<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اردو جہاں بلاگ &#187; نیو یارک</title>
	<atom:link href="http://www.urdujahan.com/blog/topics/new-york/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urdujahan.com/blog</link>
	<description>جہانزیب اشرف</description>
	<lastBuildDate>Sat, 21 Aug 2010 09:24:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>سیب اور دو دو</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2009/national-go-topless-day/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2009/national-go-topless-day/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 25 Aug 2009 08:41:26 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[نیو یارک]]></category>
		<category><![CDATA[نیویارک]]></category>
		<category><![CDATA[مزاح]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=430</guid>
		<description><![CDATA[نیویارک اور بڑا سیب مترادف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، اتوار کو بڑے سیب میں سیبوں کی نمائش کھلے عام کی گئی، پر میرا تو روزہ تھا ۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>نیویارک اور <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Big_Apple" target="_blank">بڑا سیب</a> مترادف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، اتوار کو بڑے سیب میں <a href="http://www.nydailynews.com/ny_local/2009/08/24/2009-08-24_halfnude_women_march_by_park_for_right_to_bare_breasts_ya_cant_top_this.html" target="_blank">سیبوں کی نمائش</a> کھلے عام کی گئی، پر میرا تو روزہ تھا ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2009/national-go-topless-day/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>4</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خبر باقی ہے ۔</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2008/baqiya-page-7/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2008/baqiya-page-7/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 31 Dec 2008 21:00:48 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[نیو یارک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=301</guid>
		<description><![CDATA[ماوراء نے یہاں اردو اخبارات کے متعلق لکھا ہے ۔اردو اخبارات میں خبروں کے معیار کے علاوہ جو چیز مجھے سب سے زیادہ سے زیادہ تنگ کرتی ہے، وہ خبر کا نا مکمل ہونا ہے ۔ آپ کوئی جناتی قسم کی سرخی پڑھ کر خبر کی تفصیل پڑھنا چاہیں، تو آ جاتا ہے کہ بقیہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a title="ماوراء" href="http://mawra.urdutech.com/2008/12/15/pakistani-akhbar/" target="_blank">ماوراء</a> نے یہاں اردو اخبارات کے متعلق لکھا ہے ۔اردو اخبارات میں خبروں کے معیار کے علاوہ جو چیز مجھے سب سے زیادہ سے زیادہ تنگ کرتی ہے، وہ خبر کا نا مکمل ہونا ہے ۔ آپ کوئی جناتی قسم کی سرخی پڑھ کر خبر کی تفصیل پڑھنا چاہیں، تو آ جاتا ہے کہ بقیہ نمبر ۳۶ صحفہ نمبر ۷ ۔</p>
<p><a href="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/12/urdu-news.png"><img class="left" title="اردو اخبار" src="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/12/urdu-news-300x229.png" alt="اردو  اخبارات" /></a></p>
<p>انسان اخبار کم پڑھتا ہے اور ورق الٹ الٹ کر ورزش زیادہ کرتا ہے ۔پاکستان میں تو چلو انگریزی اخبارات بھی اسی ہی قسم کے ہوتے ہیں ۔ لیکن یہاں نیویارک میں چھپنے والے اخبارات میں دو اضافی خوبیاں بھی موجود ہیں ۔ پہلی کہ خبروں کے علاوہ کالم بھی بقیہ کر کے پڑھنا پڑتے ہیں۔ دوسری بات کالم نویس حضرات کی اپنی مشہوری کی بھونڈی کوشش۔ آپ اندازہ کریں اخبار میں سے ایک کالم آپ امریکی انتخابات پر پڑھ رہے ہیں، تھوڑی دلچسپی قائم ہوئی نہیں تو ایسے جملہ آ جاتا ہے ، باراک حیسن اوبامہ کی نئی کابینہ سے اہم توقعات کی امید ہے، اس کالم پر تبصرہ کے لئے cloumn-nigar@yahoo.com پر اپنی آراء بھیجیں ۔ ہیلری کلنٹن کو انتظامیہ ۔ ۔ ۔<br />
مجھے تو آج تک یہی سمجھ نہیں آئی کہ مکمل خبر ایک ہی جگہ دینے سے کیا اخبارات بکنے کم ہو جائیں گے؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2008/baqiya-page-7/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>عید مبارک</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/eid-mubarak/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/eid-mubarak/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 08 Dec 2008 16:38:21 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[میری زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[نیو یارک]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=296</guid>
		<description><![CDATA[تمام بلاگ پڑھنے والے مسلمانوں کو عید مبارک، بکروں سے معذرت۔ ویسے جیسی عید ہماری ہے کسی کسی کی شائد ایسے گزرتی ہو گی ۔ صبح اٹھ کر بھاگم بھاگ مسجد پہنچے، نماز پڑھی ،آلے دوالے کے لوگوں سے جپھیاں ڈالیں، چہرے پر مسکراہٹ سجائی۔ واپس گھر آئے تو دودھ نہیں تھا، سخت سردی میں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>تمام بلاگ پڑھنے والے مسلمانوں کو عید مبارک، بکروں سے معذرت۔</p>
<p>ویسے جیسی عید ہماری ہے کسی کسی کی شائد ایسے گزرتی ہو گی ۔ صبح اٹھ کر بھاگم بھاگ مسجد پہنچے، نماز پڑھی ،آلے دوالے کے لوگوں سے جپھیاں ڈالیں، چہرے پر مسکراہٹ سجائی۔ واپس گھر آئے تو دودھ نہیں تھا، سخت سردی میں ایک دفعہ پھر دودھ لینے گئے، چائے بنائی ، اردو محفل پر پیغامات پڑھتے چائے ختم کی اور اب سوچ رہا ہوں، برتن کون دھوئے؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/eid-mubarak/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>22</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>امریکی جرگہ</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/grand-juror/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/grand-juror/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 20 Nov 2008 18:53:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[نیو یارک]]></category>
		<category><![CDATA[نیویارک]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=291</guid>
		<description><![CDATA[کہتے ہیں دو امور انجام دیتے وقت آپ کو امریکی شہری ہونے کا احساس ہوتا ہے، ایک رائے دہی کا حق استعمال کر کے اور دوسرا منصفی کے فرائض انجام دے کر ۔پچھلے مہینے یکے بعد دیگرے ان دونوں امور سے میرا واسطہ رہا ۔ فرائض منصفی یا عرف عام جیوری ڈیوٹی کی امریکی  انصاف [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کہتے ہیں دو امور انجام دیتے وقت آپ کو امریکی شہری ہونے کا احساس ہوتا ہے، ایک رائے دہی کا حق استعمال کر کے اور دوسرا منصفی کے فرائض انجام دے کر ۔پچھلے مہینے یکے بعد دیگرے  ان دونوں امور سے میرا واسطہ رہا ۔<br />
فرائض منصفی یا عرف عام <a title="جیوری ڈیوٹی" href="http://www.uscourts.gov/jury/welcomejuror.html" target="_blank">جیوری ڈیوٹی</a> کی امریکی  انصاف میں کلیدی حثیت  ہے، لیکن اچنبھا تب ہوتا ہے، جب عدالت کی طرف سے آپ کو طلبی کا پروانہ آنا ہے اور آپ اپنے اردگرد جاننے ولے لوگوں سے اس بارے استفسار کریں، تو کوئی درست معلومات نہیں ملتی، لیکن سب ملی معلومات سے آپ ایک نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں، کہ عدالت میں مقدمہ پر دونوں طرف فریقین کے دلائل اور ثبوت دیکھ اور سن کر آپ کو فیصلہ سنانا ہوتا ہے، اور عموماً مقدمہ ایک ہفتہ کے اندر ختم ہو جاتا ہے جو غلط نہیں  لیکن نا مکمل ہے ۔ امریکہ میں دو مختلف قسم کی جیوری عدالتی امور میں فرائض انجام دیتی ہیں ۔</p>
<p><img class="post" title="گرینڈ جیوری" src="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/11/grand-jury-300x188.jpg" alt="گرینڈ جیوری کا کمرہ" /></p>
<p><a title="ٹرائل جیوری" href="http://www.uscourts.gov/jury/petitjury.html" target="_blank">پیٹٹ یا ٹرائل جیوری ۔</a><br />
یہ وہ جیوری ہے جس کا ذکر شروع میں کیا تھا،یا ایک عام شخص کے ذہن میں عدالت کا جو تصور ہوتا ہے، جس میں ایک جج، دو وکیل، ملزم، گواہ، پولیس اور ثبوت اور ان کے متعلق مباحث اور دلائل موجود ہوتے ہیں، یہ جیوری نیویارک میں نو سے بارہ افراد پر مشتمل ہوتی ہے، جو سب دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہیں، جس کی روشنی میں جج سزا یا رہا کرنے کا فیصلہ سناتا ہے ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ معصوم یا مجرم کا فیصلہ جیوری کرتی ہے نا کہ جج، اور فیصلے کو جج نہیں بدل سکتا، جج قانون کے مطابق اس پر سزا سناتا ہے ۔اور انصاف کے مراحل میں یہ سب سے آخری مرحلہ ہوتا ہے ۔ٹرائیل جیوری صرف ایک مقدمہ سنتی ہے، اور عموماً چار سے پانچ دن میں اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جاتی ہے ۔</p>
<p><a title="گرینڈ جیوری" href="http://www.uscourts.gov/jury/grandjury.html" target="_blank">گرینڈ جیوری ۔</a><br />
نیویارک میں گرینڈ جیوری 23 افراد پر مشتمل ہوتی ہے، اور کسی فیصلے پر پہنچنے کے لئے 12 افراد کی حمایت درکار ہوتی ہے، جبکہ کسی بھی مقدمہ پر کم از کم 16 افراد کا موجود ہونا لازمی ہے ۔<br />
ٹرائل جیوری کے برعکس گرینڈ جیوری میں جج، وکیلِ صفائی اور زیادہ تر مقدمات میں ملزم موجود نہیں ہوتا ۔ یہ انصاف کا دوسرا مرحلہ ہے، سب سے پہلے پولیس کسی شخص کو گرفتار کرتی ہے، یا اس کے خلاف ثبوت تیار کرتی ہے، جسے <a title="ڈسٹرکٹ اٹارنی" href="http://en.wikipedia.org/wiki/District_Attorney" target="_self">ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس</a> میں بھیجا جاتا ہے، ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس اس مقدمہ پر ایک وکیل کے فرائض لگاتا ہے، جسے <a title="پراسیکیوٹر" href="http://en.wikipedia.org/wiki/Prosecutor" target="_blank">پراسیکیوٹر</a> کہتے ہیں ۔ یہ پراسیکیوٹر مقدمہ گرینڈ جیوری کے سامنے پیش کرتا ہے، مقدمہ میں ثبوت اور گواہان اور پولیس افسران جنہوں نے مقدمہ تیار کیا ہے، جیوری کے سامنے پیش ہوتے ہیں ۔ گرینڈ جیوری نہ صرف ان سب کے دلائل اور ثبوت سنتی ہے، بلکہ سوالات پوچھ سکتی ہے، کسی ابہام کی صورت میں مزید گواہوں کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود گرینڈ جیوری مقدمہ میں کسی کو بری یا مجرم نامزد نہیں کر سکتی، بلکہ تمام مہیا کردہ ثبوتوں کی روشنی میں اس بات کا تعین کرتی ہے کہ آیا مقدمہ اس قابل ہے کہ اسے عدالت میں پیش کیا جائے، جہاں پھر ٹرائل جیوری دونوں فریقین کا نکتہ نظر سنے گی ۔ یا پھر مقدمہ کو رد کر دیا جائے، گرینڈ جیوری سے رد کیا جانے والا مقدمہ عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا، اور اگر کسی ملزم کو گرفتار کیا گیا ہو، تو وہ اسی وقت آزاد اور اس پر لگائے الزامات واپس لے لئے جاتے ہیں ۔ گرینڈ جیوری ایک مہینے تک فرائض انجام دیتی ہے، اور اس دوران مختلف مقدمات پر شواہد اور ثبوت دیکھتی ہے ۔</p>
<p>جیورر یا منصف بننے کے مرحلے کا آغاز ایک عدد خط سے ہوتا ہے، جو آپ کو جس ریاست میں آپ میں رہائش پذیر ہیں کے <a title="امریکی محمکہ انصاف" href="http://www.usdoj.gov/" target="_self">محکمہ انصاف</a> کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے، یہ ایک عام سا خط ہوتا ہے لیکن پندرہ دن کے اندر اس کا جواب دینا لازم ہے، اس خط کے جواب میں آپ اپنی معلومات لکھتے ہیں، اور یہ بتاتے ہیں کہ آیا آپ جیوری ڈیوٹی انجام دینا چاہتے ہیں کہ نہیں؟ اور اگر نہیں تو کیوں، وجوہات میں امریکی شہری نہیں، انگریزی بول اور سمجھ نہیں سکتا، یہ انکار کی سب سے سہل وجوہات ہیں، اگر آپ پر ان کا اطلاق نہیں ہوتا تو پھر آپ دیگر وجوہات کے خانہ میں اپنی معذوری کی وجہ بیان کر سکتے ہیں، جیسے ایک ماں جس پر ۱۲ سال سے کم عمر کے بچوں کی ذمہ داری ہے اس سے مستثنیٰ ہے ۔ مجھے پچھلے پانچ سال سے یہ خطوط آ رہے تھے، پہلے میں امریکی شہری نہیں تھا، بہت سے دیسی دوسری ترجیع کا استعمال بھی کرتے ہیں، لیکن اب یہ اتنی قابل قبول نہیں کہ امریکی شہری بننے کی ایک شرط  انگریزی بھی ہے ۔</p>
<p><img class="left" title="جیورر کارڈ" src="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/11/img_0003-300x222.jpg" alt="میرا جیورر کارڈ" /><br />
یہ کرنے کے بعد آپ جب سب کچھ بھول جاتے ہیں، تو ایک عدد خط اور آ جاتا ہے، لیکن یہ طلبی کا پروانہ ہوتا، جس میں اپنے علاقے کی سپریم کورٹ میں کمشنر آف جیوررز کے آفس میں بقلم خود جانا ہوتا، اس کے لئے بھی آپ کے پاس پندرہ دن ہوتے ہیں ۔وہاں ایک دفعہ پھر آپ اپنی معلومات دیتے ہیں، اور اگر جیوری ڈیوٹی نہیں کر سکتے تو اپنا عذر پیش کرتے ہیں ۔<br />
تیسرے مرحلہ میں پکے وارنٹ مطلب عدالت کی طرف سے طلبی کا نوٹس آتا ہے، جہاں پر دن، وقت اور مقام بتایا گیا ہوتا ہے، اور آپ کس قسم کی جیوری میں فرائض انجام دیں گے لکھا ہوتا ہے ۔<br />
مقررہ دن حاضر ہونے پر، عدالتی عملہ آپ کو خوش آمدید کہتا ہے، میرے ساتھ 150 افراد اور لوگ بھی موجود تھے، سب لوگوں کے آ جانے پر ایک جج فرائض ادا کرنے پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہے، اور گرینڈ جیوری کے متعلق ابتدائی معلومات دیتا ہے، اور پھر جیوری کا چناو کرتا ہے ۔ ہم 150 لوگوں میں سے چھ عدد جیوررز کے پینل بنائے گئے، ہر پینل 23 افراد پر مشتمل تھا، یعنی 12 افراد کو پینل میں نہیں چنا گیا، یہ اضافی لوگ، کسی کے نہ آنے کی صورت میں بلوائے جاتے ہیں ۔چناؤ کے لئے سب کے نام ایک ڈبے میں ڈال کر، باری باری ایک ایک نام نکالا جاتا ہے ۔ ہر پینل باری باری ایک مہینہ تک فرائض انجام دیتا ہے ۔ اس کے بعد جس پینل میں آپ کا انتخاب ہوا ہو، اس کی مقرر کردہ تاریخ پر آپ کو واپس عدالت جانا ہونا ہے ۔<br />
مقررہ تاریخ کو پہلا دن تو صرف ویڈیوز دیکھتے، گزر جاتا ہے، اس کے علاوہ کمشنر آف جیوررز آپ کو فرائض کے بارے میں بتاتا ہے، اور اسکی اہمیت کو انصاف کے حصول کے لئے اجاگر کرتا ہے، ساتھ میں آپ کو ایک عدد کتابچہ فراہم کیا جاتا ہے، جس میں وہی باتیں دوبارہ لکھی ہوتی ہیں ۔<br />
اصل کام اگلے دن سے شروع ہوتا ہے، پراسیکیوٹر، ایک عدد سٹینوگرافر کے ساتھ وارد ہوتا ہے، اور اپنا کیس پیش کرتا ہے، اس کے بعد گواہان کو ایک ایک کر کے سامنے لایا جاتا ہے، جیوری سب کو سنتی ہے، ان کے بیانات کا موازنہ کرتی ہے، مزید سوالات پوچھتی ہے، اور اگر پھر بھی کچھ واضح نہ ہو تو مزید گواہ طلب کر سکتی ہے، لیکن ایسا کرنے کے لئے 12 افراد کی حمایت ہونا لازمی ہے ۔ ایک اور بات جو گرینڈ جیوری میں ہے، فرض کریں پہلا پراسیکیوٹر پہلا مقدمہ لاتا ہے، اور ساتھ ایک گواہ پہلے دن پیش کرتا ہے، لیکن ہو سکتا ہے مقدمہ میں دوسرا گواہ ایک، یا دو ہفتہ بعد آئے، تو مقدمات کو گڈمڈ کرنے کی بجائے گرینڈ جیورر ہر مقدمے کے نوٹس تیار کرتے ہیں، ایک مقدمہ پر تمام ثبوت مکمل ہونے پر، پراسیکیوٹر جیوری سے ووٹنگ کی درخواست کرتا ہے، لیکن جب جیوری ووٹنگ کے مرحلہ میں ہو، تو سوا جیوری کے کسی بھی فرد کو جیوری کے کمرہ میں موجود ہونے کی اجازت نہیں، یہاں سب جیوررز بحث کرتے ہیں، پھر ووٹ دے کر کہ مقدمہ کو آگے بھیجا جائے یا یہیں خارج کر دیا کا فیصلہ کرتے ہیں ۔<br />
اس ایک مہینے میں ہمارے پینل نے 81 مقدمات سنے، اور اسی معاشرے میں رہتے ہوئے جو تصویر آپ کی آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے، کا بغور مشاہدہ کیا ۔جب آپ جیوری روم میں بیٹھے ہوتے ہیں تو اکثر اوقات منظر جذباتی ہوتا ہے، مثلاً ایک مقدمہ ہمارے پاس آیا جس میں ایک لڑکی جب نو سال کی تھی، تب سے اس کا باپ  اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا، اور اس وقت اسکی عمر 17 سال تھی ۔ اس مقدمہ سے پہلے میں سوچتا تھا کہ جن خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ عدالت کا رخ کیوں نہیں کرتی ہیں؟ اور جواب مقدمہ دیکھ کر مل گیا، کہ انہیں دہری تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔<br />
مجموعی طور پر یہ بہت اچھا تجربہ تھا، جہاں آپ کو محسوس ہوتا ہے، کہ ملک کی اصل طاقت عوام کے ہاتھ میں ہے ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/grand-juror/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>راہ پیا جانڑے</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/my-accident-and-ny-police/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/my-accident-and-ny-police/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 08 Jun 2008 09:00:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[نیو یارک]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ایکسڈنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=267</guid>
		<description><![CDATA[مغربی دُنیا کے بارے میں لکھے گئے اردو سفر نامے پڑھنے سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ مغرب میں رہنے والے بہت قانون پسند ہوتے ہیں، اور اُن میں ایک دلیل جو بہت عام استعمال کی جاتی ہے وہ ہے رات دو بجے کسی مضافاتی قصبے میں سرخ بتی پر ایک ہی گاڑی تھی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>مغربی دُنیا کے بارے میں لکھے گئے اردو سفر نامے پڑھنے سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ مغرب میں رہنے والے بہت قانون پسند ہوتے ہیں، اور اُن میں ایک دلیل جو بہت عام استعمال کی جاتی ہے وہ ہے رات دو بجے کسی مضافاتی قصبے میں سرخ بتی پر ایک ہی گاڑی تھی اور بتی پر کھڑی تھی ۔ پتہ نہیں یہ سب سفر نامہ لکھنے والے رات دو بجے جا کر بتیوں پر کیوں کھڑے ہوتے ہیں؟<br />
پنجابی میں ایک کہاوت ہے &#8221; <strong>راہ پیا جانڑے تے واہ پیا جانڑے</strong>&#8221; آسان مطلب کہ سر  پڑنے پر ہی  کسی کے بارے میں درست اندازہ ہوتا ہے ۔ بتانے والے ایک بات بتانا بھول جاتے ہیں کہ سرخ اشاروں پر کیمرے بھی لگے ہوتے ہیں، ہر جگہ نہیں، لیکن جب آپ کسی علاقے میں نہیں رہتے ہوں تو آپ کو نہیں معلوم کہاں کیمرہ ہے اور کہاں نہیں، اس کے علاوہ پولیس کو یہاں چھپ کر بیٹھنے کا بہت شوق ہے، اور ایسی کوئی بھی غلطی نہ صرف پیسے بلکہ دو تین سال تک لائسنس کے ریکارڈ میں بھی مخفوظ ہو جاتی ہے۔ قانون کو ہمیشہ لاگو کیا جاتا ہے بعد میں لوگ قانون کی عزت بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں، لیکن ان سب باتوں کے باوجود نیویارک شہر جہاں ہر چوراہے پر پولیس ہو سکتی ہے وہاں بھی آپ کو لوگ قانون ہاتھ میں لیتے نظر آتے ہیں ۔<br />
اب اسی طرح میرا &#8220;واہ&#8221; بھی پولیس سے پڑ گیا اور ایک ایسی شکل سامنے آئی کہ میں سوچنے لگ گیا کہ آیا میں نیویارک میں ہوں یا سرگودھا میں ۔ کل رات ایک شرابی نے میری گاڑی کو ہائی وے پر ٹکر مار دی، عموماً میں بھی عام امریکیوں کی طرح حد رفتار سے دس پندرہ میل اوپر ہی گاڑی چلاتا ہوں اور کبھی کبھی بیس پچیس میل بھی اُوپر چلا جاتا ہوں ۔ اِن حالات میں اگر کوئی آپ کی گاڑی کو پیچھے سے ٹکر مار دے اور پوری ہائی وے سنسان پڑی ہو تو پہلے تو آپ کو سمجھ ہی نہیں لگتی ہوا کیا ہے، خیر میری گاڑی گھومتے ہوئے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ شاید ایکسڈنٹ ہو گیا ہے، اور میری گاڑی سیدھی ہونے تک قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ٹکر مارنے والا اپنی گاڑی سیدھی کر کے بھگانے کامیاب ہو گیا تھا، کبھی کبھی حفاطتی انتظامات اُلٹے پڑ جاتے ہیں، کیونکہ میری کار کو ٹکر پیچھے سے ماری گئی تھی، اور فیول ٹینک بھی پیچھے ہی ہوتا ہے، ایسی حالت میں فیول پمپ کا سیفٹی بٹن بند ہو جاتا ہے اور جب میں پیچھا کرنے لگا تو کار ہائی وے کے بیچوں بیچ کھڑی ہو گئی، اور یہی سب سے بڑی مصیبت تھی ۔ ہائی وے پر گاڑی چلاتے ہوئے ہوئے اکثر لوگوں کو لگتا ہے کہ پتہ نہیں ٹریفک اتنی سست رو کیوں ہے، لیکن جب آپ ہائی وے کے بیچ کھڑے ہوں، اور ایک ایٹین ویلر آپ کے دائیں سے گزرے اور دوسرا بائیں سے تو دل دھل جاتا ہے جس کو آیت الکرسی نہیں آتی وہ بھی اُس کا وِرد شروع کر دیتا ہے ۔<br />
عموماً نیویارک سٹی میں ایمرجنسی سروسز کا رسپانس کا اوسطاً وقت تیس سکینڈ ہے، مطلب اگر آپ ایمرجنسی کال کرتے ہیں، اور فوری نوعیت کی ایمرجنسی ہے، گھر سے چوہا نکالنے والی ایمرجنسی نہیں تو پولیس اور طبی عملہ تیس سکینڈ میں پہنچ جاتا ہے۔ اب میں نے فوراً سے پہلے نو گیارہ پر فون ملایا، ایمرجنسی بتائی کہ ہائی وے پر ہٹ اینڈ رن ایکسڈنٹ ہوا ہے اور میں ہائی وے کے بیچوں بیچ پھنس گیا ہوں، اور یہ کہ میں ٹھیک ہوں، کوئی چوٹ نہیں آئی اس لئے ایمبولینس کی ضرورت نہیں ہے، اب اگلا سوال تھا کہ میں کِس مقام پر ہوں اور یہیں سے باقی سب کچھ شروع ہو گیا ۔ میں نے ہائی وے کے حساب سے اپنی لوکیشن بتائی کہ فلاں اور فلاں ایگزٹ کے درمیان ساؤتھ سائیڈ آف ہائی وے، سوال کیا گیا کہ کیا مجھے معلوم ہے کہ یہ کونسا ٹاؤن ہے؟ جو کہ مجھے معلوم تھا، میں نے بتایا کہ یانکرز ۔ اب اُس نے مجھے کہا کہ میں تمہیں یانکرز پولیس ڈیپارٹمنٹ سے منسلک کرتا ہوں ۔<br />
یانکرز کا جغرافیہ اب میں آپ کو سمجھاتا ہوں، نیویارک میٹرو ایریا یا آسان لفظوں میں نیویارک شہر جہاں ختم ہوتا ہے، شمال میں وہاں سے یانکرز شروع ہوتا ہے ۔ اور میں وہیں پر تھا ۔<br />
جب یانکرز پولیس نے فون اُٹھا کر مقام دریافت کیا اور میرے بتانے پر پھر پوچھا گیا کہ آیا یہ ہائی وے کے شمالی طرف ہوا ہے یا جنوبی طرف، میرے جنوبی طرف بتانے پر مجھے کہا گیا کہ یہ نیویارک سٹی کا علاقہ ہے اور مجھے وہاں کال کرنا چاہیے ۔ میں نے فون بند کرنے کے بعد دوبارہ کال ملا کر آپریٹر کو سب صورتحال بتائی تو اُس نے مجھے نیویارک سٹی پولیس سے منسلک کر دیا، مقام پوچھنے کے بعد کہا گیا کہ انتظار کریں، فلیشر آن رکھیں اور ہائی وے پر باہر مت نکلیں، ہم وہاں پہنچ رہے ہیں ۔خیر خدا خدا کر کے پندرہ منٹ میں نیویارک سٹی پولیس وہاں پہنچ گئی، اور آ کر گویا ہوئے کہ یہ یانکرز کا علاقہ ہے، آپ کو یانکرز پولیس کو کال کرنا چاہیے ۔ اب مجھے غصہ آ گیا، میں نے کہا کہ انہوں نے ہی کہا ہے کہ یہ نیویارک سٹی کا علاقہ ہے، اُس کے بعد میں نے آپ لوگوں سے رابطہ کیا ہے ۔ جواب میں پولیس آفیسر نے کہا کہ پریشان مت ہوں میں یانکرز پولیس کو خود رابطہ کر کے کہہ دیتا ہوں، لیکن اُس نے ایک کام کیا کہ میری گاڑی کو دھکیل کر ہائی وے کے شولڈر پر کر دیا ۔اُس کے یہ جا وہ جا ۔ دس پندرہ منٹ انتظار کے بعد جب پولیس نہیں آئی تو میں نے دوبارہ ایمرجنسی فون ملا دیا، اچھا یہ ہوا کہ ہر بار ایک ہی آپریٹر میرا فون اٹھا رہا تھا، میں نے اُسے پھر باقی آدھی کہانی سنائی کہ نیویارک پولیس والے آئے تھے اور مجھے کہہ کر چلے گئے ہیں کہ یہ یانکرز کا علاقہ ہے، اُس نے مجھے دوبارہ یانکرز سے ملا دیا، وہاں پھر وہی بندہ جس سے میری پہلے بات ہوئی تھی، اُس نے پھر وہی کہا کہ یہ نیویارک سٹی کا علاقہ ہے، میں نے کہا کہ وہ آ کر چلے گئے ہیں اور کہہ کر گئے ہیں کہ یہ یانکرز ہے، اُس نے مجھے ہولڈ کروا کر بعد میں نیویارک ریاست مطلب سٹیٹ پولیس سے منسلک کر دیا، سٹیٹ پولیس والوں نے ایکسڈنٹ کا مقام پوچھا، اور جب میں نے بتایا تو کہنے لگے یہ نیویارک تھرو وے ہے، ہم آپ کو تھرووے پولیس سے منسلک کر رہے ہیں، تھرووے پولیس سے منسلک کرنے کے بعد مقام بتانے کے بعد پھر بتایا گیا کہ یہ یانکرز میں آتا ہے اور مجھے دوبارہ یانکرز پولیس سے منسلک کر دیا گیا، جہاں دوبارہ سے وہی بندہ موجود تھا، جب اُس نے کہا کہ میں کیسے آپ کی مدد کر سکتا ہوں، میں نے جواب دیا کہ میں اُمید ہی کر سکتا ہوں ۔ میری آواز سُن کر کر کہنے لگا کہ تم وہی ہو نا جو فلاں جگہ پر ہے؟ میں نے کہا ہاں تو کہنے لگا پہلے بھی دو دفعہ ہماری بات ہو چکی ہے اور یہ یانکرز نہیں ہے، تب مجھے بہت زیادہ غصہ آ گیا اور میں نے کہا کہ یہ میرا مسلہ نہیں ہے کہ یہ علاقہ نیویارک سٹی میں آتا ہے یا یانکرز میں، میرا مسلہ یہ ہے کہ میری گاڑی اس وقت ہائی وے پر کھڑی ہے، ایک دفعہ میں بچ گیا ہوں، اور دوسری دفعہ کا پتہ نہیں۔ پانچ لوگوں سے بات کرنے پر ہر دفعہ مجھے یانکرز سے منسلک کر دیا جاتا ہے، مجھے مدد چاہیے ۔ تب جا کر اُس نے کہا کہ میرے ساتھ لائن پر رہو، میں خود تھرووے پولیس سے بات کرتا ہوں ۔ اور اُس کے بعد بتایا گیا کہ پولیس آ رہی ہے ۔اِس سب کے بعد اُس نے مجھ سے میرا فون نمبر پوچھا، تو میرے ذہن میں اپنا نمبر نہیں آ رہا تھا، تو وہ یہ سمجھنے لگا کہ شاید میری یاداشت کھو گئی ہے اور یہ پوچھے جائے کہ تم واقعی ٹھیک ہو؟ واقعی تمہیں میڈیکل اسسٹنس نہیں چاہیے ۔<br />
اس سے پہلے میں صرف یہ سمجھتا تھا کہ علاقوں کا امتیاز صرف پاکستان میں پولیس جان چھڑانے کے لئے کرتی ہے ۔ سچ کہا ہے نا &#8220;<strong>راہ پیا جانڑے تے واہ پیا جانڑے</strong>&#8221; ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/my-accident-and-ny-police/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ابراہم لنکن کے خط کی نیلامی</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/lincoln-letter-auction/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/lincoln-letter-auction/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 03 Apr 2008 09:17:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[نیو یارک]]></category>
		<category><![CDATA[نیویارک]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=245</guid>
		<description><![CDATA[آپ نے سُنا ہو گا کہ الفاظ بہت قیمتی ہوتے ہیں، لہذا انہیں برتتے وقت اختیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ لیکن کیا آپ اس بات کا درست اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کے الفاط کتنے قیمتی ہیں؟ آج نیویارک میں ابراہم لنکن کے ایک خط کی نیلامی ہو رہی ہے، [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آپ نے سُنا ہو گا کہ الفاظ بہت قیمتی ہوتے ہیں، لہذا انہیں برتتے وقت اختیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ لیکن کیا آپ اس بات کا درست اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کے الفاط کتنے قیمتی ہیں؟<br />
آج نیویارک میں <a href="http://www.whitehouse.gov/history/presidents/al16.html" target="_blank">ابراہم لنکن</a> کے ایک <a href="http://edition.cnn.com/2008/US/04/02/lincoln.letter/" target="_blank">خط کی نیلامی</a> ہو رہی ہے، خط میں کل چھیاسی الفاظ ہیں اور امید ہے کہ اس کے نیلامی سے تقریباً پانچ ملین ڈالر تک کی آمدن ہو گی ۔یہ خط ابراہم لنکن نے اٹھارہ سو چونسٹھ میں کنکارڈ، <a href="http://www.mass.gov/?pageID=mg2homepage&#038;L=1&#038;L0=Home&#038;sid=massgov2" target="_blank">میساچیوسٹ</a> کے سکول کے ایک سو پچانوے بچوں کی درخواست &#8221; <a href="http://www.npr.org/templates/story/story.php?storyId=89318818&#038;ft=1&#038;f=1003" target="_blank">تمام چھوٹے بچے جو غلام ہیں کو آزاد کیا جائے&#8221;</a> کے جواب میں لکھا تھا ۔<br />
ابراہم لنکن کی فروخت ہونے والی دستاویزات میں سے اب تک اس خط کی قیمت سب سے زیادہ ہے ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/lincoln-letter-auction/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بیس بال سیزن کا آغاز</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/sports/2008/baseball-yankees-matsu/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/sports/2008/baseball-yankees-matsu/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 02 Apr 2008 19:00:08 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[نیو یارک]]></category>
		<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[نیویارک]]></category>
		<category><![CDATA[میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[بیس بال]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=242</guid>
		<description><![CDATA[اپنے بلاگ پر سب سے کم میں نے کھیلوں کے متعلق لکھا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مجھے کھیلوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ پاکستان میں رہتے ہوئے ہر دوسرے بندے کی طرح مجھے بھی کرکٹ کا شوق تھا، اور پہروں کرکٹ کھیلتے وقت گزر جاتا تھا ۔ پاکستان سے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href='http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/04/wislwdcq.jpg'><img class='post' src="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/04/wislwdcq-300x168.jpg" alt="Yankees Picture" title="Yankees" width="300" height="168" class="alignnone size-medium wp-image-243" /></a><br />
اپنے بلاگ پر سب سے کم میں نے کھیلوں کے متعلق لکھا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مجھے کھیلوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔<br />
پاکستان میں رہتے ہوئے ہر دوسرے بندے کی طرح مجھے بھی کرکٹ کا شوق تھا، اور پہروں کرکٹ کھیلتے وقت گزر جاتا تھا ۔ پاکستان سے امریکہ منتقل ہونے کے بعد ابھی بھی کرکٹ کا شوق ضرور ہے لیکن اب جنون نہیں، سچ یہی ہے کہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ۔ نہ ہی امریکہ میں کرکٹ کے میچیز آتے ہیں نہ ہی اُن پر تبصرہ کرنے والے مبصر ۔<br />
لیکن پچھلے تین سالوں سے میں بیس بال سیزن کو خاص طور پر <a href="http://newyork.yankees.mlb.com/index.jsp?c_id=nyy">نیویارک ینکیز </a>اور <a href="http://newyork.mets.mlb.com/index.jsp?c_id=nym">نیویارک مٹس</a> کے تمام میچوں کا پتہ ضرور رکھتا ہوں۔ کل ینکیز کا <a href="http://bluejays.mlb.com/">بلیو جیز</a> سے مقابلہ تھا، جو ینکیز نے حسب توقع <a href="http://www.newsday.com/sports/baseball/yankees/ny-spyanks025635253apr02,0,2513493.story">جیت لیا</a> ہے، دعا یہی ہے کہ یہ آغاز اس سیزن کے اختتام تک یوں ہی رہے اور ینکیز یہ اس دفعہ <a href="www.mlb.com/">ورلڈ سیزیز</a> جیت لیں،کیونکہ میرے یہاں آٹھ سال قیام میں ینکیز صرف ایک مرتبہ ہی ورلڈ سیزیز جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ لیکن پھر بھی جتنی دفعہ ینکیز نے ورلڈ سیزیز جیتی ہے کوئی دوسری ٹیم اُس کے قریب تک بھی نہیں پہنچ سکی ۔ گو ینکیز ون مور ٹائم ۔<br />
نیویارک ینکیز کی طرف سے کھلینے والے جاپانی کھلاڑی <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Hideki_Matsui">ہدیکی مٹسوئی</a>، جاپان میں سپر سٹار کی طرح مشہور ہیں۔ ینکیز کے کھیل کے دوران جاپان کا میڈیا صرف اُنہیں کو دکھاتا رہتا ہے ۔ لیکن دور کے ڈھول سہانے کے مصداق یہ میڈیا کوریج جب حد سے زیادہ ہو جاتی ہے تو وبال جان بن جاتی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ <a href="http://www.nypost.com/seven/03272008/sports/yankees/matsui_gets_married_103804.htm">مٹسوئی کی شادی</a> ہوئی ہے، اور انہوں نے میڈیا سے بچانے کے لئے اپنی بیوی کی مندرجہ ذیل تصویر دکھائی ہے، تاکہ جاپانی میڈیا اُن کی بیوی کی جان کو نہ آ جائے ۔<br />
<a href='http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/04/37221296.jpg'><img class='post'  src="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/04/37221296.jpg" alt="" title="37221296" width="500" height="419" class="alignnone size-full wp-image-244" /></a><br />
ویسے اچھا آئیڈیا ہے، لیکن کیا اس سے مٹسوئی کی بیوی کی جان میڈیا سے بچ جائے گی؟ میرا نہیں خیال ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/sports/2008/baseball-yankees-matsu/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>سب کچھ تاریخی۔</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/new-governor-of-newyork/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/new-governor-of-newyork/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 18 Mar 2008 08:01:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[نیو یارک]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=218</guid>
		<description><![CDATA[ڈیوڈ الیگزنڈر پیٹرسن نے آج ایلیٹ سپٹزر کے استعفی کے بعد باقاعدہ طور پر ریاست نیویارک کے گورنر کا حلف اٹھا لیا ہے ۔ ڈیوڈ پیٹرسن پہلے سیاہ فام امریکی ہیں جو گورنر کے عہدہ پر فائز ہوئے ہیں، ساتھ ہی وہ پہلے نابینا شخص بھی ہیں جو کسی ریاست کے گورنر بنے ہیں ۔ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href='http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/03/nypatersondavida.jpg' title='nypatersondavida.jpg'><img src='http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/03/nypatersondavida.thumbnail.jpg' alt='nypatersondavida.jpg' / style="float: left;"></a><br />
<a href="http://www.ny.gov/governor/" target="_blank">ڈیوڈ الیگزنڈر پیٹرسن</a> نے آج <a href="http://ap.google.com/article/ALeqM5gvseu7uDYI9vGyMHJCo51IdS-4twD8VC9E6G0" target="_blank">ایلیٹ سپٹزر کے استعفی</a> کے بعد باقاعدہ طور پر <a href="http://ap.google.com/article/ALeqM5i-jZDFiRmQdAUEK-OTzPSVIrBxOQD8VFAIJG0" target="_blank">ریاست نیویارک کے گورنر کا حلف اٹھا لیا</a> ہے ۔ ڈیوڈ پیٹرسن <a href="http://ap.google.com/article/ALeqM5i-jZDFiRmQdAUEK-OTzPSVIrBxOQD8VDEJ380" target="_blank">پہلے سیاہ فام امریکی</a> ہیں جو گورنر کے عہدہ پر فائز ہوئے ہیں، ساتھ ہی وہ <a href="http://ap.google.com/article/ALeqM5gdRxhD3ff0_QHPVeJjlW_8I4i4HgD8VBF5300" target="_blank">پہلے نابینا شخص</a> بھی ہیں جو کسی ریاست کے گورنر بنے ہیں ۔<br />
ویسے <a href=" http://www.myspace.com/ninavenetta " target="_blank">اِس لڑکی</a><a href='http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/03/kritin-dupre.jpg' title='kritin-dupre.jpg'><img src='http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/03/kritin-dupre.thumbnail.jpg' alt='kritin-dupre.jpg' / style="float: left;"></a> کی وجہ سے پچھلے گورنر کو یہ دِن دیکھنا پڑا ہے ۔<br />
ویسے امریکہ میں اب سب کام ہی تاریخ ساز ہونے لگے ہیں ۔ پہلے کبھی کوئی سینیٹر کبھی صدارتی الیکشن نہیں جیت سکا تھا، اب کی بار تینوں امیدوار ہی سینیٹر ہیں ۔ ہیلری بنی تب پہلی عورت صدر، اوبامہ بنا تب پہلا سیاہ فام صدر، مکین بنا تب سب سے بڈھا صدر ۔<br />
لیکن کیا سینیٹر کا کام سینیٹ میں موجود رہنا نہیں ہے؟ کیونکہ پچھلے ایک سال سے یہ تینوں سینیٹرز اپنی اپنی سیاسی مہم چلا رہے ہیں، ساتھ ہی اپنی تنخواہ وصول کر رہے ہیں ۔ کیا یہ اپنی جاب کے ساتھ ڈنڈی مارنے میں شمار نہیں ہو گا؟ لوگوں نے تمام مذکور افراد کو سینیٹ کے لئے منتخب کیا تھا، اور وہ بہتر جاب کی دوڑ میں جس جاب کے لئے منتخب ہوئے تھے اُس میں کوتاہی کے مرتکب ہو رہے ہیں؟ آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟</p>
<p>اور اس کے علاوہ اس ہفتے نیویارک شہر میں ا<a href="http://www.nytimes.com/2008/03/18/nyregion/18crane.html?ref=nyregion" target="_blank">یک تعمیراتی کرین ایک عمارت پر گرنے</a> سے اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں، یہ نیویارک شہر میں حالیہ تاریخ میں سب سے المناک تعمیراتی حادثی تھا ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2008/new-governor-of-newyork/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اسرائیل مخالف یہودی</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2007/jews-against-occupation/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2007/jews-against-occupation/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 27 Sep 2007 16:26:34 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[نیو یارک]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=189</guid>
		<description><![CDATA[جہاں احمدی نژاد کے یہاں نیویارک میں قیام کے دوران اُنہیں میڈیا پر انتہائی اہمیت دی گئی کہ ، اب احمدی نژاد کیا کررہے ہیں اور بعد میں کیا کریں گے، اور کولمبیا یونیورسٹی میں تعارفی تقریر میں یونیورسٹی کے صدر نے احمدی نژاد کی جو مٹی پلید کی اُس پر تعریفوں کی ڈونگرے برسائے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جہاں <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Mahmoud_Ahmadinejad" title="ahmadinejad" target="_blank">احمدی نژاد</a> کے یہاں نیویارک میں قیام کے دوران اُنہیں میڈیا پر انتہائی اہمیت دی گئی کہ ، اب احمدی نژاد کیا کررہے ہیں اور بعد میں کیا کریں گے، اور <a href="http://www.columbia.edu/" title="Columbia University" target="_blank">کولمبیا یونیورسٹی</a> میں <a href="http://ap.google.com/article/ALeqM5gMV_pQS4Fo4LhktXu-LKVDzN9_xw" target="_blank">تعارفی تقریر</a> میں یونیورسٹی کے صدر نے احمدی نژاد کی جو<a href="http://www.columbia.edu/cu/news/07/09/lcbopeningremarks.html" target="_blank"> مٹی پلید</a> کی اُس پر تعریفوں کی ڈونگرے برسائے گئے اور ساتھ ہی ساتھ یہ تنبیہہ بھی کہ پہلی بات کہ احمدی نژاد کو بلانا ہی غلط تھا وغیرہ وغیرہ۔<br />
<center><br />
<a href="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2007/09/rabai.jpg" title="nkusa"><img src="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2007/09/rabai.jpg" alt="nkusa" /></a><br />
</center><br />
وہیں ایک <a href="http://www.presstv.ir/detail.aspx?id=24516&amp;sectionid=351020101" target="_blank">چھوٹی سی خبر</a> چوبیس ستمبر کو احمدی نژاد سے <a href="http://nkusa.org/" target="_blank">اسرائیل مخالف اور زائن ازم مخالف</a> ربائیوں کا مل کر اُنہیں نیویارک میں خوش آمدید کہنا تھا۔ اس سے پہلے اسی تنظیم کے ربائی ایران میں <a href="holocaust" target="_blank">ہالوکاسٹ</a> مخالف اجلاس میں بھی شرکت کر چکے ہیں۔اس موقع پر بزرگ ربائی نے احمدی نژاد کا <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Judaism" target="_blank">یہودیت</a> اور <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Zionism" target="_blank">زائن ازم</a> کے فرق کو واضح کرنے پر ،ایران میں یہودی کمیونٹی کا خیال رکھنے پر اُن کا شکریہ ادا کیا، اُن کے خیال میں یہودیت جو موسی علیہ السلام کی پیروکار ہے کو زائن ازم جو کہ سیاسی طاقت بزور طاقت چاہتے ہیں سے الگ الگ رکھنا بہت اہم ہے۔اس موقع پر احمدی نژاد کو یادگار کے طور پر رابائیوں کی طرف سے ایک چاندی کا کپ بھی پیش کیا گیا۔<br />
<center><br />
<object width="425" height="350"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/R-r04SQ97_Q"></param><param name="wmode" value="transparent"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/R-r04SQ97_Q" type="application/x-shockwave-flash" wmode="transparent" width="425" height="350"></embed></object> </center></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2007/jews-against-occupation/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>محمود احمدی نژاد</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2007/mahmood-ahmadinijad/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2007/mahmood-ahmadinijad/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 21 Sep 2007 18:53:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[نیو یارک]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=184</guid>
		<description><![CDATA[آج کل نیویارک میں ایرانی صدر احمدی نژاد کے ذکر پر ہلہ لالا(اردو میں ہاہوکار شاید) مچی ہوئی ہے۔ احمدی نژاد نے اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے دوران ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جگہ دیکھنے کا اشتیاق ظاہر کیا تھا ،جِسے نیویارک پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی نے بغیر کوئی وجہ بتائے مسترد کر دیا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آج کل نیویارک میں ایرانی صدر <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Mahmoud_Ahmadinejad" title="ahmadinejad" target="_blank">احمدی نژاد</a> کے ذکر پر ہلہ لالا(اردو میں ہاہوکار شاید) مچی ہوئی ہے۔ احمدی نژاد نے اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے دوران ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جگہ دیکھنے کا <a href="http://www.nydailynews.com/news/2007/09/20/2007-09-20_president_of_iran_requests_tour_of_groun-4.html" target="_blank">اشتیاق</a> ظاہر کیا تھا ،جِسے <a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Raymond_W._Kelly" title="Raymond Kelly" target="_blank">نیویارک پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی</a> نے بغیر کوئی وجہ بتائے مسترد کر دیا تھا، نیویارک کے رہنے والے اِس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، اِس بارے میں <a href="http://www.nydailynews.com/forums/thread.jspa?threadID=611&amp;tstart=0" target="_blank">کچھ بحث یہاں</a> دیکھ جا سکتی ہے۔<br />
لیکن اِس سے بھی بڑی بات اب <a href="http://www.columbia.edu/" target="_blank">کولمبیا یونیورسٹی</a> کا احمدی نژاد کو <a href="http://www.nydailynews.com/news/2007/09/21/2007-09-21_columbia_university_ripped_for_inviting_.html" target="_blank">لیکچر پر مدعو</a> کرنا بن گیا ہے، کولمبیا یونیورسٹی اِسے آزادیِ اظہار کہہ رہی ہے، جبکہ لوگ (مخصوص لوگ۔ ۔ میڈیا) اِسے ایک <a href="http://www.nydailynews.com/opinions/2007/09/20/2007-09-20_no_way_no_how.html" target="_blank">دہشت گردوں کے معاون</a> کو مدعو کرنے سے تعبیر کر رہے ہیں۔<br />
ویسے احمدی نژاد اور<a href="http://en.wikipedia.org/wiki/Dubai_Ports_World" target="_blank"> دبئ پورٹس ورلڈ</a> کا گیارہ ستمبر سے کیا تعلق ہے؟ اور دونوں دفعہ میڈیا پر اتنی ہاہاکار(شاید یہ درست لفظ ہے) مچائی گئی کہ الامان۔</p>
<p>ویسے بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ احمدی نژاد کو انکارسے وہ مقاصد حاصل ہو گئے ہیں جو وہ دُنیا کو دکھانا چاہتا تھا کہ امریکیوں میں اعتدال پسندی عنقا ہے، ویسے آپ کا کیا خیال ہے؟ کیونکہ اگر احمدی نژاد وہ جگہ دیکھنا ہی چاہتا ہے تب بھی اُس پر کوئی پابندی نہیں ہے، اس انکار کے بعد بھی وہ اگر وہاں جانا چاہے تب بھی تمام سیکیورٹی اُسے ہر حال میں مہیا کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/new-york/2007/mahmood-ahmadinijad/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
