<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اردو جہاں بلاگ &#187; اردو</title>
	<atom:link href="http://www.urdujahan.com/blog/topics/urdu/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urdujahan.com/blog</link>
	<description>جہانزیب اشرف</description>
	<lastBuildDate>Sat, 21 Aug 2010 09:24:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>ماحول کا اثر</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2010/environmental-impact/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2010/environmental-impact/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 08 Jul 2010 10:42:34 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[مزاح]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=460</guid>
		<description><![CDATA[آپ اسی کی دہائی میں پاکستان میں پیدا ہوئے ہوں، اور لفظ خلاصہ سے نامانوس ہوں، ممکن ہی نہیں ۔ سونے پر سہاگہ کے مصداق دوران تعلیم اگر کسی ایسے استاد کے ہتھے چڑ جائیں جو ایک عدد خلاصے کے ادیب بھی ہوں، تو کیا کہنے ۔ جماعت نہم میں ہمارے ایک استاد تھے، انہوں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آپ اسی کی دہائی میں پاکستان میں پیدا ہوئے ہوں، اور لفظ خلاصہ سے نامانوس ہوں، ممکن ہی نہیں ۔ سونے پر سہاگہ کے مصداق دوران تعلیم اگر کسی ایسے استاد کے ہتھے چڑ جائیں جو ایک عدد خلاصے کے ادیب بھی ہوں، تو کیا کہنے ۔ جماعت نہم میں ہمارے ایک استاد تھے، انہوں نے بھی ایک عدد خلاصہ چھپوایا ہوا تھا، ظاہر سی بات ہے نصاب کی کتابوں کے علاوہ ان کا لکھا ہوا خلاصہ خریدنا بھی شاگرد پر قرض تھا، اور امتحانات میں خلاصہ سے اقتباسات پیش کرنے پر اضافی نمبر ملنے کے مواقع یقنی تھے ۔ وہ ہمیں اردو پڑھاتے تھے ۔ چند جملے خلاصہ میں ایسے تھے کہ ردوبدل کے بغیر ہی ہر جگہ بخوبی استعمال کئے جا سکتے تھے ۔</p>
<p>ایک جملہ جس کا استعمال میں نے ہر بڑے انسان پر مضمون لکھنے سے لے کر غالب کے اشعار کی تشریح لکھتے وقت، ہر مقام پر اتنا کیا ہے کہ ابھی تک خواب میں مجھے اس کی بازگشت دیکھائی دیتی ہے، جملہ کچھ یوں تھا &#8220;ہر ادیب اور شاعر اپنے ماحول اور گردوپیش کا عکاس ہوتا ہے&#8221; چاہے غالب کے شعر کی تشریح ہو یا الطاف حیسن حالی پر مضمون لکھنا ہو، یہ جملہ تمام مقاصد پورا کرتا ہے ۔</p>
<p>میں نے زندگی میں کبھی کسی لڑکی کو نہیں چھیڑا، وجہ میری شرافت نہیں بلکہ اس چھترول کا خوف تھا جو عموماً ہمارے علاقہ میں ایسے مواقع پر ہو جانے کا اندیشہ رہتا تھا ۔ بعد میں پنجاب میں ہر بڑے شہر اور حتی کہ کراچی میں دوران قیام اس بات کا اندازہ ہوا کہ کم و بیش ہر جگہ اس چھترول کا خوف کسی نہ کسی حد تک موجود ہے ۔ بحثیت قوم ہمارے ہاں ایسے مواقع پر خواتین کے خدائی مددگار نمودار ہو جاتے ہیں، ان کا جوش دیدنی ہوتا ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل افراد سے اس &#8220;دبڑ کٹ&#8221; کی زیادہ تفصیلات سنی جا سکتی ہیں ۔</p>
<p>اب اردو بلاگستان کو دیکھ لیں، ایک خاتون فرانس سے ایک تحریر لکھتی ہیں ۔ تحریر پر ایک تبصرہ نگار امریکہ سے تبصرہ کرتا ہے، جبکہ اُس تبصرے کا جواب کینیڈا سے موصول ہوتا ہے، اور یوں ایک نئی کہانی چل پڑتی ہے ۔ خلاصے کی بات بلاگستان کے لئے بھی درست لگتی ہے کہ &#8220;پر ادیب اور شاعر اپنے ماحول اور گردوپیش کا عکاس ہوتا ہے&#8221;  ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2010/environmental-impact/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>21</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>یکیاں</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/urdu/2010/one-liner-comment/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/urdu/2010/one-liner-comment/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 23 Jun 2010 11:17:34 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=453</guid>
		<description><![CDATA[یک سطری باتیں کرنے میں گزرے ہوئے دانشوروں کو کمال حاصل ہے، زندہ دانشوروں کو شائد مختصر بات کرنے میں الجھن ہوتی ہے یا پھر جب تک وہ گزر نہیں جاتے لوگ ان کو دانشور کا درجہ دینے کو تیار نہیں ہوتے ۔ آپ اس پر تحقیق کر لیں جتنے اقوال زریں آپ پڑھتے ہیں، [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>یک سطری باتیں کرنے میں گزرے ہوئے دانشوروں کو کمال حاصل ہے، زندہ دانشوروں کو شائد مختصر بات کرنے میں الجھن ہوتی ہے یا پھر جب تک وہ گزر نہیں جاتے لوگ ان کو دانشور کا درجہ دینے کو تیار نہیں ہوتے ۔ آپ اس پر تحقیق کر لیں جتنے اقوال زریں آپ پڑھتے ہیں، ان کے خالق اپنے خالق سے جا ملے ہوتے ہیں ۔<br />
البتہ ایک بات طے ہے کہ ان سب اقوال میں آسانی سے بہت ہی گہری بات کہہ دی جاتی ہے کہ پڑھنے والا دیر تک عش عش کرتا رہ جاتا ہے، اور جب بھی عش عش کرنے والی بات کی مثال دینے کا پوچھا جائے تو مجھے وارث شاہ کا ایک شعر ہی ہمیشہ یاد آتا ہے، وہی ادھر ایک دفعہ پھر یہاں چھاپ دیتا ہوں ۔<br />
وارث مانڑ نہ کر وارثاں دا<br />
رب بے وارث کر ماردا ای۔</p>
<p>لیکن اب اردو بلاگستان میں بھی ایسے دانشور پیدا ہو گئے ہیں جو یک سطری تبصرے سے زیادہ زخمت گوارہ نہیں کرتے ۔ اپنے تئیں یک سطری تبصروں کے ان دانشوران کے تبصرے &#8220;یکی&#8221; [پنجابی۔ اس کی اردو ایجاد نہیں ہوئی]  کے سوا کچھ نہیں ہوتے ۔ ان کے تبصروں کی سب سے خاص بات تبصرہ کردہ تحریر سے میل نہ کھانا بلکہ اس تحریر کے تبصروں پر تبصرے ہونا ہے بلکہ تبصروں کی بجائے تبصرہ نگاروں پر تبصرے کرنے کا رجحان، دانشوران میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ بالفرض محال اگر آپ کے پاس پانچ منٹ سوچنے کا وقت ہے تو &#8220;تنی منٹی&#8221; آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ تبصرہ اصل میں ایک اعلی نسل کی &#8220;چول&#8221; کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ تبصرے کا مقصد صرف دوسرے فریق کو زچ کرنا  تھا ۔</p>
<p>لیکن یہ حیرت کا دور ختم ہونے سے پہلے ہی اس یک سطری &#8220;چول&#8221; پر چھ سو چونسٹھ الفاظ پر مشتمل ایک عدد تبصرہ وارد ہو جاتا ہے اور جواب آں غزل کی صورت میں ایک &#8220;چوندی چوندی&#8221; یک سطری &#8220;چول&#8221;  پھینک کر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا بلاگی دانشور منہ پھاڑ کر قہقہہ لگاتا ہے۔ مجھے یک سطری دانشوران کی نسبت چھ سو چونسٹھ الفاظ والے تبصروں پر دکھ ہوتا ہے، کیونکہ یک سطری دانشوران کی  مثال ایسے دیکھنے والے کی طرح ہے جو دیکھ کر کچھ نہیں دیکھتا اور سن کر بھی کچھ نہیں سنتا، جس تبصرے کا مقصد ہی زچ کرنا مقصود ہو اُس پر اپنی توانائیاں ضائع کرنے کا فائدہ، کیونکہ پنجابی میں کہتے ہیں کچھ لوگوں کا &#8220;کاں&#8221; ہمیشہ چٹا ہی رہنا ہے، لہذا تسی احتیاط کرو۔ کیچڑ سے بچ کر چلنے سے ہی کپڑے صاف رہ سکتے ہیں &#8220;چھال&#8221; مارنے سے نہیں ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/urdu/2010/one-liner-comment/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بھیانک غلطی</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/urdu/2010/pakistan-translate-bharta/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/urdu/2010/pakistan-translate-bharta/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 02 Jun 2010 07:27:32 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=450</guid>
		<description><![CDATA[میری گذشتہ تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے ہندوستان سے شعیب نے گوگل مترجم میں ایک غلطی کی نشاندہی کی تھی، جو غلطی سے زیادہ کسی کی شرارت معلوم ہوتی ہے ۔ یہ شرارت گوگل میں کام کرنے والے کسی ہندوستانی کی بھی ہو سکتی ہے یا Contribute better translation کا استعمال کرتے ہوئے ایک سے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میری <a href="http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2010/teach-urdu-to-google/">گذشتہ تحریر</a> پر تبصرہ کرتے ہوئے <a href="http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2010/teach-urdu-to-google/#comment-2564">ہندوستان سے شعیب</a> نے گوگل مترجم میں ایک غلطی کی نشاندہی کی تھی، جو غلطی سے زیادہ کسی کی شرارت معلوم ہوتی ہے ۔  یہ شرارت گوگل میں کام کرنے والے کسی ہندوستانی کی بھی ہو سکتی ہے یا Contribute better translation کا استعمال کرتے ہوئے ایک سے زیادہ لوگوں کی اجتماعی کوشش کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے ۔<br />
<a href="http://www.flickr.com/photos/happy-gimp/4662816376/" title="Screenshot by Happy-Gimping, on Flickr"><img src="http://farm5.static.flickr.com/4030/4662816376_af6df05f24.jpg" width="500" height="314" alt="Screenshot" /></a><br />
تفصیل یوں ہے کہ اگر آپ گوگل پر اردو میں &#8220;پاکستان&#8221;، &#8220;کراچی&#8221; اور &#8220;افغانستان&#8221; لکھ کر ہندی میں ترجمہ کریں تو ہندی میں ان تمام الفاظ کا ترجمہ &#8220;بھارت&#8221; لکھا آتا ہے ۔ کسی بیچارے کی معصوم خواہش ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/urdu/2010/pakistan-translate-bharta/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>16</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>گوگل کو اردو سکھائیں</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2010/teach-urdu-to-google/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2010/teach-urdu-to-google/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 30 May 2010 08:02:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=446</guid>
		<description><![CDATA[میرے دو دوستوں کے ہاں چند دن کے وقفہ سے بیٹے پیدا ہوئے، اب دونوں کی عمر ماشااللہ تقریباً ڈیڑھ سال کے قریب ہے ۔ لیکن ایک ہی عمر کے ہونے کے باوجود پہلی دفعہ ملنے والا شخص فوراً ایک فرق محسوس کرتا ہے، کہ ایک بچہ فر فر نا صرف اردو بلکہ چند جملے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میرے دو دوستوں کے ہاں چند دن کے وقفہ سے بیٹے پیدا ہوئے، اب دونوں کی عمر ماشااللہ تقریباً ڈیڑھ سال کے قریب ہے ۔ لیکن ایک ہی عمر کے ہونے کے باوجود پہلی دفعہ ملنے والا شخص فوراً ایک فرق محسوس کرتا ہے، کہ ایک بچہ فر فر نا صرف اردو بلکہ چند جملے انگریزی کے بھی بول سکتا ہے، جبکہ دوسرا صرف ابھی اماں اور بابا کے علاوہ کوئی مکمل جملہ ادا نہیں کر سکتا ۔ اس کی بنیادی وجہ جو سمجھ میں آتی ہے یہی ہے کہ جو بچہ پورے جملے بول لیتا ہے اس کے تین بڑے بھائی بہن ہیں جبکہ دوسرا والدین کی پہلی اولاد ہے، اور اس سے ہر وقت باتیں کرنے والا یا اس کے دماغ میں نئے الفاظ کے ڈیٹا شامل کرنے والے کم افراد ہیں ۔</p>
<p>گوگل  نے ابھی حال ہی میں اردو کے لئے <a href="http://googleblog.blogspot.com/2010/05/five-more-languages-on.html">ترجمہ کی سہولت مہیا کی</a> ہے، جو فی الحال ابتدائی مراحل میں ہے، اگر آپ اس وقت کسی بھی دستاویز یا ویب صحفہ کا اردو سے انگریزی یا اس کے متضاد ترجمہ کریں تو نہ صرف وہ ترجمہ مجہول ہوتا ہے بلکہ اکثر اوقات دونوں تراجم کے مابین قوسین کے فاصلہ جتنا فرق بھی پایا جا سکتا ہے ۔  مطلب ابھی اس سہولت سے صرف مسکرانے کا لطف حاصل کیا جا سکتا ہے ۔</p>
<p>گوگل نے زبانوں کے <a href="http://translate.google.com">مابین مترجم سہولت</a> کا آغاز اقوام متحدہ میں <a href="http://www.foreigndocuments.com/a11.html">مستعمل چھ زبانوں</a> کو بنیاد بنا کر کیا تھا، اور ان چھ زبانوں کے مابین ایک ہی جیسے مواد کے حصول کے لئے اقوام متحدہ کی لائبریری سے استفادہ لیا گیا تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ ان چھ زبانوں کے مابین ترجمہ کرتے وقت اگر آپ گوگل مترجم کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہیں تو نوے فیصد تک درست ترجمہ حاصل کیا جا سکتا ہے، اور اس ترجمہ کی بنیاد پر آپ ایک زبان سے تقریباً پوری عبارت دوسری زبان میں سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں ۔</p>
<p>اردو کے لئے  یہ سہولت نہیں ہے البتہ ایک مزید سہولت  گوگل نے کچھ عرصہ پہلے متعارف کروائی تھی جس کا فائدہ  اٹھا کر ہم گوگل کی اردو کو نستعلیق بنا سکتے ہیں۔ اس سہولت کا نام ہے <a href="http://translate.google.com/toolkit/">گوگل مترجم ٹول کٹ</a>، جس کا استعمال انتہائی آسان ہے ۔</p>
<p>آپ گوگل ٹول کٹ کی ویب سائٹ پر جائیں اپنی گوگل آئی ڈی جو کہ جی میل یا بلاگ سپاٹ والی آئی ڈی ہے کے ذریعے رسائی حاصل کریں  تو جی میل سے ملتا جلتا ایک صحفہ کھل جائے گا ۔<br />
<center><img src="http://farm5.static.flickr.com/4057/4652253038_a7ba511325.jpg" /></center><br />
اوپر والی تصویر میں نیا ترجمہ شروع کرنے کے لئے upload کا بٹن دبانے سے ایک نئی ونڈو کھلے گی جو ذیل کی تصویر میں دکھائی گئی ہے ۔<br />
<center><img src="http://farm5.static.flickr.com/4003/4652253068_d906580403.jpg" /></center><br />
اگر آپ کے پاس کمپوٹر پر کوئی بھی ایسی دستاویز پڑی ہے جسکا ترجمہ آپ کر سکتے ہیں اُسے پہلے والی ترجیح Local File سے upload کیا جا سکتا ہے ۔اس طریقہ سے اگر آپ کے کمپیوٹر یا گھر میں کسی کتاب کا اردو اور انگریزی ترجمہ موجود ہے تو اس کو گوگل پر upload کر دینے سے کافی سارا کام ویسے ہو جائے گا۔</p>
<p>دوسری ترجیح Web Page کی ہے، جسے کم از کم اردو بلاگ دانوں کو ضرور استعمال کرنا چاہیے، یہاں آغاز کے طور پر آپ اپنے بلاگ کی تحریروں کا ترجمہ شروع کر سکتے ہیں، اور گوگل سے منظوری کے بعد شائد آپکا اپنا ترجمہ ہی استعمال کیا جائے گا ۔ بالکل اسی طرح اگر آپ انگریزی بلاگ پڑھتے ہیں تو پسندیدہ تحریروں کو اردو میں واپس ترجمہ بھی کر سکتے ہیں، انگریزی بلاگرز بھی اپنے بلاگ کے ساتھ یہی سب کر سکتے ہیں لیکن اس کا امکان کم ہی ہو شائد ۔</p>
<p>سب سے بہتر ترجیح Wikipedia article کے ترجمہ والی ہے، اگر آپ کسی Wikipedia پر موجود صحفہ کا ترجمہ کریں گے تو گوگل اسے Wikipedia پر post to the source  پر کلک کرنے سے متعلقہ زبان میں ارسال کر دے گا۔</p>
<p>اسی طرح گوگل Knol پر موجود صحفات کا ترجمہ کر دینے سے بھی گوگل واپس اسے Knol پر ڈال دے گا ۔<br />
<center><img src="http://farm5.static.flickr.com/4053/4651635285_2dd5149b3d.jpg" /></center><br />
ان سب طریقوں میں سے کسی ایک کو بھی منتخب کرنے سے گوگل اصل عبارت اور اس کے متوازی مشینی ترجمہ کو کھول دے گا، جسے پھر آپ آہستہ آہستہ درست کرتے جائیں گے ۔ اس کا مشاہدہ ذیل کی تصویر سے کیا جا سکتا ہے ۔<br />
<center><a href="http://farm5.static.flickr.com/4029/4651635333_c1becd4035_b.jpg"><img src="http://farm5.static.flickr.com/4029/4651635333_c1becd4035.jpg" /></a></center><br />
سب سے بہتر بات یہ ہے کہ جوں جوں آپ تراجم کرتے جائیں گے، آپ کی ٹرانسلیشن میموری بڑھتی جائے گی، اور ایک ہی جملے کا ترجمہ آپکو ہر بار درست نہیں کرنا پڑے گا۔ اسی طرح گروپ بنا کر ترجمہ کرنے سے ایک رکن کے ترجمہ کرنے کی صورت میں سب ارکان کی ٹرانسلیشن میموری بڑھ جائے گی ۔ اصل دنیا میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ فرض کریں آپ اپنے بلاگ کی ایک تحریر کا ترجمہ کرتے ہیں، اب بلاگ کا ہیڈر، سائیڈ بار کا پہلی بار آپکو ترجمہ درست کرنا پڑے گا، لیکن جب آپ دوسری تحریر کا ترجمہ کریں گے تو ان تمام کا جملوں کا درست ترجمہ پہلے ہی درست ہو گا جس کا ترجمہ آپ پہلے کر چکے ہوں گے، اور آپ کو صرف تحریر اور چاہیں تو تبصروں کا ترجمہ ہی درست کرنا پڑے ۔ اسی طرح جب آپ صرف اپنی تحاریر کا ہی ترجمہ کرنا چاہتے ہوں، اور تبصروں کو چھوڑنا چاہتے ہوں تو تحاریر کا ترجمہ مکمل کرنے کے بعد Edit میں جا کر Translation Complete کو منتخب کر سکتے ہیں ۔</p>
<p>دوسرا کام جو بلاگر خواتین و حضرات شائد کرنا چاہیں گے، وہ ٹرانسلیشن ٹول بار کا اپنے بلاگ پر اضافہ کا ہے، جیسا کہ اس  بلاگ پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ ایسا کرنے کے لئے <a href="http://translate.google.com/translate_tools?hl=en&#038;layout=1&#038;eotf=1&#038;sl=ur&#038;tl=en">اس ربط پر موجود کوڈ</a> کو نقل کر کے اپنے سانچہ میں چسپاں کر دیں ۔ یہاں سے بھی گاہے بگاہے آپ ترجمہ کو بہتر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، کسی تحریر کا ترجمہ کروا کے جب آپ ماوس کو تحریر پر لے جائیں گے تو Suggest a better translation ظاہر ہو جائے گا، اس کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے ۔</p>
<p> اب کتنے عرصہ میں گوگل کا اردو بچہ درست اردو بولنے لگے گا، یہ اس کے بہن بھائیوں یعنی ہم پر منحصر کرتا ہے کہ  کتنی جلدی ہم اسکو زبان سکھاتے ہیں ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2010/teach-urdu-to-google/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اجارہ داری۔</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/urdu/2009/monopoly/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/urdu/2009/monopoly/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 01 Feb 2009 10:11:38 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=345</guid>
		<description><![CDATA[پچھلی ایک تحریر میں، میں نے کہا تھا کہ علم کا فروغ ہی علم کی معراج ہے ۔ہم میں موجود اور بہت سی برائیوں میں ایک برائی علم پر اجارہ داری قائم رکھنے کی بھی ہے ۔ جس کو جستجو ہوتی ہے وہ ضرور اپنا مقام پیدا کر لیتا ہے، لیکن اُس کے راستے کٹھن [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/dilemma/">پچھلی ایک تحریر میں</a>، میں نے کہا تھا کہ علم کا فروغ ہی علم کی معراج ہے ۔ہم میں موجود اور بہت سی برائیوں میں ایک برائی علم پر اجارہ داری قائم رکھنے کی بھی ہے ۔ جس کو جستجو ہوتی ہے وہ ضرور اپنا مقام پیدا کر لیتا ہے، لیکن اُس کے راستے کٹھن کر دئے جاتے ہیں ۔ اپنے معاشرے میں نچلے طبقہ سے اوپر تک دیکھ لیں، علم بانٹنے میں کنجوسی برتی جاتی ہے ۔ ورکشاپ میں کام کرنے والے چھوٹے کو اُستاد گُر نہیں بتائے گا کہ وہ اُس کا دستِ نگر رہے، اور اکثر چھوٹے کئی کئی سال اِس مہربانی کی بدولت چھوٹے ہی رہتے ہیں ۔ موسیقار گھرانوں کو دیکھیں،اُستاد جی بڑے چُن کر اپنے شاگرد بناتے ہیں،اور اُس کے لئے بھی سو جتن کرنے پڑتے ہیں کہ اُستاد فلاں اپنی شاگردی میں لے لیں ۔اور تو اور صوفی اسلام کے بارے میں پڑھیں وہاں بھی پیرِ صاحب کسی کسی کو ہی مریدی کا مرتبہ بخشتے ہیں، باقی علم حاصل کرنے والے جوتیاں گھستے رہ جاتے ہیں مگر مرد قلندر کی آنکھ جوہر کو تلاش کر کے صرف اسے ہی علم کا اہل سمجھتی ہے ۔<br />
انٹرنیٹ کو ایک لامحدود دنیا کے نام سے پکارا جاتا ہے، جہاں تھوڑی سی جستجو سے آپ مطلوبہ مقام تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں ۔ ہم لوگوں نے انٹرنیٹ پر بھی اپنی عادات نہیں بدلیں ہیں، وہی دشنام طرازی اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی بجائے ٹانگ کھینچنے کا عمل یہاں بھی جاری ہے، اور انٹرنیٹ پر اردو کمیونٹی اور بھی مختصر ترین ۔ آج سے تین چار سال پہلے انٹرنیٹ پر تحریری اردو میں مکمل ویب سائٹ <a href="http://www.bbc.com/urdu/">بی بی سی </a>تھی، اِس کے بعد چند اِکا دکا بلاگ ویب کی زینت بننے لگے ۔ بلاگ سے ایک مربوط کمیونٹی بنانے کا عمل شروع ہوا، پہلے <a href="http://www.urduweb.org/planet/">اردو سیارہ</a> اور اُس کے بعد <a href="http://www.urduweb.org/mehfil/" target="_blank">اردو محفل</a> ترتیب دی گئی ۔ اردو محفل کا آغاز اردو بلاگنگ کے لئے تازیانہ ثابت ہوا، اسی کی بدولت آج ویب پر کم سہی مگر بہت سی اردو ویب سائٹس اور بلاگز کا آغاز ہوا ۔ اردو محفل بنانے میں کئی ایک لوگوں کا ہاتھ ہے، جس میں ترجمہ کرنے والے، ترجمہ کرنے والوں کی محنت کو لے کر اسے ایک عملی شکل دینے والے ۔ لیکن سب سے بڑی خصوصیت جو تھی، وہ ایک عدد <a href="http://www.urduweb.org/blog/2005/03/23/" target="_blank">آزاد مصدر ویب بیسڈ</a> جاوا سکرپٹ پر مبنی اردو ویب پیڈ کا تشکیل دینا اور اسے استعمال کرنا تھا، جو اس سے پہلے اس صورت میں کسی ویب سائٹ پر موجود نہیں تھا، اس ویب پیڈ کی بدولت بغیر کسی اضافی مدد کے صارف ویب پر اردو لکھ سکتے ہیں، بالکل جیسے انگریزی لکھی جاتی ہے، اور اب بیشتر اردو ویب سائٹ میں اِس کا استعمال ہو رہا ہے ۔ اِس ویب پیڈ کے بنانے والے <a href="http://simunaqv.blogspot.com/" target="_blank">نبیل حسن نقوی</a> جرمنی میں مقیم ہیں، اور &#8220;منڈے کھنڈے&#8221; نہیں بلکہ خانگی ذمہ داریوں میں گھرے ہیں، بغیر کسی لالچ کے انہوں نے یہ تحفہ اردو کمیونٹی کو دیا ۔<br />
لیکن جناب چین کہاں تھا، یہاں بھی رونا ڈال دیا گیا وہی بچوں کی طرح &#8220;سر اِس نے چیٹ کیا ہے&#8221;، اِس رونے کی تفصیل  <a href="http://qa.tuzk.net/" target="_blank">ایک عدد بلاگر</a> پہلے بھی لکھ چکے ہیں، لیکن چونکہ لکھ کر مٹانے کی عادت ہے،اِس لئے وہ دیکھا نہیں جا سکتا ۔ رونے کی مختصر داستان یوں ہے کہ <a href="http://www.urdulife.com/" target="_blank">ایک عدد ویب سائٹ</a> پر ایسا ویب پیڈ استعمال ہو رہا تھا، لیکن ایسی صورت میں جیسے اب ہر سائٹ پر ہے ویسے نہیں، بلکہ اجارہ داری کی طرز پر کہ ہماری سائٹ پر آؤ، وہاں بھی <a href="http://www.urdupad.com/" target="_blank">دوسری جگہ جاؤ</a>، وہاں عبارت لکھو، کاپی کر کے واپس آؤ اور پھر پیسٹ کرو ۔ویب سائٹ کے منتظم صاحب سے التجا کی گئی کہ صاحب اِسے عام کر دیں، جس پر انہوں نے انکار کر دیا، جو اُن کا حق تھا ۔ اُسی ویب پیڈ سے متاثر ہو کر نبیل نے کچھ عرصہ بعد موجودہ ویب پیڈ بنا کر عام کر دیا، تو ایڈمن صاحب کی ویب پر اردو کی اجارہ داری ختم ہوتی نظر آئی، انہوں نے بیان کردہ بلاگر کو جس کا ویب پیڈ سے تعلق ہی نہیں تھا، کو ای میل کھڑکا دی کہ &#8220;تُسی چور او&#8221;، فلاں ہو وغیرہ وغیرہ ۔<br />
آج اِس بات کو چار سال گزر چکے ہیں، لیکن موصوف کا رونا ختم نہیں ہوا ۔<a href="http://www.alqamar.info/" target="_blank"> القمر آن لائن</a> کا میں گاہے بگاہے مطالعہ کر لیتا تھا، ایک دن وہاں گیا تو وہاں بھی تبصروں میں ایک دوسرے کے خلاف جنگ چھڑی ہوئی تھی، اور کچھ لکھنے والوں کی طرف سے کہ ہمارا القمر سے کوئی تعلق نہیں ہم نے ڈیڑھ اینٹ کی اپنی مسجد <a href="http://www.aalmiakhbar.com/" target="_blank">عالمی اخبار</a> کے نام سے بنا لی ہے، وہاں مِلو ۔ میں وہاں ملنے گیا اور <a href="http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&#038;cat=humseymileye&#038;article=16" target="_blank">ہم سے ملئے</a> میں مندرجہ ذیل عبارت</p>
<blockquote><p>یہ جو آج جگہ جگہ ویب بیسڈ اردو رائڑرز دستیاب ہیں ان سب کا باوا آدام دراصل اردو پیڈ ہی ہے۔ کچھ لوگ اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں، اور کچھ لوگ بھول بھی جاتے ہیں۔ مگر انہیں اس بات کا کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہے،ان کا کہنا ہے کہ چلیے کسی حال میں سہی اردو کا نام تو سر بلند ہو رہاہے۔ ہماری خیر ہے۔</p></blockquote>
<p>صاحب آپ نے تو انکار کر دیا تھا اسے عام کرنے سے، اب کھمبا کِس لئے نوچ رہے ہیں؟ آج اردو سیارہ پر عالمی اخبار کی تحریر دیکھی ۔ پتہ نہیں جنگ، بی بی سی، اردو پوائنٹ بلاگرز کو سیارہ پر جگہ نہیں ملی، عالمی اخبار کے بلاگرز کو خصوصی رعائت؟<br />
ویسے حیرت کی بات یہ ہے کہ عالمی اخبار میں پیش کردہ اقتباس میں جس باوا آدم کا ذکر ہے، اُس کی بجائے نبیل کے کاکے کا استعمال بھی دھڑا دھڑ کیا جا رہا ہے ۔<br />
میں بہت معذرت کے ساتھ یہ تحریر ارسال کر رہا ہوں، میں ہمیشہ اِس بات پر کاربند رہا ہوں کہ اردو ویب سائٹس یا ان کے چلانے والوں کے خلاف کچھ نہ کہا جائے، پہلے ہی چھوٹی کمیونٹی اوپر سے لوگ بدمزہ ہو جاتے ہیں ۔ لیکن بعض اوقات سند کے لئے لکھنا پڑتا ہے، انہی بعض اواقات میں یہ تحریر شامل ہے ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/urdu/2009/monopoly/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>18</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>انجرڈ</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/sports/2009/zakhmi/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/sports/2009/zakhmi/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 29 Jan 2009 11:56:21 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[کھیل]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=336</guid>
		<description><![CDATA[روزنامہ جنگ کراچی میں چھپی یونس خان اور شعیب ملک کی تصویر. تصویر لگانے کا مقصد، پاکستان کے کشیر اشاعتی اُردو اخبار کی طرف سے لفظ &#8220;انجرڈ&#8221; کا استعمال کرنا ہے ۔ شائد اخبار والوں نے بھی تلاش کرنے والوں کی سہولت کے باعث ایسا کیا ہو ۔ کبھی لوگ زخمی کہا کرتے تھے ۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://jang.com.pk/jang/jan2009-daily/28-01-2009/sports.htm" target="_blank">روزنامہ جنگ کراچی</a> میں چھپی یونس خان اور شعیب ملک کی تصویر.</p>
<p><center><img src="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/postimages/younas-khan.gif" alt="یونس خان اور شعیب ملک" /></center></p>
<p>تصویر لگانے کا مقصد، پاکستان کے کشیر اشاعتی اُردو اخبار کی طرف سے لفظ &#8220;انجرڈ&#8221; کا استعمال کرنا ہے ۔ شائد اخبار والوں نے بھی <a href="http://www.badtamiz.com/blog/2009/01/20/yet-another-update/" target="_blank">تلاش کرنے والوں</a> کی سہولت کے باعث ایسا کیا ہو ۔ کبھی لوگ زخمی کہا کرتے تھے ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/sports/2009/zakhmi/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>یاہو گروپ</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2009/yahoo-group-urdutext/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2009/yahoo-group-urdutext/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 23 Jan 2009 21:34:59 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=310</guid>
		<description><![CDATA[یاہو گروپس، ایک جیسے خیالات رکھنے والے لوگوں کے میل ملاپ کا اچھا ذریعہ ہیں ۔ دیار غیر میں وطن کی محبت ویسے ہی جاگ جاتی ہے، سو امریکہ آنے کے بعد فارغ وقت گزارنے کے لئے میں درجنوں گروپ میں شمولیت اختیار کر لی ۔ ایچ ٹی ایم ایل سیکھنے کا &#8220;اُشکل&#8221; بھی انہیں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a title="یاہو گروپس" href="http://groups.yahoo.com/" target="_blank">یاہو گروپس</a>، ایک جیسے خیالات رکھنے والے لوگوں کے میل ملاپ کا اچھا ذریعہ ہیں ۔ دیار غیر میں وطن کی محبت ویسے ہی جاگ جاتی ہے، سو امریکہ آنے کے بعد فارغ وقت گزارنے کے لئے میں درجنوں گروپ میں شمولیت اختیار کر لی ۔ ایچ ٹی ایم ایل سیکھنے کا &#8220;اُشکل&#8221; بھی انہیں گروپس کی بدولت جاگا ۔</p>
<p><a href="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2009/01/yahoogroups.png"><img class="alignleft size-medium wp-image-311" title="یاہو گروپس" src="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2009/01/yahoogroups-231x300.png" alt="ہاہو گروپس" width="231" height="300" /></a><br />
پھر وہی جو ہوتا ہے، وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ ترجیحات بدلتی گئی، گروپس سے فورمز اور پھر آخری چھلانگ بلاگ پر لگائی، تب سے &#8220;مجازی زندگی&#8221; جمود کا شکار ہو گئی ۔ پھر جیسے جیسے بڑھاپا طاری ہوتا ہے، انسان کو اپنا بچپن یاد آنے لگتا ہے ۔ لیکن بڑھاپے کا تجربہ آپ بچپن پر لاگو کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ ہم نے بڑھاپے کا تجربہ مطلب یونیکوڈ اردو کا تجربہ اِن گروپس پر کرنے کی کوشش کی، تو پتہ چلا کہ تمام منتظم محنت سے تیار کی گئی ایچ ٹی ایم ایل ای میل کو غیر متعلقہ خانے سے آگے نہیں جانے دیتے ۔ بڑھاپے میں جوانی کا جوش امڈ آیا اور میں نے ایک عدد گروپ یونیکوڈ اردو میں بنانے کا ارادہ کیا، جہاں تصویری اردو کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جائے ۔ لیکن جیسا کہ سیانوں نے کہا ہے، غصہ عقل کو کھا جاتا ہے، وہی ہوا ، یاہو گروپس کے صحفہ اول پر ہی یونیکوڈ سپورٹ موجود نہیں تھی ۔ اور ہم اپنا سا منہ لے کر بیٹھ گئے ۔<br />
بچوں اور بوڑھوں میں ایک فرق یاداشت کا بھی ہے، بچہ کہ یاداشت وقتی ہوتی ہے، اسے وقت پر بہلا پھسلا لیا جائے تو وہ بات اس کے ذہن سے محو ہو جاتی ہے ۔ لیکن بوڑھے جوانی کے عشق کو بھولتے ہی نہیں ہیں ۔ دو تین دن پہلے میں نے دوبارہ اپنا یاہو کا اکاونٹ دیکھا اور وہاں روز جو دھڑا دھڑ ای میلز آتی ہیں، ان کا سدباب کرنے کا سوچا، وہاں میرا بنایا ہوا معصوم <a title="اردو عبارت" href="http://tech.groups.yahoo.com/group/urdutext/" target="_blank">ننھا منا سا گروپ</a> بھی موجود تھا، جس کا اکلوتا رکن ہونے کا اعزاز بھی مجھے حاصل ہے ۔ لیکن یاہو نے اپنے گروپس کو ازسرنو ترتیب دیا ہے، جس کی وجہ سے اب گروپ کے مرکزی صحفہ پر بھی اردو تحریر لکھی جا سکتی ہے ۔<br />
ازسرِنو اس گروپ کو تشکیل دیا ہے، اور اس تحریر کے ذریعے اس کی مشہوری کر رہا ہوں ۔ گروپ کا اولین مقصد یونیکوڈ اردو کا فروغ ہے، آپ شاعری،نثر،تصاویر کچھ بھی ارسال کر سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ جو مشکلات ایک نئے صارف کو پیش آتی ہیں، ان کے بارے میں بھی یہاں بات چیت کرنے کا ارادہ ہے، جیسے کہ اردو میں ای میل کیسے کریں؟ اردو بلاگز کے متعلق سوالات اور ان کے جواب وغیرہ ۔<br />
میرا خیال ہے کافی مشہوری ہو گئی ہے، اوہ ہاں نیچے دیے گئے خانہ سے گروپ میں شمولیت اختیار کی جا سکتی ہے ۔</p>
<p><a href="http://groups.yahoo.com/group/urdutext/join"><br />
<img src="http://us.i1.yimg.com/us.yimg.com/i/yg/img/i/us/ui/join.gif" alt="اردو عبارت گروپ شمولیت" /></p>
<p></a></p>
<p><a href="http://groups.yahoo.com/group/urdutext/join">اردو عبارت گروپ شمولیت</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2009/yahoo-group-urdutext/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>المیہ</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/dilemma/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/dilemma/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 22 Jan 2009 23:46:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=308</guid>
		<description><![CDATA[پہلا المیہ ۔ ممالک کی طاقت عوام ، عوام کی طاقت شعور، شعور کی اساس علم، علم کا گہوارہ مکتب ۔ دوسرا المیہ ۔ ممالک کی طاقت عوام، عوام کی طاقت شعور، شعور کا منبع عقل، عقل کا اساس علم، علم کی معراج فروغِ علم، فروغ علم کا ذریعہ زبانِ عام اور ہم اتنا پڑھ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2009/01/610x.jpg"><img class="left" title="جلا ہوا اسکول" src="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2009/01/610x-300x202.jpg" alt="جلا ہوا اسکول"  /></a></p>
<p>پہلا المیہ ۔<br />
ممالک کی طاقت عوام ، عوام کی طاقت شعور، شعور کی اساس علم، علم کا گہوارہ مکتب ۔</p>
<p>دوسرا المیہ ۔<br />
ممالک کی طاقت عوام، عوام کی طاقت شعور، شعور کا منبع عقل، عقل کا اساس علم، علم کی معراج فروغِ علم، فروغ علم کا ذریعہ زبانِ عام<br />
اور ہم اتنا پڑھ گئے کہ اپنی زبان میں اظہار نہیں کر سکتے ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2009/dilemma/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خبر باقی ہے ۔</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2008/baqiya-page-7/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2008/baqiya-page-7/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 31 Dec 2008 21:00:48 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[نیو یارک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=301</guid>
		<description><![CDATA[ماوراء نے یہاں اردو اخبارات کے متعلق لکھا ہے ۔اردو اخبارات میں خبروں کے معیار کے علاوہ جو چیز مجھے سب سے زیادہ سے زیادہ تنگ کرتی ہے، وہ خبر کا نا مکمل ہونا ہے ۔ آپ کوئی جناتی قسم کی سرخی پڑھ کر خبر کی تفصیل پڑھنا چاہیں، تو آ جاتا ہے کہ بقیہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a title="ماوراء" href="http://mawra.urdutech.com/2008/12/15/pakistani-akhbar/" target="_blank">ماوراء</a> نے یہاں اردو اخبارات کے متعلق لکھا ہے ۔اردو اخبارات میں خبروں کے معیار کے علاوہ جو چیز مجھے سب سے زیادہ سے زیادہ تنگ کرتی ہے، وہ خبر کا نا مکمل ہونا ہے ۔ آپ کوئی جناتی قسم کی سرخی پڑھ کر خبر کی تفصیل پڑھنا چاہیں، تو آ جاتا ہے کہ بقیہ نمبر ۳۶ صحفہ نمبر ۷ ۔</p>
<p><a href="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/12/urdu-news.png"><img class="left" title="اردو اخبار" src="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/12/urdu-news-300x229.png" alt="اردو  اخبارات" /></a></p>
<p>انسان اخبار کم پڑھتا ہے اور ورق الٹ الٹ کر ورزش زیادہ کرتا ہے ۔پاکستان میں تو چلو انگریزی اخبارات بھی اسی ہی قسم کے ہوتے ہیں ۔ لیکن یہاں نیویارک میں چھپنے والے اخبارات میں دو اضافی خوبیاں بھی موجود ہیں ۔ پہلی کہ خبروں کے علاوہ کالم بھی بقیہ کر کے پڑھنا پڑتے ہیں۔ دوسری بات کالم نویس حضرات کی اپنی مشہوری کی بھونڈی کوشش۔ آپ اندازہ کریں اخبار میں سے ایک کالم آپ امریکی انتخابات پر پڑھ رہے ہیں، تھوڑی دلچسپی قائم ہوئی نہیں تو ایسے جملہ آ جاتا ہے ، باراک حیسن اوبامہ کی نئی کابینہ سے اہم توقعات کی امید ہے، اس کالم پر تبصرہ کے لئے cloumn-nigar@yahoo.com پر اپنی آراء بھیجیں ۔ ہیلری کلنٹن کو انتظامیہ ۔ ۔ ۔<br />
مجھے تو آج تک یہی سمجھ نہیں آئی کہ مکمل خبر ایک ہی جگہ دینے سے کیا اخبارات بکنے کم ہو جائیں گے؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2008/baqiya-page-7/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اردو میں الف</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2008/alif-and-school/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2008/alif-and-school/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 17 Dec 2008 20:24:41 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=299</guid>
		<description><![CDATA[جب آپ پنجاب سے کراچی جائیں اور بتیاں دیکھنے کے شوق میں کسی ایک بھی ہورڈنگ بورڈ اور اشتہارات کو پڑھے بغیر نظر سے اوجھل مت ہونے دیں تو ایک اضافی &#8220;الف&#8221; سے (پنجابی کم از کم اسے اضافی سمجھتے ہیں) سے آپ کا واسطہ پڑے گا ۔ ہر وہ لفظ جو انگریزی حرف &#8220;S&#8221; [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جب آپ پنجاب سے کراچی جائیں اور بتیاں دیکھنے کے شوق میں کسی ایک بھی ہورڈنگ بورڈ اور اشتہارات کو پڑھے بغیر نظر سے اوجھل مت ہونے دیں تو ایک اضافی &#8220;الف&#8221; سے (پنجابی کم از کم اسے اضافی سمجھتے ہیں) سے آپ کا واسطہ پڑے گا ۔</p>
<p>ہر وہ لفظ جو انگریزی حرف &#8220;S&#8221; سے شروع ہوتا ہے کو لکھتے وقت کراچی میں الف سے اور پنجاب میں &#8220;س&#8221; سے شروع کرتے ہیں مثلاً پنجاب میں سکول کراچی جا کر اسکول بن جاتا ہے، سٹیٹ کراچی میں اسٹیٹ اور سنوکر کلب کراچی میں اسنوکر کلب بن جاتا ہے ۔</p>
<p>حتیٰ کہ پنجاب میں درسی کتب میں بھی اس اضافی الف کو نہیں لکھا جاتا، اس بارے میں قاعدہ قانون کیا کہتے ہیں؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2008/alif-and-school/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>14</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
