امریکی حملہ ۔

June 13, 2008
از :  
زمرات: پاکستان, امریکہ

رواں ہفتہ میں امریکی طیاروں اور زمینی دستوں کی جارحیت سے پندرہ پاکستانی اہلکار شہید ہو گئے، تو جیسے پاکستان کے بلاگستان پر ایک بھونچال سا آ گیا ہے۔

لیکن میرا ایک سادہ سا سوال ہے، پچھلے دو سال میں تقریباً ایک ہزار کے قریب پاکستانی اہلکاروں نے اِس جنونی جنگ میں جامِ شہادت نوش کیا ہے، اُن کی شہادت کو بھی فتوؤں کے ذریعے متنازعہ بنایا جاتا رہا، اسلام کے نام پر اُن کے گلے کاٹ کر انٹرنیٹ پر ویڈیوز جاری کی گئیں ، تب اُن شہادتوں پر  ایسا ردعمل دیکھنے میں کیوں نہیں آیا؟

پندرہ جوانوں کی شہادت پر مُلک کی سالمیت پر خطرات سے آگاہ کرنے والے پہلی ہزار شہادتوں پر خطرہ محسوس کیوں نہیں کر پائے؟

ایک سوال

April 20, 2008
از :  
زمرات: میری زندگی, مذہب

ایک سوال ہے جو گھوم پھر کر کسی نہ کسی صورت، کہیں نہ کہیں مجھ سے پوچھ لیا جاتا ہے ۔ میرا نہیں خیال کہ یہ صرف حالت صرف مجھ اکیلے کی ہے، آپ لوگ بھی یقیناً ایسی صورتحال دیکھ چکے ہوں گے ۔
میرا پھوپھو زاد بھائی آج کل امریکہ یاترا کو آیا ہے، ایک ماہ کے کے لئے ۔ جب اس طرح لوگ امریکہ گھومنے پھرنے آتے ہیں تو ساتھ ایک عدد فہرست بھی لاتے ہیں کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ مقامات دیکھ سکیں ۔ اُس کو بھی کسی نے کہا تھا کہ اگر نیویارک جاؤ تو اٹلانٹک سٹی دیکھے بغیر نہیں آنا ۔
ہم آٹھ سال سے امریکہ مقیم ہیں، اور میں اس عرصہ میں کبھی اٹلانٹک سٹی نہیں گیا، حالانکہ میرے دوست جاتے رہتے ہیں، وجہ یہ نہیں کہ مجھے گھومنے پھرنے کا شوق نہیں ہے، بلکہ اس سے زیادہ یہ ہے کہ مجھے ایسی جگہوں پر کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی ۔ اگر گھومنے جانا ہو تو میری زیادہ تر کوشش ہوتی ہے کہ قدرتی نظاروں والی جگہ پر جایا جائے ۔
اٹلانٹک سٹی میں کیسنو ہیں، اور یہی اس کی شہرت کا باعث ہیں۔ لوگ امیر ہونے کے خواب لے کر جاتے ہیں اور جو کچھ لے کر جاتے ہیں، وہیں خرچ کر واپس آ جاتے ہیں ۔ میں نے ازراہ مذاق اپنے کزن کو کہا کہ میں جوا خانے نہ جاتا ہوں نہ لے کر جاتا ہوں ۔ تب اُس نے آگے سے یہ بات کہہ دی کہ تم جیسے پانچ وقت کے نمازی ہو، جو اب بڑے مسلمان بن رہے ہو ۔
ایسی صورت میں آپ کا کیا جواب ہو گا؟ میرا جواب تو یہی تھا کہ جو کام میں نہیں کرتا، اُس پر مجھے افسوس ہے لیکن جن کاموں سے میں بچ سکتا ہوں، اُن سے ضرور بچتا ہوں ۔

ابراہم لنکن کے خط کی نیلامی

April 3, 2008
از :  
زمرات: نیو یارک, امریکہ

آپ نے سُنا ہو گا کہ الفاظ بہت قیمتی ہوتے ہیں، لہذا انہیں برتتے وقت اختیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ لیکن کیا آپ اس بات کا درست اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کے الفاط کتنے قیمتی ہیں؟
آج نیویارک میں ابراہم لنکن کے ایک خط کی نیلامی ہو رہی ہے، خط میں کل چھیاسی الفاظ ہیں اور امید ہے کہ اس کے نیلامی سے تقریباً پانچ ملین ڈالر تک کی آمدن ہو گی ۔یہ خط ابراہم لنکن نے اٹھارہ سو چونسٹھ میں کنکارڈ، میساچیوسٹ کے سکول کے ایک سو پچانوے بچوں کی درخواست ” تمام چھوٹے بچے جو غلام ہیں کو آزاد کیا جائے” کے جواب میں لکھا تھا ۔
ابراہم لنکن کی فروخت ہونے والی دستاویزات میں سے اب تک اس خط کی قیمت سب سے زیادہ ہے ۔

« اگلا صفحہ