ڈالر کا نشہ

August 18, 2009
از :  
زمرات: امریکہ

کہنے والے کہتے ہیں کہ ڈالر میں نشہ ہے، ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہتے۔
میساچیوسٹ یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق تقریباً نوے فی صد ڈالر کے نوٹوں پر کوکین کی مقدار پائی جاتی ہے ۔ دارلحکومت مطلب واشنگٹن ڈی سی یہاں سرِ فہرست ہے جہاں ۹۵ فیصد نوٹوں پر کوکین کی مقدار پائی گئی جبکہ سالٹ لیک سٹی جہاں مورمن عیسائیوں کی اکثریت ہے وہاں سب سے کم مقدار میں کوکین نوٹوں پر پائی گئی ۔
چلو ڈالر کی قیمت گرِ رہی ہے، کوکین کی قیمت کم ہونے کا اندیشہ کم ہے ۔ میں تو ذرا اپنے ڈالر دھو کر کوکین علیحدہ کر لوں، کل کا کسے پتہ ۔
ویسے سب سے شریف پیسہ جاپان کا نکلا ہے، جہاں یہ مقدار بارہ فی صد کرنسی نوٹوں پر پائی گئی ہے ۔

الجہاد فی النار

February 11, 2009
از :  
زمرات: امریکہ

آسٹریلیا کے جنگلوں میں آگ لگی، بہت سے دائیں بازو کے بلاگز اور ویب سائٹس اور ریڈیو اسٹیشنز نے ملبہ ایک بار پھر مسلمانوں پر گرا دیا ہے ۔
اِن دائیں بازو کے حامیوں سے اگر مسلمان کی تعریف پوچھی جائے تو شائد کچھ یوں ہو گی ” ایسا شخص جو دن میں چوبیس گھنٹے، ہفتہ میں سات دِن اور سال میں تین سو پینسٹھ دِن غیر مسلموں کو قتل کرنے کے منصوبہ جات تیار کرتا رہتا ہے” اور مسلمان کی خصوصیات میں “ہر مسلمان دنیا کے دوسرے مسلمانوں کو نام سے جانتا ہے”، ” تمام مسلمان عربی پر عبور رکھتے ہیں” اِس لئے تمام دہشت گرد ویب سائٹ پر عربی میں ہدایات لکھی ہوتی ہیں، پھر جتنے مغربی ممالک میں مسلمان آباد ہیں وہ ایک “جامعہ منصوبہ بندی کر کے یہاں آباد ہوئے ہیں” ۔
اور سب سے زبردست، ماڈریٹ مسلم صرف وہ ہے، جو قرآن کی تعلیمات کو خاطر میں نہ لاتا ہو ۔ باقی جتنے مسلمان قرآن کی تعلیمات کو حق، سچ مانتے ہیں وہ مسلمان، دہشت گرد کے سِوا کچھ اور نہیں ہو سکتے ۔
ویسے یہ نام نہاد دائیں بازو کی قوتیں، مغربی طالبان ہیں، اور اِن کی ہرزہ سرائیوں کے شر سے اللہ آسٹریلیا میں مقیم مسلمانوں کو مخفوظ رکھے ۔

فرق

February 8, 2009
از :  
زمرات: متفرق

امریکہ میں ایک مہاجر کا بیٹا صدر ہے، پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں آنے والے لٹے پٹے ہموطن بھی “باہر والے” ہیں ۔

Super bowl

February 1, 2009
از :  
زمرات: English, کھیل

It is super bowl weekend in United States today, apart from being biggest sports event in country, many other things are associated with super bowl event only, like expensive TV commercials, it costs million bucks for 30 seconds to advertisers this year, also controversy in commercials is  associated with super bowl, an organization named PETA which is pro vegetarian organization wanted to put their commercial which says if you eat meat, you wont be good at sex, PETA is notorious for putting such commercials and most of them are sex-meat-related commercials.
Eating meat and stake parties are also considered part of watching the game, but more interesting is about violence against women during super bowl game, either myth or truth, it is believed during super bowl there is increase in violence against women, by their loved ones who can not control emotions during the game, and off course breaking of television is also considered common practice during this event .

تبدیلی

January 28, 2009
از :  
زمرات: پاکستان, امریکہ

امریکہ میں تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے، اس وقت سب سے بڑی تبدیلی وہائٹ ہاؤس کے اندر آئی ہے جہاں لورا بش اور جارج بش کی بجائے براک اوبامہ اور میشل اوبامہ سوتے ہیں ۔ باقی تبدیلیوں کی ابھی صرف امید ہے ۔بین الاقوامی سطح پر “سر منڈاتے ہی اولے پڑے” کے مصداق اوبامہ کے صدر نامزد ہوتے ساتھ ہی اسرائیل نے غزہ پر چڑھائی کر دی،اپنی آبائی ریاست ہوائی میں چھٹیاں مناتے ہوئے اوبامہ سے جب اس بارے استفسار کیا گیا تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ۔جبکہ اِس سے پہلے ممبئی میں دہشت گردی کے واقعہ پر براک اوبامہ کھل کر اِس واقعہ کی مذمت کر چکے ہیں ۔بعد میں بھی غزہ کے حالات پر بات کرتے ہوئے روایتی امریکہ کی طرح اس سب کا الزام حماس کے سر دھر گیا ۔
اِس کے بعد ایک اور بین الاقامی محاذ جو امریکہ کو درپیش ہے” پاکستان” وہاں پر امریکی لائحہ عملی میں جیسے کہ پاکستان کے بہادر وزیرِ اعظم سوچ رہے تھے کہ براک اوبامہ کے آنے سے شمالی علاقہ جات میں امریکی ڈرون حملے بند ہو جائیں گے، یہاں بھی کسی تبدیلی کی توقع نہیں ہے ۔ امریکی ڈیفنس سیکریٹری رابرٹ گیٹس نے سینٹ کے ارکان کو بتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے اندر حملے جاری رکھیں جائیں گے ۔ اور ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے کہ یہ حملے روک دئے جائیں،کیونکہ یہ حملے کافی نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں ۔سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ سینیٹر کارل لِیون نے جب یہ سوال پوچھا کہ کیا حکومت پاکستان کو اس بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے؟ تو رابرٹ گیٹس نے اس کا اثبات میں جواب دیا ۔
اب پتہ نہیں یوسف رضا گیلانی اگلے امریکی انتخابات کا انتظار کریں گے

میرا ایک خواب ہے ۔

January 20, 2009
از :  
زمرات: امریکہ

براک حیسن اوبامہ،سرکاری طور پر امریکہ کے چوالسیویں صدر بن چکے ہیں۔بلاشبہ آج کا دن امریکی تاریخ میں یاد گار کی حثیت رکھتا ہے، امریکیوں پر لگا نسل پرستی کا داغ آج دھل گیا ہے ۔مارٹن لوتھر کنگ کا دیکھا خواب آج امریکہ میں حقیقت بن چکا ہے ۔

امریکہ سے باہر زیادہ لوگوں کو براک اوبامہ کے صدر بننے سے زیادہ خوشی جارج بش کے جانے کی ہے، اور لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جس جادو کی چھڑی کے نہ ہونے کا گلہ بش نے کیا تھا، شائد وہ اوبامہ کے پاس ہو ۔ آج بی بی سی اردو پر قارئین کے تبصرے پڑھ کر ایسے لگا کہ شائد امریکہ میں صدر، پاکستان کے کام سدھارنے کے لئے بنایا جاتا ہے ۔ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں انہیں یہ باور کروانے کی کوشش کروں گا کہ براک اوبامہ امریکہ کا صدر ہے، اور امریکی مفاد ہی اُن کی اولین ترجیع ہے ۔
امریکہ میں قیام کے دوران یہ میرے دوسرے انتخابات تھے، اور حقیقی معنوں میں ۲۰۰۸ کے انتخابات ہی پہلے انتخابات تھے، جس میں نہ صرف میں نے عملی طور پر حصہ لیا بلکہ امریکی انتخابی نظام کو قریب سے سمجھنے کی بھی کوشش کی ۔ان انتخابات کے دوران کئی لوگوں کے لئے میرے دل میں عزت بڑھی، جن میں جان مکین سرِ فہرست ہیں ۔ اس طویل ترین انتہابی مہم کے دوران کئی مراحل ایسے آئے جہاں جان مکین کو اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کی تراکیب بتائی گئیں، لیکن انہوں نے معزر طریقہ اپناتے ہوئے اِن پر کوئی کان نہیں دھرے ۔ اسی وجہ سے جان مکین کو انہی کے حامیوں کی طرف سے جان مک شیم جیسے القابات بھی نوازے گئے ۔ انتخابات کی شام جب براک اوبامہ کی جیت یقینی ہو گئی تو جان مکین کے خطاب نے ان کی عزت اور زیادہ بڑھا دی ۔ اگر مجموعی طور پر پڑے ووٹوں کے تناسب کو دیکھا جائے تو جان مکین نے بش کے آٹھ سالہ دور کی ناکامیوں، خاص طور پر اقتصادی ناکامیاں جو عین انتخابات کے دوران وقوع پذیر ہونا شروع ہوئی تھیں، کے باوجود صرف سات فی صد ووٹوں کے فرق سے الیکشن ہارا ہے ۔یہ کہنا مناسب ہو گا کہ براک اوبامہ کی جیت میں سب سے بڑا ہاتھ سابق صدر جارج بش کا ہے، جیسا کہ سارہ پیلن، انتخابات کے بعد سے کہے جا رہی ہیں ۔
دوسری بات جس سے میں متاثر ہوا ہوں، اس کا تعلق جارج بش اور اقتدار کی منتقلی سے ہے، پاکستان سے تعلق ہونے کی بناء پر ذہن میں ایسا تصور تھا کہ اب اقتدار سونپنے سے پہلے بش، شائد اوبامہ کی راہ میں روڑے اٹکائیں گے ۔ بلکہ کئی کانسپریسی تھیوریز کے مطابق اوبامہ کے حلف لینے سے پہلے پہلے، اسرائیل ایران پر حملہ کر سکتا ہے کا شد ومد کے ساتھ پرچار کیا جا رہا تھا، اور گارڈین کی ستمبر میں آنے والے خبر سے یہ بھی پتہ چلا کہ ایسا ہونا، ناممکن نہیں تھا، لیکن بش انتظامیہ نے اسرائیل کے بار بار پو چھنے کے باوجود اس امر کی اجازت نہیں دی تھی ۔
میرے خیال میں ہمیں ان اوپر دو باتوں سے سیکھنے کی ازحد ضرورت ہے، اول کہ سیاست دشمنی نہیں ہوتی، اور دوسرا انتخابات کے بعد اقتدار کی پرامن منتقلی، بجائے بچوں کی طرح شور مچانے سے کہ “سر اس نے چیٹ کیا ہے ”
بہرحال امریکہ کے سامنے اب نیا افق ہے اور مجھے امید ہے کہ براک حسین اوبامہ توقعات پر پورا اتریں گے، جس میں سرفہرست معاشی صورتحال سے باہر نکلنا ہے ۔براک حیسن اوبامہ کا حلف اٹھانے کے بعد مکمل خطاب یہاں پڑھ سکتے ہیں ۔

امریکی جرگہ

November 20, 2008
از :  
زمرات: نیو یارک, امریکہ

کہتے ہیں دو امور انجام دیتے وقت آپ کو امریکی شہری ہونے کا احساس ہوتا ہے، ایک رائے دہی کا حق استعمال کر کے اور دوسرا منصفی کے فرائض انجام دے کر ۔پچھلے مہینے یکے بعد دیگرے ان دونوں امور سے میرا واسطہ رہا ۔
فرائض منصفی یا عرف عام جیوری ڈیوٹی کی امریکی  انصاف میں کلیدی حثیت  ہے، لیکن اچنبھا تب ہوتا ہے، جب عدالت کی طرف سے آپ کو طلبی کا پروانہ آنا ہے اور آپ اپنے اردگرد جاننے ولے لوگوں سے اس بارے استفسار کریں، تو کوئی درست معلومات نہیں ملتی، لیکن سب ملی معلومات سے آپ ایک نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں، کہ عدالت میں مقدمہ پر دونوں طرف فریقین کے دلائل اور ثبوت دیکھ اور سن کر آپ کو فیصلہ سنانا ہوتا ہے، اور عموماً مقدمہ ایک ہفتہ کے اندر ختم ہو جاتا ہے جو غلط نہیں  لیکن نا مکمل ہے ۔ امریکہ میں دو مختلف قسم کی جیوری عدالتی امور میں فرائض انجام دیتی ہیں ۔

گرینڈ جیوری کا کمرہ

پیٹٹ یا ٹرائل جیوری ۔
یہ وہ جیوری ہے جس کا ذکر شروع میں کیا تھا،یا ایک عام شخص کے ذہن میں عدالت کا جو تصور ہوتا ہے، جس میں ایک جج، دو وکیل، ملزم، گواہ، پولیس اور ثبوت اور ان کے متعلق مباحث اور دلائل موجود ہوتے ہیں، یہ جیوری نیویارک میں نو سے بارہ افراد پر مشتمل ہوتی ہے، جو سب دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہیں، جس کی روشنی میں جج سزا یا رہا کرنے کا فیصلہ سناتا ہے ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ معصوم یا مجرم کا فیصلہ جیوری کرتی ہے نا کہ جج، اور فیصلے کو جج نہیں بدل سکتا، جج قانون کے مطابق اس پر سزا سناتا ہے ۔اور انصاف کے مراحل میں یہ سب سے آخری مرحلہ ہوتا ہے ۔ٹرائیل جیوری صرف ایک مقدمہ سنتی ہے، اور عموماً چار سے پانچ دن میں اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جاتی ہے ۔

گرینڈ جیوری ۔
نیویارک میں گرینڈ جیوری 23 افراد پر مشتمل ہوتی ہے، اور کسی فیصلے پر پہنچنے کے لئے 12 افراد کی حمایت درکار ہوتی ہے، جبکہ کسی بھی مقدمہ پر کم از کم 16 افراد کا موجود ہونا لازمی ہے ۔
ٹرائل جیوری کے برعکس گرینڈ جیوری میں جج، وکیلِ صفائی اور زیادہ تر مقدمات میں ملزم موجود نہیں ہوتا ۔ یہ انصاف کا دوسرا مرحلہ ہے، سب سے پہلے پولیس کسی شخص کو گرفتار کرتی ہے، یا اس کے خلاف ثبوت تیار کرتی ہے، جسے ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس میں بھیجا جاتا ہے، ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس اس مقدمہ پر ایک وکیل کے فرائض لگاتا ہے، جسے پراسیکیوٹر کہتے ہیں ۔ یہ پراسیکیوٹر مقدمہ گرینڈ جیوری کے سامنے پیش کرتا ہے، مقدمہ میں ثبوت اور گواہان اور پولیس افسران جنہوں نے مقدمہ تیار کیا ہے، جیوری کے سامنے پیش ہوتے ہیں ۔ گرینڈ جیوری نہ صرف ان سب کے دلائل اور ثبوت سنتی ہے، بلکہ سوالات پوچھ سکتی ہے، کسی ابہام کی صورت میں مزید گواہوں کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود گرینڈ جیوری مقدمہ میں کسی کو بری یا مجرم نامزد نہیں کر سکتی، بلکہ تمام مہیا کردہ ثبوتوں کی روشنی میں اس بات کا تعین کرتی ہے کہ آیا مقدمہ اس قابل ہے کہ اسے عدالت میں پیش کیا جائے، جہاں پھر ٹرائل جیوری دونوں فریقین کا نکتہ نظر سنے گی ۔ یا پھر مقدمہ کو رد کر دیا جائے، گرینڈ جیوری سے رد کیا جانے والا مقدمہ عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا، اور اگر کسی ملزم کو گرفتار کیا گیا ہو، تو وہ اسی وقت آزاد اور اس پر لگائے الزامات واپس لے لئے جاتے ہیں ۔ گرینڈ جیوری ایک مہینے تک فرائض انجام دیتی ہے، اور اس دوران مختلف مقدمات پر شواہد اور ثبوت دیکھتی ہے ۔

جیورر یا منصف بننے کے مرحلے کا آغاز ایک عدد خط سے ہوتا ہے، جو آپ کو جس ریاست میں آپ میں رہائش پذیر ہیں کے محکمہ انصاف کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے، یہ ایک عام سا خط ہوتا ہے لیکن پندرہ دن کے اندر اس کا جواب دینا لازم ہے، اس خط کے جواب میں آپ اپنی معلومات لکھتے ہیں، اور یہ بتاتے ہیں کہ آیا آپ جیوری ڈیوٹی انجام دینا چاہتے ہیں کہ نہیں؟ اور اگر نہیں تو کیوں، وجوہات میں امریکی شہری نہیں، انگریزی بول اور سمجھ نہیں سکتا، یہ انکار کی سب سے سہل وجوہات ہیں، اگر آپ پر ان کا اطلاق نہیں ہوتا تو پھر آپ دیگر وجوہات کے خانہ میں اپنی معذوری کی وجہ بیان کر سکتے ہیں، جیسے ایک ماں جس پر ۱۲ سال سے کم عمر کے بچوں کی ذمہ داری ہے اس سے مستثنیٰ ہے ۔ مجھے پچھلے پانچ سال سے یہ خطوط آ رہے تھے، پہلے میں امریکی شہری نہیں تھا، بہت سے دیسی دوسری ترجیع کا استعمال بھی کرتے ہیں، لیکن اب یہ اتنی قابل قبول نہیں کہ امریکی شہری بننے کی ایک شرط انگریزی بھی ہے ۔

میرا جیورر کارڈ
یہ کرنے کے بعد آپ جب سب کچھ بھول جاتے ہیں، تو ایک عدد خط اور آ جاتا ہے، لیکن یہ طلبی کا پروانہ ہوتا، جس میں اپنے علاقے کی سپریم کورٹ میں کمشنر آف جیوررز کے آفس میں بقلم خود جانا ہوتا، اس کے لئے بھی آپ کے پاس پندرہ دن ہوتے ہیں ۔وہاں ایک دفعہ پھر آپ اپنی معلومات دیتے ہیں، اور اگر جیوری ڈیوٹی نہیں کر سکتے تو اپنا عذر پیش کرتے ہیں ۔
تیسرے مرحلہ میں پکے وارنٹ مطلب عدالت کی طرف سے طلبی کا نوٹس آتا ہے، جہاں پر دن، وقت اور مقام بتایا گیا ہوتا ہے، اور آپ کس قسم کی جیوری میں فرائض انجام دیں گے لکھا ہوتا ہے ۔
مقررہ دن حاضر ہونے پر، عدالتی عملہ آپ کو خوش آمدید کہتا ہے، میرے ساتھ 150 افراد اور لوگ بھی موجود تھے، سب لوگوں کے آ جانے پر ایک جج فرائض ادا کرنے پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہے، اور گرینڈ جیوری کے متعلق ابتدائی معلومات دیتا ہے، اور پھر جیوری کا چناو کرتا ہے ۔ ہم 150 لوگوں میں سے چھ عدد جیوررز کے پینل بنائے گئے، ہر پینل 23 افراد پر مشتمل تھا، یعنی 12 افراد کو پینل میں نہیں چنا گیا، یہ اضافی لوگ، کسی کے نہ آنے کی صورت میں بلوائے جاتے ہیں ۔چناؤ کے لئے سب کے نام ایک ڈبے میں ڈال کر، باری باری ایک ایک نام نکالا جاتا ہے ۔ ہر پینل باری باری ایک مہینہ تک فرائض انجام دیتا ہے ۔ اس کے بعد جس پینل میں آپ کا انتخاب ہوا ہو، اس کی مقرر کردہ تاریخ پر آپ کو واپس عدالت جانا ہونا ہے ۔
مقررہ تاریخ کو پہلا دن تو صرف ویڈیوز دیکھتے، گزر جاتا ہے، اس کے علاوہ کمشنر آف جیوررز آپ کو فرائض کے بارے میں بتاتا ہے، اور اسکی اہمیت کو انصاف کے حصول کے لئے اجاگر کرتا ہے، ساتھ میں آپ کو ایک عدد کتابچہ فراہم کیا جاتا ہے، جس میں وہی باتیں دوبارہ لکھی ہوتی ہیں ۔
اصل کام اگلے دن سے شروع ہوتا ہے، پراسیکیوٹر، ایک عدد سٹینوگرافر کے ساتھ وارد ہوتا ہے، اور اپنا کیس پیش کرتا ہے، اس کے بعد گواہان کو ایک ایک کر کے سامنے لایا جاتا ہے، جیوری سب کو سنتی ہے، ان کے بیانات کا موازنہ کرتی ہے، مزید سوالات پوچھتی ہے، اور اگر پھر بھی کچھ واضح نہ ہو تو مزید گواہ طلب کر سکتی ہے، لیکن ایسا کرنے کے لئے 12 افراد کی حمایت ہونا لازمی ہے ۔ ایک اور بات جو گرینڈ جیوری میں ہے، فرض کریں پہلا پراسیکیوٹر پہلا مقدمہ لاتا ہے، اور ساتھ ایک گواہ پہلے دن پیش کرتا ہے، لیکن ہو سکتا ہے مقدمہ میں دوسرا گواہ ایک، یا دو ہفتہ بعد آئے، تو مقدمات کو گڈمڈ کرنے کی بجائے گرینڈ جیورر ہر مقدمے کے نوٹس تیار کرتے ہیں، ایک مقدمہ پر تمام ثبوت مکمل ہونے پر، پراسیکیوٹر جیوری سے ووٹنگ کی درخواست کرتا ہے، لیکن جب جیوری ووٹنگ کے مرحلہ میں ہو، تو سوا جیوری کے کسی بھی فرد کو جیوری کے کمرہ میں موجود ہونے کی اجازت نہیں، یہاں سب جیوررز بحث کرتے ہیں، پھر ووٹ دے کر کہ مقدمہ کو آگے بھیجا جائے یا یہیں خارج کر دیا کا فیصلہ کرتے ہیں ۔
اس ایک مہینے میں ہمارے پینل نے 81 مقدمات سنے، اور اسی معاشرے میں رہتے ہوئے جو تصویر آپ کی آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے، کا بغور مشاہدہ کیا ۔جب آپ جیوری روم میں بیٹھے ہوتے ہیں تو اکثر اوقات منظر جذباتی ہوتا ہے، مثلاً ایک مقدمہ ہمارے پاس آیا جس میں ایک لڑکی جب نو سال کی تھی، تب سے اس کا باپ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا، اور اس وقت اسکی عمر 17 سال تھی ۔ اس مقدمہ سے پہلے میں سوچتا تھا کہ جن خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ عدالت کا رخ کیوں نہیں کرتی ہیں؟ اور جواب مقدمہ دیکھ کر مل گیا، کہ انہیں دہری تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ بہت اچھا تجربہ تھا، جہاں آپ کو محسوس ہوتا ہے، کہ ملک کی اصل طاقت عوام کے ہاتھ میں ہے ۔

میرا ووٹ

November 4, 2008
از :  
زمرات: امریکہ

لو مجھے لگتا ہے، میرا پہلا ووٹ ضائع ہو گیا ہے ۔ وجہ بورڈ آف الیکشن کی معلومات ہیں ۔ میں نے کل رات سونے سے پہلے بورڈ آف الیکشن کی ویب سائٹ پر پورے آدھا گھنٹہ ویڈیو دیکھی کہ ووٹ کس طرح ڈالنا ہے ۔ ویب سائٹ پر میرے علاقے میں جو مشین استعمال ہونی تھی، وہ کچھ یوں ہے ۔

جبکہ حقیقت میں جس مشین پر میں نے ووٹ دیا وہ کچھ یوں تھی جیسے کسی پرانے بجلی گھر کا کنٹرول روم ۔ آپ کے سامنے ایک سفید دیوار جیسا پھٹا لگا تھا، جہاں سب سے اوپرپارٹی کا نام لکھا تھا، دوسری قطار میں ان کے نیچے امیدواروں کے نام لکھے تھے، پھر سب سے نیچے لوکل امیدواروں کے نام ترتیب سے لکھے تھے ۔ اور ہر امیدوار کے سامنے ایک جیسے پاکستان میں پنکھوں کی رفتار بڑھانے یا کم کرنے کے لئے ریگولیٹر ہوتے ہیں، ویسا ایک ریگولیٹر بنا تھا۔ میں جا کہ پہلے آرام سے ریگولیٹر گھمانے کی کوشش کرتا رہا، جب نہیں گھوما تو پھر میں نے جس کو ووٹ نہیں دینا تھا، وہاں کوشش کی، مگر ریگولیٹر تھا کہ گھومنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔ پھر زور آزمائی کی، مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ سامنے دیوار پر معلومات پڑھنے کی کوشش کی، تو کوئی سمجھ نہیں آئی ۔ پھر پولنگ بوتھ سے نکل کر باہر کھڑی ایجنٹ کو کہا، میری مدد کرو ۔ اس نے بھی اندر آ کر زور آزمائی کی، پھر کہنے لگی مجھے نہیں پتہ ۔ اچانک کہتی ہے تم نے نیچے لگا لیور دبایا ہے؟ میں حیران کہیڑا لیور ؟

دیکھا تو ایک عدد لیور لگا تھا، جیسے پاکستان میں ریلوے سٹیشن پر ٹرین کی پٹریاں بدلنے کے لئے لگا ہوتا ہے، پہلے اسے بائیں سے دائیں گھمایا، پھر اپنے امیدوار کے سامنے ریگولیٹر کو گھمایا۔ یہ سب کرنے کے بعد میں نے اخیر میں دوبارہ سے لیور کو بائیں سے دائیں کر دیا، تو جس امیدوار کو چنا تھا، اس کے سامنے سے ڈبا ہٹ گیا ۔اب مجھے یہ فکر ہے کہ ووٹ ڈل گیا ہے کہ نہیں؟

سب سے مزے کی بات یہ کہ جب میں تنگ آ کر باہر نکل گیا، تو نکلتے ہی سامنے ہدایات لکھی تھیں کہ مشین کیسے استعمال کرنی ہے ۔لیکن میں واپس بوتھ میں نہیں جا سکتا تھا ۔

بہرحال اگر ایسی مشینیں پاکستان میں ہوں، تو دھاندلی والوں کے مزے ہو جائیں، اور مجھے بورڈ آف الیکشن پر غصہ ہے کہ دکھایا کچھ اور تھا کچھ اور۔ میں تو رات خواب میں بھی ویڈیو والی مشین پر ووٹ دیتا رہا تھا ۔

دوسری بات میں اس دفعہ الیکشن میں لگی قطاریں دیکھ کر حیران ہوا ہوں، نیویارک میں ویسے بھی اوبامہ جیت جائے گا، اس کے علاوہ اتنی لمبی قطاریں، جبکہ پچھلے الیکشن میں ایسا کوئی چکر نظر نہیں آیا تھا، ہمارے گھر کے سامنے سکول میں ووٹنگ تھی، اور قطار سکول سے باہر پورے ایک بلاک پر محیط تھی ۔ کیمرہ ہوتا تو ضرور تصویر بنا کر لگاتا، کیونکہ بہت سے لوگ تو پولنگ سٹیشن کے اندر بھی تصاویر اتار رہے تھے، آخر کو فلکر پر جو لگانی ہیں ۔

انتخاب

October 31, 2008
از :  
زمرات: امریکہ

امریکہ میں انتخابات میں چار روز رہ گئے ہیں، اور بش اب بس ایک نگران صدر ہی رہ چکے ہیں ۔ میرے لئے انتخابات میں شروع میں فیصلہ کرنا اتنا مشکل نہیں تھا، کہ میرا خیال تھا ہیلری کلنٹن آخری مرحلہ میں بھی امیدوار ہوں گی،  لیکن یہ ہو نا سکا اور تب سے میں اس کشمکش میں تھا، کہ کس کے ہاتھ پر “بیعت” کروں۔ کچھ عرصہ یہ بھی سوچا، چلو مٹی پاؤ، چھڈو نہیں ڈالتے ووٹ، کونسا میرے ووٹ سے کوئی فرق پڑ جانا ہے، تب مجھے پاکستان کے انتخابات یاد آئے جہاں میں سب کی مخالفت کے باوجود لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر اکساتا رہا ۔ اس کے علاوہ آخرت میں اس سوال کا بھی جواب کہ ۲۰۰۸ میں تم نے ووٹ کیوں نہیں ڈالا؟ویسے بھی امریکہ میں یہ ایک عہد ساز انتخابات ہیں، اس لئے بھی پیچھے نہیں ہٹا جا سکتا۔
باراک حیسن اوبامہ
پاکستان میں یہ مرحلہ بڑی آسانی سے طے ہو جاتا ہے، عموماً آپ کی بجائے آپ کی برادری فیصلہ کرتی ہے کہ “ووٹ کِنوں پانڑا اے” ، مجھے کبھی اس مرحلہ سے تو گزرنا نہیں پڑا، لیکن چشم دید گواہ ضرور رہا ہوں، پاکستان میں ووٹ ڈالنے سے پہلے ہم امریکہ منتقل ہو گئے، پچھلے انتخابات میں میرے پاس شہریت نہیں تھی، سب باتوں کی ایک بات کہ زندگی میں یہ میرا پہلا ووٹ ہو گا، اگر پرائمری الیکشن ملائے جائیں تب دوسرا ۔پہلے ووٹ کے مرحلے پر میں نے سوچا کم از کم مجھے ووٹ سے پہلے تحقیق کر لینی چاہیے کہ دونوں جماعتوں کے نظریات کیا ہیں، اور میرے نظریات کس کے زیادہ قریب تر ہیں، اور پھر سب کچھ خراب ہوتا گیا ۔ کیوں کہ بیشتر معاملات میں یا تو میرے نظریات ریپبلکن پارٹی سے ملتے تھے یا قریب تر تھے ۔اس کے باوجود میں ریپبلکن کو ووٹ نہیں دے رہا ہوں، وجہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کی مثال ہے ۔ آپ نے ضرب مثل سُنی ہو گی کہ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے، اور ریپبلکن پارٹی کے دوستوں (ٹالک ریڈیو) نے مجھے متنفر کیا ہے ۔

سو ان سب باتوں کی ایک بات، میں ۴ نومبر ۲۰۰۸ کو براک حسین اوبامہ کو ووٹ دوں گا ۔ ووٹ ڈالوں کس وقت، اس بات کا تعین کرنا ہے، پرائمریز میں رات کے آٹھ بجے ووٹ ڈالا تھا، ابھی بھی ہجوم سے پہلے یا چھٹننے کے بعد کا انتظار کروں گا ۔

ہریکین سارا ۔

September 4, 2008
از :  
زمرات: امریکہ

امریکی انتخابات میں روز بروز بدلتی صورتحال میں اب تک سب سے بڑا طوفان گورنر سارا(سیرہ) پیلن کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔ اب تک کی مہم میں جان مکین کا سب سے اہم اور درست فیصلہ ہے، جب سے امریکہ میں انتخابی مہم کا آغاز ہوا ہے، میڈیا نے جان مکین کے ساتھ یتمیوں والا سلوک ہی روا رکھا ہے، حتیٰ کہ فاکس نیوز جیسے رپبلکن کے حامی چینل پر بھی زیادہ وقت باراک اوبامہ پر ہی صرف کیا جاتا رہا ہے(بے شک جھوٹا پراپیگنڈہ ہی ہو) ۔اسی پر پہلے بھی میں نے لکھا تھا کہ یوں لگتا ہے کہ مقابلہ باراک اوبامہ اور ہیلری کلنٹن کے مابین ہے، نا کہ ڈیموکریٹک کا ریپبلکن سے، لیکن سارہ پیلن کی نامزدگی کے بعد سے جو کوریج جان مکین کی انتخابی مہم کو نہیں مل رہی تھی، وہ حاصل ہو گئی ہے، اور جس اخبار میں جان مکین چوتھے صحفہ پر ہوتا تھا، سارہ پیلن وہاں فرنٹ پیج پر ہے، اور پوری انتہابی مہم میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ باراک اوبامہ سے زیادہ کسی کی کوریج کی جا رہی ہے ۔

میں ایک رجسٹرڈ ڈیموکریٹ ہوں اور اپنی زندگی کا پہلا ووٹ میں نے ہیلری کلنٹن کو پرائمری الیکشن میں دیا تھا، ہیلری کے الیکشن سے باہر ہو جانے کے بعد بھی (ابھی تک) مجھے امید ہے کہ میں شاید ڈیموکریٹک کو ہی ووٹ دوں گا، لیکن اس کی وجہ باراک اوبامہ سے زیادہ موجودہ ریپبلکن پارٹی کا ٹولہ (بش، چینی) ہیں ۔ خارجہ امور کے علاوہ داخلی طور امریکہ میں جو ایشوز ہیں(ٹیکسز، ہم جنسوں کی شادی، ابارشن وغیرہ وغیرہ )، میرا موقف ان پر ڈیموکریٹک کی نسبت ریپبلکن کے زیادہ قریب ہے، اور پچھلے الیکشن سے پہلے تک مسلمانوں کی بھاری اکثریت ریپبلکنز کی ہی حمایت کرتی رہی ہے ۔

باراک اوبامہ کے جادو میں پتہ نہیں میں کیوں مبتلا نہیں ہو پا رہا ہوں، باراک اوبامہ تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے ہیں، لیکن جہاں پہلے وہ تبدیلی لا سکنے کی پوزیشن مطلب سینٹ میں تھے وہاں انہوں نے ہاں یا نہیں کی بجائے سکول کے بچوں کی طرح ایک سو تیس بار “حاضر جناب” کہنے پر ہی اکتفا کیا ہے، اور سینٹ میں کوئی موقف نہ اپنانے والوں میں سرفہرست رہے ہیں ۔
پھر دوسرا واقعہ جس پر میں اوبامہ سے انتہائی متنفر ہوا ہوں، وہ ان کا اپنے چرچ اور پادری سے لا تعلقی کا اظہار تھا، باراک اوبامہ کا جب تک یہ موقف رہا ہے کہ جرمایاہ رائٹ یا ان کے چرچ کے جو بھی خیالات ہیں ضروری نہیں کہ وہ بھی ان سے متفق ہوں، اور جب یہ مسلہ عروج پر تھا تو اوبامہ نے خاص طور پر تقریر کی تھی کہ جیسے میں اپنی دادی سے لا تعلقی اختیار نہیں کر سکتا ویسے ہی میں جس چرچ اور پادری کو بیس سال سے جانتا ہوں اس سے بھی لاتعلق نہیں رہ سکتا، لیکن جب تنقید کا زور بڑھا تو دو ہفتوں میں ہی دونوں سے اپنے لاتعلق ہونے کا اعلان کر دیا ۔ مطلب یہ کہ اپنے مطلب سیدھا کرنے کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، میں اس معاملے میں اوبامہ کے پہلے موقف سے متفق تھا، لیکن دوسرے سے ہرگز نہیں اور اگر ایسا ہی تھا تو اس موقف کو اپنانے میں بیس سال کا عرصہ چہ معنی دارد؟
اس کے علاوہ جوزف بڈن کے ساتھ مشترکہ ٹکٹ سے کونسی خارجہ امور میں تبدیلی آئے گی، جو بڈن پچھلے پینتیس سال سے سینٹر ہیں اور خارجہ امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، مطلب پچھلے پینتیس سال سے آزمودہ پالیسی کے ساتھ تبدیلی کا خواب؟

باراک اوبامہ کے حامی افراد پتہ نہیں سارہ پیلن کے نا تجربہ کار ہونے کا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ باراک اوبامہ کا تجربہ ایک سوانحی خاکے پر مبنی کتاب اور دو سال سینٹ میں “حاضر جناب” کہنے سے کہیں زیادہ تجربہ ایک شہر کا دو دفعہ میئر اور امریکہ کی سب سے مقبول گورنر (الاسکا میں پیلن کا اپرول ریٹ اسی فی صد) کا ہے ۔ یہ دونوں عہدے انتظامی ہیں، برعکس اس کے اوبامہ کا کسی انتظامی عہدے کا تجربہ صفر ہے ۔ گورنر پیلن کا اتنا ہی تجربہ ہے جتنا اس سے پہلے بہت سے صدور کا جو پہلے گورنر تھے کا تھا ، یہ خصوصیات خاتون ہونے کے علاوہ ہیں ۔

گورنر سارہ پیلن پر ایک اور الزام جو عائد ہوا ہے وہ اس کی سترہ سالہ بیٹی کا بغیر شادی کے حاملہ ہونا ہے، جس ملک میں پچیس سے چالیس فی صد بچے اور افریقن امریکن کمیونٹی میں اسی فی صد بچے بغیر شادی کے پیدا ہوتے ہیں، وہاں یہ الزام؟ اس میں گورنر کیا کر سکتی تھی کہ لبرلز کی طرح بیٹی کو حمل گرانے کا مشورہ دیتی، جس کے وہ خود خلاف ہے ۔میرے خیال میں تو یہ چاہے بیٹی کا یا ماں باپ جس کا بھی فیصلہ ہے کہ جو کیا ہے اس کی ذمہ داری بھی اٹھاو ایک بہترین فیصلہ ہے بجائے کہ سیکس کرو لیکن ذمہ داری کو قریب نہیں آنے دو ۔

لیکن اس سب کے بعد بھی شائد میں اوبامہ کو ہی ووٹ(فی الحال) ڈالوں گا ۔

پچھلا صفحہ »