یکیاں

June 23, 2010
از :  
زمرات: اردو

یک سطری باتیں کرنے میں گزرے ہوئے دانشوروں کو کمال حاصل ہے، زندہ دانشوروں کو شائد مختصر بات کرنے میں الجھن ہوتی ہے یا پھر جب تک وہ گزر نہیں جاتے لوگ ان کو دانشور کا درجہ دینے کو تیار نہیں ہوتے ۔ آپ اس پر تحقیق کر لیں جتنے اقوال زریں آپ پڑھتے ہیں، ان کے خالق اپنے خالق سے جا ملے ہوتے ہیں ۔
البتہ ایک بات طے ہے کہ ان سب اقوال میں آسانی سے بہت ہی گہری بات کہہ دی جاتی ہے کہ پڑھنے والا دیر تک عش عش کرتا رہ جاتا ہے، اور جب بھی عش عش کرنے والی بات کی مثال دینے کا پوچھا جائے تو مجھے وارث شاہ کا ایک شعر ہی ہمیشہ یاد آتا ہے، وہی ادھر ایک دفعہ پھر یہاں چھاپ دیتا ہوں ۔
وارث مانڑ نہ کر وارثاں دا
رب بے وارث کر ماردا ای۔

لیکن اب اردو بلاگستان میں بھی ایسے دانشور پیدا ہو گئے ہیں جو یک سطری تبصرے سے زیادہ زخمت گوارہ نہیں کرتے ۔ اپنے تئیں یک سطری تبصروں کے ان دانشوران کے تبصرے “یکی” [پنجابی۔ اس کی اردو ایجاد نہیں ہوئی] کے سوا کچھ نہیں ہوتے ۔ ان کے تبصروں کی سب سے خاص بات تبصرہ کردہ تحریر سے میل نہ کھانا بلکہ اس تحریر کے تبصروں پر تبصرے ہونا ہے بلکہ تبصروں کی بجائے تبصرہ نگاروں پر تبصرے کرنے کا رجحان، دانشوران میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ بالفرض محال اگر آپ کے پاس پانچ منٹ سوچنے کا وقت ہے تو “تنی منٹی” آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ تبصرہ اصل میں ایک اعلی نسل کی “چول” کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ تبصرے کا مقصد صرف دوسرے فریق کو زچ کرنا تھا ۔

لیکن یہ حیرت کا دور ختم ہونے سے پہلے ہی اس یک سطری “چول” پر چھ سو چونسٹھ الفاظ پر مشتمل ایک عدد تبصرہ وارد ہو جاتا ہے اور جواب آں غزل کی صورت میں ایک “چوندی چوندی” یک سطری “چول” پھینک کر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا بلاگی دانشور منہ پھاڑ کر قہقہہ لگاتا ہے۔ مجھے یک سطری دانشوران کی نسبت چھ سو چونسٹھ الفاظ والے تبصروں پر دکھ ہوتا ہے، کیونکہ یک سطری دانشوران کی مثال ایسے دیکھنے والے کی طرح ہے جو دیکھ کر کچھ نہیں دیکھتا اور سن کر بھی کچھ نہیں سنتا، جس تبصرے کا مقصد ہی زچ کرنا مقصود ہو اُس پر اپنی توانائیاں ضائع کرنے کا فائدہ، کیونکہ پنجابی میں کہتے ہیں کچھ لوگوں کا “کاں” ہمیشہ چٹا ہی رہنا ہے، لہذا تسی احتیاط کرو۔ کیچڑ سے بچ کر چلنے سے ہی کپڑے صاف رہ سکتے ہیں “چھال” مارنے سے نہیں ۔

گوگل کو اردو سکھائیں

May 30, 2010
از :  
زمرات: کمپیوٹر, اردو

میرے دو دوستوں کے ہاں چند دن کے وقفہ سے بیٹے پیدا ہوئے، اب دونوں کی عمر ماشااللہ تقریباً ڈیڑھ سال کے قریب ہے ۔ لیکن ایک ہی عمر کے ہونے کے باوجود پہلی دفعہ ملنے والا شخص فوراً ایک فرق محسوس کرتا ہے، کہ ایک بچہ فر فر نا صرف اردو بلکہ چند جملے انگریزی کے بھی بول سکتا ہے، جبکہ دوسرا صرف ابھی اماں اور بابا کے علاوہ کوئی مکمل جملہ ادا نہیں کر سکتا ۔ اس کی بنیادی وجہ جو سمجھ میں آتی ہے یہی ہے کہ جو بچہ پورے جملے بول لیتا ہے اس کے تین بڑے بھائی بہن ہیں جبکہ دوسرا والدین کی پہلی اولاد ہے، اور اس سے ہر وقت باتیں کرنے والا یا اس کے دماغ میں نئے الفاظ کے ڈیٹا شامل کرنے والے کم افراد ہیں ۔

گوگل نے ابھی حال ہی میں اردو کے لئے ترجمہ کی سہولت مہیا کی ہے، جو فی الحال ابتدائی مراحل میں ہے، اگر آپ اس وقت کسی بھی دستاویز یا ویب صحفہ کا اردو سے انگریزی یا اس کے متضاد ترجمہ کریں تو نہ صرف وہ ترجمہ مجہول ہوتا ہے بلکہ اکثر اوقات دونوں تراجم کے مابین قوسین کے فاصلہ جتنا فرق بھی پایا جا سکتا ہے ۔ مطلب ابھی اس سہولت سے صرف مسکرانے کا لطف حاصل کیا جا سکتا ہے ۔

گوگل نے زبانوں کے مابین مترجم سہولت کا آغاز اقوام متحدہ میں مستعمل چھ زبانوں کو بنیاد بنا کر کیا تھا، اور ان چھ زبانوں کے مابین ایک ہی جیسے مواد کے حصول کے لئے اقوام متحدہ کی لائبریری سے استفادہ لیا گیا تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ ان چھ زبانوں کے مابین ترجمہ کرتے وقت اگر آپ گوگل مترجم کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہیں تو نوے فیصد تک درست ترجمہ حاصل کیا جا سکتا ہے، اور اس ترجمہ کی بنیاد پر آپ ایک زبان سے تقریباً پوری عبارت دوسری زبان میں سمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں ۔

اردو کے لئے یہ سہولت نہیں ہے البتہ ایک مزید سہولت گوگل نے کچھ عرصہ پہلے متعارف کروائی تھی جس کا فائدہ اٹھا کر ہم گوگل کی اردو کو نستعلیق بنا سکتے ہیں۔ اس سہولت کا نام ہے گوگل مترجم ٹول کٹ، جس کا استعمال انتہائی آسان ہے ۔

آپ گوگل ٹول کٹ کی ویب سائٹ پر جائیں اپنی گوگل آئی ڈی جو کہ جی میل یا بلاگ سپاٹ والی آئی ڈی ہے کے ذریعے رسائی حاصل کریں تو جی میل سے ملتا جلتا ایک صحفہ کھل جائے گا ۔


اوپر والی تصویر میں نیا ترجمہ شروع کرنے کے لئے upload کا بٹن دبانے سے ایک نئی ونڈو کھلے گی جو ذیل کی تصویر میں دکھائی گئی ہے ۔

اگر آپ کے پاس کمپوٹر پر کوئی بھی ایسی دستاویز پڑی ہے جسکا ترجمہ آپ کر سکتے ہیں اُسے پہلے والی ترجیح Local File سے upload کیا جا سکتا ہے ۔اس طریقہ سے اگر آپ کے کمپیوٹر یا گھر میں کسی کتاب کا اردو اور انگریزی ترجمہ موجود ہے تو اس کو گوگل پر upload کر دینے سے کافی سارا کام ویسے ہو جائے گا۔

دوسری ترجیح Web Page کی ہے، جسے کم از کم اردو بلاگ دانوں کو ضرور استعمال کرنا چاہیے، یہاں آغاز کے طور پر آپ اپنے بلاگ کی تحریروں کا ترجمہ شروع کر سکتے ہیں، اور گوگل سے منظوری کے بعد شائد آپکا اپنا ترجمہ ہی استعمال کیا جائے گا ۔ بالکل اسی طرح اگر آپ انگریزی بلاگ پڑھتے ہیں تو پسندیدہ تحریروں کو اردو میں واپس ترجمہ بھی کر سکتے ہیں، انگریزی بلاگرز بھی اپنے بلاگ کے ساتھ یہی سب کر سکتے ہیں لیکن اس کا امکان کم ہی ہو شائد ۔

سب سے بہتر ترجیح Wikipedia article کے ترجمہ والی ہے، اگر آپ کسی Wikipedia پر موجود صحفہ کا ترجمہ کریں گے تو گوگل اسے Wikipedia پر post to the source پر کلک کرنے سے متعلقہ زبان میں ارسال کر دے گا۔

اسی طرح گوگل Knol پر موجود صحفات کا ترجمہ کر دینے سے بھی گوگل واپس اسے Knol پر ڈال دے گا ۔


ان سب طریقوں میں سے کسی ایک کو بھی منتخب کرنے سے گوگل اصل عبارت اور اس کے متوازی مشینی ترجمہ کو کھول دے گا، جسے پھر آپ آہستہ آہستہ درست کرتے جائیں گے ۔ اس کا مشاہدہ ذیل کی تصویر سے کیا جا سکتا ہے ۔

سب سے بہتر بات یہ ہے کہ جوں جوں آپ تراجم کرتے جائیں گے، آپ کی ٹرانسلیشن میموری بڑھتی جائے گی، اور ایک ہی جملے کا ترجمہ آپکو ہر بار درست نہیں کرنا پڑے گا۔ اسی طرح گروپ بنا کر ترجمہ کرنے سے ایک رکن کے ترجمہ کرنے کی صورت میں سب ارکان کی ٹرانسلیشن میموری بڑھ جائے گی ۔ اصل دنیا میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ فرض کریں آپ اپنے بلاگ کی ایک تحریر کا ترجمہ کرتے ہیں، اب بلاگ کا ہیڈر، سائیڈ بار کا پہلی بار آپکو ترجمہ درست کرنا پڑے گا، لیکن جب آپ دوسری تحریر کا ترجمہ کریں گے تو ان تمام کا جملوں کا درست ترجمہ پہلے ہی درست ہو گا جس کا ترجمہ آپ پہلے کر چکے ہوں گے، اور آپ کو صرف تحریر اور چاہیں تو تبصروں کا ترجمہ ہی درست کرنا پڑے ۔ اسی طرح جب آپ صرف اپنی تحاریر کا ہی ترجمہ کرنا چاہتے ہوں، اور تبصروں کو چھوڑنا چاہتے ہوں تو تحاریر کا ترجمہ مکمل کرنے کے بعد Edit میں جا کر Translation Complete کو منتخب کر سکتے ہیں ۔

دوسرا کام جو بلاگر خواتین و حضرات شائد کرنا چاہیں گے، وہ ٹرانسلیشن ٹول بار کا اپنے بلاگ پر اضافہ کا ہے، جیسا کہ اس بلاگ پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ ایسا کرنے کے لئے اس ربط پر موجود کوڈ کو نقل کر کے اپنے سانچہ میں چسپاں کر دیں ۔ یہاں سے بھی گاہے بگاہے آپ ترجمہ کو بہتر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، کسی تحریر کا ترجمہ کروا کے جب آپ ماوس کو تحریر پر لے جائیں گے تو Suggest a better translation ظاہر ہو جائے گا، اس کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے ۔

اب کتنے عرصہ میں گوگل کا اردو بچہ درست اردو بولنے لگے گا، یہ اس کے بہن بھائیوں یعنی ہم پر منحصر کرتا ہے کہ کتنی جلدی ہم اسکو زبان سکھاتے ہیں ۔

جلن

October 13, 2009
از :  
زمرات: میری زندگی

عرصہ دراز بعد مجھے بخار نے آ گھیرا ہے، اور ایسا وقت چنا ہے جب ایچ ون این ون نامی بَلا سے بندے کا پہلے ہی “تراہ” نکلا ہو ۔ نیویارک کے اطراف میں تین افراد اِس موذی وائرس کا شکار بن چکے ہیں ۔ ویسے بھی بیماری کی حالت میں لوگ شکرانہ بجا لاتے ہیں کہ اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جھڑ جاتے ہیں، سات آٹھ سال بیمار نہ پڑنے سے مجھے شک سا ہونے لگا تھا کہ میں کوئی چھوٹا گناہ کرتا ہی نہیں ۔
بیماری کی حالت اور جیل جانے میں ایک مماثلت اپنے ساتھ وقت گزارنا بھی ہے، جو روزمرہ کے معمولات کے باعث انسان کو کم میسر ہوتا ہے ۔ امریکی جیل خانوں (یہاں خان سے مراد قوم نہیں) متعین مذہبی علماء کے مطابق اسی تنہائی اور یکسوئی کی بدولت انسان کا رجحان مذہب کی جانب زیادہ ہو جاتا ہے جبکہ پاکستانی جیلوں میں کہنے والے کہتے ہیں کہ عادی مجرم بن کر نکلتا ہے ۔
بیمار بھی خدا کے قریب ہوتا ہے اسی لوگ دعا کروانے بھی عیادت کو پہنچ جاتے ہیں،گھر میں بیمار پڑنے اور جیل جانے میں ایک فرق کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا بھی ہے، اس لئے بیماری میں خدا کے قریب ہوتے ہوئے بھی جیل جیسی ذہنی یکسوئی حاصل نہیں ہو پاتی۔ البتہ اس بارے سوچنے کا وقت ضرور مل جاتا ہے کہ میں بیمار ہوا کیوں؟
کافی سوچ بیچار کے بعد معلوم ہوا کہ حسد سے، اوپر تلے کچھ بلاگ ایسے پڑھے جنہوں نے ذہن میں ایک ہی سوال کو ابھارا “یار مُجھ میں کیا کمی ہے؟” لیکن جاننے والے کہتے ہیں کہ کمی کا تو نہیں البتہ فریق مخالف کے ساتھ جو زیادتی ہو گی اُس کا ضرور معلوم ہے، اللہ غارت کرے بورن اندسٹری والوں کو سب راز افشاء کر دئے ۔ البتہ اب اگر کوئی آپ کو “آئی لَوو یُو” کہے، سر راہ “مسز بننے ” کی دعوت دے یا “سکور کردہ سینچری” کے جوش میں میچ کو نشر مکرر سے پہلے اُن کا سوچ لیا کریں جن کے ہاتھ ابھی بیٹ ہی نہیں لگا بقول محبوب عزمی


لڑکی کہاں سے لاؤں میں شادی کے واسطے
شاید کہ اس میں، میرے مقدر کا دوش ہے
عذرا، نسیم، کوثر و تسنیم بھی گئیں
“اِک شمع رہ گئی ہے،سو وہ بھی خموش ہے”

ایسے “بیچارے” جلن سے بیمار ہو سکتے ہیں ۔

لاہور کے شیر

August 24, 2009
از :  
زمرات: متفرق

مزاح لکھنا آسان نہیں ہے، مزاح لکھنے کے لئے انسان کا ڈفر یا پھر رانا ہونا ضروری ہے، ویسے تو بلو یا بلا سے بھی کام چل جاتا ہے ۔
میرے جیسے انسان مزاح میں بھی “گیس پیپر” کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر “بوٹیاں” لے کر مزاح لکھتے ہیں، جیسے میرا ایک تکیہ کلام بلکہ کئی ایک “تکیے” بوٹیوں کی بدولت ہیں، زیادہ تر مزاحیہ بوٹیاں میں نیویارک کے ایک اردو کالم نگار کے کالموں سے اڑاتا ہوں نام یاد نہیں آ رہا اور فی الوقت میرے پاس اخبار موجود نہیں، شائد وجاہت کر کے نام ہے ۔ (وجاہت علی عباسی ۔ ترمیم)
ویسے تو میں نے سُنا ہے کہ پنجابی کے فی البدیہہ واہیات ڈرامے جنہیں مزاحیہ کہہ کر بیچا اور دیکھا جاتا ہے وہ بھی یونس بٹ یا گل نو خیز اختر جیسے لوگوں کی بوٹیاں ہی لگاتے ہیں، جب سے میں نے گل نو خیز اختر کی ٹائیں ٹائیں فِش پڑھی ہے، مجھے یقین ہے یہی بندہ پنجابی ڈراموں کی جگتیں لکھتا ہے ۔
ویسے حقیقت میں مجھے سمجھ بھی انہی کی جگتوں ، معاف کجیئے گا مزاح کی آتی ہے، نہیں تو عطاء الحق قاسمی یا مشتاق احمد یوسفی کے مزاح پر تو ایک دن بعد بلکہ بعض اوقات ہفتہ بھر بعد اُس کی کسی سے تشریح کروا کر ہنسی آتی ہے ۔
دماغی حالت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ ہماری ایک نئی نویلی اردو بلاگر عنیقہ یا انیقہ؟ ناز کی تحریریں پڑھنا شروع کروں تو لگتا ہے سب کچھ سمجھ آ رہا ہے، تحریر کے اختتام تک پہنچ کر تبصرہ کرنے لگو تو دماغ ساتھ چھوڑ جاتا ہے کہ کہا کیا گیا ہے ۔
“اینی وے” مزاح کے لئے میں ابھی ایک ویڈیو کی بوٹی لگا رہا ہوں، کچھ لوگوں کو یہ جگتیں یا چوولیں بھی لگ سکتی ہیں، پر میرا تو ہاسا نکل جاتا ہے عزیزی انکل کی باتیں سُن کر ۔



بیلن ٹائم

February 14, 2009
از :  
زمرات: میری پسند

خود منہ بولتی تصویر 😀

ویلینٹائن نہیں بیلن ٹائن

ویلینٹائن نہیں بیلن ٹائن

اجارہ داری۔

February 1, 2009
از :  
زمرات: اردو

پچھلی ایک تحریر میں، میں نے کہا تھا کہ علم کا فروغ ہی علم کی معراج ہے ۔ہم میں موجود اور بہت سی برائیوں میں ایک برائی علم پر اجارہ داری قائم رکھنے کی بھی ہے ۔ جس کو جستجو ہوتی ہے وہ ضرور اپنا مقام پیدا کر لیتا ہے، لیکن اُس کے راستے کٹھن کر دئے جاتے ہیں ۔ اپنے معاشرے میں نچلے طبقہ سے اوپر تک دیکھ لیں، علم بانٹنے میں کنجوسی برتی جاتی ہے ۔ ورکشاپ میں کام کرنے والے چھوٹے کو اُستاد گُر نہیں بتائے گا کہ وہ اُس کا دستِ نگر رہے، اور اکثر چھوٹے کئی کئی سال اِس مہربانی کی بدولت چھوٹے ہی رہتے ہیں ۔ موسیقار گھرانوں کو دیکھیں،اُستاد جی بڑے چُن کر اپنے شاگرد بناتے ہیں،اور اُس کے لئے بھی سو جتن کرنے پڑتے ہیں کہ اُستاد فلاں اپنی شاگردی میں لے لیں ۔اور تو اور صوفی اسلام کے بارے میں پڑھیں وہاں بھی پیرِ صاحب کسی کسی کو ہی مریدی کا مرتبہ بخشتے ہیں، باقی علم حاصل کرنے والے جوتیاں گھستے رہ جاتے ہیں مگر مرد قلندر کی آنکھ جوہر کو تلاش کر کے صرف اسے ہی علم کا اہل سمجھتی ہے ۔
انٹرنیٹ کو ایک لامحدود دنیا کے نام سے پکارا جاتا ہے، جہاں تھوڑی سی جستجو سے آپ مطلوبہ مقام تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں ۔ ہم لوگوں نے انٹرنیٹ پر بھی اپنی عادات نہیں بدلیں ہیں، وہی دشنام طرازی اور ایک دوسرے کا سہارا بننے کی بجائے ٹانگ کھینچنے کا عمل یہاں بھی جاری ہے، اور انٹرنیٹ پر اردو کمیونٹی اور بھی مختصر ترین ۔ آج سے تین چار سال پہلے انٹرنیٹ پر تحریری اردو میں مکمل ویب سائٹ بی بی سی تھی، اِس کے بعد چند اِکا دکا بلاگ ویب کی زینت بننے لگے ۔ بلاگ سے ایک مربوط کمیونٹی بنانے کا عمل شروع ہوا، پہلے اردو سیارہ اور اُس کے بعد اردو محفل ترتیب دی گئی ۔ اردو محفل کا آغاز اردو بلاگنگ کے لئے تازیانہ ثابت ہوا، اسی کی بدولت آج ویب پر کم سہی مگر بہت سی اردو ویب سائٹس اور بلاگز کا آغاز ہوا ۔ اردو محفل بنانے میں کئی ایک لوگوں کا ہاتھ ہے، جس میں ترجمہ کرنے والے، ترجمہ کرنے والوں کی محنت کو لے کر اسے ایک عملی شکل دینے والے ۔ لیکن سب سے بڑی خصوصیت جو تھی، وہ ایک عدد آزاد مصدر ویب بیسڈ جاوا سکرپٹ پر مبنی اردو ویب پیڈ کا تشکیل دینا اور اسے استعمال کرنا تھا، جو اس سے پہلے اس صورت میں کسی ویب سائٹ پر موجود نہیں تھا، اس ویب پیڈ کی بدولت بغیر کسی اضافی مدد کے صارف ویب پر اردو لکھ سکتے ہیں، بالکل جیسے انگریزی لکھی جاتی ہے، اور اب بیشتر اردو ویب سائٹ میں اِس کا استعمال ہو رہا ہے ۔ اِس ویب پیڈ کے بنانے والے نبیل حسن نقوی جرمنی میں مقیم ہیں، اور “منڈے کھنڈے” نہیں بلکہ خانگی ذمہ داریوں میں گھرے ہیں، بغیر کسی لالچ کے انہوں نے یہ تحفہ اردو کمیونٹی کو دیا ۔
لیکن جناب چین کہاں تھا، یہاں بھی رونا ڈال دیا گیا وہی بچوں کی طرح “سر اِس نے چیٹ کیا ہے”، اِس رونے کی تفصیل ایک عدد بلاگر پہلے بھی لکھ چکے ہیں، لیکن چونکہ لکھ کر مٹانے کی عادت ہے،اِس لئے وہ دیکھا نہیں جا سکتا ۔ رونے کی مختصر داستان یوں ہے کہ ایک عدد ویب سائٹ پر ایسا ویب پیڈ استعمال ہو رہا تھا، لیکن ایسی صورت میں جیسے اب ہر سائٹ پر ہے ویسے نہیں، بلکہ اجارہ داری کی طرز پر کہ ہماری سائٹ پر آؤ، وہاں بھی دوسری جگہ جاؤ، وہاں عبارت لکھو، کاپی کر کے واپس آؤ اور پھر پیسٹ کرو ۔ویب سائٹ کے منتظم صاحب سے التجا کی گئی کہ صاحب اِسے عام کر دیں، جس پر انہوں نے انکار کر دیا، جو اُن کا حق تھا ۔ اُسی ویب پیڈ سے متاثر ہو کر نبیل نے کچھ عرصہ بعد موجودہ ویب پیڈ بنا کر عام کر دیا، تو ایڈمن صاحب کی ویب پر اردو کی اجارہ داری ختم ہوتی نظر آئی، انہوں نے بیان کردہ بلاگر کو جس کا ویب پیڈ سے تعلق ہی نہیں تھا، کو ای میل کھڑکا دی کہ “تُسی چور او”، فلاں ہو وغیرہ وغیرہ ۔
آج اِس بات کو چار سال گزر چکے ہیں، لیکن موصوف کا رونا ختم نہیں ہوا ۔ القمر آن لائن کا میں گاہے بگاہے مطالعہ کر لیتا تھا، ایک دن وہاں گیا تو وہاں بھی تبصروں میں ایک دوسرے کے خلاف جنگ چھڑی ہوئی تھی، اور کچھ لکھنے والوں کی طرف سے کہ ہمارا القمر سے کوئی تعلق نہیں ہم نے ڈیڑھ اینٹ کی اپنی مسجد عالمی اخبار کے نام سے بنا لی ہے، وہاں مِلو ۔ میں وہاں ملنے گیا اور ہم سے ملئے میں مندرجہ ذیل عبارت

یہ جو آج جگہ جگہ ویب بیسڈ اردو رائڑرز دستیاب ہیں ان سب کا باوا آدام دراصل اردو پیڈ ہی ہے۔ کچھ لوگ اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں، اور کچھ لوگ بھول بھی جاتے ہیں۔ مگر انہیں اس بات کا کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہے،ان کا کہنا ہے کہ چلیے کسی حال میں سہی اردو کا نام تو سر بلند ہو رہاہے۔ ہماری خیر ہے۔

صاحب آپ نے تو انکار کر دیا تھا اسے عام کرنے سے، اب کھمبا کِس لئے نوچ رہے ہیں؟ آج اردو سیارہ پر عالمی اخبار کی تحریر دیکھی ۔ پتہ نہیں جنگ، بی بی سی، اردو پوائنٹ بلاگرز کو سیارہ پر جگہ نہیں ملی، عالمی اخبار کے بلاگرز کو خصوصی رعائت؟
ویسے حیرت کی بات یہ ہے کہ عالمی اخبار میں پیش کردہ اقتباس میں جس باوا آدم کا ذکر ہے، اُس کی بجائے نبیل کے کاکے کا استعمال بھی دھڑا دھڑ کیا جا رہا ہے ۔
میں بہت معذرت کے ساتھ یہ تحریر ارسال کر رہا ہوں، میں ہمیشہ اِس بات پر کاربند رہا ہوں کہ اردو ویب سائٹس یا ان کے چلانے والوں کے خلاف کچھ نہ کہا جائے، پہلے ہی چھوٹی کمیونٹی اوپر سے لوگ بدمزہ ہو جاتے ہیں ۔ لیکن بعض اوقات سند کے لئے لکھنا پڑتا ہے، انہی بعض اواقات میں یہ تحریر شامل ہے ۔

یاہو گروپ

January 23, 2009
از :  
زمرات: کمپیوٹر, اردو

یاہو گروپس، ایک جیسے خیالات رکھنے والے لوگوں کے میل ملاپ کا اچھا ذریعہ ہیں ۔ دیار غیر میں وطن کی محبت ویسے ہی جاگ جاتی ہے، سو امریکہ آنے کے بعد فارغ وقت گزارنے کے لئے میں درجنوں گروپ میں شمولیت اختیار کر لی ۔ ایچ ٹی ایم ایل سیکھنے کا “اُشکل” بھی انہیں گروپس کی بدولت جاگا ۔

ہاہو گروپس
پھر وہی جو ہوتا ہے، وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ ترجیحات بدلتی گئی، گروپس سے فورمز اور پھر آخری چھلانگ بلاگ پر لگائی، تب سے “مجازی زندگی” جمود کا شکار ہو گئی ۔ پھر جیسے جیسے بڑھاپا طاری ہوتا ہے، انسان کو اپنا بچپن یاد آنے لگتا ہے ۔ لیکن بڑھاپے کا تجربہ آپ بچپن پر لاگو کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ ہم نے بڑھاپے کا تجربہ مطلب یونیکوڈ اردو کا تجربہ اِن گروپس پر کرنے کی کوشش کی، تو پتہ چلا کہ تمام منتظم محنت سے تیار کی گئی ایچ ٹی ایم ایل ای میل کو غیر متعلقہ خانے سے آگے نہیں جانے دیتے ۔ بڑھاپے میں جوانی کا جوش امڈ آیا اور میں نے ایک عدد گروپ یونیکوڈ اردو میں بنانے کا ارادہ کیا، جہاں تصویری اردو کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جائے ۔ لیکن جیسا کہ سیانوں نے کہا ہے، غصہ عقل کو کھا جاتا ہے، وہی ہوا ، یاہو گروپس کے صحفہ اول پر ہی یونیکوڈ سپورٹ موجود نہیں تھی ۔ اور ہم اپنا سا منہ لے کر بیٹھ گئے ۔
بچوں اور بوڑھوں میں ایک فرق یاداشت کا بھی ہے، بچہ کہ یاداشت وقتی ہوتی ہے، اسے وقت پر بہلا پھسلا لیا جائے تو وہ بات اس کے ذہن سے محو ہو جاتی ہے ۔ لیکن بوڑھے جوانی کے عشق کو بھولتے ہی نہیں ہیں ۔ دو تین دن پہلے میں نے دوبارہ اپنا یاہو کا اکاونٹ دیکھا اور وہاں روز جو دھڑا دھڑ ای میلز آتی ہیں، ان کا سدباب کرنے کا سوچا، وہاں میرا بنایا ہوا معصوم ننھا منا سا گروپ بھی موجود تھا، جس کا اکلوتا رکن ہونے کا اعزاز بھی مجھے حاصل ہے ۔ لیکن یاہو نے اپنے گروپس کو ازسرنو ترتیب دیا ہے، جس کی وجہ سے اب گروپ کے مرکزی صحفہ پر بھی اردو تحریر لکھی جا سکتی ہے ۔
ازسرِنو اس گروپ کو تشکیل دیا ہے، اور اس تحریر کے ذریعے اس کی مشہوری کر رہا ہوں ۔ گروپ کا اولین مقصد یونیکوڈ اردو کا فروغ ہے، آپ شاعری،نثر،تصاویر کچھ بھی ارسال کر سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ جو مشکلات ایک نئے صارف کو پیش آتی ہیں، ان کے بارے میں بھی یہاں بات چیت کرنے کا ارادہ ہے، جیسے کہ اردو میں ای میل کیسے کریں؟ اردو بلاگز کے متعلق سوالات اور ان کے جواب وغیرہ ۔
میرا خیال ہے کافی مشہوری ہو گئی ہے، اوہ ہاں نیچے دیے گئے خانہ سے گروپ میں شمولیت اختیار کی جا سکتی ہے ۔


اردو عبارت گروپ شمولیت

اردو عبارت گروپ شمولیت

سالِ نو مبارک

January 1, 2009
از :  
زمرات: میری زندگی

ہر سال کی طرح ۔۔

آنکھوں کو حسیں خواب دیے اور چلا گیا
یادوں بھرے عذاب دیے اور چلا گیا
اس سال نے بھی مجھ کو بہاروں کے نام پر
کچھ کاغذی گلاب دیے اور چلا گیا۔

ریحان طائر

نئے سال کی پہلی دُعا ۔۔

ایک اُس کے سِوا
میں نئے سال سے
اور تو کچھ نہیں
کچھ نہیں مانگتا

مرتضٰی اشعر

خبر باقی ہے ۔

December 31, 2008
از :  
زمرات: پاکستان, نیو یارک, اردو

ماوراء نے یہاں اردو اخبارات کے متعلق لکھا ہے ۔اردو اخبارات میں خبروں کے معیار کے علاوہ جو چیز مجھے سب سے زیادہ سے زیادہ تنگ کرتی ہے، وہ خبر کا نا مکمل ہونا ہے ۔ آپ کوئی جناتی قسم کی سرخی پڑھ کر خبر کی تفصیل پڑھنا چاہیں، تو آ جاتا ہے کہ بقیہ نمبر ۳۶ صحفہ نمبر ۷ ۔

اردو  اخبارات

انسان اخبار کم پڑھتا ہے اور ورق الٹ الٹ کر ورزش زیادہ کرتا ہے ۔پاکستان میں تو چلو انگریزی اخبارات بھی اسی ہی قسم کے ہوتے ہیں ۔ لیکن یہاں نیویارک میں چھپنے والے اخبارات میں دو اضافی خوبیاں بھی موجود ہیں ۔ پہلی کہ خبروں کے علاوہ کالم بھی بقیہ کر کے پڑھنا پڑتے ہیں۔ دوسری بات کالم نویس حضرات کی اپنی مشہوری کی بھونڈی کوشش۔ آپ اندازہ کریں اخبار میں سے ایک کالم آپ امریکی انتخابات پر پڑھ رہے ہیں، تھوڑی دلچسپی قائم ہوئی نہیں تو ایسے جملہ آ جاتا ہے ، باراک حیسن اوبامہ کی نئی کابینہ سے اہم توقعات کی امید ہے، اس کالم پر تبصرہ کے لئے cloumn-nigar@yahoo.com پر اپنی آراء بھیجیں ۔ ہیلری کلنٹن کو انتظامیہ ۔ ۔ ۔
مجھے تو آج تک یہی سمجھ نہیں آئی کہ مکمل خبر ایک ہی جگہ دینے سے کیا اخبارات بکنے کم ہو جائیں گے؟

اردو میں الف

December 17, 2008
از :  
زمرات: پاکستان, اردو

جب آپ پنجاب سے کراچی جائیں اور بتیاں دیکھنے کے شوق میں کسی ایک بھی ہورڈنگ بورڈ اور اشتہارات کو پڑھے بغیر نظر سے اوجھل مت ہونے دیں تو ایک اضافی “الف” سے (پنجابی کم از کم اسے اضافی سمجھتے ہیں) سے آپ کا واسطہ پڑے گا ۔

ہر وہ لفظ جو انگریزی حرف “S” سے شروع ہوتا ہے کو لکھتے وقت کراچی میں الف سے اور پنجاب میں “س” سے شروع کرتے ہیں مثلاً پنجاب میں سکول کراچی جا کر اسکول بن جاتا ہے، سٹیٹ کراچی میں اسٹیٹ اور سنوکر کلب کراچی میں اسنوکر کلب بن جاتا ہے ۔

حتیٰ کہ پنجاب میں درسی کتب میں بھی اس اضافی الف کو نہیں لکھا جاتا، اس بارے میں قاعدہ قانون کیا کہتے ہیں؟

پچھلا صفحہ »