<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اردو جہاں بلاگ &#187; سیاست</title>
	<atom:link href="http://www.urdujahan.com/blog/topics/politics/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urdujahan.com/blog</link>
	<description>جہانزیب اشرف</description>
	<lastBuildDate>Sat, 06 Nov 2010 17:54:26 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>تبدیلی</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/politics/2010/change-2/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/politics/2010/change-2/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 06 Nov 2010 17:54:26 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=472</guid>
		<description><![CDATA[صدر براک اوبامہ کی شخصیت کے سحر سے امریکی عوام آہستہ آہستہ نکل رہے ہیں، جس کا اندازہ حالیہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے لگایا جا سکتا ہے، جس میں ریپبلکن پارٹی نے ہاوس میں اکثریت حاصل کر لی ہے ۔ اور بہت سے لوگ اب براک اوبامہ کو یک مدتی صدر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>صدر براک اوبامہ کی شخصیت کے سحر سے امریکی عوام آہستہ آہستہ نکل رہے ہیں، جس کا اندازہ حالیہ ہونے والے وسط مدتی <a href="http://elections.nytimes.com/2010/results/house" target="_blank">انتخابات کے نتائج</a> سے لگایا جا سکتا ہے، جس میں ریپبلکن پارٹی نے ہاوس میں اکثریت حاصل کر لی ہے ۔ اور بہت سے لوگ اب براک اوبامہ کو<a href="http://www.mediaite.com/online/white-house-appears-to-want-to-shame-the-shameless-mitch-mcconnell-and-company/" target="_blank"> یک مدتی صدر</a> کہنا شروع ہو گئے ہیں، حالانکہ یہ بات بعید از قیاس ہے، اس سے پہلے سابق صدر بل کلنٹن بھی انہی حالات سے گذر کر دوسری مدت کے لئے صدر منتخب ہو چکے ہیں، اور اس کے علاوہ فی الحال ریپبلکن پارٹی کے اندر سے ایسی کوئی شخصیت سامنے نہیں آ پا رہی جو براک اوبامہ کی ذاتی مقبولیت کے لئے خطرہ ہو، آ جا کر سارہ پیلن ہے جو فائدہ سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کے کرتا دھرتا سارہ پیلن کو ۲۰۱۲ سے <a href="http://www.cbsnews.com/8301-503544_162-20021350-503544.html" target="_blank">پہلے غیر متحرک رکھنے کی تدابیر سوچ رہے ہیں</a> ۔</p>
<p>لیکن اوبامہ تبدیلی کے دلکش نعرے کے ساتھ میدان میں آئے اور اپنی صدراتی مہم کے دوران پاکستانی افواج کے طرف سے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کی صورت میں <a href="http://www.usatoday.com/news/topstories/2007-08-01-3993606404_x.htm">امریکی افواج کا بذات خود پاکستان میں آپریشن کا عندیہ</a> دے کر اپنے خیالات کا واضح اظہار کر چکے تھے، مگر پھر بھی پاکستانیوں کو ان سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں، حیرت انگیز طور پر اپنی صدارتی مہم کے دوران اوبامہ بیرونی ممالک میں امریکہ سے زیادہ مقبول تھے ۔</p>
<p>امسال براک اوبامہ بحثیت امریکی صدر پہلے افغانستان گئے، اور اب ان کا <a href="http://www.keyc.com/node/43675" target="_blank">حالیہ دورہ جاری ہے</a> جس میں چار ایشائی ممالک کا دورہ جاری ہے ۔ پاکستان کے بارے میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ پہلی دفعہ کوئی امریکی صدر ہندوستان تو جا رہا ہے لیکن پاکستان جو کہ خطہ کا اہم ملک ہے اور نیٹو ممالک کے بعد امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی ہے کا دروہ نہیں کیا جا رہا، اس سے پہلے سابق صدر بل کلنٹن کے دور میں بدترین حالات میں جب ملک میں مارشل لا تھا اور جمہوری حکومت ختم کر کے پرویز مشرف چیف ایگزیکٹو بنے ہوئے تھے، تب بھی صدر کی جانب سے دونوں ممالک کا دورہ کیا گیا تھا ۔ حالانکہ اس وقت خیال کیا جا رہا تھا کہ<a href="http://news.bbc.co.uk/2/hi/talking_point/648009.stm" target="_blank"> مارشل لاء کی وجہ سے امریکی صدر پاکستان کا دورہ شائد نہیں کرِیں گے</a> ۔ ویسے تو ڈیموکریٹ پارٹی ہمیشہ سے پاکستان کی نسبت ہندوستان کے زیادہ قریب تصور کی جاتی ہے، لیکن ان حالات میں جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم اتحادی، جسے سب سے زیادہ ڈو مور کا الاپ سنایا جاتا ہے کا دورہ نہ کرنا کیا مثبت تبدیلی ہے؟ کیونکہ تبدیلی مثبت اور منفی دونوں طرح کی ہو سکتی ہے اور پاکستان کے حوالے سے حالیہ تبدیلی مثبت بالکل بھی نہیں ہے ۔</p>
<p>حالانکہ پاکستان کو یہ کہہ کر<a href="http://www.nytimes.com/2010/10/21/world/asia/21prexy.html" target="_blank"> تسلی دی جا رہی ہے کہ اگلے سال ملیں گے</a> اور تب ہندوستان نہیں جائیں گے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان سے اس طرح قطع نظر کرنا حکومت پاکستان کی کوتاہی ہے یا امریکہ کی ہٹ دھرمی؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/politics/2010/change-2/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>باشعور قوم</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/politics/2010/civilized/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/politics/2010/civilized/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 11 Aug 2010 05:51:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=465</guid>
		<description><![CDATA[وضاحت: یہ تحریر خالصتاً تعصب پر مبنی ہے، اور اس مقصد کے تحت لکھی گئی ہے کہ شائد "باشعور لوگ" اپنے گریبانوں میں جھانک سکیں ۔ ہر انسان میں تاریک اور روشن دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں، اسی طرح یہ دونوں مجھ میں بھی موجود ہیں، البتہ تاریک پہلووں کو منظر عام پر اس نہج سے پیش کرنا کہ ان میں فخر کی جھلک ہو کبھی میرا مقصود نہیں رہا ۔ اس تحریر سے بلاشبہ بہت سے ہجرت کر کے آنے والوں کی دلشکنی ہو گی اور میں اس سلسلے میں ان سے معذرت خواہ ہوں ۔ تحریر کا اصل محرک جند مخصوص افراد ہیں جو کہ سیاسی مقاصد کے لئے ہجرت کا نہ صرف پرچار کرتے ہیں بلکہ اس کی بنیاد پر دیگر طبقہ کو کم تر اور اپنے احسان مند ثابت کرنے کی ہر ناچار کوشش کرتے ہیں ۔ میری درخواست ہے کہ تحریر کو پڑھنے کے بعد متعلقہ تبصرہ پڑھ لیا جائے، تا کہ تحریر کا اصل محرک اور سیاق و سباق سمجھنے میں آسانی ہو ۔ ]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ایک ہندو واقف کار نے مجھ سے سوال کیا  &#8220;کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کی بہ نسبت پنجاب کے رہنے والے ہندوستان کے زیادہ مخالف ہیں؟&#8221; میں نے اسکا جواب دیا کہ شائد پنجاب والوں نے تقسیم کے دوران سب سے زیادہ فسادات کا سامنا کیا تھا، اور میرے والد کی نسل تک کے افراد نے  اپنی آنکھوں سے اجڑے ہوئے خاندان دیکھے تھے ۔ جس کا ردعمل ناگزیر تھا ۔</p>
<p>پھر ہمارے ملک کی &#8220;باشعور&#8221; جماعت کے ادنی کارکن کے انہی اہل پنجاب کی طرف اشارہ کر کے &#8221; جو لوگ سوئے تو ہندوستان کا حصہ تھے اور جاگے تو پاکستان کا حصہ، انہیں پاکستان کا مطلب کیا معلوم؟&#8221; جیسے سنہرے ارشاد پڑھنے کا بھی اتفاق ہوا ۔ جن پر لعنت بھیج کر میں اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا ۔</p>
<p>لیکن اس &#8220;باشعور طبقہ&#8221; کے افراد  بے سروپا باتوں کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، اور مجبور کرتے ہیں کہ ان کی تاریخ ان کے منہ پر دے ماری جائے ۔ خاور کے بلاگ کی تحریر پر تبصرہ فرماتے ہوئے &#8220;باشعور قوم&#8221; کے <a href="http://khawarking.blogspot.com/2010/08/blog-post_08.html?showComment=1281297287144#c8537096647350081011" target="_blank"> ایک فرد نے جو تبصرہ کیا ہے</a>، اسے بلاگستان میں ایک کلاسیکی تبصرہ کا درجہ حاصل ہے ۔ جس تبصرے کا آغاز تحریر کو متعصب قرار دینے سے ہوا، اُسکا پیٹ صرف تعصب ہی سے بھرا گیا ہے اور اختتام اس بات پر کہ میرا تو کسی تنظیم سے تعلق نہیں بلکہ ہم تو حق کو حق کہنے والے ہیں، اسی موقع کی مناسبت سے پنجابی میں محاورہ ہے &#8220;رووے یاراں نوں لے لے ناں بھرواں دے&#8221; ۔</p>
<p>تو میرے باشعور قوم کے فرد جب آپ کے اجداد درختوں میں اُلٹا لٹک کر رات بسر کیا کرتے تھے، اس وقت ہمارے ہاں کئی تہذبیں جنم لے چکی تھیں جنہیں آپ گندھارا، ہڑپہ اور موہنجو دڑو کے نام سے شائد پہنچانتے ہوں گے ۔ جب آپ کے اجداد کو قبیلہ کی &#8220;ق&#8221; کا بھی علم نہیں تھا ہمارے ہاں شہر بسائے جا رہے تھے جسے آپ دریائے سندھ کی تہذیب کے نام سے شائد جانتے ہوں ۔ لیکن شائد آپ کے علم کی وسعت یہاں تک پہنچنے سے قاصر ہو، یا حقیقت میں ان زمانوں تک جاتے وقت  آپ کی نسل ہی کہیں بیچ میں روپوش ہو جاتی ہو، کیونکہ اس وقت تک آپ کے اجداد لکھنے سے بھی قاصر تھے ۔ تو جس شعور کی باتیں آپ کر رہے ہیں وہ آپ کے آباء نے ہمارے آباء سے مستعار لیا ہے ۔</p>
<p>اب دیکھیں نہ جس زبان پر آپ اتنا فخر کرتے ہیں، اس کا آغاز بھی انہیں علاقوں سے ہوا جہاں پنجابی بولی جاتی تھی، کہنے والے تو آپ کی زبان کو جدید پنجابی بھی کہتے ہیں ۔ اب اس باشعور قوم کے بارے میں میں کیا عرض کروں جس کو نہ صرف پاکستان کا تصور  &#8220;جاہل قوم&#8221; کے فرد نے دیا بلکہ نام اور قومی ترانہ تک اسی &#8220;جاہل قوم&#8221; کے افراد نے دیا ۔<br />
آپ کے اجداد کا الم ناک باب جو ہجرت کے نام منسوب ہے اور جسے آپ کسی موقع پر استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے، تاریخ انہیں پنجاب کے فسادات کے نام سے جانتی ہے، اور جن ۲۰ لاکھ کا رونا آپ روتے ہیں ان کی <a href="http://docs.google.com/viewer?a=v&amp;q=cache:ywf7WkgeIsIJ:paa2004.princeton.edu/download.asp%3FsubmissionId%3D41274+1947+migration&amp;hl=en&amp;gl=us&amp;pid=bl&amp;srcid=ADGEEShZtpoC68Xd0nDCWDax5-vMnOE-5HxONK1pTONo1S5oazUYMhBJdQu6v6uHwHpBuHVibquy9Pu8coYMks9st0qgDnZcb-Hb9ifeAwSUBOrx8MgnETPNVoHP6lrZtCgL7MWkBxo0&amp;sig=AHIEtbQ3r2Y4WizQ4XtCjbgd1VzY7Iunmg" target="_blank">اکثریت پنجابی تھی</a>، جو اپنا سب کچھ لٹا کر یہاں آ گئے تھے ۔ ان میں سے کسی کا ماموں، پھوپھی، تائی اور نانی وہاں موجود نہیں ہے ۔ آپ کے اجداد چونکہ باشعور تھے اس لئے آدھے خاندان وہاں اور باقی جہازوں اور ریل پر بیٹھ کر یہاں بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے مطلب کلیم حاصل کرنے  اس غرض سے یہاں آئے تھے کہ بعد میں سب کچھ دوبارہ ٹھیک ہو جائے گا ۔ اسی وجہ سے آپ کی باشعور جماعت کا ایک مشن &#8220;کھوکھرا پار&#8221; کھلوانا ہے  تاکہ عزیزوں سے رابطہ بحال ہو جائے ۔ جن کو آپ مشورہ نما طعنہ &#8220;احسان مانو انکا کے انہوں نے تمہیں گھر بیٹھے ہی آزادی دلوادی&#8221; دے رہے ہیں، وہ سب تو اپنا سب کچھ لٹا کر یہاں آئے تھے، پورے پورے خاندان میں ایک آدمی یہاں تک پہنچ پایا تھا ۔ آپ یا آپ کے اجداد نے ان پر کونسا احسان عظیم کیا ہے؟</p>
<p><span style="color: #3366ff;">وضاحت: یہ تحریر خالصتاً تعصب پر مبنی ہے، اور اس مقصد کے تحت لکھی گئی ہے کہ شائد &#8220;باشعور لوگ&#8221; اپنے گریبانوں میں جھانک سکیں ۔ ہر انسان میں تاریک اور روشن دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں، اسی طرح یہ دونوں مجھ میں بھی موجود ہیں، البتہ تاریک پہلووں کو منظر عام پر اس نہج سے پیش کرنا کہ ان میں فخر کی جھلک ہو کبھی میرا مقصود نہیں رہا ۔ اس تحریر سے بلاشبہ بہت سے ہجرت کر کے آنے والوں کی دلشکنی ہو گی اور میں اس سلسلے میں ان سے معذرت خواہ ہوں ۔ تحریر کا اصل محرک جند مخصوص افراد ہیں جو کہ سیاسی مقاصد کے لئے ہجرت کا نہ صرف پرچار کرتے ہیں بلکہ اس کی بنیاد پر دیگر طبقہ کو کم تر اور اپنے احسان مند ثابت کرنے کی ہر ناچار کوشش کرتے ہیں ۔ میری درخواست ہے کہ تحریر کو پڑھنے کے بعد متعلقہ تبصرہ پڑھ لیا جائے، تا کہ تحریر کا اصل محرک اور سیاق و سباق سمجھنے میں آسانی ہو ۔ </span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/politics/2010/civilized/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>49</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

