واؤ امريکہ

Monday,17 October 2005
از :  
زمرات : امریکہ

رياست پنسلوانيا ميں ايک خاتون پيگی جو کونر نے اپنی ٨ مہينے کی حاملہ پڑوسن ويلری آسکِن کے سر پر بيس بال کے بيٹ سے حملہ کر کے بعد ميں اسکا پيٹ چاک کر کے بچہ چوری کرنے کی انوکھی کوشش کی۔
پوليس کے مطابق کونر نے ويلری کے سر پر بيس بال بيٹ سے حملہ کيا اور اسکو اپنی کار ميں قريبی جھاڑيوں ميں لے جا کر اسکا پيٹ چاک کر کے بچہ چوری کرنے کی کوشش کی جو کہ ايک نوجوان کے اچانک وہاں آنے پر ناکام ہو گئی۔
٣٠ سالہ ويلری آسکِن کی حالت نازک بتائی جاتی ہے جبکہ بچے کی حالت تسلی بخش ہے۔
رياست اوہايو کے شہر ٹوليڈو ميں نسلی فسادات پھوٹنے کے بعد وہاں کرفيو کا نفاذ کرنا پڑا۔ فسادات ميں جانی نقصان کی اطلاعات نہيں ہيں مگر مالی نقصانات جيسے دکانوں کو آگ لگانا پوليس پر حملوں کی اطلاعات ہيں جس کی وجہ سے شہر کے مئير نے باہر سے پوليس کی مدد مانگی ہے۔
فسادات ايک نازی ( ناتزی-nazi) تنظيم کے اس اعلان کے بعد شروع ہوئے جس ميں اس تنظيم کے تحت شہر ميں “کالے جرائم” جن ميں گوروں کے حقوق کو غصب کيا جا رہا تھا کے خلاف مارچ کا اعادہ کيا اور شہری انتظاميہ نے اس بات کی اجازت دے دی۔ ہفتے کے روز مارچ کے مقررہ وقت پر شہر ميں فسادات شروع ہو گئے جس کی وجہ سے شہر ميں کرفيو کا نفاذ کرنا پڑا۔ شہر کے مئير کے مطابق ناتزی تنظيم کو مارچ کا پورا حق حاصل ہے اور فسادات شروع کرنے والے غنڈہ عناصر ہيں۔ پوليس نے تقريبا ١٣٠ کے قريب افراد کو حراست ميں لے ليا ہے اور ان پر امن و عامہ ميں رکاوٹ کے خلاف مقدمات درج کر لئے ہيں۔
دوسری طرف لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹوليڈو جہاں کہ کالے امريکيوں کا غلبہ ہے ميں پوليس کا رويہ متعصبانہ ہے اور شہر ميں مارچ کی اجازت نہيں دی جانا چاہيے تھی۔ ٹوليڈو ميں جرائم کی شرح پورے ملک کی مجموعی جرائم کی شرح سے بھی زيادہ ہے۔
ميرے ذاتی خيال ميں ايک ايسے شہر ميں جہاں کالوں کی اکثريت ہو شہری انتظاميہ کا ايک ايسی مارچ کی اجازت دينا ہی غلط ہے جس کا نعرہ ہی “کالے جرائم” ہو۔ جس سے جرائم سے زيادہ نسل کو نشانہ بنايا گيا ہے۔
ادھر نيو آرلينز ميں ايک ٦٤ سالہ کالے امريکی کی پوليس کے ہاتھوں درگت کی ويڈيو بھی منظر عام پر آ چکی ہے اور حيرت انگير طور پر پوليس اپنے کارنامے ميں اپنے آپ کو حق بجانب کہہ رہی ہے جبکہ اگر آپ ويڈيو ديکھيں تو سيدھا سيدھا پوليس کی زيادتی کا اندازہ ہوتا ہے۔
آپ اس لنک پر ويڈيو کو ديکھ سکتے ہيں اور بتا سکتے ہيں کہ پوليس اس سے کيسے بری ہو سکتی ہے۔

تبصرہ جات

“واؤ امريکہ” پر 3 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. SHUAIB says:

    واؤ امریکہ

  2. Anonymous says:

    hud hai!wasay weo report b tu daini thi jahanzaib… k ek larka ju america mai rahta hai…aur ouss pay ek churail ka saya hai…..bhol gaye na…..:p

    misbah

  3. سا ئر ہ عنبر ین says:

    lolzzzz!

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔