<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اردو جہاں بلاگ &#187; کمپیوٹر</title>
	<atom:link href="http://www.urdujahan.com/blog/topics/computer-technology/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urdujahan.com/blog</link>
	<description>جہانزیب اشرف</description>
	<lastBuildDate>Sat, 06 Nov 2010 17:54:26 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
		<item>
		<title>گوگل کو اردو سکھائیں</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2010/teach-urdu-to-google/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2010/teach-urdu-to-google/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 30 May 2010 08:02:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=446</guid>
		<description><![CDATA[میرے دو دوستوں کے ہاں چند دن کے وقفہ سے بیٹے پیدا ہوئے، اب دونوں کی عمر ماشااللہ تقریباً ڈیڑھ سال کے قریب ہے ۔ لیکن ایک ہی عمر کے ہونے کے باوجود پہلی دفعہ ملنے والا شخص فوراً ایک فرق محسوس کرتا ہے، کہ ایک بچہ فر فر نا صرف اردو بلکہ چند جملے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میرے دو دوستوں کے ہاں چند دن کے وقفہ سے بیٹے پیدا ہوئے، اب دونوں کی عمر ماشااللہ تقریباً ڈیڑھ سال کے قریب ہے ۔ لیکن ایک ہی عمر کے ہونے کے باوجود پہلی دفعہ ملنے والا شخص فوراً ایک فرق محسوس کرتا ہے، کہ ایک بچہ فر فر نا صرف اردو بلکہ چند جملے انگریزی کے بھی بول سکتا ہے، جبکہ دوسرا صرف ابھی اماں اور بابا کے علاوہ کوئی مکمل جملہ ادا نہیں کر سکتا ۔ اس کی بنیادی وجہ جو سمجھ میں آتی ہے یہی ہے کہ جو بچہ پورے جملے بول لیتا ہے اس کے تین بڑے بھائی بہن ہیں جبکہ دوسرا والدین کی پہلی اولاد ہے، اور اس سے ہر وقت باتیں کرنے والا یا اس کے دماغ میں نئے الفاظ کے ڈیٹا شامل کرنے والے کم افراد ہیں ۔</p>
<p>گوگل  نے ابھی حال ہی میں اردو کے لئے <a href="http://googleblog.blogspot.com/2010/05/five-more-languages-on.html">ترجمہ کی سہولت مہیا کی</a> ہے، جو فی الحال ابتدائی مراحل میں ہے، اگر آپ اس وقت کسی بھی دستاویز یا ویب صحفہ کا اردو سے انگریزی یا اس کے متضاد ترجمہ کریں تو نہ صرف وہ ترجمہ مجہول ہوتا ہے بلکہ اکثر اوقات دونوں تراجم کے مابین قوسین کے فاصلہ جتنا فرق بھی پایا جا سکتا ہے ۔  مطلب ابھی اس سہولت سے صرف مسکرانے کا لطف حاصل کیا جا سکتا ہے ۔</p>
<p>گوگل نے زبانوں کے <a href="http://translate.google.com">مابین مترجم سہولت</a> کا آغاز اقوام متحدہ میں <a href="http://www.foreigndocuments.com/a11.html">مستعمل چھ زبانوں</a> کو بنیاد بنا کر کیا تھا، اور ان چھ زبانوں کے مابین ایک ہی جیسے مواد کے حصول کے لئے اقوام متحدہ کی لائبریری سے استفادہ لیا گیا تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ ان چھ زبانوں کے مابین ترجمہ کرتے وقت اگر آپ گوگل مترجم کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہیں تو نوے فیصد تک درست ترجمہ حاصل کیا جا سکتا ہے، اور اس ترجمہ کی بنیاد پر آپ ایک زبان سے تقریباً پوری عبارت دوسری زبان میں سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں ۔</p>
<p>اردو کے لئے  یہ سہولت نہیں ہے البتہ ایک مزید سہولت  گوگل نے کچھ عرصہ پہلے متعارف کروائی تھی جس کا فائدہ  اٹھا کر ہم گوگل کی اردو کو نستعلیق بنا سکتے ہیں۔ اس سہولت کا نام ہے <a href="http://translate.google.com/toolkit/">گوگل مترجم ٹول کٹ</a>، جس کا استعمال انتہائی آسان ہے ۔</p>
<p>آپ گوگل ٹول کٹ کی ویب سائٹ پر جائیں اپنی گوگل آئی ڈی جو کہ جی میل یا بلاگ سپاٹ والی آئی ڈی ہے کے ذریعے رسائی حاصل کریں  تو جی میل سے ملتا جلتا ایک صحفہ کھل جائے گا ۔<br />
<center><img src="http://farm5.static.flickr.com/4057/4652253038_a7ba511325.jpg" /></center><br />
اوپر والی تصویر میں نیا ترجمہ شروع کرنے کے لئے upload کا بٹن دبانے سے ایک نئی ونڈو کھلے گی جو ذیل کی تصویر میں دکھائی گئی ہے ۔<br />
<center><img src="http://farm5.static.flickr.com/4003/4652253068_d906580403.jpg" /></center><br />
اگر آپ کے پاس کمپوٹر پر کوئی بھی ایسی دستاویز پڑی ہے جسکا ترجمہ آپ کر سکتے ہیں اُسے پہلے والی ترجیح Local File سے upload کیا جا سکتا ہے ۔اس طریقہ سے اگر آپ کے کمپیوٹر یا گھر میں کسی کتاب کا اردو اور انگریزی ترجمہ موجود ہے تو اس کو گوگل پر upload کر دینے سے کافی سارا کام ویسے ہو جائے گا۔</p>
<p>دوسری ترجیح Web Page کی ہے، جسے کم از کم اردو بلاگ دانوں کو ضرور استعمال کرنا چاہیے، یہاں آغاز کے طور پر آپ اپنے بلاگ کی تحریروں کا ترجمہ شروع کر سکتے ہیں، اور گوگل سے منظوری کے بعد شائد آپکا اپنا ترجمہ ہی استعمال کیا جائے گا ۔ بالکل اسی طرح اگر آپ انگریزی بلاگ پڑھتے ہیں تو پسندیدہ تحریروں کو اردو میں واپس ترجمہ بھی کر سکتے ہیں، انگریزی بلاگرز بھی اپنے بلاگ کے ساتھ یہی سب کر سکتے ہیں لیکن اس کا امکان کم ہی ہو شائد ۔</p>
<p>سب سے بہتر ترجیح Wikipedia article کے ترجمہ والی ہے، اگر آپ کسی Wikipedia پر موجود صحفہ کا ترجمہ کریں گے تو گوگل اسے Wikipedia پر post to the source  پر کلک کرنے سے متعلقہ زبان میں ارسال کر دے گا۔</p>
<p>اسی طرح گوگل Knol پر موجود صحفات کا ترجمہ کر دینے سے بھی گوگل واپس اسے Knol پر ڈال دے گا ۔<br />
<center><img src="http://farm5.static.flickr.com/4053/4651635285_2dd5149b3d.jpg" /></center><br />
ان سب طریقوں میں سے کسی ایک کو بھی منتخب کرنے سے گوگل اصل عبارت اور اس کے متوازی مشینی ترجمہ کو کھول دے گا، جسے پھر آپ آہستہ آہستہ درست کرتے جائیں گے ۔ اس کا مشاہدہ ذیل کی تصویر سے کیا جا سکتا ہے ۔<br />
<center><a href="http://farm5.static.flickr.com/4029/4651635333_c1becd4035_b.jpg"><img src="http://farm5.static.flickr.com/4029/4651635333_c1becd4035.jpg" /></a></center><br />
سب سے بہتر بات یہ ہے کہ جوں جوں آپ تراجم کرتے جائیں گے، آپ کی ٹرانسلیشن میموری بڑھتی جائے گی، اور ایک ہی جملے کا ترجمہ آپکو ہر بار درست نہیں کرنا پڑے گا۔ اسی طرح گروپ بنا کر ترجمہ کرنے سے ایک رکن کے ترجمہ کرنے کی صورت میں سب ارکان کی ٹرانسلیشن میموری بڑھ جائے گی ۔ اصل دنیا میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ فرض کریں آپ اپنے بلاگ کی ایک تحریر کا ترجمہ کرتے ہیں، اب بلاگ کا ہیڈر، سائیڈ بار کا پہلی بار آپکو ترجمہ درست کرنا پڑے گا، لیکن جب آپ دوسری تحریر کا ترجمہ کریں گے تو ان تمام کا جملوں کا درست ترجمہ پہلے ہی درست ہو گا جس کا ترجمہ آپ پہلے کر چکے ہوں گے، اور آپ کو صرف تحریر اور چاہیں تو تبصروں کا ترجمہ ہی درست کرنا پڑے ۔ اسی طرح جب آپ صرف اپنی تحاریر کا ہی ترجمہ کرنا چاہتے ہوں، اور تبصروں کو چھوڑنا چاہتے ہوں تو تحاریر کا ترجمہ مکمل کرنے کے بعد Edit میں جا کر Translation Complete کو منتخب کر سکتے ہیں ۔</p>
<p>دوسرا کام جو بلاگر خواتین و حضرات شائد کرنا چاہیں گے، وہ ٹرانسلیشن ٹول بار کا اپنے بلاگ پر اضافہ کا ہے، جیسا کہ اس  بلاگ پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ ایسا کرنے کے لئے <a href="http://translate.google.com/translate_tools?hl=en&#038;layout=1&#038;eotf=1&#038;sl=ur&#038;tl=en">اس ربط پر موجود کوڈ</a> کو نقل کر کے اپنے سانچہ میں چسپاں کر دیں ۔ یہاں سے بھی گاہے بگاہے آپ ترجمہ کو بہتر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، کسی تحریر کا ترجمہ کروا کے جب آپ ماوس کو تحریر پر لے جائیں گے تو Suggest a better translation ظاہر ہو جائے گا، اس کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے ۔</p>
<p> اب کتنے عرصہ میں گوگل کا اردو بچہ درست اردو بولنے لگے گا، یہ اس کے بہن بھائیوں یعنی ہم پر منحصر کرتا ہے کہ  کتنی جلدی ہم اسکو زبان سکھاتے ہیں ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2010/teach-urdu-to-google/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جنگ اخبار</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2009/jang-news/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2009/jang-news/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 22 Jun 2009 07:28:13 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=409</guid>
		<description><![CDATA[روزنامہ جنگ کی سائٹ گوگل کی مجوزہ &#8220;attack site&#8221; میں شامل ۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><div id="attachment_410" class="wp-caption aligncenter" style="width: 310px"><img src="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2009/06/screenshot-reported-attack-site-mozilla-firefox-300x146.png" alt="روزنامہ جنگ" title="repoted attack site" width="300" height="146" class="size-medium wp-image-410" /><p class="wp-caption-text">روزنامہ جنگ</p></div><br />
روزنامہ جنگ کی سائٹ گوگل کی مجوزہ &#8220;attack site&#8221; میں شامل ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2009/jang-news/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>8</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>یاہو گروپ</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2009/yahoo-group-urdutext/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2009/yahoo-group-urdutext/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 23 Jan 2009 21:34:59 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=310</guid>
		<description><![CDATA[یاہو گروپس، ایک جیسے خیالات رکھنے والے لوگوں کے میل ملاپ کا اچھا ذریعہ ہیں ۔ دیار غیر میں وطن کی محبت ویسے ہی جاگ جاتی ہے، سو امریکہ آنے کے بعد فارغ وقت گزارنے کے لئے میں درجنوں گروپ میں شمولیت اختیار کر لی ۔ ایچ ٹی ایم ایل سیکھنے کا &#8220;اُشکل&#8221; بھی انہیں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a title="یاہو گروپس" href="http://groups.yahoo.com/" target="_blank">یاہو گروپس</a>، ایک جیسے خیالات رکھنے والے لوگوں کے میل ملاپ کا اچھا ذریعہ ہیں ۔ دیار غیر میں وطن کی محبت ویسے ہی جاگ جاتی ہے، سو امریکہ آنے کے بعد فارغ وقت گزارنے کے لئے میں درجنوں گروپ میں شمولیت اختیار کر لی ۔ ایچ ٹی ایم ایل سیکھنے کا &#8220;اُشکل&#8221; بھی انہیں گروپس کی بدولت جاگا ۔</p>
<p><a href="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2009/01/yahoogroups.png"><img class="alignleft size-medium wp-image-311" title="یاہو گروپس" src="http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2009/01/yahoogroups-231x300.png" alt="ہاہو گروپس" width="231" height="300" /></a><br />
پھر وہی جو ہوتا ہے، وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ ترجیحات بدلتی گئی، گروپس سے فورمز اور پھر آخری چھلانگ بلاگ پر لگائی، تب سے &#8220;مجازی زندگی&#8221; جمود کا شکار ہو گئی ۔ پھر جیسے جیسے بڑھاپا طاری ہوتا ہے، انسان کو اپنا بچپن یاد آنے لگتا ہے ۔ لیکن بڑھاپے کا تجربہ آپ بچپن پر لاگو کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ ہم نے بڑھاپے کا تجربہ مطلب یونیکوڈ اردو کا تجربہ اِن گروپس پر کرنے کی کوشش کی، تو پتہ چلا کہ تمام منتظم محنت سے تیار کی گئی ایچ ٹی ایم ایل ای میل کو غیر متعلقہ خانے سے آگے نہیں جانے دیتے ۔ بڑھاپے میں جوانی کا جوش امڈ آیا اور میں نے ایک عدد گروپ یونیکوڈ اردو میں بنانے کا ارادہ کیا، جہاں تصویری اردو کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جائے ۔ لیکن جیسا کہ سیانوں نے کہا ہے، غصہ عقل کو کھا جاتا ہے، وہی ہوا ، یاہو گروپس کے صحفہ اول پر ہی یونیکوڈ سپورٹ موجود نہیں تھی ۔ اور ہم اپنا سا منہ لے کر بیٹھ گئے ۔<br />
بچوں اور بوڑھوں میں ایک فرق یاداشت کا بھی ہے، بچہ کہ یاداشت وقتی ہوتی ہے، اسے وقت پر بہلا پھسلا لیا جائے تو وہ بات اس کے ذہن سے محو ہو جاتی ہے ۔ لیکن بوڑھے جوانی کے عشق کو بھولتے ہی نہیں ہیں ۔ دو تین دن پہلے میں نے دوبارہ اپنا یاہو کا اکاونٹ دیکھا اور وہاں روز جو دھڑا دھڑ ای میلز آتی ہیں، ان کا سدباب کرنے کا سوچا، وہاں میرا بنایا ہوا معصوم <a title="اردو عبارت" href="http://tech.groups.yahoo.com/group/urdutext/" target="_blank">ننھا منا سا گروپ</a> بھی موجود تھا، جس کا اکلوتا رکن ہونے کا اعزاز بھی مجھے حاصل ہے ۔ لیکن یاہو نے اپنے گروپس کو ازسرنو ترتیب دیا ہے، جس کی وجہ سے اب گروپ کے مرکزی صحفہ پر بھی اردو تحریر لکھی جا سکتی ہے ۔<br />
ازسرِنو اس گروپ کو تشکیل دیا ہے، اور اس تحریر کے ذریعے اس کی مشہوری کر رہا ہوں ۔ گروپ کا اولین مقصد یونیکوڈ اردو کا فروغ ہے، آپ شاعری،نثر،تصاویر کچھ بھی ارسال کر سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ جو مشکلات ایک نئے صارف کو پیش آتی ہیں، ان کے بارے میں بھی یہاں بات چیت کرنے کا ارادہ ہے، جیسے کہ اردو میں ای میل کیسے کریں؟ اردو بلاگز کے متعلق سوالات اور ان کے جواب وغیرہ ۔<br />
میرا خیال ہے کافی مشہوری ہو گئی ہے، اوہ ہاں نیچے دیے گئے خانہ سے گروپ میں شمولیت اختیار کی جا سکتی ہے ۔</p>
<p><a href="http://groups.yahoo.com/group/urdutext/join"><br />
<img src="http://us.i1.yimg.com/us.yimg.com/i/yg/img/i/us/ui/join.gif" alt="اردو عبارت گروپ شمولیت" /></p>
<p></a></p>
<p><a href="http://groups.yahoo.com/group/urdutext/join">اردو عبارت گروپ شمولیت</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2009/yahoo-group-urdutext/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ورچوئل زندگی</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2009/virtual-life/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2009/virtual-life/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 11 Jan 2009 21:06:13 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=304</guid>
		<description><![CDATA[آج کل کمیوٹر کا دور ہے اور کمپیوٹر کی مداخلت زندگی کے ہر شعبہ میں بڑھتی جا رہی ہے ۔ بہت سے لوگوں کو کمپیوٹر کی اس بڑھتی ہوئی مداخلت پر بہت سے تخفظات ہیں جیسے کہ مالی معاملات پر۔ جہاں کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرنے سے آپ کو آسانیاں ہیں وہیں اس سے آپ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آج کل کمیوٹر کا دور ہے اور کمپیوٹر کی مداخلت زندگی کے ہر شعبہ میں بڑھتی جا رہی ہے ۔ بہت سے لوگوں کو کمپیوٹر کی اس بڑھتی ہوئی مداخلت پر بہت سے تخفظات ہیں جیسے کہ مالی معاملات پر۔ جہاں کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرنے سے آپ کو آسانیاں ہیں وہیں اس سے آپ کی نجی زندگی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت بھی بہتر ہے کہ اب صرف مالی معاملات جیسے کریڈٹ کارڈ کے استعمال کے ریکارڈ سے آپ کا پتہ لگایا جا سکتا ہے ۔ اور مستقبل میں جب اصل زر استعمال کرنا انتہائی کم ہو جائے گا اس کی افادیت اور بڑھ جائے گی ۔ اسی طرح جرائم کی دنیا میں بھی بنک لوٹنے کا خطرہ مول لینے کی بجائے کریڈٹ کارڈ کی معلومات اڑا لی جاتی ہیں ۔<br />
اسی طرح اب دوستی کرنے کے بھی کمپیوٹری ذرائع بن چکے ہیں، سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس جیسے  <a href="http://www.orkut.com/" target="_blank">آرکٹ</a>، <a href="http://www.facebook.com/" target="_blank">فیس بک</a> اور <a href="http://www.myspace.com/">مائی سپیس</a>  مقبولیت میں پہلے درجہ میں آتی ہیں ۔ لیکن کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ذہنی طور پر ہم جتنا ان سوشل نیٹ ورکس کے مطیع ہوتے جا رہے ہیں، عملی طور پر لوگوں سے اتنا ہی دور ہوتے جا رہے ہیں ۔<br />
اسی طرح <a href="http://dir.yahoo.com/Business_and_Economy/Shopping_and_Services/Personals_and_Dating/Matchmaking_Services/" target="_blank">میچ میکنگ</a> کی ویب سائٹ ہیں، جہاں پر آپ کی پسند کو دیگر لوگوں کی پسند سے ملا کر مطابقت رکھنے والے لوگوں کی فہرست آپ کو دکھا دی جاتی ہے ۔ اب کیا آپ بالکل اپنے جیسے ہی ایک اور شخص سے زندگی گزار سکتے ہیں؟ میں تو نہیں گزار سکتا اسی لئے تو جیون ساتھی کو نصف بہتر بھی کہتے ہیں ۔ کہ جو خامیاں مجھ میں ہوں انہیں وہ پورا کرے ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2009/virtual-life/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>تنور کی روٹیاں</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2008/tanoor-ki-roti/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2008/tanoor-ki-roti/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 06 Apr 2008 02:55:03 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ورڈپریس]]></category>
		<category><![CDATA[رہن سہن]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=247</guid>
		<description><![CDATA[دُنیا میں ہر علاقے کے رہن سہن میں تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے، چھوٹی چھوٹی باتیں اور چیزیں کسی خاص علاقے سے مخصوص ہوتی ہیں، اور سب باتیں مِل کر کلچر کی تشکیل کرتی ہیں ۔ لیکن کسی علاقے کے رہنے والے اپنے علاقہ سے منسوب بہت سی چیزوں کو اہمیت نہیں دیتے، کیونکہ اُن [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>دُنیا میں ہر علاقے کے رہن سہن میں تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے، چھوٹی چھوٹی باتیں اور چیزیں کسی خاص علاقے سے مخصوص ہوتی ہیں، اور سب باتیں مِل کر کلچر کی تشکیل کرتی ہیں ۔ لیکن کسی علاقے کے رہنے والے اپنے علاقہ سے منسوب بہت سی چیزوں کو اہمیت نہیں دیتے، کیونکہ اُن کے لئے یہ ایک روزمرہ کا معمول ہے، جب تک کہ وہ کسی دوسرے علاقہ منتقل نہیں ہو جاتے۔<br />
میں پنجاب کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتا ہوں، ہمارے ہاں دوپہر اور رات کو ہمیشہ تنور میں پکی ہوئی روٹیاں کھائی جاتی ہیں ۔ کراچی میں افغانیوں کے تنور پر جو نان اور مختلف انواع کے کلچے وغیرہ ملتے ہیں، میں اُن کی بات نہیں کر رہا ،کیونکہ اُن کو پنجابی ربڑ کی روٹیاں یا چِٹے آٹے کی روٹیاں کہتے ہیں، سوا مجبوری کے اُن کے قریب نہیں جاتے ۔  تنور پورے گاؤں کا خبر نامہ ہوتا ہے، جہاں گاؤں کی عورتیں ہر گھر سے باخبر رہتی ہیں ۔ جیسے کہتے ہیں کہ کسی محلے کے گھر کی معلومات محلے کے دکان دار یا پان کے کھوکھے والے سے مِل سکتی ہیں۔ اسی طرح گاؤں میں ہونے والے کسی بھی کام سے آگاہ رہنے کے لئے بےبے فاطمہ کا تنور سب سے اہم جگہ ہے  ۔<br />
بےبے فاطمہ اللہ بخشے ہمارے گاؤں کی ماچھن تھی، اور اُسے پرلوک سدھارے بھی کوئی دس سال ہو چکے ہیں، لیکن اُس کی روٹیاں میرے والد صاحب کو نہیں بھولتی ہیں ۔ جب بھی کبھی بات ہو اُنہیں ہمیشہ تنور کی روٹیاں یاد آ جاتی ہیں ۔ یہاں امریکہ میں اب تنور تو دستیاب نہیں ہے، لیکن میری والدہ نے اوون میں آج تنور جیسی روٹیاں پکانے کا تجربہ کیا ہے، جو ماشااللہ کامیاب ہو گیا ہے ، اور بڑے مزے سے ہم نے آج روٹیاں کھائی ہیں ۔<br />
اس کے علاوہ آج میں نے اپنا پوسٹ ای میل کرنے کا سانچہ بنایا ہے، پلگ اِن کو ورڈپریس 2.5 جیسا بنایا ہے ۔اپنا فیڈ نیوز لیٹر جیسا بنایا ہے، اور بس دِن ختم روٹی ہضم ۔ آپ اگر چاہیں تو کسی مضمون کو اپنے آپ کو میل کر کے مجھے مشورہ دے سکتے ہیں، فیڈ اگر کسی نے ای میل سبسکرائب کروایا ہے تو <a href="http://www.feedblitz.com/f/f.fbz?PreviewFeed=374132" target="_blank">یوں </a>نظر آئے گی ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2008/tanoor-ki-roti/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>2.5 ورڈپریس</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2008/wordpress-2-5/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2008/wordpress-2-5/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 30 Mar 2008 15:34:14 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[فائرفاکس]]></category>
		<category><![CDATA[کانکرر]]></category>
		<category><![CDATA[ویب ڈیزائن]]></category>
		<category><![CDATA[ورڈپریس]]></category>
		<category><![CDATA[ورڈپریس تھیم]]></category>
		<category><![CDATA[اوپرا]]></category>
		<category><![CDATA[اوبنٹو]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ ایکسپلورر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=236</guid>
		<description><![CDATA[ورڈ پریس کا نیا ورژن اب ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب ہے۔ بدتمیز نے میری توجہ اس طرف دلائی تھی کہ میں ورڈپریس کو تروتازہ کرلوں، نہیں تو میں ابھی تک ورڈپریس ۲۔۱ ہی استعمال کر رہا تھا۔ نئے ورژن میں انٹرفیس بدل دیا گیا ہے، شاید پرانے استعمال کنندگان کو یہ نیا چہرہ فی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://wordpress.org/" target="_blank">ورڈ پریس</a> کا نیا ورژن اب ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب ہے۔ <a href="http://www.badtamiz.com/blog/" target="_blank">بدتمیز</a> نے میری توجہ اس طرف دلائی تھی کہ میں ورڈپریس کو تروتازہ کرلوں، نہیں تو میں ابھی تک ورڈپریس ۲۔۱ ہی استعمال کر رہا تھا۔<br />
نئے ورژن میں انٹرفیس بدل دیا گیا ہے، شاید پرانے استعمال کنندگان کو یہ نیا چہرہ فی الحال پسند نہیں آئے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی بھی عادت ہو جائے گی۔میں نے شروع ہی سے سوا <a href="http://akismet.com/" target="_blank">Akismet</a> کے کبھی کوئی پلگ اِن استعمال نہیں کیا تھا، مگر اس تھیم کے ساتھ میں آٹھ پلگ اِن کا استعمال کر رہا ہوں۔ ورڈپریس اپگریڈ کے بعد ورڈپریس ای میل پلگ اِن کام نہیں کر رہا۔ جب آپ یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں پر کلک کریں تو صحفہ ناموجود والا صحفہ کھُل جاتا ہے ۔<br />
اب ایک شکایت، میں نے چار پانچ روز پہلے اپنا تھیم بدلا تھا۔ چونکہ میں <a href="http://www.ubuntu.com/" target="_blank">اوبنٹو</a> استعمال کرتا ہوں، اس لئے میرے پاس <a href="http://www.microsoft.com/windows/products/winfamily/ie/default.mspx" target="_blank">انٹرنیٹ ایکسپلورر</a> نامی شے بھی نہیں ہے ۔ تھیم بنا کر میں اوبنٹو میں <a href="http://www.mozilla.com/firefox/" target="_blank">فائرفاکس</a>، <a href="http://www.opera.com/" target="_blank">اوپرا</a> اور <a href="http://www.konqueror.org/" target="_blank">کانکرر</a> میں اُس کا مشاہدہ کرتا ہوں کہ آیا تھیم ویسا ہی ہے جیسا میں چاہتا ہوں یا نہیں۔ کل میں اپنی بہن کے گھر کمپیوٹر ٹھیک کرنے گیا تھا وہاں انٹرنیٹ ایکسپلورر پر اپنا بلاگ کھولا تو دایاں حصہ بالکل نیچے تھا۔ خیر سے اب میں نے دوبارہ انٹرنیٹ ایکسپلورر کے لئے علیحدہ سے سٹائل شیٹ بنا کر اُسے ٹھیک کیا ہے ۔ اگر آپ کو انٹرنیٹ ایکسپلورر  استعمال کرتے ہوئے تھیم میں گڑبڑ نظر آتی ہے تو اپنی رائے دیتے گبھرائیں نہیں۔ کیونکہ فیڈ بیک سے کافی مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2008/wordpress-2-5/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>3</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ورڈ پریس روابط اور ایڈ سینس</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2008/wordpress-permalinks-and-adsense/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2008/wordpress-permalinks-and-adsense/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 21 Mar 2008 23:59:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ایچ ٹی ایم ایل]]></category>
		<category><![CDATA[ورڈپریس]]></category>
		<category><![CDATA[ایڈسینس]]></category>
		<category><![CDATA[روابط]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2008/wordpress-permalinks-and-adsense/</guid>
		<description><![CDATA[ایڈسینس کے اشتہارات بلاگ پر آنے کے ساتھ میں نے کچھ تجربات کئے ہیں ۔ورڈ پریس کا روابط دکھانے کا مجوزہ طریقہ http://example.com/?p=N اس طرح کے روابط دکھاتا ہے ۔ لیکن اگر اردو بلاگ میں روابط کی یہی صورت برقرار رکھی جائے تو اشتہارات کم نظر آتے ہیں ۔ تجربہ کے طور پر میں نے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ایڈسینس کے اشتہارات بلاگ پر آنے کے ساتھ میں نے کچھ تجربات کئے ہیں ۔<a href="http://www.wordpress.org" target="_blank">ورڈ پریس</a> کا روابط دکھانے کا مجوزہ طریقہ  http://example.com/?p=N اس طرح کے روابط دکھاتا ہے ۔ لیکن اگر اردو بلاگ میں روابط کی یہی صورت برقرار رکھی جائے تو اشتہارات کم نظر آتے ہیں ۔<br />
تجربہ کے طور پر میں نے اپنے روابط کو جِسے ورڈپریس والے <a href="http://codex.wordpress.org/Using_Permalinks#Almost%20Pretty" target="_blank">خوبصورت روابط</a> کا نام دیتے ہیں میں تبدیل کیا تو اشتہارات کی تعداد بھی بڑھ گئی، اس کے علاوہ جیسے میری یہ پوسٹ <a href="http://www.urdujahan.com/blog/united-states/2008/hillary-for-president/">ہیلری کلنٹن</a> کے بارے میں ہے تو آنے والے اشتہارات بھی امریکی الیکشن سے متعلق نظر آنے لگتے ہیں ۔<br />
اپنے روابط کو خوبصورت بنانے کےلئے ورڈپریس میں <a href="http://codex.wordpress.org/Using_Permalinks" target="_blank">یہاں طریقہ</a> بیان کیا گیا ہے ، اگر آپ کا سرور <a href="http://www.apache.org/" target="_blank">اپاچی</a> ہے تو روابط کی شکل تبدیل کرنے میں آپ کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ ایک نقصان کہ اگر آپ کا بلاگ کافی عرصہ سے انٹرنیٹ پر ہے تو روابط تبدیل کرنے سے سرچ انجن پر وہ دوبارہ سے انڈیکس کیا جائے گا، جس سے سرچ انجن سے آنے والی ٹریفک کافی حد تک کم ہو جائے گی، دوسرا اگر آپ کے بلاگ کی تحاریر کے روابط دوسرے بلاگ پر دیے گئے ہیں تو وہ کام کرنا چھوڑ دیں گے ۔<br />
اس کے علاوہ اردو تحاریر کے عنوانات کو براؤزر ایک بہت لمبے تحریر جو انسان نہیں پڑھ سکتے اُس میں بدل دے گا جیسے %aa%d9%85%db%8c%d8%b2 ۔ اس سے بچنے کے لئے آپ تحریر لکھتے وقت دائیں ہاتھ کی طرف پوسٹ سلَگ کا استعمال کر کے اپنی تحریر سے یا عنوان سے ملتا عنوان انگریزی میں لکھ سکتے ہیں جیسے اس تحریر کا سلَگ میں نے wordpress-permalinks-and-adsense رکھا ہے ۔<br />
اس کے علاوہ ایک اہم بات کہ روابط کی تشکیل اس طرح کریں کہ اُن کے مِلنے کا امکان کم سے کم ہو، میں نے پہلے جو شکل روابط کی بنائی تھی وہ یوں تھی /category/post-tile/ لیکن میں نے بعد میں محسوس کیا کہ صرف عید مبارک کی چھ تحاریر میرے بلاگ پر ہیں جو کہ ایک ہی زمرہ میں ہیں، اب اگر ہر ایک کا سلگ میں eid-mubarak رکھوں گا تو گڑبڑ ہو جائے گی ۔ تب میں نے ساتھ سال کا اضافہ کر کے روابط کی نئی شکل /year/category/post-tile/ بنائی ہے، جس میں ربط ملنے کا امکان کم ہو گیا ہے۔ اگر آپ ہفتے میں دو تین بار لکھتے ہیں تو سال کے ساتھ آگے مہنہ کا اضافہ بھی کر سکتے ہیں ۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2008/wordpress-permalinks-and-adsense/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ایڈ سینس</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2008/google-adsense-working-for-urdu/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2008/google-adsense-working-for-urdu/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 20 Mar 2008 17:00:16 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اشتہارات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/google-adsense-working-for-urdu/</guid>
		<description><![CDATA[میرے بلاگ پر آنے والوں نے محسوس کیا ہوگا کہ پچھلے ہفتے سے بلاگ پر گوگل ایڈسینس کے اشتہارات نظر آ رہے ہیں ۔ اشتہارات دکھانے کے لئے میں نے پہلے کافی جتن کئے تھے(1,2,3)، دو نمبریاں بھی لگائی تھیں، مگر اشتہارات تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے ۔ لیکن اب لگتا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>میرے بلاگ پر آنے والوں نے محسوس کیا ہوگا کہ پچھلے ہفتے سے بلاگ پر <a href="http://www.google.com/adsense" target="_blank">گوگل ایڈسینس</a> کے اشتہارات نظر آ رہے ہیں ۔ اشتہارات دکھانے کے لئے میں نے پہلے کافی جتن کئے تھے(<a href="http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2006/google-adsense-and-urdu/">1</a>,<a href="http://www.urdujahan.com/blog/urdu/2007/google-adsense-data-driven-pages/">2</a>,<a href="http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2007/google-referral-ads/">3</a>)، دو نمبریاں بھی لگائی تھیں، مگر اشتہارات تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے ۔ لیکن اب لگتا ہے گوگل نے اردو والوں کی سُننے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اشتہارات بغیر کسی اضافی کوشش کے خود ہی نظر آنے لگے ہیں ۔ اب تمام اردو بلاگرز ایڈسینس کا استعمال کر سکتے ہیں ۔<br />
<a href='http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/03/blog2.png' title='blog2.png'><img src='http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/03/blog2.png' alt='blog2.png'  style="width: 95%; height: 80px;" /></a><br />
لیکن اب مسلہ اشتہاروں میں اردو خط درست نہ آنے کا آ رہا ہے، یہ تصاویر میرے بلاگ پر اشتہارات کی ہیں، ایک تو خط درست نہیں ہے دوسرا یہ بائیں طرف سے شروع ہو رہے ہیں ۔</p>
<p> جبکہ عربی اور فارسی میں اشتہارات ٹاہوما میں دکھائے جاتے ہیں اور دائیں جانب سے شروع ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر <a href="http://www.urduweb.org/mehfil/" target="_blank">اردو محفل</a> میں نظر آنے والے اشتہارات عربی سٹائل میں نظر آ رہے ہیں۔ ذیل میں دیکھیں ۔<br />
<a href='http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/03/mehfil.png' title='mehfil.png'><img src='http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2008/03/mehfil.png' alt='mehfil.png'  style="width: 95%; height: 80px;"/></a><br />
میں نے اپنے اکاؤنٹ میں زبان کو انگریزی سے بدل کر عربی کیا ہے لیکن اس سے بھی افاقہ نہیں ہوا۔ اب <a href="http://simunaqv.blogspot.com/" target="_blank" >نبیل</a> ہی اس سلسلے میں کچھ بتائیں کہ محفل میں اشتہارات عربی سٹائل میں کیسے نظر آ رہے ہیں ؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2008/google-adsense-working-for-urdu/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نتیجہ</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2007/google-referral-ads/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2007/google-referral-ads/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 26 Sep 2007 14:45:24 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=188</guid>
		<description><![CDATA[کل میں نے بلاگ پر گوگک ایڈسینس کے ریفرلر ایڈ ڈالے تھے کہ چلو اور کچھ نہیں کم از کم یہ چلنے کی ضمانت تو ہر حال میں ہے، اور ساتھ ہی ایک عدد درخواست کر دی تھی کہ اِن پر کلک کیا جائے، کل اں ایڈ یر پینتیس عدد کلک ہوئے اور نتجہ آمدن [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کل میں نے بلاگ پر گوگک ایڈسینس کے ریفرلر ایڈ ڈالے تھے کہ چلو اور کچھ نہیں کم از کم یہ چلنے کی ضمانت تو ہر حال میں ہے، اور ساتھ ہی ایک عدد درخواست کر دی تھی کہ اِن پر کلک کیا جائے، کل اں ایڈ یر پینتیس عدد کلک ہوئے اور نتجہ آمدن صفر رہی آج ابھی تک گیارہ کلک ہو چکے ہیں اور وہی والا نتیجہ ہے</p>
<p>شائد میں نتجہ اخذ کرنے میں جلد بازی کر رہا ہوں، لیکن میرے خیال میں اگر آپ کی سائٹ پر روزانہ کے سینکڑوں لوگ ان ایڈ پر کلک کریں تبھی ان کا فائدہ ہے، ورنہ نہیں۔ البتہ میں ایک ہفتے تک ان ایڈز کو تجرباتی طور پر چلنے دے رہا ہوں، پھر ان کو ختم کر دوں گا</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2007/google-referral-ads/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>یاہو فوٹوز۔ ختم شُد</title>
		<link>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2007/no-more-yahoo-photos/</link>
		<comments>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2007/no-more-yahoo-photos/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 06 Sep 2007 22:26:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
				<category><![CDATA[کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[متفرق]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urdujahan.com/blog/?p=180</guid>
		<description><![CDATA[یاہو نے اپنی پرانی فوٹو سروس جو یاہو فوٹوز کے نام سے جانی جاتی ہے کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میرے پاس عموماً کوئی زیادہ تصاویر موجود نہیں ہوتی ہیں، لیکن جو بھی تھیں اُنہیں میں نے یاہو پر محفوظ کیا ہوا تھا۔ اب یاہو فوٹوز کی بجائے یاہو اپنی تمام تر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://www.yahoo.com" target="_blank">یاہو</a> نے اپنی پرانی فوٹو سروس جو<a href="http://photos.yahoo.com" target="_blank"> یاہو فوٹوز</a> کے نام سے جانی جاتی ہے کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میرے پاس عموماً کوئی زیادہ تصاویر موجود نہیں ہوتی ہیں، لیکن جو بھی تھیں اُنہیں میں نے یاہو پر محفوظ کیا ہوا تھا۔ اب یاہو فوٹوز کی بجائے یاہو اپنی تمام تر توجہ اپنی دوسری فوٹو شیرنگ سروس <a href="http://www.flickr.com/" target="_blank">فلکر</a> پر مرکوز رکھنا چاہتا ہے، اور اسی لئے جن ارکان کی تصاویر یاہو فوٹوز پر موجود ہیں اُنہیں یہ تصاویر <a href="http://www.flickr.com/" target="_blank">فلکر</a> پر منتقل کرنے کا پیغام بھیجا جا رہا ہے۔ یاہو کی طرف سے ارسال کردہ ای میل کی نقل ذیل میں ہے۔<br />
<center><a href='http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2007/09/screenshot.png' title='yahoo photos'><img src='http://www.urdujahan.com/blog/wp-content/uploads/2007/09/screenshot.png' width='300' height='300' alt='yahoo photos' /></a></center><br />
لیکن کیا فلکر پر میں اپنی تصاویر پوشیدہ رکھ سکتا ہوں؟ ابھی اس بارے میں مجھے معلوم نہیں ہے، کیونکہ میں اپنی تصاویر پبلک نہیں کرنا چاہتا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urdujahan.com/blog/computer-technology/2007/no-more-yahoo-photos/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

