجہ امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، مطلب پچھلے پینتیس سال سے آزمودہ پالیسی کے ساتھ تبدیلی کا خواب؟

باراک اوبامہ کے حامی افراد پتہ نہیں سارہ پیلن کے نا تجربہ کار ہونے کا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ باراک اوبامہ کا تجربہ ایک سوانحی خاکے پر مبنی کتاب اور دو سال سینٹ میں “حاضر جناب” کہنے سے کہیں زیادہ تجربہ ایک شہر کا دو دفعہ میئر اور امریکہ کی سب سے مقبول گورنر (الاسکا میں پیلن کا اپرول ریٹ اسی فی صد) کا ہے ۔ یہ دونوں عہدے انتظامی ہیں، برعکس اس کے اوبامہ کا کسی انتظامی عہدے کا تجربہ صفر ہے ۔ گورنر پیلن کا اتنا ہی تجربہ ہے جتنا اس سے پہلے بہت سے صدور کا جو پہلے گورنر تھے کا تھا ، یہ خصوصیات خاتون ہونے کے علاوہ ہیں ۔

گورنر سارہ پیلن پر ایک اور الزام جو عائد ہوا ہے وہ اس کی سترہ سالہ بیٹی کا بغیر شادی کے حاملہ ہونا ہے، جس ملک میں پچیس سے چالیس فی صد بچے اور افریقن امریکن کمیونٹی میں اسی فی صد بچے بغیر شادی کے پیدا ہوتے ہیں، وہاں یہ الزام؟ اس میں گورنر کیا کر سکتی تھی کہ لبرلز کی طرح بیٹی کو حمل گرانے کا مشورہ دیتی، جس کے وہ خود خلاف ہے ۔میرے خیال میں تو یہ چاہے بیٹی کا یا ماں باپ جس کا بھی فیصلہ ہے کہ جو کیا ہے اس کی ذمہ داری بھی اٹھاو ایک بہترین فیصلہ ہے بجائے کہ سیکس کرو لیکن ذمہ داری کو قریب نہیں آنے دو ۔

لیکن اس سب کے بعد بھی شائد میں اوبامہ کو ہی ووٹ(فی الحال) ڈالوں گا ۔

تبصرہ جات

“ہریکین سارا ۔” پر 5 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. بدتمیز says:

    مکین کو اخبارات میں جگہ تو مل گئی لیکن زیادہ تر اس کی قابلیت پر شک کیا جا رہا ہے کہ سارہ پیلن کو لے کر کیا اس نے درست قدم اٹھایا ہے؟ برسٹل کے امید سے ہونے کا واقعہ لے کر کہا جا رہا تھا کہ سارا کا بیک گراؤنڈ چیک نہیں کیا گیا۔ مکین کیمپین کا دعویٰ تھا کہ کیا گہا ہے۔ الاسکا میں‌ ایک آفیشل کا بیان تھا کہ وہ ٹیم جس نے یہ سب چیک کرنا تھا جمعرات کو پہنچی جبکہ جمعہ کو سارا سے مکین نے ملاقات کی اور 20 منٹ بعد اس کو نائب صدارت کی پیشکش کر دی۔
    سارہ کی کوریج تو کافی ہے لیکن سوالیہ نشانات سے بھری پڑی ہے۔ بیک گراؤنڈ چیک کے حوالے سے بھی ان کے شوہر کی ایک بیس سال پرانی ٹکٹ نکال لی گئی۔ مکین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آخر وقت تک دو بابوں کے لئے بیٹھا تھا۔ ان میں‌سے ایک لیبرمین ہے۔ وہی لیبر مین جو الگور کے ساتھ نائب صدر تھا۔ پہلے ڈیموکریٹ تھا اور اب نکل کر آزاد امیدوار ہے اور ایران پر حملہ کے لئے بیقرار ہے۔ اس نے ابھی کل پرسوں ڈیموکریٹ ووٹرز کو کہا ہے کہ وہ مکین کو ووٹ ڈالیں۔
    بہت سے لوگ مکین سے نجات کی خاطر اوبامہ کو سپورٹ کرتے ہیں۔ ری پبلیکنز کا مطلب تیل کی بڑھتی قیمتیں‌ مہنگائی اور عالمی طور پر ابتری۔
    اوبامہ کے سینٹ کے حوالے سے شائد زکریا نے کچھ لکھا تھا اب یاد نہیں۔ چرچ بدلنا تو عام بات ہے۔ کلنٹن نے بدلا تھا۔ بش نے بھی۔ چرچ سے لاتعلقی چرچ کے یہودیوں کے خلاف بیانات تھے۔ نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہوتا ہے۔ تو اوبامہ نے نادان دوست سے چھٹکارا حاصل کیا۔ اگر نہ کرتے تو ہماری طرح نہ ہو جاتا کہ آپ کا بندہ چاہے غلط ہو آپ نے اسی کا ساتھ دینا ہے۔
    بائیڈن کے ساے میرا تو خیال تھا کہ اس پر جو الزام تھا کہ وہ خارجہ پالیسی کی الف بے سے واقف نہیں کا مداوا کرتا ہے۔ پھر یہ کیسے فرض کیا جا سکت اہے کہ وہ انہی پالیسویوں‌کا تسلسل ثابت ہونگے؟
    سارا کا اپرول ریٹ اچھا ہے لیکن آپ تو سب سے اوپر والا بتا رہے ہیں۔ نیچے والا 63 فیصد پر ہے۔ پھر ابھی کل پرسوں ان کے اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے تحقیقات کا ذکرتھا۔
    سارا جس شہر کی مئیر رہی اس کی آبادی 7 ہزار تھی۔ ان کے اشتہارات ری پبلیکن پارٹی نے اس سیٹ کے لئے چلائے جہاں پارٹی کا عمل دخل ہی نہیں۔
    ‌برسٹل کا حاملہ ہونا سارا پر الزام نہیں تھا۔ بلکہ سارا کے بچے کا دراصل برسٹل کے بچے کا ہونا الزام تھا۔ جس ملک میں‌ انتخابات میں انتہا کی کیچڑ ایک دوسرے پر اچھالی جاتہ ہو وہاں یہ تو معمولی بات تھی۔ اور اہم اس لئے کہ ری پبلکن عام طور پر نک سک قدیم خیالات پر قائم رہتے ہیں جو عورتوں‌ کو گھروں میں رکھ کر بچے پالنے میں مصروف رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں شادی سے پہلے ہمبستر ہونا کہاں کی عقلمندی ہے؟ یہ لبرل امریکہ کے حوالے سے عام لیکن ری پبلیکن کے حوالے سے بہت بڑی بات ہے۔ خاص طور پر جب 18 کے بعد آپ اپنے فیصلہ خود کر سکتے ہوں اس سے پہلے بچہ شمار ہوتے ہوں۔

  2. کیا یہ مزیدار بات نہیں کہ جان مکین کا اپنا انتظامی تجربہ بھی صفر ہے اور جس ایکزیکٹو فیصلوں کی بات ہو رہی ہے جان مکین خود اس سے دور رہے ہیں یا شاید میرے علم میں نہیں. میں خود ہیلری کو سپورٹ کرتا رہا ہوں اور براک اوبامہ سے کوئی خاص امیدیں وابستہ نہیں لیکن جان مکین کی قابلیت کا اندازہ اسی بات سے لگا لیں کے جن ملکوں میں امریکہ کی فوجیں برسر پیکار ہیں وہاں کا جغرافیہ تک بابا کو معلوم نہیں یہاں تک کہ القاعدہ، ایران اور شیعہ سنی تک کا فرق دوران تقریر انکے مشاہیر کو واضح کرنا پڑتا ہے.. ایسا نہیں لگتا کے صدارت کے منسب پر براجمان کوئی ایسا فیصلہ صادر فرمادیں کے دنیا کا جغرافیہ انکی اپنی علمیت کی بنیاد پر ترتیب پا جائے؟‌ اور یہ بھی سوچنے والی بات ہے کہ اپنی پوری مہم براک اوبامہ کی ناتجربہ کاری پر صرف کرنے کے بعد ایک ایسا نائب صدر چننا جو خود نا تجربہ کار ہے اور بابا کی عمر کو مد نظر رکھتے ہوئے تو اس کے صدر بننے کے قوی امکان ہیں.. اور جس اسی فیصد کا ذکر ہے اسکی آبادی تو دیکھیں اس سے بڑی آبادی اور شاید بجٹ تو لانگ بیچ کا میئر ہنڈل کرتا ہے.

  3. بدتمیز جو لوگ قابلیت پر شک کر رہے ہیں، وہ تو چاہے مکین یا ریپبلکن کچھ بھی کر لیں یہی راگ الاپتے رہے ہیں، امریکہ میں ووٹر کی کچھ اقسام ہیں، ایک لبرلز دوسرے کنزرویٹوز یہ لوگ نظریات پر ووٹ دیتے ہیں اور کچھ بھی ہو جائے یہ نظریاتی ووٹر لبرل اوبامہ کو اور کنزرویٹو مکین کو ہی ووٹ دیں گے، پھر انڈیپنڈنٹ ووٹرز الگ ہیں اور اس کے علاوہ زیادہ لوگ نظریات پر نہیں شخصیات پر ووٹ دیتے ہیں، مطلب جذباتی ووٹر، یہ ووٹر میڈیا اور اردگرد سے دیکھ کر جس کو پسند کر لیں اس کی موج ۔ سارہ پیلین کو چن کر مکین نے انہی ووٹرز کی توجہ حاصل کی ہے جس میں میرے خیال میں بہت حد تک کامیاب رہے ہیں ۔
    یہ تو انتہائی لغو اور فضول بات ہے کہ بیس سال پہلے شوہر کو ٹکٹ ملی تھی، جبکہ بیس سال پہلے اوبامہ کے اپنے مطابق وہ منشیات کا استعمال کرتا تھا ۔ پیدا ہوتا ہی کوئی پریذیڈنٹ بننے کے چکروں میں نہیں پڑ جاتا، لوگ غلطیاں کرتے ہیں، لیکن دیکھنا یہ کہ ان غلطیوں سے سیکھا کیا ہے ۔ بیک گراؤنڈ کے لحاظ سے سارہ پیلین کی جو اچیومنٹس پچھلے پندرہ سال میں ہیں وہ ان بودے الزامات سے کہیں زیادہ بڑی ہیں ۔
    لیکن مکین سے نجات حاصل کرتے کہیں اس سے بڑے عفریت کے ہاتھوں نہیں پھنس جائیں، جو موقع محل دیکھ کر ایک دن میں رنگ بدل جاتا ہے، کیا اوبامہ کا ایپک سے خطاب آپ کو یاد ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ غیرتقسیم شدہ یروشلم ہمیشہ اسرائیل کا حصہ رہے گا، اور صرف ایک دن بعد دوسرے دن اس بات سے پھر گیا تھا، کیونکہ اوبامہ کو امریکہ کا سب سے بڑے خارجی مسلے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ ہے کیا، اور امریکہ کی پوزیشن کیا ہے اس مسلے میں ۔ اسی طرح اعتراض چرچ یا نادان دوستوں کو چھوڑنے پر نہیں، کس طرح چھوڑا اس پر ہے، ایک ہفتہ پہلے تک بھی یہی الزامات چرچ اور پیسٹر پر تھے، لیکن اوبامہ ہر جگہ ان کو ڈیفنڈ کرتا رہا تھا، اور بیس سال میں جو شخص ایک نادان دوست کو پہنچانتا ہے، وہ چار سال میں تبدیلی کیسے لے کر آئے گا؟

    بالکل جس شہر کی مئیر رہی اس کی آبادی سات ہزار ہو یا دو ہزار ہو، تجربے میں یہ کتاب لکھنے اور کمپین چلانے سے کہیں زیادہ تجربہ ہے، کہ سات ہزار کے شہر میں بھی سب ادارے ہوتے ہیں، جن کا ناظم مئیر ہی ہوتا ہے ۔

    راشد، مکین کا سول اداروں میں انتظامی تجربہ نہیں ہے لیکن ملٹری میں اسے یہ تجربہ وی اے ایک سو چوہتر شپ جو سب سے بڑا جہاز ہے میں ایک کمانڈر کی حثیت سے حاصل ہے، مطلب وہ ایک فیصلہ کن جگہ پر کام کر چکا ہے ۔ اور جہاں تک بات پاکستان اور عراق کے بارڈر کے حوالے سے کر رہے ہیں، تو میرا ذاتی خیال ہے کہ وہ “ٹنگ سلپ” زیادہ تھی ، ویسے بھی غیر ملکی جغرافیہ سے زیادہ اپنے جغرافیہ کا علم ہونا زیادہ ضروری ہے، اور اوبامہ ستاون ریاستوں میں کمپین چلا چکا ہے؟ ۔

  4. زیک says:

    اوبامہ کی چرچ سے متعلق پہلی تقریر اور چرچ چھوڑنے کے درمیان کچھ اہم واقعات رونما ہوئے تھے کہ ریورینڈ رائٹ نے پریس کو کچھ عجیب و غریب بیانات دینے شروع کر دیئے تھے. اس کے بعد اوبامہ کا اس چرچ میں رہنا رائٹ اور اس کے خیالات کی مزید پبلسٹی ہی کر سکتا تھا جس سے مزید نقصان ہو سکتا تھا.

    اوبامہ کے حاضر ووٹ سینیٹ میں نہیں بلکہ الینائے سٹیٹ سینیٹ میں تھے. یہ وہاں کے پارلیمانی پروسیجر کا حصہ ہے اور ان میں سے کچھ کا مقصد قدامت‌پسند علاقوں کے ڈیموکریٹک نمائندوں کو کور فراہم کرنا تھا. سینیٹ میں اوبامہ کی کارکردگی کے بارے میں آپ میری پوسٹ پڑھ سکتے ہیں. اس میں دیئے گئے لنکس میں کافی تفصیل موجود ہے.

    سارہ پیلن کا تجربہ ایک گاؤں کے میئر کا ہے. اس قصبے میں صرف آٹھ نو ہزار لوگ رہتے تھے جبکہ جب اوبامی الینائے سینیٹ میں تھا تو وہ اس سے 30 گنا لوگوں کا نمائندہ تھا. جتنا عرصہ اسے گورنر بنے ہوا ہے اتنی دیر سے ہیلری کلنٹن، میکین اور اوبامہ وغیرہ صدارتی امیدوار ہیں یعنی صرف ڈیڑھ سال. یہ بھی خیال رہے کہ تجربے کا مقابلہ کرتے ہوئے نالج کا بھی مقابلہ کریں. پیلن کی بہت سے داخلی اور خارجی معاملات پر کوئ معلومات کہیں نہیں ملتیں.

    پیلن کے خلاف صرف بیٹی کی بات نہیں کی جا رہی بلکہ ٹروپرگیٹ کا بھی مسئلہ ہے جب اس نے اپنی بہن کے پرانے شوہر کو پولیس سے نکالنے کی کوشش کی اور جب پولیس چیف نے بات نہ مانی تو چیف کو فارغ کر دیا. اب اس کی تفتیش کو الیکشن سے پہلے ہونے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے.

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔