<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اردو جہاں بلاگ &#187; سیاست</title>
	<atom:link href="http://www.urdujahan.com/blog/topics/politics/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urdujahan.com/blog</link>
	<description>جہانزیب اشرف</description>
	<lastBuildDate>Sat, 21 Aug 2010 09:24:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>باشعور قوم</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/politics/2010/civilized/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/politics/2010/civilized/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 11 Aug 2010 05:51:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=465</guid>
		<description><![CDATA[وضاحت: یہ تحریر خالصتاً تعصب پر مبنی ہے، اور اس مقصد کے تحت لکھی گئی ہے کہ شائد "باشعور لوگ" اپنے گریبانوں میں جھانک سکیں ۔ ہر انسان میں تاریک اور روشن دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں، اسی طرح یہ دونوں مجھ میں بھی موجود ہیں، البتہ تاریک پہلووں کو منظر عام پر اس نہج سے پیش کرنا کہ ان میں فخر کی جھلک ہو کبھی میرا مقصود نہیں رہا ۔ اس تحریر سے بلاشبہ بہت سے ہجرت کر کے آنے والوں کی دلشکنی ہو گی اور میں اس سلسلے میں ان سے معذرت خواہ ہوں ۔ تحریر کا اصل محرک جند مخصوص افراد ہیں جو کہ سیاسی مقاصد کے لئے ہجرت کا نہ صرف پرچار کرتے ہیں بلکہ اس کی بنیاد پر دیگر طبقہ کو کم تر اور اپنے احسان مند ثابت کرنے کی ہر ناچار کوشش کرتے ہیں ۔ میری درخواست ہے کہ تحریر کو پڑھنے کے بعد متعلقہ تبصرہ پڑھ لیا جائے، تا کہ تحریر کا اصل محرک اور سیاق و سباق سمجھنے میں آسانی ہو ۔ ]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ایک ہندو واقف کار نے مجھ سے سوال کیا  &#8220;کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کی بہ نسبت پنجاب کے رہنے والے ہندوستان کے زیادہ مخالف ہیں؟&#8221; میں نے اسکا جواب دیا کہ شائد پنجاب والوں نے تقسیم کے دوران سب سے زیادہ فسادات کا سامنا کیا تھا، اور میرے والد کی نسل تک کے افراد نے  اپنی آنکھوں سے اجڑے ہوئے خاندان دیکھے تھے ۔ جس کا ردعمل ناگزیر تھا ۔</p>
<p>پھر ہمارے ملک کی &#8220;باشعور&#8221; جماعت کے ادنی کارکن کے انہی اہل پنجاب کی طرف اشارہ کر کے &#8221; جو لوگ سوئے تو ہندوستان کا حصہ تھے اور جاگے تو پاکستان کا حصہ، انہیں پاکستان کا مطلب کیا معلوم؟&#8221; جیسے سنہرے ارشاد پڑھنے کا بھی اتفاق ہوا ۔ جن پر لعنت بھیج کر میں اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا ۔</p>
<p>لیکن اس &#8220;باشعور طبقہ&#8221; کے افراد  بے سروپا باتوں کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، اور مجبور کرتے ہیں کہ ان کی تاریخ ان کے منہ پر دے ماری جائے ۔ خاور کے بلاگ کی تحریر پر تبصرہ فرماتے ہوئے &#8220;باشعور قوم&#8221; کے <a href="http://khawarking.blogspot.com/2010/08/blog-post_08.html?showComment=1281297287144#c8537096647350081011" target="_blank"> ایک فرد نے جو تبصرہ کیا ہے</a>، اسے بلاگستان میں ایک کلاسیکی تبصرہ کا درجہ حاصل ہے ۔ جس تبصرے کا آغاز تحریر کو متعصب قرار دینے سے ہوا، اُسکا پیٹ صرف تعصب ہی سے بھرا گیا ہے اور اختتام اس بات پر کہ میرا تو کسی تنظیم سے تعلق نہیں بلکہ ہم تو حق کو حق کہنے والے ہیں، اسی موقع کی مناسبت سے پنجابی میں محاورہ ہے &#8220;رووے یاراں نوں لے لے ناں بھرواں دے&#8221; ۔</p>
<p>تو میرے باشعور قوم کے فرد جب آپ کے اجداد درختوں میں اُلٹا لٹک کر رات بسر کیا کرتے تھے، اس وقت ہمارے ہاں کئی تہذبیں جنم لے چکی تھیں جنہیں آپ گندھارا، ہڑپہ اور موہنجو دڑو کے نام سے شائد پہنچانتے ہوں گے ۔ جب آپ کے اجداد کو قبیلہ کی &#8220;ق&#8221; کا بھی علم نہیں تھا ہمارے ہاں شہر بسائے جا رہے تھے جسے آپ دریائے سندھ کی تہذیب کے نام سے شائد جانتے ہوں ۔ لیکن شائد آپ کے علم کی وسعت یہاں تک پہنچنے سے قاصر ہو، یا حقیقت میں ان زمانوں تک جاتے وقت  آپ کی نسل ہی کہیں بیچ میں روپوش ہو جاتی ہو، کیونکہ اس وقت تک آپ کے اجداد لکھنے سے بھی قاصر تھے ۔ تو جس شعور کی باتیں آپ کر رہے ہیں وہ آپ کے آباء نے ہمارے آباء سے مستعار لیا ہے ۔</p>
<p>اب دیکھیں نہ جس زبان پر آپ اتنا فخر کرتے ہیں، اس کا آغاز بھی انہیں علاقوں سے ہوا جہاں پنجابی بولی جاتی تھی، کہنے والے تو آپ کی زبان کو جدید پنجابی بھی کہتے ہیں ۔ اب اس باشعور قوم کے بارے میں میں کیا عرض کروں جس کو نہ صرف پاکستان کا تصور  &#8220;جاہل قوم&#8221; کے فرد نے دیا بلکہ نام اور قومی ترانہ تک اسی &#8220;جاہل قوم&#8221; کے افراد نے دیا ۔<br />
آپ کے اجداد کا الم ناک باب جو ہجرت کے نام منسوب ہے اور جسے آپ کسی موقع پر استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے، تاریخ انہیں پنجاب کے فسادات کے نام سے جانتی ہے، اور جن ۲۰ لاکھ کا رونا آپ روتے ہیں ان کی <a href="http://docs.google.com/viewer?a=v&amp;q=cache:ywf7WkgeIsIJ:paa2004.princeton.edu/download.asp%3FsubmissionId%3D41274+1947+migration&amp;hl=en&amp;gl=us&amp;pid=bl&amp;srcid=ADGEEShZtpoC68Xd0nDCWDax5-vMnOE-5HxONK1pTONo1S5oazUYMhBJdQu6v6uHwHpBuHVibquy9Pu8coYMks9st0qgDnZcb-Hb9ifeAwSUBOrx8MgnETPNVoHP6lrZtCgL7MWkBxo0&amp;sig=AHIEtbQ3r2Y4WizQ4XtCjbgd1VzY7Iunmg" target="_blank">اکثریت پنجابی تھی</a>، جو اپنا سب کچھ لٹا کر یہاں آ گئے تھے ۔ ان میں سے کسی کا ماموں، پھوپھی، تائی اور نانی وہاں موجود نہیں ہے ۔ آپ کے اجداد چونکہ باشعور تھے اس لئے آدھے خاندان وہاں اور باقی جہازوں اور ریل پر بیٹھ کر یہاں بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے مطلب کلیم حاصل کرنے  اس غرض سے یہاں آئے تھے کہ بعد میں سب کچھ دوبارہ ٹھیک ہو جائے گا ۔ اسی وجہ سے آپ کی باشعور جماعت کا ایک مشن &#8220;کھوکھرا پار&#8221; کھلوانا ہے  تاکہ عزیزوں سے رابطہ بحال ہو جائے ۔ جن کو آپ مشورہ نما طعنہ &#8220;احسان مانو انکا کے انہوں نے تمہیں گھر بیٹھے ہی آزادی دلوادی&#8221; دے رہے ہیں، وہ سب تو اپنا سب کچھ لٹا کر یہاں آئے تھے، پورے پورے خاندان میں ایک آدمی یہاں تک پہنچ پایا تھا ۔ آپ یا آپ کے اجداد نے ان پر کونسا احسان عظیم کیا ہے؟</p>
<p><span style="color: #3366ff;">وضاحت: یہ تحریر خالصتاً تعصب پر مبنی ہے، اور اس مقصد کے تحت لکھی گئی ہے کہ شائد &#8220;باشعور لوگ&#8221; اپنے گریبانوں میں جھانک سکیں ۔ ہر انسان میں تاریک اور روشن دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں، اسی طرح یہ دونوں مجھ میں بھی موجود ہیں، البتہ تاریک پہلووں کو منظر عام پر اس نہج سے پیش کرنا کہ ان میں فخر کی جھلک ہو کبھی میرا مقصود نہیں رہا ۔ اس تحریر سے بلاشبہ بہت سے ہجرت کر کے آنے والوں کی دلشکنی ہو گی اور میں اس سلسلے میں ان سے معذرت خواہ ہوں ۔ تحریر کا اصل محرک جند مخصوص افراد ہیں جو کہ سیاسی مقاصد کے لئے ہجرت کا نہ صرف پرچار کرتے ہیں بلکہ اس کی بنیاد پر دیگر طبقہ کو کم تر اور اپنے احسان مند ثابت کرنے کی ہر ناچار کوشش کرتے ہیں ۔ میری درخواست ہے کہ تحریر کو پڑھنے کے بعد متعلقہ تبصرہ پڑھ لیا جائے، تا کہ تحریر کا اصل محرک اور سیاق و سباق سمجھنے میں آسانی ہو ۔ </span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/politics/2010/civilized/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>48</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
