سالِ نو مبارک
January 1, 2009
از : جہانزیب
زمرات: میری زندگی
آنکھوں کو حسیں خواب دیے اور چلا گیا
یادوں بھرے عذاب دیے اور چلا گیا
اس سال نے بھی مجھ کو بہاروں کے نام پر
کچھ کاغذی گلاب دیے اور چلا گیا۔
ایک اُس کے سِوا
میں نئے سال سے
اور تو کچھ نہیں
کچھ نہیں مانگتا
ماں کے نام

یہ کامیابیاں، یہ عزت، یہ نام تم سے ہے
خدا نے جو دیا ہے مقام تم سے ہے
تمہارے دم سے ہے کھلے میرے لہو میں گلاب
میرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے
کہاں بصارتِ جہاں اور میں کم سِن و ناداں
یہ میری جیت کا سب اہتمام تم سے ہے
جہاں جہاں ہے میری دُشمنی، سبب میں ہوں
جہاں جہاں ہے میرا احترام، تم سے ہے
سید وصی شاہ۔
بہار آئی

بہار آئی تو جیسے اِک بار
لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے، شباب سارے
جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے
جو مٹ کہ ہر بار پھر جئے تھے
نکھر گئے ہیں گلاب سارے
جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں
جو تیرے عشاق کا لہو ہیں
اُبل پڑے ہیں عذاب سارے
ملالِ احوالِ دوستاں بھی
خمارِ آغوشِ مہوشاں بھی
غبارِ خاطر کے باب سارے
تیرے ہمارے
سوال سارے، جواب سارے
بہار آئی تو کُھل گئے ہیں
نئے سرے سے حساب سارے۔
فیض احمد فیض۔

