کٹرينا کے بعد لوٹ مار

Friday,2 September 2005
از :  
زمرات : امریکہ

ابھی کٹرينا سے متاثرہ افراد سنبھلے بھی نہيں تھے اور سيلاب زدہ علاقوں ميں پھنسے اپنی زندگيوں کے بارے ميں غير يقينی صورتحال ميں مبتلا ہيں جہاں روز انہيں کی آنکھوں کے سامنے لوگ پناہ لئے ہوئے لوگ خوراک اور پانی کی کمی سے ہلاک ہو رہے ہيں۔ کہ کچھ انسانی شکلوں ميں درندوں نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ايسے شہر ميں لوٹ مار شروع کر دی جہاں قانون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نام نہيں اور امدادی کاروايوں ميں رکاوٹ بن گئے۔ سيلاب کے اگلے دن بہت سے لوگوں نے گروسری سٹوروں اور فارميسيوں کے دروازے توڑ کر وہاں سے ادويات اور کھانے پينے کا سامان لينا شروع کر ديا تھا اور اس بات سے کسی نے بھی انکو منع نہيں کيا تھا کہ وہ اپنی زندگی کی بقاء کے لئے کھانے پينے کو چيزيں ڈھونڈ رہے تھے۔ مگر کچھ لوگوں نے اسلحہ کی دکانوں اور دوسرے چيزيں جيسے ٹی وی بيئر وغيرہ کو لوٹنا شروع کر ديا جن کی زندگی کی بقاء کے لئے کوئی ضرورت نہيں تھی۔ اور اس پر حد يہ کہ اسلحے کے زور پر خواتين کو سپر ڈوم کے اندر زيادتی کا نشانہ بنايا گيا اور دوسرے لاچار لوگوں کی جان لی گئی۔ کل شام تک صورتحال انتہائی پيچيدہ تھی کہ ہسپتال پر فائرنگ اور ايک امدادی ہيلی کاپٹر تک فائرنگ کی گئی تھی۔ کل رات سے شہر ميں اضافی ٣٠،٠٠٠ فوجی دستوں کو تعينات کيا گيا ہے جو اس وقت تک شہر ميں موجود رہيں گے جب تک وہاں سے پناہ گزينوں کو نکال نہيں ليا جاتا۔
اس سيلاب ميں زيادہ اموات وارننگ کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہوئی ہيں لوگ اس طوفان کو بھی انہيں طوفانوں جيسا سمجھ رہے تھے جو ہر سال وہاں آتے رہتے ہيں۔اور بجائے شہر سے نکلنے کے اپنے گھروں ميں چھپے رہے۔
ابھی ٹی وی ميں بہت سے ايسے انٹرويو دکھائے جا رہے ہيں جو کہ اس صورتحال کو نسلی طرف موڑ رہے ہيں اکثريت کا کہنا ہے کہ اگر سيلاب سے متاثر ہونے والوں کی اکثريت گورے ہوتے تو حکومت کی طرف سے امدادی کاروايوں ميں اتنی تاخير نہيں ہوتی۔ مگر اس وقت ميرے خيال ميں يہ سب کہنا نا مناسب ہے اور اس سے پورے ملک ميں ايک دوسرے سے نفرت بڑھنے کا خدشہ ہے اور ٹی وی پر ايسے انٹرويو کم از کم اس وقت نہيں دکھانا چاہيں۔ امدادی کاروائوں ميں ريڈ کراس اور سيلويشن آرمی کی خدمات قابلِ ستائش ہيں جن کی کوششوں کی وجہ سے کل سپر ڈوم ميں پناہ گزينوں کو کھانے کی فراہمی ممکن ہو سکی تھی۔

تبصرہ جات

“کٹرينا کے بعد لوٹ مار” پر 9 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. Anonymous says:

    اللہ کی شان وہ بڑا حکمت والا ہے ۔ امریکی حکومت کو پل بھر میں جنجھوڑ کے رکھ دیا ہے اور امریکیوں کے منہ ہی سے کہلوا دیا ہے کہ یہ تباہی افغانستان اور عراق پر حملوں کا نتیجہ ہے ۔

    ہمارے ہاں گاہے بگاہے خواتین کی عزت لٹنے پر ہم بہت پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہماری سوئی ہوئی حکومت جاگ اٹھے اور معاملات درست کرے ۔ امریکیوں نے ہماری کمزوری سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں خوب بدنام کیا لیکن اللہ کا بہت کرم ہے کہ ہمارے ہاں یہ حال نہیں کہ ایسے موقع پر عورتوں کی عزتیں لوٹ لی جائیں ۔
     

    Posted iftikharajmal

  2. Anonymous says:

    انارکی کی یہ حالت واقعی بری ہے؟؟؟
     

    Posted شعیب صفدر

  3. Anonymous says:

    بہت خراب صورتحال ہے جس کا سب سے زیادہ اثر غریب افریقن لوگوں کو ہوا ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ امریکی حکومت نے ان لوگوں کو پہلے ہی کیوں نہیں نکالا جن کے پاس باہر نکلنے کے ریسورسس نہیں تھے

    کینیڈیز نے امریکہ کو ہر طرح کی امداد کی پیشکش کی ہے جو امریکہ نے نہ چاہتے ہوئے قبول کرلی ہے اگر یہ اللہ کا عذاب ہے تو میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا صرف غریب افریقن امریکن کے لیے یہ عزاب ہے۔ اور ان کے بارے میں کیا خیال ہے جوپہلے ہی وہاں سے چلے گئے 

    Posted shaper

  4. SHAPER says:

    Jahnzaib ur comment section is very kool … man

  5. Anonymous says:

    انکل امريکہ ميں ايمنسٹی انٹرنشنل کي رپورٹ پڑھ ليں تو سب واضع ہو جاتا ہے کہ ہمارے ملک ميں اللہ کے کرم سے ايسے واقعات کي تعداد نا ھونے کے برابر ہے۔ مگر فرق انصاف فراہم نا کرنے کا ہے کہ زيادہ تر ہمارے ملک ميں ايسے درندوں کو بچانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہيں۔ نيچے ايک لنک پوسٹ کر رہا ہوں جو صرف نيويارک سٹيٹ کے بارے ميں ہے۔
    نيويارک ميں خواتين کے ساتھ بد سلوکی 
    شعيب پتا نہيں پاکستان ميں آپ ان حالات کو ديکھ رہے ہيں يا نہيں ميں پچھلے ٤ دن سے مسلسل خبريں ديکھ رہا ہوں اور انسان کی حيوانيت ديکھ کر يقين نہيں آتا۔
    شيپر امريکی حکومت نا چاہتے نہيں بلکہ مدد مانگ رہی ہے اسکی مثال کيوبا اور ونيز ولا کی مدد تک کو بھی قبول کيا گيا ہے۔ اگر ياد ہو تو ستمبر ٢٠٠١ کے بعد سعودی حکومت کي مدد کو نيويارک کے مئير نے رد کر ديا تھا۔
    اور کمنٹس سيکشن پسند کرنے کا شکريہ
     

    Posted جہانزيب

  6. Anonymous says:

    شاید یہ فساد بھی دہشت گرد مسلمانوں نے پھیلایا ہو اور ہو سکتا ہے کہ اس کی آڑ میں پھر کسی ستم رسیدہ پہ مزید ستم کیا جائے

    بہرحال یہ تمام تباہی بہت ہولناک ہے ۔ ہم انگریزی فلموں میں امریکیوں کی وحشت انگیزی کی تصویریں دیکھتے رہتے ہیں لہٰذا میں تصور کر سکتا ہوں کہ وہاں کیا ہو رہا ہوگا 

    Posted قدیر احمد رانا

  7. Anonymous says:

    WEll man, consider all these goings on in the context of islamic back ground, Every thing is clear.  

    Posted Green head

  8. Anonymous says:

    قدير بات مسلمانوں کي نہيں ہے جو بھي کمزور ہو اسے ايسا بھگتنا پڑتا ہے۔ اور يہ آج سے نہيں ہر دور ميں يہ ہوتا آيا ہے کہ جس کي لاٹھي اسکي بھينس۔۔
    گرين ہيڈ شکريہ ميرے بلاگ پر آ کر آپ نے اپنی رائے کا اظہار کيا ہے۔ اور بہت سے لوگ يہاں بھي اس کو بائبل کے بيان کردہ طوفانوں سے تشبيح دے رہے ہيں۔ 

    Posted جہانزيب

  9. Anonymous says:

    tu jahan iuss sai bush ki goverment per kiya aasraat pharay gay?

    misbah  

    Posted Anonymous

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔