<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اردو جہاں بلاگ &#187; میری زندگی</title>
	<atom:link href="http://www.urdujahan.com/blog/topics/personal/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urdujahan.com/blog</link>
	<description>جہانزیب اشرف</description>
	<lastBuildDate>Sat, 06 Nov 2010 17:54:26 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>عید مبارک</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2010/eid-mubarak-2/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2010/eid-mubarak-2/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 10 Sep 2010 10:48:35 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[نیو یارک]]></category>
		<category><![CDATA[میری زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[نیویارک]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=470</guid>
		<description><![CDATA[آج خیر سے پورے امریکہ میں اکھٹی عید ہے ۔ اس خوشگوار موقع پر میری طرف سے سب بلاگ پڑھنے والوں کو عید مبارک اور میری عیدی سیلاب فنڈ میں جمع کروانا نہیں بھولئے گا ۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آج خیر سے پورے امریکہ میں اکھٹی عید ہے ۔ اس خوشگوار موقع پر میری طرف سے سب بلاگ پڑھنے والوں کو عید مبارک اور میری عیدی سیلاب فنڈ میں جمع کروانا نہیں بھولئے گا ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2010/eid-mubarak-2/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>4</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جلن</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/jalan/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/jalan/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2009 18:38:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[مزاح]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=438</guid>
		<description><![CDATA[عرصہ دراز بعد مجھے بخار نے آ گھیرا ہے، اور ایسا وقت چنا ہے جب ایچ ون این ون نامی بَلا سے بندے کا پہلے ہی &#8220;تراہ&#8221; نکلا ہو ۔ نیویارک کے اطراف میں تین افراد اِس موذی وائرس کا شکار بن چکے ہیں ۔ ویسے بھی بیماری کی حالت میں لوگ شکرانہ بجا لاتے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>عرصہ دراز بعد مجھے بخار نے آ گھیرا ہے، اور ایسا وقت چنا  ہے جب  <a href="http://www.cdc.gov/H1N1FLU/">ایچ ون این ون</a> نامی بَلا سے بندے کا پہلے ہی &#8220;تراہ&#8221; نکلا ہو ۔  نیویارک کے اطراف میں تین افراد اِس موذی وائرس کا شکار بن چکے ہیں ۔ ویسے بھی بیماری کی حالت میں لوگ شکرانہ بجا لاتے ہیں کہ اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جھڑ جاتے ہیں، سات آٹھ سال بیمار نہ پڑنے سے مجھے شک سا ہونے لگا تھا کہ میں کوئی چھوٹا گناہ کرتا ہی نہیں ۔<br />
بیماری کی حالت اور جیل جانے میں ایک مماثلت  اپنے ساتھ وقت گزارنا بھی ہے، جو روزمرہ کے معمولات کے باعث انسان کو کم میسر ہوتا ہے ۔ امریکی جیل خانوں (یہاں خان سے مراد قوم نہیں) متعین مذہبی علماء کے مطابق  اسی تنہائی اور یکسوئی کی بدولت انسان کا رجحان <a href="http://www.prisoners.com/religion.html" target="_blank">مذہب کی جانب زیادہ</a> ہو جاتا ہے جبکہ پاکستانی جیلوں میں کہنے والے کہتے ہیں کہ عادی مجرم بن کر نکلتا ہے ۔<br />
بیمار  بھی خدا کے قریب ہوتا ہے اسی لوگ دعا کروانے بھی عیادت کو پہنچ جاتے ہیں،گھر میں بیمار پڑنے اور جیل جانے میں ایک فرق کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا بھی ہے، اس لئے بیماری میں خدا کے قریب ہوتے ہوئے بھی جیل جیسی ذہنی یکسوئی حاصل نہیں ہو پاتی۔ البتہ اس بارے سوچنے کا وقت ضرور مل جاتا ہے کہ میں بیمار ہوا کیوں؟<br />
کافی سوچ بیچار کے بعد معلوم ہوا کہ حسد سے، اوپر تلے کچھ بلاگ ایسے پڑھے جنہوں نے ذہن میں ایک ہی سوال کو ابھارا &#8220;یار مُجھ میں کیا کمی ہے؟&#8221; لیکن جاننے والے کہتے ہیں کہ کمی کا تو نہیں البتہ فریق مخالف کے ساتھ جو زیادتی ہو گی اُس کا ضرور معلوم ہے، اللہ غارت کرے بورن اندسٹری والوں کو سب راز افشاء کر دئے ۔ البتہ اب اگر کوئی آپ کو &#8220;<a href="http://nawaiadab.com/khurram/?p=279" target="_blank">آئی لَوو یُو</a>&#8221; کہے، سر راہ &#8220;<a href="http://ibnezia.com/blog/2009/10/jn-ep12/" target="_blank">مسز بننے</a> &#8221; کی دعوت دے یا &#8220;<a href="http://khawarking.blogspot.com/2009/08/blog-post.html" target="_blank">سکور کردہ سینچری</a>&#8221; کے جوش میں میچ کو نشر مکرر سے پہلے اُن کا سوچ لیا کریں جن کے ہاتھ ابھی بیٹ ہی نہیں لگا بقول محبوب عزمی<br />
<center><br />
لڑکی کہاں سے لاؤں میں شادی کے واسطے<br />
شاید کہ اس میں، میرے مقدر کا دوش ہے<br />
عذرا، نسیم، کوثر و تسنیم بھی گئیں<br />
&#8220;اِک شمع رہ گئی ہے،سو وہ بھی خموش ہے&#8221;<br />
</center><br />
ایسے &#8220;بیچارے&#8221;  جلن سے بیمار ہو سکتے ہیں ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/jalan/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>23</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>میرا مدرسہ</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/my-first-school/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/my-first-school/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 17 Aug 2009 15:17:39 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[مزاح]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=418</guid>
		<description><![CDATA[سیدہ شگفتہ، اگر آپ انہیں اردو محفل کے توسط سے جانتے ہیں تو یہ اِن کے توجہ دلاو والے اعلانات کو بھی جانتے ہوں گے ۔ فی الوقت اردو بلاگستان پر انہوں نے ہفتہ بلاگستان منانے کی تحریک چلائی ہے، اب کی بار بلاگرز نے اس تجویز کو مان بھی لیا ہے، حیرت ہے ۔ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://shagufta.urdutech.com/blog/" target="_blank">سیدہ شگفتہ،</a> اگر آپ انہیں اردو محفل کے توسط سے جانتے ہیں تو یہ اِن کے توجہ دلاو والے اعلانات کو بھی جانتے ہوں گے ۔ فی الوقت اردو بلاگستان پر انہوں نے <a href="http://shagufta.urdutech.com/blog/?p=518" target="_blank">ہفتہ بلاگستان </a>منانے کی تحریک چلائی ہے، اب کی بار بلاگرز نے اس تجویز کو مان بھی لیا ہے، حیرت ہے ۔</p>
<p>میرا بچپن اور میرا اسکول، کہاں سے شروع کروں کہاں ختم کروں، کیونکہ مجھے تو پہلا دِن بھی یاد ہے جب مجھے بابا محمد خان جو ہمارے گاوں میں چوکیدار تھے کے ہمراہ اسکول بھیجا گیا تھا ، رونے دھونے والی کوئی بات ہی نہیں تھی، اسکول گاوں ہی میں تھا، گھر سے پانچ منٹ کی پیدل ڈرائیو پر، ہم جماعت سارے محلے کے تھے یا پچھلے محلے کے یا سامنے والے محلے کے ۔ آدھی چھٹی پر سب بچے گھر آ کر کھانا کھاتے تھے، اُن میں سے پھر آدھے واپس آ جاتے تھے اور باقی آدھے بیمار پڑھ جاتے تھے ۔<br />
ہمارا اسکول بہترین تھا، اوپن ائیر جس میں عمارت کے نام پر ایک کمرہ تھا، جہاں اسکول کا فرنیچر مطلب اساتذہ کے لئے تین چار عدد کرسیاں پڑی ہوتی تھیں ۔ طالب علم اپنا فرنیچر مطلب ایک عدد بوری، سونا یوریا کا گٹو یا تروڑا اپنے ساتھ لے کر آتے تھے ۔ بارش میں اسکول میں چھٹی ہو جاتی تھی، گرمیوں میں تقریباً سب بچے بارش سے ٹیلکم پاوڈر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پِت (گرمی دانے) ختم کرتے تھے ۔<br />
ہمارے اسکول میں پانچ جماعتیں اور تین عدد استاد تھے، اِن میں سے دو استاد دو دو جماعتیں جبکہ ہیڈ ماسٹر صاحب پانچویں جماعت کو پڑھاتے تھے ۔ چونکہ تمام عملہ دوسرے گاوں سے آتا تھا، اس لئے صبح جس راستے سے انہوں نے آنا ہوتا تھا، وہاں اکثر بچے ان کا انتطار کرتے تھے، تا کہ ان کی سائیکل پکڑ کر اسکول تک لے کر آئیں اور جسے سائیکل مل جاتی تھی وہ پھولا نہیں سماتا تھا۔<br />
ہمارے اسکول کے کل چار عدد میدان تھے جنہیں درختوں کی قطاروں نے الگ الگ کیا تھا، اسکول کے ارد گرد تین اطراف سرکاری زمین تھی جہاں پر خود رو چھوٹا سا جنگل بن چکا تھا، یہ جنگل اسکول کے لئے بہت اہم تھا چونکہ اسے باتھ روم کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، علاوہ ازیں سردیوں میں یہاں سوکھی جھاڑیوں اور سرکنڈوں کو آگ لگا کر وہاں اجتماعی تختیاں سکھانے کا انتظام بھی تھا ۔<br />
اسکول کا آغاز لب پر آتی ہے دعا سے ہوتا تھا اور اختتام اِک دونڑی دونڑی تے دو دونڑی چار پر ہوتا تھا، درمیان میں بہت کچھ ہوتا تھا جیسے دارا کا اسکول، میرا مدرسہ حساب، کلمے نماز اور سب سے بڑھ کر دوپہر کو ریڈیو پروگرام سُننا ۔<br />
کھیلوں کے معاملے میں اسکول کچھ کم نہیں تھا، ہر ہفتہ میں ایک دن کھیلوں پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی، کھیلوں میں اس وقت صرف تین کھیل تھے جو اسکول میں مقبول تھے،اُن سے ایک کشتی پنجابی میں کول، کبڈی اور تیسرا ہاکی نما جسے ہم کھدو پھنڈی کہتے تھے ۔ گلی ڈنڈا نان آفیشل طور پر مقبول تھا، اور اسکول کے بعد بچے زیادہ گلی ڈنڈا کھیلنا پسند کرتے تھے ۔<br />
اسکول کا سب سے اہم دن اکتیس مارچ ہوتا تھا، جس دن نتیجہ نکلنا ہوتا تھا، اکتیس مارچ سے پہلے سب بچے پورے گاوں میں بلکہ ہمارے ساتھ والے گاوں میں ہائی اسکول تھا جہاں باغیچوں میں پھول لگے ہوتے تھے، وہاں سے پھول جمع کر کے انہیں پرو کر ہار بناتے یا بنواتے تھے اور نتیجہ میں پاس ہونے والے انہیں اساتذہ کو پہناتے تھے ۔ اخیر میں سب کو جلیبیاں اور چائے یعنی کہ پارٹی کا انتظام ہوتا تھا ۔<br />
بس یہی تھا میرا پرائمری اسکول جو مجھے بڑا پسند ہے اور اب تک جوں کا توں ہے ۔ لیکن اب ہمارے گاوں میں تین عدد اسکول ہیں، ہمارے وقت سب بچے ایک اسی اسکول میں جاتے تھے جبکہ اب چوہدریوں کے بچے پرائیویٹ اسکولوں میں جاتے ہیں ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/my-first-school/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>14</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ظالم لوک</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/zalim-lok/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/zalim-lok/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 25 Feb 2009 00:27:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=395</guid>
		<description><![CDATA[ہمارے گاؤں میں ایک گھر ہے، جن کے دو بیٹے ذہنی معذور عرف عام میں پاگل تھے ۔ بڑا لڑکا کچھ کم جبکہ چھوٹا لڑکا نسبتاً اِس معذوری کا زیادہ شکار تھا ۔ اس کا اصل نام تھا خالد لیکن گاؤں بھر میں &#8220;خالو جھلا&#8221; کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔ مجھ سے تقریباً [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ہمارے گاؤں میں ایک گھر ہے، جن کے دو بیٹے ذہنی معذور عرف عام میں پاگل تھے ۔ بڑا لڑکا کچھ کم جبکہ چھوٹا لڑکا نسبتاً اِس معذوری کا زیادہ شکار تھا ۔ اس کا اصل نام تھا خالد لیکن گاؤں بھر میں &#8220;خالو جھلا&#8221; کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔ مجھ سے تقریباً کوئی دس پندرہ سال عمر میں بڑا تھا ۔ سارا دِن خالو جھلا گاؤں کی مختلف گلیوں میں بچوں کی &#8220;انٹرٹینمنٹ&#8221; کا سامان بنا رہتا تھا، نوجوان لڑکے اسے بچوں کی طرح تنگ تو نہیں کرتے تھے، لیکن اُس سے ٹھٹھے لگاتے تھے، کوئی گزر رہا ہوتا تو اُسے کہتے خالو اِسے یہ کہو، اور خالو جھلا وہ کہہ دیتا، جس پر قہقہے لگائے جاتے ۔<br />
خاص طور پر بچوں کی مشق ستم، جس میں وہ اُسے تنگ کرتے اور جب وہ گالیاں دیتا تو دور کھڑے دانت نکالتے رہتے ۔یا اُسے تنگ کر کے بھاگتے تو وہ ان کے پیچھے گلیوں میں دوڑیں لگاتا رہتا ۔ البتہ پاگل ہونے کے باوجود خالو پانچ وقت مسجد میں نماز ضرور پڑھتا تھا، اور میاں صاحب(پنجاب میں مسجد امام کو میانڑا اور گھرانے کو میانڑے کہا جاتا ہے ) نے اس کے مسجد آنے پر بھی اعتراض جڑ دیا، لیکن لوگوں نے ان کی بات پر خاص کان نہیں دھرے ۔<br />
اب کی بار پاکستان جانے پر گاؤں میں خالو جھلا کہیں نظر نہیں آیا، نہ اُس کی اتنی اہمیت تھی کہ کسی سے اُس کا پوچھا جاتا ۔ ہمارے یہاں موجودگی کے دوران میرے ایک چچا کی وفات ہو گئی تھی، اُن کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے لئے قبرستان کا رُخ کیا تو قبرستان میں ایک قبر کے گِرد احاطہ کر کے جھونپڑی نما عمارت بنی ہوئی تھی، جس پر مختلف رنگوں کے جھنڈے لگے ہوئے تھے اور وہاں کچھ خواتین و  حضرات قبر پر دُعا (منتیں) مانگ رہے تھے ۔ چچا زاد سے پوچھا یہ کِس کی قبر ہے؟ تو اُس نے بتایا کہ یہ خالد کی قبر ہے، لوگ یہاں آ کر منتیں مانگتے ہیں اور دو سال سے چھوٹا سا عُرس بھی مناتے ہیں ۔<br />
اور میں سوچ رہا تھا کیسی قوم ہیں ہم، زندہ لوگوں کو پتھر مارتے ہیں، اور مر جانے پر انہیں پیر بنا لیتے ہیں ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/zalim-lok/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>غلط اور صحیح</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/aaj-ka-dialogue/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/aaj-ka-dialogue/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 23 Feb 2009 17:09:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری زندگی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=393</guid>
		<description><![CDATA[غلط کام کبھی کیا نہیں اور کوئی کام صحیح ہم سے ہوتا نہیں]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>غلط کام کبھی کیا نہیں اور کوئی کام صحیح ہم سے ہوتا نہیں</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/aaj-ka-dialogue/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>برف</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/snow/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/snow/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 05 Feb 2009 15:12:18 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[نیویارک]]></category>
		<category><![CDATA[ذاتی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=371</guid>
		<description><![CDATA[گرتی ہوئی برف بہت اچھی لگتی ہے، جب آپ ٹیلیویژن پر دیکھ رہے ہوں ۔ حقیقت میں برف سے جڑا رومان صرف اپنی گاڑی صاف کرتے ہی پُھر ہو جاتا ہے ۔ نیویارک میں، میری پہلی برف باری کا نظارہ مجھے اب بھی یاد ہے، میں نے خاص گھر فون کر کے والدہ کو بتایا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>گرتی ہوئی برف بہت اچھی لگتی ہے، جب آپ ٹیلیویژن پر دیکھ رہے ہوں ۔ حقیقت میں برف سے جڑا رومان صرف اپنی گاڑی صاف کرتے ہی پُھر ہو جاتا ہے ۔<br />
<center><br />
<object width="425" height="344"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/KbY-Ofg8WaQ&#038;hl=en&#038;fs=1"></param><param name="allowFullScreen" value="true"></param><param name="allowscriptaccess" value="always"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/KbY-Ofg8WaQ&#038;hl=en&#038;fs=1" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" width="425" height="344"></embed></object><br />
</center></p>
<p>نیویارک میں، میری پہلی برف باری کا نظارہ مجھے اب بھی یاد ہے، میں نے خاص گھر فون کر کے والدہ کو بتایا کہ باہر دیکھیں برف گِر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا جلدی گھر آؤ اِس میں کیا نیا ہے ۔ خیر گھر آنے کے بعد بیلچہ پکڑ کر صفائی کرنا پڑی تو سارا شوق ختم ۔<br />
ویسے بچپن کی سرد شاموں کے ساتھ برف کی بجائے کُہر کی یادیں وابستہ ہیں، سرگودھا میں جم کر دھند پڑتی ہے، جب کہ یہاں صرف ایک دفعہ دھند سے پالا پڑا ہے ۔ ویسے گرمیوں میں پاکستان میں مٹی بھری جو آندھیاں چلتی ہیں وہ بھی یہاں نہیں آتی، حالانکہ ہوا تقریباً ہر وقت ہی تیز رفتار ہوتی ہے، البتہ پچھلے سال گرمیوں میں ہلکا سا ڈسٹ بھرا طوفان آیا تھا، اور فون پر ہم دوست ایک دوسرے سے کہتے پائے گئے، پاکستان جیسی آندھی آئی ہے ۔<br />
<center><br />
<object width="425" height="344"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/B6_ghixVN78&#038;hl=en&#038;fs=1"></param><param name="allowFullScreen" value="true"></param><param name="allowscriptaccess" value="always"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/B6_ghixVN78&#038;hl=en&#038;fs=1" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" width="425" height="344"></embed></object><br />
</center></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/snow/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جدت ۔</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/html-lessons/2009/update/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/html-lessons/2009/update/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 03 Feb 2009 17:24:58 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[ایچ ٹی ایم ایل]]></category>
		<category><![CDATA[ویب ڈیزائن]]></category>
		<category><![CDATA[ورڈپریس]]></category>
		<category><![CDATA[ورڈپریس تھیم]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=369</guid>
		<description><![CDATA[بلاگ کے پرانے قارئین کو بلاگ اب نئی شکل میں نظر آ رہا ہے ۔ بنیادی طور پر یہ وہی سانچہ ہے جو میں پہلے استعمال کر رہا تھا، لیکن اُسے بہتر بنایا گیا ہے، ظاہری شکل کو اِس سانچہ کے مطابق ڈھالا گیا ہے، جو کہ مبلغ دو سو ڈالر میں دستیاب تھا ۔ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بلاگ کے پرانے قارئین کو بلاگ اب نئی شکل میں نظر آ رہا ہے ۔ بنیادی طور پر یہ وہی سانچہ ہے جو میں پہلے استعمال کر رہا تھا، لیکن اُسے بہتر بنایا گیا ہے، ظاہری شکل کو <a href="http://www.revolutiontheme.com/music/category/blog" target="_blank">اِس سانچہ</a> کے مطابق ڈھالا گیا ہے، جو کہ مبلغ دو سو ڈالر میں دستیاب تھا ۔ اِس میں کافی حد تک کامیاب رہا ہوں اور بعض جگہ میرے خیال میں یہ اصل سانچہ سے بھی بہتر ہے ۔ چوری تو ہے لیکن سینہ زوری نہیں، کیونکہ ورڈپریس میں یہ تھیم ایک  آغاز سے خود ترتیب دیا ہے، اور اسے مکمل کرنے میں تقریباً تین ماہ لگے ہیں ۔ پہلے مکمل کرنے کے بعد انٹرنیٹ ایکسپلورر میں درست نظر نہیں آرہا تھا، جس کی وجہ سے سب کام دوبارہ سے کرنا پڑا ۔<br />
ظاہری تبدیلیوں کے علاوہ  بہت سی تبدیلیاں ایسی ہیں جو کہ قاری سے مخفی ہیں اِس بارے میں اس ہفتہ کے اختتام پر تفصیل سے لکھنے کا اردہ ہے، سب سے پہلے تو ورڈپریس کا جدید ورژن بلاگ پر استعمال کیا جارہا ہے، پھر پہلی دفعہ سانچہ میں ایچ ٹی ایم ایل کو پی ایچ پی ٹیگز میں لپیٹ کر بنایا گیا ہے ۔ سب سے اہم تبدیلی جس کی وجہ سے سانچہ تبدیل کرنا پڑا وہ بلاگ کو سرچ انجن میں بہتر نتائج دینے کے لئے اس میں جدت ہے، ایک وقت ایسا بھی تھا جب گوگل پر اردو بلاگ تلاش کرنے سے میرا بلاگ پہلے تین چار نتائج میں ظاہر ہوتا تھا، جو اب کہیں پچھلے صفحات میں کھو گیا ہے، وجہ یہ تھی کہ پہلے سانچہ کو انٹرنیٹ ایکسپلورر اور فائر فاکس دونوں میں درست دکھانے کے لئے بلاگ کے اصل متن کو اخیر میں رکھا گیا تھا، جبکہ اس سانچہ میں اصل متن بلاگ کا سورس دیکھنے پر سب سے پہلے نظر آئے گا ۔ پھر پچھلے سانچہ میں ہیڈنگ ٹیگز کا استعمال نہیں کیا جارہا تھا، جیسے بلاگ کا عنوان اور تحاریر کے عنوانات کو ہیڈنگز ٹیگز لگانے کی بجائے صرف سی ایس ایس کے استعمال سے چھوٹا بڑا دکھایا جا رہا تھا، جبکہ اس سانچہ میں عنوانات کے لئے ہیڈنگز ٹیگز کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے گوگل اور سرچ انجن ہیڈنگز کو زیادہ اہمیت دیں گے ۔ پہلے جب فیض احمد فیض تلاش کرتے تھے تو سب سے پہلا ربط میرے بلاگ کا کھلتا تھا، جو کہ پچھلے سانچہ میں ہیڈنگز کا استعمال نہ کرنے کی وجہ سے گم ہو چکا تھا، امید ہے اِن تبدیلیوں سے بلاگ کے تلاش میں نتائج بہتر ہو جائیں گے ۔<br />
پھر بلاگ میں دیسی کے ساتھ بدیشی تڑکہ لگایا ہے، پچھلی دو تحاریر میں نے اپنی انگریزی میں خامیاں دکھانے کے لئے نہیں لکھی ، بلکہ بدیشی زبان کو آزمانے کے لئے لکھی ہیں، اس میں فی الحال ایک خامی باقی ہے کہ انگریزی تحاریر کے ساتھ تبصرہ کا خانہ بھی صرف انگریزی میں ہونا چاہیے، اپنے لوکل ہوسٹ پر تو میں اسے کامیابی سے آزما چکا ہوں، وقت ملنے پر اگلے ہفتہ اسے یہاں بھی چڑھا دوں گا ۔ انگریزی حصہ میں کیا لکھنا ہے؟ اِس کا فیصلہ وقت کرے گا ۔<br />
اِن تبدیلیوں کے علاوہ بلاگ میں اور بھی تبدیلیاں کرنے کا اردہ ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوں گی ۔آپ کو سانچہ کیسا لگا؟ اِس میں کیا کیا خامیاں موجود ہیں، آراء کا انتظار رہے گا ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/html-lessons/2009/update/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>سالِ نو مبارک</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/happy-new-year/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/happy-new-year/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 01 Jan 2009 05:01:21 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[شاعری]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=303</guid>
		<description><![CDATA[ہر سال کی طرح ۔۔ آنکھوں کو حسیں خواب دیے اور چلا گیا یادوں بھرے عذاب دیے اور چلا گیا اس سال نے بھی مجھ کو بہاروں کے نام پر کچھ کاغذی گلاب دیے اور چلا گیا۔ ریحان طائر نئے سال کی پہلی دُعا ۔۔ ایک اُس کے سِوا میں نئے سال سے اور تو [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align: center; font-family:'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 16pt;"><strong>ہر سال کی طرح ۔۔</strong><br />
<i><br />
آنکھوں کو حسیں خواب دیے اور چلا گیا<br />
یادوں بھرے عذاب دیے اور چلا گیا<br />
اس سال نے بھی مجھ کو بہاروں کے نام پر<br />
کچھ کاغذی گلاب دیے اور چلا گیا۔<br />
</i></div>
<p><a href="http://www.urdupoint.com/poetry/book414-poet321" target="_blank">ریحان طائر</a></p>
<div style="text-align: center; font-family:'Jameel Noori Nastaleeq'; font-size: 16pt;">
<strong>نئے سال کی پہلی دُعا ۔۔</strong><br />
<i><br />
ایک اُس کے سِوا<br />
میں نئے سال سے<br />
اور تو کچھ نہیں<br />
کچھ نہیں مانگتا<br />
</i>
</div>
<p><a href="http://www.urdupoint.com/poetry/results.php?page=294&#038;sc=0&#038;searchKeywords=&#038;typeofSearch=New" target="_blank">مرتضٰی اشعر</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2009/happy-new-year/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اِن شا اللہ</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2008/inshallah/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2008/inshallah/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 30 Dec 2008 20:28:02 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[مسلمان]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=300</guid>
		<description><![CDATA[ارادے کی پختگی کو ظاہر کرنے کے لئے اِن شا اللہ بولا جاتا ہے ۔مثلاً اگر میرا کوئی بہت ضروری کام ہے، جو مجھے ہر حال میں انجام دینا ہے، تو میں کہوں گا ان شا اللہ ایسا کروں گا ۔ مطلب یہ کہ مجھے ہر حال میں یہ کام کرنا ہے، ہاں اگر  اللہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ارادے کی پختگی کو ظاہر کرنے کے لئے اِن شا اللہ بولا جاتا ہے ۔مثلاً اگر میرا کوئی بہت ضروری کام ہے، جو مجھے ہر حال میں انجام دینا ہے، تو میں کہوں گا ان شا اللہ ایسا کروں گا ۔ مطلب یہ کہ مجھے ہر حال میں یہ کام کرنا ہے، ہاں اگر  اللہ کی رضا شامل نہیں ہوئی تو پھر ایسا ممکن نہیں ہو گا۔<br />
لیکن اب معاشرے میں غور کریں، اکثر ان شا اللہ وہاں بولا جاتا ہے، جو کام آپ نے نہیں کرنا ہو یا کسی کو ٹالنا ہو ۔ مثلاً اِن شا اللہ میں تم سے کل ملوں گا اور ملنے کا ارادہ بالکل بھی نہیں ہو ۔<br />
آپ ان شا اللہ کب بولتے ہیں؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/personal/2008/inshallah/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>عید مبارک</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/eid-mubarak/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/eid-mubarak/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 08 Dec 2008 16:38:21 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[نیو یارک]]></category>
		<category><![CDATA[میری زندگی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=296</guid>
		<description><![CDATA[تمام بلاگ پڑھنے والے مسلمانوں کو عید مبارک، بکروں سے معذرت۔ ویسے جیسی عید ہماری ہے کسی کسی کی شائد ایسے گزرتی ہو گی ۔ صبح اٹھ کر بھاگم بھاگ مسجد پہنچے، نماز پڑھی ،آلے دوالے کے لوگوں سے جپھیاں ڈالیں، چہرے پر مسکراہٹ سجائی۔ واپس گھر آئے تو دودھ نہیں تھا، سخت سردی میں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>تمام بلاگ پڑھنے والے مسلمانوں کو عید مبارک، بکروں سے معذرت۔</p>
<p>ویسے جیسی عید ہماری ہے کسی کسی کی شائد ایسے گزرتی ہو گی ۔ صبح اٹھ کر بھاگم بھاگ مسجد پہنچے، نماز پڑھی ،آلے دوالے کے لوگوں سے جپھیاں ڈالیں، چہرے پر مسکراہٹ سجائی۔ واپس گھر آئے تو دودھ نہیں تھا، سخت سردی میں ایک دفعہ پھر دودھ لینے گئے، چائے بنائی ، اردو محفل پر پیغامات پڑھتے چائے ختم کی اور اب سوچ رہا ہوں، برتن کون دھوئے؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/eid-mubarak/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>22</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

