مسلمانوں ہوشیار

Thursday,21 September 2006
از :  
زمرات : نیو یارک, مذہب, امریکہ

رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہونے والا ہے، امریکہ میں ہر سال ایسے مواقع پر جیسے عیدین اور رمضان کا آغاز پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے کئی لوگ ایک دِن عید کرتے ہیں اور بعض دوسرے اگلے دِن۔ حتی کہ ۲۰۰۲ میں صرف نیویارک شہر میں تین مختلف دِن عید منائی گئی اور حالات کچھ اِس طرح ہوتے ہیں کہ ایک شخص کا روزہ ہوتا ہے اور دوسرا اُسے عید کی مبارک دے رہا ہوتا ہے۔
جب سے ہم امریکہ آئے ہیں ہم اِسنا (اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ) کے تحت ہی عیدین وغیرہ کا احتمام کرتے ہیں، جبکہ بہت سے دوسرے لوگ سعودی عرب کے حساب سے اِن کو مناتے ہیں۔ اِن پانچ سالوں میں پہلی دفعہ میں نے رویت ہلال کمیٹی آف نارتھ امریکہ کا نام اب سے دو دِن پہلے پڑھا ہے وہ بھی اخبار میں اِس سُرخی کے ساتھ ” مسلمانوں پر یہودی کیلنڈر نافذ کرنے کی کوشش۔ مسلمانوں ہوشیار” اور خبر کی تفصیل میں امریکی اسلام اور یہودی کیلنڈر کے فریب سے بچیں۔
خبر کا محرک اِسنا کا اگلے پانچ سال تک کے لئے اِسلامی کیلنڈر کا اجراء ہے، جِسے جاری کرنے کے لئے چاند دیکھ کر فیصلہ کرنے کی بجائے آسٹرانومی کا سہارا لیا گیا ہے۔ چونکہ یہودی اِس طرح کا کیلنڈر پہلے سے اپنا چکے ہیں اور آسٹرانومی میں اِسے “conjunction” کہا جاتا ہے۔ اِس conjuction کی بنیاد پر اِسنا کے بنائے ہوئے اِسلامی کیلنڈر کو یہودی کیلنڈر قرار دیا جا رہا ہے، اور اِس وقت نیویارک کی مساجد اور شاید پورے امریکہ کی مساجد میں بھی یہ موضوع ایک “ہاٹ ٹاپک” بنا ہوا ہے۔
چونکہ میرا اِس موضوع پر علم انتہائی محدود ہے اِس لئے میں اِس بات پر تبصرہ نہیں کروں گا اگر کوئی اِس بات پر مباحث پڑھنا چاہے تو یہاں اور یہاں اِس پر مزید پڑھ سکتا ہے۔ لیکن میں آسٹرانومی کی بنیاد پر بنائے گئے کیلنڈر کے حق میں ہوں اور امریکہ میں خصوصاً اور باقی اسلامی دُنیا میں عموماً ایسے لوگ پہلے سے موجود ہیں جو آسٹرانومی کی بنیاد پر کیلنڈر کا اجراء چاہتے ہیں۔ نہیں تو حالات وہی رہیں گے جو نیویارک میں ہیں لوگ پاکستان، سعودی عرب فون کر کے پوچھتے رہیں گے کہ رمضان کب ہے اور اُس حساب سے اپنی عیدین مناتے رہیں گے۔ ہمارے گھر کے قریب ایک مسجد ہے جہاں دو عیدیں پڑھائی جاتی ہیں وہاں ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس اہلکار کا سوال تھا کہ ایک ہی علاقے میں رہنے والے مسلمان ایک ہی عید پر متفق نہیں ہو سکتے؟

تبصرہ جات

“مسلمانوں ہوشیار” پر 4 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. زکریا says:

    جہانزیب: آسٹرالوجی نہیں بلکہ آسٹرانومی۔

  2. جہانزيب says:

    شکریہ زکریا

  3. بدتمیز says:

    سلام
    میں یو ایس اے ٹو ڈے پڑھتا ہوں۔ دو چارہ دن پہلے اس میں پڑھا تو فوراُ لوکل اخبار اٹھا کر دیکھا اس میں بھی اس بات کے رونے تھے۔ نہ جانے کب یہ لوگ چاند کی جان چھوڑے گے۔
    عینکیں لگا لگا کر ڈھونڈتے ہیں اور اگر بادل آئے ہوں تو پتہ نہیں کیسے دیکھتے ہیں یہاں تو بادل بھی ۳ دن تک جان نہیں چھوڑتے
    خیر مسلمان کسی بھی بات پر متفق نہیں ہو سکتے۔

  4. ابو حليمة says:

    السلام علیکم،۔
    میرا خیال ہے کہ آپ حضرات کو رویت ہلال کے فقہ کے بارے میں معلومات کرنی چاھیٔے اور پھر فیصلہ کرنا چاھیٔے کہ اسنا صحیح ہے یا نہیں۔ فقہ میں چاند دیکھنے سے متعلق ۲ اقوال ہیں۔
    ۱۔ اتحاد مطالع (unity of horizon)
    ۲۔ خلاف المطالع(difference of horizon)

    اتحاد المطالع کہ تحت دنیا میں جہاں کہیں بھی چاند نظر آ جأے، تو اس کی رویت کو ہر جگہ مانا جأے گا۔ یعنی اگر چاند فلپأین میں نظر آیا تو سعودی عرب میں بھی عید اسی دن منأی جاوے گی۔
    خلاف المطالع کی رو سے ہر علاقے والے اپنے اپنے علاقے میں چاند دیکھ کر عید منأیں گے۔
    یہ جو آجکل ایک تیسرا نظریہ اپنایا جا رہا ہے کہ سعودیہ میں جس دن عید ہو اس دن عید منأی جأے، اس کا فقہ میں کؤی جواز نہیں ہے۔

    اب آپ دیکھیں کہ یہ جو اسنا نے طریقہ کار نکالا ہے، اس کا مطلع سے تو تعلق سرے سے ہے ہی نہیں بلکہ سارا نظام حساب کتاب پر رکھا گیا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ اس طرح سے تاریخ کا تعین کرنا مسلمانوں سے پہلے ہی کچھ قوموں نے شروع کر رکھا تھا۔ اگر یہی طریقہ کار بہتر تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کی تاکید کرتے یا صحابہ کرام میں سے کؤی تو اس حساب کتاب کے طریقہ کی تأید کرتا۔
    نبی(ص) نے ایک دفعہ زید بن ثابت (ر) کو حکم دیا کہ وہ یہودیوں کی زبان سیکھیں اور انہوں نے وہ زبان صرف تین دن میں سیکھ لی ۔ اس کے علاوہ مسلمان اوأل میں ہی سوریا ، یمن اور فارس کی ثقافت اور علم وتعلم میں مہارت رکھتے تھے۔ اس لیے نہیں کہ مسلمانوں کو ان سے دنیاوی فوأید حاصل کرنے تھے بلکہ اس لیے تاکہ مسلمانوں اور یہودیوں میں ربط بڑھے اور اسلام کی اشاعت کرنے میں آسانی ہو۔ علماء کرام کے نزدیک بھی کؤی ایسا عمل جس سے دین میں خلل نہ ہو، کرنے کی ممانعت نہیں ہے، ھاں جو کام دین کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا اس کو زبردستی دین کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔