انڈیکس فائل

April 21, 2008
از :  
زمرات: ایچ ٹی ایم ایل

چونکہ زیادہ تر سانچے جو ویب پر موجود ہیں، وہ مغربی زبانوں کے لئے ترتیب دیے گئے ہوتے ہیں۔اس لئے جب ہم بغیر تبدیلی کئے اُن میں اردو نیا کوئی بھی اور یونیکوڈ الفاظ لکھیں گے تو وہ ہمیں کیڑے مکوڑوں جیسے نظر آئیں گے ۔ مثال کے طور پر نیچے دی گئی تصویر ملاحظہ کریں ۔
western encoding
اگر آپ نے اس اینکوڈنگ کو بدل کر یونیکوڈ میں تبدیل نہیں کیا تو تمام لوگ جو آپ کی ویب سائٹ پر آئیں گے انہیں صحفہ ایسے ہی نظر آئے گا، جبتکہ وہ خود سے اپنے براؤزر میں اینکوڈنگ کو یونیکورڈ کے مطابق تبدیل نہیں کر لیں ۔
ویب سائٹ پر آنے والے لوگوں کو اس مشقت سے بچانے کے لئے ہم انڈیکس فائل میں صرف ایک تبدیلی کریں گے ،آپ سانچہ کی انڈیکس فائل کو کسی بھی ٹیکسٹ ایڈیٹر میں کھولیں، ونڈوز میں نوٹ پیڈ کہتے ہیں شاید ۔ ہمارے سامنے اب انڈیکس فائل ایک کوڈ کی شکل میں کھل جائے گی ۔ اگر تو آپ کو ایچ ٹی ایم ایل کے بارے میں علم ہے تو یہ کوڈنگ آپ کے لئے نئی نہیں ہے،لیکن اگر آپ کو ایچ ٹی ایم ایل کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے تو بنیادی اسباق آپ یہاں سے دیکھ سکتے ہیں ۔
اب ٹیکسٹ ایڈیٹر میں کھلی ہوئی فائل میں اوپر والے حصہ میں ہمیں درج ذیل سطر نظر آئے گی ۔

<meta http-equiv=”Content-Type” content=”text/html; charset=ISO-8859-1″ />

ضروری نہیں کہ جو سانچہ آپ اردو میں ڈھال رہے ہیں اُس میں بالا سطر ایسے ہی ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ سطر پہلے ہی سے ہمارے
معیار کے مطابق درست ہو، لیکن اگر نہیں تو تب ہم بالا سطر میں درج ذیل تبدیلی کریں گے ۔

<meta http-equiv=”Content-Type” content=”text/html; charset=UTF-8″ />

پوری فائل میں ہمیں صرف ایک یہی تبدیلی کرنا ہے، اگر صحفہ کی اینکوڈنگ پہلے سے ہی یونیکورڈ کے مطابق ہے، تب اسے جوں کا توں ہی رہنے دیں اور انڈیکس فائل کو مخفوط کر لیں ۔

ویب سائٹ سانچہ کو اُردوانہ۔

April 20, 2008
از :  
زمرات: ایچ ٹی ایم ایل

یونی کوڈ اردو کے فروغ کے بعد اب ہمیں بہت سی ویب سائٹ اردو خط میں بنی ہوئی نظر آتی ہیں، ان ویب سائٹ میں کچھ پروفیشنل ہیں جیسے جنگ اخبار اور بی بی سی اردو کی ویب سائٹ، دوسری قسم میں نجی ویب سائٹ ہیں۔ جن میں سرفہرست اردو میں بلاگ لکھنے والے خواتین و حضرات شامل ہیں ۔ اس مضمون کے لکھنے کا مقصد نجی ویب سائٹ لکھنے والوں کی راہنمائی کرنا ہے ۔ اردو بلاگ بنانے کے بعد سب سے پہلا مرحلہ سانچے کی تلاش ہوتا ہے ،ایسے سانچے انٹرنیٹ پر مفت دستیاب ہیں لیکن اردو کے لئے ہم وہ سانچہ بعینہ استعمال نہیں کر سکتے،بلکہ ہمیں سانچہ کو اردو ویب سائٹ کے مطابق اُسے ڈھالنا ہو گا ۔
سانچہ کا جائزہ ۔
سب سے پہلے جب ہم کوئی سانچہ ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں ،تو اس کے نام کا ایک فولڈر ہمارے پاس کمپیوٹر پر آ جاتا ہے ۔ اس سبق میں ہم ئے کسی تھیم کو اردوانے کے صرف ایک سانچہ کو اردو کے قابل بنائیں گے ۔ اس مقصد کے لئے ہم اوپن سورس ویب ڈیزائن ویب سائٹ سے سانچہ منتخب کر کے اُسے استعمال کریں گے ۔اس مضمون میں دی گئی ہدایات کچھ ترمیم کے ساتھ کسی بھی سانچہ کے ساتھ استعمال کی جا سکتی ہیں،ہر سانچہ کی ساخت اور بناوٹ مختلف ہوتی ہے لیکن کچھ معیار ایسے ہیں جو تقریباٍ تمام سانچوں میں موجود ہوتے ہیں، نام مختلف ہو سکتے ہیں لیکن کام سب کا ایک ہی ہے ۔
اب میں فرض کرتا ہوں کہ آپ نے ایک عدد سانچہ اپنے کمپیوٹر پر اتار لیا ہے اور اس سانچہ کو اردو میں ڈھالنا چاہتے ہیں، جب آپ سانچہ کے فولڈر میں جائیں گے تو وہاں آپ کو سانچہ کی بناوٹ کے حساب سے مختلف نام کی فائلیں نظر آئیں گی ۔لیکن ہمیں ان تمام فائلوں میں صرف دو طرح کی فائلوں میں ترمیم کرنا ہے پہلی قسم کی فائل جس کے اخیر میں سی ایس ایس آتا ہے اور دوسری انڈیکس فائل ۔ زیادہ تر سانچوں میں یہ فائلیں مندرجہ ذیل نام سے موجود ہوتی ہیں ۔

index.html
style.css

پہلی قسم کی فائل صحفہ کی ساخت کی ترتیب کو ظاہر کرتی ہے، کہ صحفہ کا کونسا حصہ کہاں ہونا چاہیے، جبکہ دوسری فائل صحفہ کے سٹائل کو ظاہر کرتی ہے، کہ کونسا حصہ کس رنگ کا ہونا چاہیے، صحفہ میں استعمال ہونے والے خط کونسے سے ہونا چاہیں، اور کونسے
حصہ دائیں،بائیں،اوپر یا نیچے ہونا چاہیے وغیرہ وغیرہ ۔

2.5 ورڈپریس

March 30, 2008
از :  
زمرات: کمپیوٹر

ورڈ پریس کا نیا ورژن اب ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب ہے۔ بدتمیز نے میری توجہ اس طرف دلائی تھی کہ میں ورڈپریس کو تروتازہ کرلوں، نہیں تو میں ابھی تک ورڈپریس ۲۔۱ ہی استعمال کر رہا تھا۔
نئے ورژن میں انٹرفیس بدل دیا گیا ہے، شاید پرانے استعمال کنندگان کو یہ نیا چہرہ فی الحال پسند نہیں آئے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی بھی عادت ہو جائے گی۔میں نے شروع ہی سے سوا Akismet کے کبھی کوئی پلگ اِن استعمال نہیں کیا تھا، مگر اس تھیم کے ساتھ میں آٹھ پلگ اِن کا استعمال کر رہا ہوں۔ ورڈپریس اپگریڈ کے بعد ورڈپریس ای میل پلگ اِن کام نہیں کر رہا۔ جب آپ یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں پر کلک کریں تو صحفہ ناموجود والا صحفہ کھُل جاتا ہے ۔
اب ایک شکایت، میں نے چار پانچ روز پہلے اپنا تھیم بدلا تھا۔ چونکہ میں اوبنٹو استعمال کرتا ہوں، اس لئے میرے پاس انٹرنیٹ ایکسپلورر نامی شے بھی نہیں ہے ۔ تھیم بنا کر میں اوبنٹو میں فائرفاکس، اوپرا اور کانکرر میں اُس کا مشاہدہ کرتا ہوں کہ آیا تھیم ویسا ہی ہے جیسا میں چاہتا ہوں یا نہیں۔ کل میں اپنی بہن کے گھر کمپیوٹر ٹھیک کرنے گیا تھا وہاں انٹرنیٹ ایکسپلورر پر اپنا بلاگ کھولا تو دایاں حصہ بالکل نیچے تھا۔ خیر سے اب میں نے دوبارہ انٹرنیٹ ایکسپلورر کے لئے علیحدہ سے سٹائل شیٹ بنا کر اُسے ٹھیک کیا ہے ۔ اگر آپ کو انٹرنیٹ ایکسپلورر استعمال کرتے ہوئے تھیم میں گڑبڑ نظر آتی ہے تو اپنی رائے دیتے گبھرائیں نہیں۔ کیونکہ فیڈ بیک سے کافی مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔

« اگلا صفحہ