اردو ٹیک بلاگز اور نستعلیق ۔

December 2, 2008
از :  
زمرات: ایچ ٹی ایم ایل

اگر آپ کا بلاگ اردو ٹیک پر پر موجود ہے، اور دستیاب سانچوں میں (فی الحال) نستعلیق خط کی عدم دستیابی کی وجہ سے   دوسرا خط جو سانچہ میں استعمال ہو رہا ہو کو ہی استعمال کرنے پر مجبور ہیں تو نیچے بیان کردہ طریقہ سے کم از کم آپ اپنی تحریروں کو نستعلیق خط میں دکھا سکتے ہیں ۔

سب سے پہلے جب آپ write منتخب کرتے ہیں تو ذیل کا دریچہ آپ کے پاس کھلے گا، یہاں تصویر کے مطابق HTML کو منتخب کریں ۔

نستعلیق تحاریر

اور مندرجہ ذیل کوڈ کا اضافہ کر لیں ۔

<div style="font-family: "Alvi Nastaleeq", "Alvi Nastaleeq v1.0.0", tahoma;">
</div>

ان دو کوڈ کی سطروں کے درمیان اپنی تحریر لکھ کر آپ اسے کسی بھی سانچہ میں علوی نستعلیق میں دکھا سکتے ہیں ۔

اردو بلاگ ایوارڈ

November 19, 2008
از :  
زمرات: اردو

منظر نامہ کی طرف سے اردو بلاگ ایوارڈ کا اجراء بالاخر کر دیا گیا ہے، فی الوقت نامزدگی کے مراحل طے کر کے، ہر زمرے میں تین عدد بلاگزر کے نام تجویز کئے گئے ہیں، جن پر ووٹنگ کا مرحلہ جاری ہے ۔ اگر آپ اردو بلاگران حضرات و خواتین کے بلاگ پڑھتے ہیں تو ووٹنگ میں اپنا حصہ ڈال کر ان کی حوصلہ افزائی کریں ۔
علاوہ دیگر اردو بلاگران سے گذارش ہے کہ اپنے بلاگ پر اس کی تشہیر کریں، تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ووٹنگ میں اپنا حصہ ڈال سکیں ، میں نے ایک عدد گرافک تیار کی ہے، جو ذیل میں موجود ہے، پسند کے سائز والے بینر کے نیچے دیے گئے کوڈ کو کاپی کر کے آپ اپنے بلاگ پر لگا سکتے ہیں ۔

vote

<a href="https://survey.mamut.com/s;jsessionid=847E63E4806779E9CD14EAAA37D2BFED?s=10408"><img src="http://farm4.static.flickr.com/3219/3044207694_3e443de02c_o.png" alt="ووٹ دیجیئے" /></a>

vote

<a href="https://survey.mamut.com/s;jsessionid=847E63E4806779E9CD14EAAA37D2BFED?s=10408"><img src="http://farm4.static.flickr.com/3249/3043376743_cebf3a26f9_o.png" alt="ووٹ دیجیئے" /></a>

یومِ اقبال

November 9, 2008
از :  
زمرات: پاکستان, اردو

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر


خدا اگر دِل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر


اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں
سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر


میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر
مرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر


مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر

انتظار ختم۔

October 22, 2008
از :  
زمرات: اردو

اردو اور خطِ نستعلیق کا چولی دامن کا ساتھ ہے، بد قسمتی سے ابھی تک ویب کے لئے کوئی بھی قابلِ عمل نستعلیق خط مروج نہیں ہو سکا۔ بعض اوقات جب کوئی جاننے والا میرا بلاگ دیکھتا ہے، تو اُس کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے، کہ جیسی اردو ہم پاکستان میں لکھتے ہیں یہ ویسی کیوں نہیں، یہ تو عربی کی طرح ہے ، اور میرا جواب ہوتا تھا کہ فی الحال مجبوری ہے۔ بی بی سی اردو کا خطِ نسخ چاہے کتنا ہی بھدا کیوں نہ ہو، ایک بات کا میں معترف رہا ہوں کہ کم از کم اردو ویب پر یہ خط ایک سنگِ میل کی حثیت رکھتا ہے۔

علوی نستعلیق سکرین شاٹ

ایسی بات نہیں کہ اردو والوں نے نستعلیق کو اپنانے کی کوشش نہیں ہے، کرلپ والوں کا نفیس نستعلیق آیا، اسی طرح فجر نوری نستعلیق ، اور ماشااللہ اپنی حکومتِ پاکستان کی طرف سے پاک نستعلیق بھی منظر عام پر آیا، لیکن خامیوں کے سبب مقبولیت کا درجہ حاصل نہیں کر پائے، اپنے ظہور احمد سولنگی بھائی نے تو پاک نستعلیق کے نظارے کروا کروا کر شوق کو خوب مہمیز کرنے کے بعد چپ سادھ لی، بعد میں معلوم ہوا کہ خطِ نستعلیق بھی سرخ فیتے کا شکار ہو کر کسی وزیرِ با تدبیر کا انتظار کرتا رہ گیا کہ جناب آئیں اور قینچی چلائیں ۔ بعد اس کے جو کچھ پاکستان میں سیاسی سطح پر ہوا وہ اب تاریخ کا حصہ ہے، مجھے تو لگتا ہے یہ سب کچھ پاک نستعلیق کو رکوانے کے لئے پرویز مشرف کو ہٹایا گیا ہے ۔خیر ظہور احمد سولنگی کی جانب سے دکھائے گئے نظارے دیکھنے کے بعد میں نے نئے سرے سے ایک عدد تھیم تیار کیا کہ نستعلیق کے ساتھ استعمال کروں گا، عید کا وعدہ کیا گیا تھا، اور نہ جانے کتنی عیدیں گزر گئی ہیں ۔
پھر امجد علوی صاحب کافی عرصہ سے اردو محفل پر ایک قابل عمل خطِ نستعلیق کا ذکر کرتے رہتے تھے، اور میں چوری چوری دیکھ لیتا تھا کہ خط تیاری کے کن مراحل تک پہنچ گیا ہے، آج محفل پر گیا تو القلم والے شاکر القادری صاحب کی طرف سے کسی خوشخبری کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن خوشخبری کس خبر کی ہے، اس کا اندازہ لگانا ہے۔ ہمارے خبرو کی طرف سے معلوم ہوا ہے کہ جلد ہی یعنی کل بروزِ جمعہ علوی نستعلیق میدان میں آ جائے گا اور اردو کمیونٹی کا دیرینہ خواب تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
علوی نستعلیق کے آنے کے بعد اس بلاگ کا مجوزہ خط بھی علوی نستعلیق میں بدل دیا جائے گا، اور ایسا کرنے کی درخواست تمام یونی کوڈ اردو کو اپنانے والوں سے بھی کروں گا، تا کہ جلد ہی خط نستعلیق ویب پر اپنا مقام حاصل کر لے ۔

حکومتِ پاکستان

October 14, 2008
از :  
زمرات: پاکستان

کچھ معلومات کے سلسلے میں کچھ عرصہ قبل مجھے حکومتِ پاکستان کی ویب سائٹ پر جانے کا اتفاق ہوا، ایک تو وہی گِھسا پٹا اعتراض جو میرے جیسے عوام اکثر کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ویب سائٹ مکمل طور پر انگریزی زبان میں ہے، اردو میں حکومت ،حکومتی اداروں یا سرکاری دستاویزات حاصل کرنے کی کوئی سہولت نہیں ہے ۔ عموماً یہاں امریکہ میں رہتے ہوئے اگر آپ کو کسی قسم کی سرکاری دستاویزات حاصل کرنا ہوں تو متعلقہ ریاست کی ویب سائٹ پر سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے، جیسے ڈرائیور لائسنس، ووٹ کا اندراج، کاروبار شروع کرنے سے متعلق دستاویزات اور لائسنس کے حصول کے متعلق کاغذات اور ریاست میں رہتے ہوئے بنیادی قوانین کے متعلق معلومات وغیرہ سب ریاست کی ویب سائٹ سے حاصل کی جا سکتی ہیں ۔
بظاہر اس قسم کی تمام معلومات حکومتِ پاکستان کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں، لیکن انگریزی میں ہونے کی وجہ سے عوام الناس کو اس کا کتنا فائدہ ہو سکتا ہے؟ جب کہ ملک میں کچھ عرصہ پہلے تک (جب تک میں پاکستان میں تھا) حالت یہ ہے کہ اردو میں شناختی کارڈ کی عرضیوں کے لئے بھی لوگ کچہری جا کر وہاں بیٹھے لوگوں سے عرضیاں بھرواتے تھے۔
دوسری حیران کن وجہ ذرا تکنیکی قسم کی ہے، آپ دنیا کے کسی ملک کی سرکاری ویب سائٹ دیکھیں، وہ اسی ملک کے اندر ہی ہوسٹ کروائی گئی ہوتی ہے اور جن سرورز پر ہوسٹ کی گئی ہوتی ہے وہ سرکاری ملکیت ہوتے ہیں ۔حکومتِ پاکستان کی ویب سائٹ کے سرور امریکہ میں ہیں جو کہ میرے لئے حیران کن بات ہے ۔ پھر فرداً فرداً ہر صوبے کی ویب سائٹ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ سوا صوبہ پنجاب کے باقی تمام صوبوں کے سرور بھی امریکہ میں موجود ہیں ۔ البتہ صوبہ بلوچستان کی ویب سائٹ میں کچھ حد تک تصویری اردو میں تھوڑا بہت مواد بھی موجود ہے ۔صوبہ پنجاب کی ویب سائٹ کے پہلے صحفہ پر Suggestion Box کو Suggesstion Box لکھا ہوا ہے ۔ اب یہ باکس کتنا کارآمد ہے، میں نے پوچھا تھا کہ سرکاری ویب سائٹ قومی زبان میں نہ ہونے کی کیا وجوہات ہیں اور پاکستان کے عوام کو ان ویب سائٹس کا کیا فائدہ ہے، اور ایک مہینہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک جواب ندارد ۔ جب کہ اسی طرح ریاست نیو یارک میں سوال پوچھنے کے تین دن کے اندر اندر آپ کو جواب موصول ہو جاتا ہے ۔
میں نے یہ بھی سوچا کہ شائد میں ہی اردو کے معاملے میں ذرا دقیانوسی ہو رہا ہوں، ہمارے ارد گرد کے ممالک میں بھی سب کچھ انگریزی میں ہی ہو گا ، لیکن ایران، افغانستان، چین اور بھارت کی ویب سائٹس دیکھنے کے بعد یہ خیال بھی بدلنا پڑا ۔ بھارت کی ویب سائٹ، حکومت پاکستان کے قریب تر ہے، جس میں مرکزی صحفہ ایک ویب ڈرائکٹری کا حامل ہے جہاں آگے تمام دیگر شعبوں تک رسائی کے روابط دیے ہوئے ہیں، وہاں بھارتی صدر اور نائب صدر کی ویب سائٹس میں ہندی اور انگریزی دونوں زبانیں موجود ہیں، اور استعمال کنندہ پر منحصر ہے کہ آیا ہندی میں معلومات حاصل کرے یا انگریزی میں ۔ ایران، چین اور افغانستان کی ویب سائٹس پر بھی استعمال کنندہ کو یہی اختیار حاصل ہے کہ اپنی مرضی کی زبان کا انتخاب کر سکے، علاوہ ازیں افغانستان کے علاوہ دیگر تمام ممالک کے سرور بھی انہی ممالک میں موجود ہیں، اور پاکستان کی طرح افغانستان حکومت کا سرور بھی امریکہ میں موجود ہے ۔
یہ سب دیکھنے کے بعد میں اب اس مخمصے کا شکار ہوں کہ شائد میں ہی ترقی مخالف (انگریزی=ترقی) خیالات کا حامل ہوں، آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

ٹیگ ڈوری

June 15, 2008
از :  
زمرات: اردو

بلاگستان میں ایک کھیل ہے، جِسے ٹیگ کرنا کہتے ہیں ۔ اردو بلاگر نے پہلے پہلے تو ایک دوسرے کو ٹیگ کرنا شروع کیا تھا، مگر عرصہ دراز سے یہ سلسلہ منقطع ہے ۔ ٹیگ کے دو فائدے ہوتے ہیں، پہلا تو لوگ ایک دوسرے کو اس طرح جاننے لگتے ہیں اور بلاگ دُنیا میں آپ ایک دوسرے کو اکیلا اکیلا محسوس نہیں کرتے، دوسرا فائدہ آپ کے بلاگ کو پہنچتا ہے۔ میرے مشاہدے میں ایک بات آئی ہے کہ یا تو اردو بلاگرز بڑے مغرور ہیں یا بہت ہی بخیل ہیں یا پھر دنیا کے مصروف ترین انسان اردو میں بلاگنگ کرتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ آپ اردو بلاگرز کے بلاگ رول دیکھیں، وہاں پر اتنی کفایت شعاری سے دوسرے بلاگز کے روابط ڈالے گئے ہوتے ہیں کہ نہ ہی پوچھیں ۔ جب آپ کسی متعلقہ بلاگ کا ربط اپنے بلاگ میں شامل کرتے ہیں تو اس کا فائدہ یوں ہوتا ہے کہ آپ کے بلاگ کی اہمیت اور تلاش میں کارکردگی بڑھ جاتی ہے، اس لئے بلاگ رول بناتے وقت بخل سے کام مت لیں اور یہ مت سوچیں کہ میرا بلاگ روابط کا مجموعہ بن جائے گا۔ اسی طرح جب ٹیگ کا جواب لکھتے آپ دوسرے بلاگ کے روابط اپنے بلاگ میں ڈالیں گے اور جواب لکھتے وقت ٹیگ کردہ بلاگ میں آپ کا ربط آئے گا تو اس سے آپ کے بلاگ کا رینک بڑھتا ہے ۔
میں نے سوچا ہے کہ ایک ٹیگ کھیل شروع کیا جائے، جس کا مقصد تمام اردو بلاگز کو ایک دوسرے سے منسلک کرنا ہے ۔ کھیل کے قوانین مندرجہ ذیل ہیں ۔
ا) کھیل کے قوانین جوابات دیتے وقت ارسال کرنا ہوں گے ۔
ب) جِس نے آپ کو اس کھیل سے منسلک کیا ہے، اُسکی تحریر کا حوالہ دینا لازمی ہے ۔
ج) سوالات کے اخیر میں آپ مزید پانچ لوگوں کو اِس کھیل سے منسلک کریں گے، اور اس کی اطلاع متعلقہ بلاگ پر نئی تحریر میں تبصرہ کر کے دیں گے ۔
سوالات چونکہ میں لکھ رہا ہوں، اگر کسی نے مجھے دورانِ کھیل اِس سے منسلک کیا تو تب جوابات لکھوں گا ۔ سوالات مندرجہ ذیل ہیں ۔
1) اِس وقت آپ نے کِس رنگ کی جرابیں پہنی ہوئی ہیں؟
2) کیا آپ اس وقت کچھ سُن رہنے ہیں؟ اگر ہاں تو کیا؟
3) سب سے آخری چیز جو آپ نے کھائی تھی کیا تھی؟
4) سب سے آخری فلم کونسی دیکھی ہے؟
5) آپ کا پسندیدہ قول کیا ہے؟
6) کل رات بارہ بجے آپ کیا کر رہے تھے؟
7) کِس مشہور شخصیت زندہ یا مردہ سے آپ مِلنا چاہیں گے؟
8) غصہ میں اپنے آپ کو پرسکون کِس طرح کرتے ہیں؟
9) فون پر سب سے آخر میں کِس سے بات ہوئی؟
10) آپ کا پسندیدہ تہوار کونسا ہے؟

میں آغاز میں اِن پانچ لوگوں کو ٹیگ کرتا ہوں ۔
عارف انجم ، رضوان نور ، قدیر احمد، عمار ضیاء خان، بدتمیز۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پانچ سے پچیس کب تک ہوتے ہیں ؟

اردو اور ترقی

May 3, 2008
از :  
زمرات: اردو

افتخار اجمل صاحب کی یہ تحریر پڑھنے کے بعد میرا ارادہ تھا کہ وہاں تبصرہ کیا جائے، لیکن تبصرے کے طویل ہونے کے باعث میں نے مناسب یہی خیال کیا کہ اس پر ایک علیحدہ سے تحریر لکھوں ۔
اردو پر معترض ہونے والے زیادہ تر افراد کا تانہ ایک ہی بات پر ختم ہو جاتا ہے کہ اردو میں آج کی ترقی کے حوالے سے اصطلاحات کے نام نہیں ہیں، اس حوالے سے اردو دوسری زبانوں کے الفاظ اپنانے پر مجبور ہے ۔ ایسا اعتراض کرنے والے صرف ظاہری صورت دیکھتے ہیں اور زبانوں کے ارتقاء پذیری کے طریقہ کار کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ دُنیا کی تاریخ میں مختلف ادوار میں مختلف قومیں اپنی ترقی کے عروج پر رہی ہیں، زمانہ قدیم میں یونانی ثقافت اپنے عروج پر تھی، تب اُس وقت کی دیگر زبانوں میں یونانی کے الفاظ بکثرت استعمال ہوئے ۔ بعد میں رومن حکومتوں نے اپنا عروج دیکھا تب دیگر زبانوں میں رومن الفاظ بکثرت استعمال ہونے لگے ۔ اسی طرح ساتویں صدی عیسوی کے بعد ایشیاء،افریقہ اور جبوبی یورپ میں مسلمانوں کے عروج کے ساتھ عربی الفاظ اِن علاقوں میں کثرت سے استعمال ہونے لگے، اور آج بھی انگریزی جو آج ترقی یافتہ زبان کہلاتی ہے وہ ان رومن، یونانی اور عربی اور بہت سی دیگر زبانوں کے ماخذ والے الفاظ استعمال کرتی ہے، جیسے الجبرا کا ماخذ عربی زبان ہے، لیکن جب اُسے انگریزی میں استعمال کیا جاتا ہے تب وہ ایک انگریزی لفظ سمجھا جاتا ہے، اسی طرح کیمرہ کا ماخذ عربی لفظ کمرہ ہے لیکن جب بھی کیمرہ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اُسے انگریزی کا لفظ ہی سمجھا جاتا ہے ۔ ویسے ایک نوٹ کیمرہ کا تصور سب سے پہلے ابن الحیثم نے اپنی کتاب، کتاب المناظر میں بیان کیا تھا ۔
اوپر بیان کئے گئے حقائق سے یہ سمجھانا مقصود تھا کہ زبان نہیں قوم ترقی کرتی ہے، اور ترقی یافتہ اقوام کی زبان کو ہی ترقی یافتہ زبان کی سند حاصل ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ کسی بھی مُلک میں سرکاری زبان اُس خطے میں اُس زبان کے پھلنے پھولنے میں مدد فراہم کرتی ہے، جب رومن ایمپائر کے تحت آدھی دنیا تھی انہوں نے سرکاری خط و کتابت کے لئے رومن کا استعمال کیا، عرب جہاں گئے وہاں انہوں نے عربی کو ہی سرکاری زبان کا درجہ دیا، اسی طرح برطانوی کالونیوں میں انگریزی ہی سرکاری زبان ٹھہری ۔ اس طرح کرنے سے آہستہ آہستہ سرکاری زبان کے الفاظ غیر محسوس طریقہ سے روزمرہ میں معمول بنتے گئے ۔ ہاسپیٹل یا ہسپتال سے پہلے بھی برصغیر میں مطب تھے، اسکول سے پہلے یہاں مدرسے یا مکتب موجود تھے اور ڈاکٹر سے پہلے بھی یہاں طبیب اور حکماء موجود تھے ۔ لیکن جب سرکاری دستاویزات میں آخری اصطلاحات کی بجائے انگریزی الفاظ کا استعمال ہوا اور عوام ان سے آہستہ آہستہ روشناس ہونے لگے تب یہی الفاظ معمول بنتے گئے ۔
اب ہم اردو کی تاریخ پر نظر دوڑائیں، تو اس زبان کے آغاز اور عروج کے زمانہ میں ہی برصغیر میں انگریزوں کا دور شروع ہو گیا، جِس سے اردو میں سرکاری زبان جو کہ انگریزی تھی کی ملاوٹ ہونا نا گزیر تھا ۔انگریزوں کے دور کے اختتام کے بعد پاکستان میں اردو کو قومی زبان کا درجہ تو دے دیا گیا، لیکن ہنوز سرکاری دستاویزات اور سرکاری زبان انگریزی ہی ہے ۔ میرے لئے تو یہ بات ایک انتہائی احمقانہ سوچ ہے، جس ملک کے ستر فی صد لوگ انگریزی زبان پر دسترس نہیں رکھتے اُس ملک کا آئین اور قانون انگریزی زبان میں ہے ۔ اب اگر ہم اعتراض کرتے ہیں کہ اردو جدید تقاضوں پر پورا نہیں اُترتی تب ہم اپنے آپ کو الزام دے رہے ہیں کہ اپنی زبان کو آگے بڑھانے کی صلاحیت ہم میں نہیں تھی ۔ورنہ ایسے نامساعد حالات میں بھی اردو زبان ترقی کرتی رہی ہے ۔ اور اب بھی اگر ایک پنجابی کو ایک پٹھان سے بات کرنے کے لئے ایک ذریعہ کامیابی سے فراہم کر رہی ہے ۔
دوسرا اعتراض ہے محبان اردو سے، میرے خیال میں کچھ اردو سے محبت کرنے والے کافی انتہا پسند واقع ہوتے ہیں ۔ ایک ترقی یافتہ زبان کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اُس زبان میں وقت کے ساتھ بدلنے کی صلاحیت موجود ہو، اُس میں یہ صلاحیت ہو کہ دوسری زبانوں کے الفاظ باآسانی اُس میں سما سکیں ۔ اگر آج ہم اس بات پر مُصر رہیں کہ غالب والی اردو ہی لکھی اور پڑھی جائے تو میرے خیال میں یہ اردو پر احسان نہیں بلکہ اُسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش ہو گی ۔ اگر مطب کی بجائے ہسپتال روزمرہ میں مستعمل ہے ، تو ہمیں ہسپتال استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں بلکہ فخر ہونا چاہیے کہ یہ اردو زبان کا لفظ ہے جس کا ماخذ انگریزی زبان ہے ۔ہم بڑی آسانی سے کوزہ کے لئے گلاس کا استعمال کر سکتے ہیں، اور چاہیں تو دریا کو گلاس میں بند کر سکتے ہیں ۔

ویب سائٹ سانچہ کو اُردوانہ۔

April 20, 2008
از :  
زمرات: ایچ ٹی ایم ایل

یونی کوڈ اردو کے فروغ کے بعد اب ہمیں بہت سی ویب سائٹ اردو خط میں بنی ہوئی نظر آتی ہیں، ان ویب سائٹ میں کچھ پروفیشنل ہیں جیسے جنگ اخبار اور بی بی سی اردو کی ویب سائٹ، دوسری قسم میں نجی ویب سائٹ ہیں۔ جن میں سرفہرست اردو میں بلاگ لکھنے والے خواتین و حضرات شامل ہیں ۔ اس مضمون کے لکھنے کا مقصد نجی ویب سائٹ لکھنے والوں کی راہنمائی کرنا ہے ۔ اردو بلاگ بنانے کے بعد سب سے پہلا مرحلہ سانچے کی تلاش ہوتا ہے ،ایسے سانچے انٹرنیٹ پر مفت دستیاب ہیں لیکن اردو کے لئے ہم وہ سانچہ بعینہ استعمال نہیں کر سکتے،بلکہ ہمیں سانچہ کو اردو ویب سائٹ کے مطابق اُسے ڈھالنا ہو گا ۔
سانچہ کا جائزہ ۔
سب سے پہلے جب ہم کوئی سانچہ ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں ،تو اس کے نام کا ایک فولڈر ہمارے پاس کمپیوٹر پر آ جاتا ہے ۔ اس سبق میں ہم ئے کسی تھیم کو اردوانے کے صرف ایک سانچہ کو اردو کے قابل بنائیں گے ۔ اس مقصد کے لئے ہم اوپن سورس ویب ڈیزائن ویب سائٹ سے سانچہ منتخب کر کے اُسے استعمال کریں گے ۔اس مضمون میں دی گئی ہدایات کچھ ترمیم کے ساتھ کسی بھی سانچہ کے ساتھ استعمال کی جا سکتی ہیں،ہر سانچہ کی ساخت اور بناوٹ مختلف ہوتی ہے لیکن کچھ معیار ایسے ہیں جو تقریباٍ تمام سانچوں میں موجود ہوتے ہیں، نام مختلف ہو سکتے ہیں لیکن کام سب کا ایک ہی ہے ۔
اب میں فرض کرتا ہوں کہ آپ نے ایک عدد سانچہ اپنے کمپیوٹر پر اتار لیا ہے اور اس سانچہ کو اردو میں ڈھالنا چاہتے ہیں، جب آپ سانچہ کے فولڈر میں جائیں گے تو وہاں آپ کو سانچہ کی بناوٹ کے حساب سے مختلف نام کی فائلیں نظر آئیں گی ۔لیکن ہمیں ان تمام فائلوں میں صرف دو طرح کی فائلوں میں ترمیم کرنا ہے پہلی قسم کی فائل جس کے اخیر میں سی ایس ایس آتا ہے اور دوسری انڈیکس فائل ۔ زیادہ تر سانچوں میں یہ فائلیں مندرجہ ذیل نام سے موجود ہوتی ہیں ۔

index.html
style.css

پہلی قسم کی فائل صحفہ کی ساخت کی ترتیب کو ظاہر کرتی ہے، کہ صحفہ کا کونسا حصہ کہاں ہونا چاہیے، جبکہ دوسری فائل صحفہ کے سٹائل کو ظاہر کرتی ہے، کہ کونسا حصہ کس رنگ کا ہونا چاہیے، صحفہ میں استعمال ہونے والے خط کونسے سے ہونا چاہیں، اور کونسے
حصہ دائیں،بائیں،اوپر یا نیچے ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ ۔

ایڈ سینس

March 20, 2008
از :  
زمرات: کمپیوٹر, اردو

میرے بلاگ پر آنے والوں نے محسوس کیا ہوگا کہ پچھلے ہفتے سے بلاگ پر گوگل ایڈسینس کے اشتہارات نظر آ رہے ہیں ۔ اشتہارات دکھانے کے لئے میں نے پہلے کافی جتن کئے تھے(1,2,3)، دو نمبریاں بھی لگائی تھیں، مگر اشتہارات تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے ۔ لیکن اب لگتا ہے گوگل نے اردو والوں کی سُننے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اشتہارات بغیر کسی اضافی کوشش کے خود ہی نظر آنے لگے ہیں ۔ اب تمام اردو بلاگرز ایڈسینس کا استعمال کر سکتے ہیں ۔
blog2.png
لیکن اب مسلہ اشتہاروں میں اردو خط درست نہ آنے کا آ رہا ہے، یہ تصاویر میرے بلاگ پر اشتہارات کی ہیں، ایک تو خط درست نہیں ہے دوسرا یہ بائیں طرف سے شروع ہو رہے ہیں ۔

جبکہ عربی اور فارسی میں اشتہارات ٹاہوما میں دکھائے جاتے ہیں اور دائیں جانب سے شروع ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اردو محفل میں نظر آنے والے اشتہارات عربی سٹائل میں نظر آ رہے ہیں۔ ذیل میں دیکھیں ۔
mehfil.png
میں نے اپنے اکاؤنٹ میں زبان کو انگریزی سے بدل کر عربی کیا ہے لیکن اس سے بھی افاقہ نہیں ہوا۔ اب نبیل ہی اس سلسلے میں کچھ بتائیں کہ محفل میں اشتہارات عربی سٹائل میں کیسے نظر آ رہے ہیں ؟

« اگلا صفحہ