میرا مدرسہ

August 17, 2009
از :  
زمرات: میری زندگی

سیدہ شگفتہ، اگر آپ انہیں اردو محفل کے توسط سے جانتے ہیں تو یہ اِن کے توجہ دلاو والے اعلانات کو بھی جانتے ہوں گے ۔ فی الوقت اردو بلاگستان پر انہوں نے ہفتہ بلاگستان منانے کی تحریک چلائی ہے، اب کی بار بلاگرز نے اس تجویز کو مان بھی لیا ہے، حیرت ہے ۔

میرا بچپن اور میرا اسکول، کہاں سے شروع کروں کہاں ختم کروں، کیونکہ مجھے تو پہلا دِن بھی یاد ہے جب مجھے بابا محمد خان جو ہمارے گاوں میں چوکیدار تھے کے ہمراہ اسکول بھیجا گیا تھا ، رونے دھونے والی کوئی بات ہی نہیں تھی، اسکول گاوں ہی میں تھا، گھر سے پانچ منٹ کی پیدل ڈرائیو پر، ہم جماعت سارے محلے کے تھے یا پچھلے محلے کے یا سامنے والے محلے کے ۔ آدھی چھٹی پر سب بچے گھر آ کر کھانا کھاتے تھے، اُن میں سے پھر آدھے واپس آ جاتے تھے اور باقی آدھے بیمار پڑھ جاتے تھے ۔
ہمارا اسکول بہترین تھا، اوپن ائیر جس میں عمارت کے نام پر ایک کمرہ تھا، جہاں اسکول کا فرنیچر مطلب اساتذہ کے لئے تین چار عدد کرسیاں پڑی ہوتی تھیں ۔ طالب علم اپنا فرنیچر مطلب ایک عدد بوری، سونا یوریا کا گٹو یا تروڑا اپنے ساتھ لے کر آتے تھے ۔ بارش میں اسکول میں چھٹی ہو جاتی تھی، گرمیوں میں تقریباً سب بچے بارش سے ٹیلکم پاوڈر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پِت (گرمی دانے) ختم کرتے تھے ۔
ہمارے اسکول میں پانچ جماعتیں اور تین عدد استاد تھے، اِن میں سے دو استاد دو دو جماعتیں جبکہ ہیڈ ماسٹر صاحب پانچویں جماعت کو پڑھاتے تھے ۔ چونکہ تمام عملہ دوسرے گاوں سے آتا تھا، اس لئے صبح جس راستے سے انہوں نے آنا ہوتا تھا، وہاں اکثر بچے ان کا انتطار کرتے تھے، تا کہ ان کی سائیکل پکڑ کر اسکول تک لے کر آئیں اور جسے سائیکل مل جاتی تھی وہ پھولا نہیں سماتا تھا۔
ہمارے اسکول کے کل چار عدد میدان تھے جنہیں درختوں کی قطاروں نے الگ الگ کیا تھا، اسکول کے ارد گرد تین اطراف سرکاری زمین تھی جہاں پر خود رو چھوٹا سا جنگل بن چکا تھا، یہ جنگل اسکول کے لئے بہت اہم تھا چونکہ اسے باتھ روم کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، علاوہ ازیں سردیوں میں یہاں سوکھی جھاڑیوں اور سرکنڈوں کو آگ لگا کر وہاں اجتماعی تختیاں سکھانے کا انتظام بھی تھا ۔
اسکول کا آغاز لب پر آتی ہے دعا سے ہوتا تھا اور اختتام اِک دونڑی دونڑی تے دو دونڑی چار پر ہوتا تھا، درمیان میں بہت کچھ ہوتا تھا جیسے دارا کا اسکول، میرا مدرسہ حساب، کلمے نماز اور سب سے بڑھ کر دوپہر کو ریڈیو پروگرام سُننا ۔
کھیلوں کے معاملے میں اسکول کچھ کم نہیں تھا، ہر ہفتہ میں ایک دن کھیلوں پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی، کھیلوں میں اس وقت صرف تین کھیل تھے جو اسکول میں مقبول تھے،اُن سے ایک کشتی پنجابی میں کول، کبڈی اور تیسرا ہاکی نما جسے ہم کھدو پھنڈی کہتے تھے ۔ گلی ڈنڈا نان آفیشل طور پر مقبول تھا، اور اسکول کے بعد بچے زیادہ گلی ڈنڈا کھیلنا پسند کرتے تھے ۔
اسکول کا سب سے اہم دن اکتیس مارچ ہوتا تھا، جس دن نتیجہ نکلنا ہوتا تھا، اکتیس مارچ سے پہلے سب بچے پورے گاوں میں بلکہ ہمارے ساتھ والے گاوں میں ہائی اسکول تھا جہاں باغیچوں میں پھول لگے ہوتے تھے، وہاں سے پھول جمع کر کے انہیں پرو کر ہار بناتے یا بنواتے تھے اور نتیجہ میں پاس ہونے والے انہیں اساتذہ کو پہناتے تھے ۔ اخیر میں سب کو جلیبیاں اور چائے یعنی کہ پارٹی کا انتظام ہوتا تھا ۔
بس یہی تھا میرا پرائمری اسکول جو مجھے بڑا پسند ہے اور اب تک جوں کا توں ہے ۔ لیکن اب ہمارے گاوں میں تین عدد اسکول ہیں، ہمارے وقت سب بچے ایک اسی اسکول میں جاتے تھے جبکہ اب چوہدریوں کے بچے پرائیویٹ اسکولوں میں جاتے ہیں ۔

آزادی، حال اور حسبِ حال

August 15, 2009
از :  
زمرات: پاکستان, میری پسند

شرعی ویڈیو

April 5, 2009
از :  
زمرات: پاکستان, مذہب

ایک ویڈیو کیا نشر ہو گئی، لوگوں کا اسلام بدنام ہو گیا۔ دس دس بلاگوں پر اس سازش کو ایسے بے نقاب کیا گیا کہ کیسے امریکہ اور مغربی ممالک اس میں شریک ہیں کہ مجھے شبہ ہونے لگا کہ وہ تمام بلاگرز اس سازش میں برابر کے شریک تھے، جو اتنی تفاصیل سے صفحے کالے کر رہے ہیں ۔
میرے بھائی اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس ویڈیو کا مقصد اسلام کو بدنام کرنا تھا، تو آسان سا حل ہے ایک پیراگراف لکھو کہ میں مسلمان ہوں اور جو بربریت دکھائی گئی ہے میں اس کے خلاف ہوں، اور جن لوگوں نے یہ کیا ہے اُن کا میرے مذہب سے کوئی تعلق نہیں ۔ بجائے رات کو دیکھے خواب صبح بلاگ پر لکھنے سے اس کا اثر زیادہ ہو گا ۔ اور مجھے افسوس ہے کہ ان عقلمندوں کو یہ تو پتہ ہے کہ اس سے اسلام بدنام ہو رہا ہے لیکن اس کی مذمت کرتے زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں ۔
ایک طرف ایک تحریر میں قرآن کی آیات پیش کی جاتی ہیں کہ کسی پر الزام لگانے سے ستر اسی کوڑوں کی سزا شریعت میں لاگو ہو جاتی ہیں اور اس سے اگلی تحریر میں لکھ دیتے ہیں کہ “بدکرادر خاتون” کو شرعی سزا دی ہے، پہلے تو جا کر آپ ستر اسی کوڑے کھائیں کہ جس خاتون کو جانتے نہیں اسے بدکردار کس بنیاد پر فرما دیا آپ نے؟
ایک طرف لہک لہک کر ہم دنیا کو قصے سناتے ہیں کہ جو عرب گھڑ دوڑ پر جنگیں چھیڑ لیتے تھے کیسے شریعت نے انہیں پرامن بنا دیا، مدینہ النبی کی ریاست کو مثالی ریاست بتاتے ہوئے آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں، دوسرے سانس میں اس شریعت کے حق میں دلائل دینا شروع ہو جاتے ہیں، جس نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا، جس میں لاشیں کھمبوں پر لٹکائی جاتی ہیں ۔
اس طرح کی شریعت پر سجدہ شکر بجا لانے کے رویہ سے وہ وقت دور نہیں جب اسلام آباد میں آپ کی بیٹی کو سبزی لیتے جاتے کوئی سر بازار یوں لٹا کر کوڑے مارنا شروع کر دے ۔

پاکستانی جرگہ

March 24, 2009
از :  
زمرات: پاکستان

افتحار چوہدری اپنے عہدے پر بحال ہو چکے ہیں، اور بطور چیف جسٹس انہوں نے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے ۔ پاکستانی لوگ بڑے “بھولے” ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ شائد پاکستان میں دائر ہونے والے ہر مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس خود کریں گے، اور اُن کے ساتھ انصاف ہو گا ۔ چیف جسٹس ایک شخص ہیں، جبکہ عدلیہ ایک پورا ادارہ ہے ۔ میرا ماننا یہ ہے کہ صرف چیف جسٹس کی بحالی سے عدلیہ آزاد نہیں ہو گئی، البتہ عدلیہ کی آزادی کی سمت یہ ایک اہم پیش رفت ضرور ہے ۔ آنے والے کل میں اگر چیف جسٹس حکومتی اقدامات کے سامنے ڈٹ جانے والا نہ ہوا تو ایک بار پھر یہ سفر صفر سے شروع ہو جائے گا ۔
انگریزی مقولہ ہے “ Power corrupts, absolute power corrupts absolutely” جس کی تشریح یوں ہو گی کہ اگر ہم ایک ہی ذات میں تمام طاقت کو مرکوز کر دیں تو امکان یہی ہے کہ وہ ذات اس طاقت کا غلط استعمال کرے گی ۔ اس کا توڑ مغرب میں یہی کیا گیا ہے کہ اختیارات کی تقسیم یوں ہو کہ بجائے ایک شخص کو اختیارات سونپنے کے ادارے کو اختیارات دئے جائیں ۔ اگر صدر کو سب سے بڑا عہدہ دیا جاتا ہے تو ساتھ ہی سینیٹ یا پارلیمنٹ کی صورت میں اس پر قدغن لگا دی گئی ہے کہ قوانین کے لئے ان سے منظوری ضروری ہے۔ اسی طرح عدالت کو اگر اختیارات دئے گئے ہیں، ساتھ ہی ان اختیارات کو تقسیم کر کے جیوری کو سونپ دیا گیا ہے، جہاں فیصلے جیوری کرتی ہے اور اس فیصلے کی روشنی میں جج قانون کے مطابق سزا یا جزا سناتا ہے ۔

انصاف سب کے لئے۔

انصاف سب کے لئے۔


اب پاکستان میں عدالتی نظام سے متعلق شکایات کا جائزہ لیں، تو سب سے پہلی شکایت انصاف میں تاخیر ہے، خاص طور پر سول کیسز بعض اوقات دہائیوں تک لمبے ہو جاتے ہیں، میرے اپنے ننھیال کی زمین کے تنازعہ کا فیصلہ تقریباً دس سال سے زائد عرصہ میں ہوا، وجہ ہائیکورٹ لاہور میں تھی، جہاں پورے پنجاب سے ایسے ہی مقدمات ایک جگہ اکٹھے ہوئے تھے، اور بعض اوقات ایک “پیشی” کے بعد اگلی تاریخ کئی کئی مہینے بعد کی ملتی تھی، اور اس تاریخ پر پھر لاہور جا کر عدالت حاضر ہونے پر اگلا فریق موجود نہ ہونے پر کئی ماہ بعد کی ایک اور تاریخ ۔ اب اس کا جائزہ یہاں کے تناظر میں لیا جائے، نیویارک شہر پانچ شہروں کو مِلا کر بنتا ہے، اور ہر شہر کی اپنی سپریم کورٹ ہے ۔ اب اگر آپ کو کسی عدالتی کاروائی کا سامنا ہے تو آپ کا فیصلہ اپنے شہر میں ہی نپٹا دیا جائے گا، اس کے خلاف اگر اپیل کرنی ہے تو بھی اس کا فیصلہ اسی شہر کی عدالت میں ہی مکمل ہو گا ۔ صرف کسی وفاقی مقدمہ کی صورت میں شائد آپ کو اپنے علاقہ سے باہر کسی عدالت میں جانا پڑے ۔ ان شکایات کے ازالہ کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم پاکستان میں ہر ضلع میں ہائیکورٹ قائم کی جائیں، اور ہر ضلع کا فیصلہ اسی ضلع کی عدالت میں ہو نہ کہ لاہور، کراچی،کوئٹہ، پشاور یا اسلام آباد ۔ اس سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بھی تقسیم ہو جائے گا اور مقدمات نمٹانے کی رفتار بھی تیز رفتار ہو گی ۔
دوسری عام شکایت جج حضرات و خواتین کی کرپشن ہے، یہ کرپشن رشوت کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے، اور ججوں کو ڈرا دھمکا کر بھی کی جاتی ہے ۔پاکستان کا مسلہ یہ ہے کہ آزادی تو حاصل کر لی ہے، لیکن پولیس اور عدالتوں کے قوانین وہی ہیں جو ایک غلام ہندوستان پر نافذ کئے گئے تھے، یا انہی قوانین کی بنیاد پر نئے قوانین اخذ کئے گئے ہیں، جن کا مقصد عوام کو کی خدمت سے زیادہ انہیں دبا کر رکھنا تھا، عدالتوں میں مرضی کے جج لگوا کر مرضی سے کسی کو باغی قرار دے کر فیصلے لینا تھا، اور یہی آج تک چلتا آ رہا ہے ۔ اس کا حل صرف ایک ہے کہ ہم اپنی عدالتوں میں پنچائت یا جرگہ نافذ کریں ۔ اس سے پہلے کہ آپ جرگہ یا پنچائت کا نام سن کر ہتھے سے اکھڑ جائیں، یہ تحریر پڑھنا مفید ہو گا ۔ خود غور کریں کہ ایک جج کی بجائے جب ایک مقدمہ کے ثبوت پندرہ سے اکیس افراد کے سامنے پیش کئے جائیں گے، تو کیا ایک فرد کو کرپٹ کرنا مشکل ہے یا پندرہ افراد کو؟ جب پندرہ افراد بھی انجانے ہوں، عام لوگ ہوں، جنہیں ثبوت دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا ہو کہ یہ جو شخص جس نے کسی راہ جاتی عورت کو لوٹا ہے، اگر میں اسے چھوڑ دوں گا تو کل کو میری بہن، میری بیٹی، ماں یا بیوی اس کا شکار ہو سکتی ہے ۔ آپ کیا کہتے ہیں وہ عام بندہ اسے رشوت لے کر چھوڑ دے گا؟ میرا ایسا خیال نہیں ہے ۔ میرا یہ یقین ہے کہ پاکستان میں فوری طور پر عدلیہ کو حقیقی معنوں میں آزاد کروانے کی ضرورت ہے، اور غریب آدمی کو انصاف فراہم کروانے کے لئے ضروری ہے کہ غریب آدمی کو عدلیہ کا لازمی جزو بنایا جائے ۔ ہمارے حکمران کبھی نہیں چاہیں گے کہ حقیقی معنوں میں عدلیہ آزاد ہو، اس کے لئے بھی تحریک عوام کو چلانا ہو گی، نہیں تو کیا پتہ اگلا چیف جسٹس افتحار چوہدری جیسا ہو کہ ڈوگر جیسا؟

پہلی نظر میں ۔

February 26, 2009
از :  
زمرات: پاکستان

میرا ایک دوست پاکستان سے امریکہ آیا، اور باہر نکلتے ہی سب سے پہلے جس کالے امریکی کو اُس نے دیکھا، اُس نے گلے میں جوتے لٹکا رکھے تھے ۔امریکہ میں رہنے والوں کے لئے یہ کوئی اچنبھا کی بات نہیں۔ خاص طور پر نوجوان لڑکے لڑکیاں اسکول، کالج جاتے اپنی جِم کلاس کے جوتے گلے میں ڈالے گھومتے نظر آ جاتے ہیں ۔
لیکن سُنی سنائی باتوں کے بعد اُس کا باہر نکلتے ہی ایسا دیکھنے سے اُس نے یہ بات ذہن نشین کر لی کہ کالے امریکی بدتمیز اور بد اخلاق ہیں، جنہیں کسی قسم کا ہوش نہیں اور گلے میں جوتے لٹکائے پھرتے ہیں ۔ مطلب انگریزی کہاوت “First impression is last impression” کے مطابق اس نے ذہن میں یہ بات بٹھا لی ۔
لیکن کسی سیاح جو پاکستان آئے، پر “First Impression” کس قسم کا پڑے گا ۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی تینوں ہوائی مستقر پر میں جا چکا ہوں ۔آپ کا سامان دھکیل کر لے جانے والوں کی آپسی جنگ شروع ہوجاتی ہے (اب یہ صورتحال قدرے بہتر ہے) ۔ باہر نکلتے ہیں فقیروں کا جم غفیر آپ کے گِرد ہو جاتا ہے، اور یہ کوئی عام فقیر نہیں، ائیرپورٹ فقیر ہیں جن میں ڈھٹائی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، دھتکارنے پر پیچھے نہیں ہٹتے، آپ کی قمیص کا دامن یا ہاتھ پکڑ کر چھوڑنے کا نام نہیں لیتے، اور اگر جان چھڑانے کے لئے کسی ایک کو کچھ دے دو، تو قطار میں لگا اگلا فقیر زیادہ شدومد سے پیچھے پڑ جاتا ہے ۔

خود ہی سوچیں کہ باہر والے پاکستانیوں کو فقیر کیوں نہیں سمجھیں گے اپنے First Impression کی بنیاد پر؟

ظالم لوک

February 24, 2009
از :  
زمرات: میری زندگی

ہمارے گاؤں میں ایک گھر ہے، جن کے دو بیٹے ذہنی معذور عرف عام میں پاگل تھے ۔ بڑا لڑکا کچھ کم جبکہ چھوٹا لڑکا نسبتاً اِس معذوری کا زیادہ شکار تھا ۔ اس کا اصل نام تھا خالد لیکن گاؤں بھر میں “خالو جھلا” کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔ مجھ سے تقریباً کوئی دس پندرہ سال عمر میں بڑا تھا ۔ سارا دِن خالو جھلا گاؤں کی مختلف گلیوں میں بچوں کی “انٹرٹینمنٹ” کا سامان بنا رہتا تھا، نوجوان لڑکے اسے بچوں کی طرح تنگ تو نہیں کرتے تھے، لیکن اُس سے ٹھٹھے لگاتے تھے، کوئی گزر رہا ہوتا تو اُسے کہتے خالو اِسے یہ کہو، اور خالو جھلا وہ کہہ دیتا، جس پر قہقہے لگائے جاتے ۔
خاص طور پر بچوں کی مشق ستم، جس میں وہ اُسے تنگ کرتے اور جب وہ گالیاں دیتا تو دور کھڑے دانت نکالتے رہتے ۔یا اُسے تنگ کر کے بھاگتے تو وہ ان کے پیچھے گلیوں میں دوڑیں لگاتا رہتا ۔ البتہ پاگل ہونے کے باوجود خالو پانچ وقت مسجد میں نماز ضرور پڑھتا تھا، اور میاں صاحب(پنجاب میں مسجد امام کو میانڑا اور گھرانے کو میانڑے کہا جاتا ہے ) نے اس کے مسجد آنے پر بھی اعتراض جڑ دیا، لیکن لوگوں نے ان کی بات پر خاص کان نہیں دھرے ۔
اب کی بار پاکستان جانے پر گاؤں میں خالو جھلا کہیں نظر نہیں آیا، نہ اُس کی اتنی اہمیت تھی کہ کسی سے اُس کا پوچھا جاتا ۔ ہمارے یہاں موجودگی کے دوران میرے ایک چچا کی وفات ہو گئی تھی، اُن کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے لئے قبرستان کا رُخ کیا تو قبرستان میں ایک قبر کے گِرد احاطہ کر کے جھونپڑی نما عمارت بنی ہوئی تھی، جس پر مختلف رنگوں کے جھنڈے لگے ہوئے تھے اور وہاں کچھ خواتین و حضرات قبر پر دُعا (منتیں) مانگ رہے تھے ۔ چچا زاد سے پوچھا یہ کِس کی قبر ہے؟ تو اُس نے بتایا کہ یہ خالد کی قبر ہے، لوگ یہاں آ کر منتیں مانگتے ہیں اور دو سال سے چھوٹا سا عُرس بھی مناتے ہیں ۔
اور میں سوچ رہا تھا کیسی قوم ہیں ہم، زندہ لوگوں کو پتھر مارتے ہیں، اور مر جانے پر انہیں پیر بنا لیتے ہیں ۔

بیلن ٹائم

February 14, 2009
از :  
زمرات: میری پسند

خود منہ بولتی تصویر 😀

ویلینٹائن نہیں بیلن ٹائن

ویلینٹائن نہیں بیلن ٹائن

جنت میں اسکول؟

February 8, 2009
از :  
زمرات: پاکستان

کسی بھی مسلمان کی سب سے بڑی خواہش جنت میں داخلہ ہے، سوات میں آج کل یہ داخلہ گلے کاٹ کر اور اسکول گرا کر لیا جا رہا ہے ۔ طالبان کی سوات کے خلاف یلغار سراسر مذہبی اور اصولی ہے، پاکستان میں گمراہ لوگ سوات کو جنت کا خطاب بھی دیتے ہیں،اور ہر سال گرمیوں میں ہزارہا لوگ یہ جنت دیکھنے پاکستان بھر سے اس طرف کا رُخ کرتے تھے، جس کی وجہ سے دُنیا کے نظاروں میں کھو کر اصل جنت کا خیال لوگوں کے دل سے محو ہو رہا تھا ۔ ایسے میں اللہ تعالی نے ہم میں “چند برگزیدہ” ہستیاں بھیجی جنہیں سعودی عرب کی حمایت بھی دلائی گئی، خانہ خدا کی وجہ سے کسی بھی “نیک” کام کرنے کے لئے سعودی عرب کی حمایت ہونا ضروری ہے، نہیں تو “نیک” کام کرنے پر جو توانائی صرف ہوتی ہے اُس کے لئے مطلوبہ “تیل” ختم ہو سکتا ہے ۔
بظاہر ایسے لگتا ہے کہ اس مجازی جنت کو اس کا سکون برباد کر کے ایک جہنم بنایا جا رہا ہے، کیونکہ جنت میں بہرحال امن ہو گا ۔ لیکن ایک طالب کے مطابق یہ کم فہم اور دین سے دُور لوگوں کی سوچ ہے ۔طالبان اصل میں اِس مجازی جنت کو حقیقی جنت کے قریب تر بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔
جنت میں چونکہ ہر شخص کے پاس علم کامل ہو گا، اِس لئے اسکول بھی نہیں ہوں گے ۔ دوسرا جنت میں ہر مرد کی داڑھی ہو گی ۔
اِس کے باوجود بھی کم فہم لوگ اِسے جہنم سے تشبیہ دینے پر مصر ہے ۔ اللہ پاک ہر ایک کے فہم کو “طالبانی” بنا دے ۔ آمین

فرق

February 8, 2009
از :  
زمرات: متفرق

امریکہ میں ایک مہاجر کا بیٹا صدر ہے، پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں آنے والے لٹے پٹے ہموطن بھی “باہر والے” ہیں ۔

پاکستان سے رشتہ کیا؟

February 5, 2009
از :  
زمرات: پاکستان



دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں جمہور کی آواز سُننے والا شائد کوئی نہیں ۔

« اگلا صفحہپچھلا صفحہ »