جدت ۔

بلاگ کے پرانے قارئین کو بلاگ اب نئی شکل میں نظر آ رہا ہے ۔ بنیادی طور پر یہ وہی سانچہ ہے جو میں پہلے استعمال کر رہا تھا، لیکن اُسے بہتر بنایا گیا ہے، ظاہری شکل کو اِس سانچہ کے مطابق ڈھالا گیا ہے، جو کہ مبلغ دو سو ڈالر میں دستیاب تھا ۔ اِس میں کافی حد تک کامیاب رہا ہوں اور بعض جگہ میرے خیال میں یہ اصل سانچہ سے بھی بہتر ہے ۔ چوری تو ہے لیکن سینہ زوری نہیں، کیونکہ ورڈپریس میں یہ تھیم ایک آغاز سے خود ترتیب دیا ہے، اور اسے مکمل کرنے میں تقریباً تین ماہ لگے ہیں ۔ پہلے مکمل کرنے کے بعد انٹرنیٹ ایکسپلورر میں درست نظر نہیں آرہا تھا، جس کی وجہ سے سب کام دوبارہ سے کرنا پڑا ۔
ظاہری تبدیلیوں کے علاوہ بہت سی تبدیلیاں ایسی ہیں جو کہ قاری سے مخفی ہیں اِس بارے میں اس ہفتہ کے اختتام پر تفصیل سے لکھنے کا اردہ ہے، سب سے پہلے تو ورڈپریس کا جدید ورژن بلاگ پر استعمال کیا جارہا ہے، پھر پہلی دفعہ سانچہ میں ایچ ٹی ایم ایل کو پی ایچ پی ٹیگز میں لپیٹ کر بنایا گیا ہے ۔ سب سے اہم تبدیلی جس کی وجہ سے سانچہ تبدیل کرنا پڑا وہ بلاگ کو سرچ انجن میں بہتر نتائج دینے کے لئے اس میں جدت ہے، ایک وقت ایسا بھی تھا جب گوگل پر اردو بلاگ تلاش کرنے سے میرا بلاگ پہلے تین چار نتائج میں ظاہر ہوتا تھا، جو اب کہیں پچھلے صفحات میں کھو گیا ہے، وجہ یہ تھی کہ پہلے سانچہ کو انٹرنیٹ ایکسپلورر اور فائر فاکس دونوں میں درست دکھانے کے لئے بلاگ کے اصل متن کو اخیر میں رکھا گیا تھا، جبکہ اس سانچہ میں اصل متن بلاگ کا سورس دیکھنے پر سب سے پہلے نظر آئے گا ۔ پھر پچھلے سانچہ میں ہیڈنگ ٹیگز کا استعمال نہیں کیا جارہا تھا، جیسے بلاگ کا عنوان اور تحاریر کے عنوانات کو ہیڈنگز ٹیگز لگانے کی بجائے صرف سی ایس ایس کے استعمال سے چھوٹا بڑا دکھایا جا رہا تھا، جبکہ اس سانچہ میں عنوانات کے لئے ہیڈنگز ٹیگز کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے گوگل اور سرچ انجن ہیڈنگز کو زیادہ اہمیت دیں گے ۔ پہلے جب فیض احمد فیض تلاش کرتے تھے تو سب سے پہلا ربط میرے بلاگ کا کھلتا تھا، جو کہ پچھلے سانچہ میں ہیڈنگز کا استعمال نہ کرنے کی وجہ سے گم ہو چکا تھا، امید ہے اِن تبدیلیوں سے بلاگ کے تلاش میں نتائج بہتر ہو جائیں گے ۔
پھر بلاگ میں دیسی کے ساتھ بدیشی تڑکہ لگایا ہے، پچھلی دو تحاریر میں نے اپنی انگریزی میں خامیاں دکھانے کے لئے نہیں لکھی ، بلکہ بدیشی زبان کو آزمانے کے لئے لکھی ہیں، اس میں فی الحال ایک خامی باقی ہے کہ انگریزی تحاریر کے ساتھ تبصرہ کا خانہ بھی صرف انگریزی میں ہونا چاہیے، اپنے لوکل ہوسٹ پر تو میں اسے کامیابی سے آزما چکا ہوں، وقت ملنے پر اگلے ہفتہ اسے یہاں بھی چڑھا دوں گا ۔ انگریزی حصہ میں کیا لکھنا ہے؟ اِس کا فیصلہ وقت کرے گا ۔
اِن تبدیلیوں کے علاوہ بلاگ میں اور بھی تبدیلیاں کرنے کا اردہ ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوں گی ۔آپ کو سانچہ کیسا لگا؟ اِس میں کیا کیا خامیاں موجود ہیں، آراء کا انتظار رہے گا ۔

تبصرے

May 1, 2008
از :  
زمرات: ایچ ٹی ایم ایل

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ ورڈپریس تھیم ٹمپلیٹ میں کونسا ٹمپلیٹ سب سے مشکل ہے، تو میرا جواب ہو گا تبصروں کا سانچہ ۔ اسی لئے میں نے اس سانچہ کو سب سے آخر میں بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تبصروں کے سانچہ کے لئے ہم ورڈپریس کے ڈیفالٹ تھیم کا سانچہ استعمال کریں گے ۔یہاں دو باتیں کہنا چاہوں گا، جب آپ کسی بنے بنائے سانچہ کو ورڈپریس تھیم میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے تو زیادہ تر سانچوں میں تبصروں کا سٹائل نہیں بنایا گیا ہو گا، لیکن پھر بھی بہت سے تھیم ایسے ہوتے ہیں جن میں پہلے پیراگراف کا سٹائل دوسرے پیراگراف سے مختلف ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ پہلے سٹائل کو پوسٹ کا سٹائل اور دوسرے کو تبصروں کا سٹائل بنا سکتے ہیں ۔
ایک اور صورت یہ بھی ہے کہ پوسٹ اور تبصروں کا سٹائل ایک ہی رکھا جائے، لیکن سب سے بہتر یہی ہے کہ نئے سرے سے تبصروں کا سٹائل بنا لیا جائے ۔ ورڈ پریس کے ڈیفالٹ تھیم میں تبصروں کا سانچہ مندرجہ ذیل ہے ۔ پڑھنا جاری رکھیں

سنگل / پیج

April 29, 2008
از :  
زمرات: ایچ ٹی ایم ایل

جب آپ کسی بلاگ پر کسی تحریر کے عنوان پر کلک کرتے ہیں، تو سب سے اہم تبدیلی جو نظر آتی ہے کہ صرف ایک وہی تحریر اور اس پر ہونے والے تبصرہ جات نظر آنے لگتے ہیں، یہی کچھ حال پیج والے سانچہ کا ہے ۔ ہم انڈیکس فائل میں تبصرہ جات دکھانے والے ٹیگ کا استعمال کر کے تبصرہ دکھانے کا انتظام کریں گے، اور فائل کو ذیل کی طرح بنا لیں گے ۔

<?php get_header(); ?>
<div id=”right”>
<?php if ( have_posts() ) : while ( have_posts() ) : the_post(); ?>
<h2 id=”post-<?php the_ID(); ?>” class=”post-title”><a href=”<?php the_permalink(); ?>” rel=”bookmark” title=”<?php the_title(); ?>”><?php the_title(); ?></a></h2>
<p class=”entry”><?php the_content(”); ?></p>
<div class=”post-footer”><div class=”date”><?php the_time(‘l,j F Y’) ?></div><div class=”author”><?php the_author_link(); ?></div><div class=”comment-count”><?php comments_popup_link(‘پہلا تبصرہ کریں’, ‘ایک تبصرہ’, ‘% تبصرے’); ?><?php edit_post_link(‘| ترمیم’, ”, ‘ | ‘); ?></div></div>
<div style=”float: right;”><?php next_post_link(); ?></div>
<div style=”float: left;”><?php previous_post_link(); ?></div>
<?php endwhile; ?>
<!–
<?php trackback_rdf(); ?>
–>
<?php else : ?>
<?php include (TEMPLATEPATH . ‘/404.php’); ?>
<?php endif; ?>

<!– comments start here –>
<div id=’comment-box’>

<?php comments_template(); ?>

</div>

پڑھنا جاری رکھیں

سرچ/آرکائیو

April 29, 2008
از :  
زمرات: ایچ ٹی ایم ایل

جب کوئی صارف آپ کے بلاگ پر کچھ تلاش کرتا ہے تو تلاش کے نتائج دکھانے کے لئے سرچ والا سانچہ استعمال ہوتا ہے ۔ اسی طرح جب کوئی مخفوظات دیکھنا چاہے یا کسی زمرہ میں تحریریں دیکھنا چاہے تو اس مقصد کے لئے آرکائیو والا سانچہ استعمال ہو گا ۔ ہم نے ابھی انڈیکس فائل کو سرچ اور آرکائیو کی فائل میں کاپی پیسٹ کیا تھا، ہمیں اُس میں صرف ایک تبدیلی کرنا ہے ، جو مندرجہ ذیل ہے ۔

<p class=”entry”><?php the_content(”); ?></p>

کی بجائے ہم ذیل کا استعمال کریں گے ۔

<p class=”entry”><?php the_excerpt(”); ?></p>

انڈیکس والے صحفہ میں مکمل تحریر نظر آ رہی تھی، لیکن ٹیگز کو بالا طریقہ سے بدلنے کے بعد سرچ اور آرکائیو میں تحریر اختصار کے ساتھ نظر آئے گی ۔

ورڈپریس انڈیکس

April 28, 2008
از :  
زمرات: ایچ ٹی ایم ایل

انڈیکس فائل بلاگ کے مرکزی صحفہ کو دکھاتی ہے، جب بھی کوئی صارف آپ کے بلاگ کا پتہ لکھتا ہے تو جو صحفہ بنتا ہے وہ اسی فائل کی مدد سے ترتیب پاتا ہے ۔ ہمارے سانچہ میں سب سے اوپر ہیڈر پھر پوسٹ، اس کے بعد سائیڈبار اور سب سے آخر میں فٹر تھا۔ ہم اسی ترتیب سے انڈیکس فائل کو ترتیب دیں گے، لیکن یہاں بجائے ہم ٹیگز دوبارہ سے لکھیں، ورڈپریس تھیم کے ٹیگز کی مدد سے پہلے بنائی گئی فائلوں کو صرف ایک ٹیگ کی مدد سے یہاں ظاہر کر دیں گے ۔ سب سے پہلے ہیڈر کو
بلانے کے لئے ذیل کا ٹیگ استعمال ہوتا ہے ۔

<?php get_header(); ?>

اوپر والا ٹیگ لکھنے سے ہمارا بنایا ہوا ہیڈر کا پورا سانچہ یہاں ظاہر ہو جائے گا۔ اس کے بعد پوسٹ والا حصہ آتا ہے جِسے ہم نے پہلے مکمل نہیں کیا تھا ۔ یہ کام اب ہم یہاں کریں گے ۔ ایچ ٹی ایم ایل کی انڈیکس فائل کھول کر اُس میں پوسٹ کو ظاہر کرنے والا حصہ ہم یہاں چسپاں کر لیتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہے ۔ پڑھنا جاری رکھیں

سائیڈ بار سانچہ ۔

April 26, 2008
از :  
زمرات: ایچ ٹی ایم ایل

اب ہم دوبارہ سے ایچ ٹی ایم ایل کی انڈیکس فائل کا جائزہ لیتے ہیں،انڈیکس فائل میں سب سے پہلے ہیڈر ہے، جہاں ہیڈر ختم ہوتا ہے وہاں فوراً نیچے پوسٹ شروع ہو جاتی ہے، جہاں پوسٹ ختم ہوتی ہے اُس کے نیچے سائیڈبار شروع ہو جاتی ہے اور سب سے نیچے ہیڈر ۔یعنی ہیڈر، پوسٹ،سائیڈبار، فُٹر ۔ مگر ضروری نہیں کہ ہر سانچہ میں یہ ترتیب ایسے ہی ہو، کچھ سانچوں میں ہیڈر کے فورا بعد سائیڈبار پہلے آتی ہے اور پوسٹ اُس کے بعد ہوتی ہے ۔ لیکن جو بھی ترتیب سانچہ میں ہے اُس کو یاد رکھنا بہت اہم ہے ۔
ترتیب کے حساب سے ہم پہلے پوسٹ والے سانچہ کو بنانا چاہیے تھا، لیکن اُس کو ہم آخر کے لئے رہنے دیتے ہیں اور کیوں؟ یہ آپ کو بعد میں پتہ چلے گا۔ اب ہم انڈیکس فائل سے سائیڈ بار کا کوڈ کاپی کر کے سائیڈ بار والی فائل میں چسپاں کریں گے ۔ جو کہ مندرجہ ذیل ہے ۔ پڑھنا جاری رکھیں

ہیڈر فائل کی تیاری

April 25, 2008
از :  
زمرات: ایچ ٹی ایم ایل

یہاں سے ہم اپنا اصل کام یعنی سانچہ کو توڑنا اور ورڈپریس کے قابل بنانا شروع کریں گے ۔سانچہ کو تورٹے وقت سب سے اہم بات جس کا خیال آپ کو رکھنا ہو گا، وہ یہ ہے کہ جو سلیکٹر ٹیگ جیسے ڈِوو ٹیگ شروع ہوگا، اُس کو بند بھی لازمی کرنا ہے علاوہ ازیں کہیں کوئی ٹیگ دوبار نہیں آنا چاہیے۔ اس لئے انڈیکس سے کاپی کرتے وقت یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ نے کہاں تک کا کوڈ کاپی کر کے نئی فائل میں پیسٹ کیا ہے ۔ایک چھوٹی سی غلطی پورا سانچہ تباہ کر کے رکھ سکتی ہے، اس لئے کوشش کریں کہ غلطی ہو ہی نہیں ۔
اب ہم اپنی انڈیکس فائل کو دیکھتے ہیں،صحفہ کے ہیڈ ٹیگ کے ختم ہونے تک سب کچھ ہم کاپی کریں گے، باڈی ٹیگ کے فوراً نیچے ہمیں ہیڈر نام کا سلیکٹر نظر آ رہا ہے جس کے اندر دو مختلف کلاسز ہیں ایک لوگو کی دوسری مینوبار نام کی اضافی طور پر سرچ نام کی ایک کلاس بھی موجود ہے، اس کے بعد یہ تمام سلیکٹرز ایک ایک کر کے بند ہو رہے ہیں ۔ فوراً بعد ہی پیج نام کا ایک سلیکٹر ہے،اس سلیکٹر کے درمیان میں پورا صحفہ یعنی پوسٹ اور سائیڈبار موجود ہیں ۔ ہم اس سلیکٹر تک سب کچھ کاپی کر کے اس ہیڈر فائل میں پیسٹ کر دیں گے ۔ ذیل میں دیکھیں پڑھنا جاری رکھیں

انڈیکس فائل نمونہ

April 24, 2008
از :  
زمرات: ایچ ٹی ایم ایل

اگر آپ کے پاس ایک عدد پسندیدہ سانچہ موجود ہے، تو اُس میں ایک انڈیکس نام کی فائل موجود ہو گی ۔ اب ہر ایک کی پسند علیحدہ ہوتی ہے تو مجھے اندازہ نہیں ہے کہ آپ کے پاس کونسا سانچہ ہے ۔ سمجھانے کے مقصد کے لئے یہاں میں ایک بہت ہی سادہ سی قسم کی ایک انڈیکس فائل تیار کریں گے، اور اُس کے مطابق ورڈپریس تھیم تیار کریں گے ۔آپ کے پاس یہ فائل کچھ اور ترتیب میں ہو سکتی ہے لیکن تھیم بنانے کا طریقہ پھر بھی وہی ہے ۔صرف آپ کو سلیکٹرز کا دھیان رکھنا ہے کہ کونسا سلیکٹر صحفہ میں کس چیز کو ظاہر کر رہا ہے ۔ ذیل میں میری تیار کردہ انڈیکس فائل ہے جَسے ہم تھیم میں بدلیں گے ۔ پڑھنا جاری رکھیں

سانچہ سے ورڈ پریس تھیم بنانا ۔

April 23, 2008
از :  
زمرات: ایچ ٹی ایم ایل

ایک سانچہ کو اردو میں ڈھالنے کے لئے جو مراحل درپیش تھے وہ ہم پہلے سیکھ چکے ہیں،لیکن یہ بنایا گیا سانچہ ہم ایک صحفہ بنانے کے لئے تو استعمال کر سکتے ہیں، بلکہ اگر بہت سے صحفہ پر مبنی ویب سائٹ ہو تو اُس کا ہر صحفہ علیحدہ سے اُسی سانچہ کی مدد سے بنا سکتے ہیں ۔ اس طرح ہر صحفہ علیحدہ سے بنانا بہت وقت لیتا ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم صرف تحریر لکھیں اس بات کی فکر کئے بغیر کہ سانچہ بھی بنانا ہے ۔
اس کام کو کرنے کے لئے بلاگ سافٹ وئیر جیسے ورڈپریس اور بلاگر اور کنٹٹمنٹ منیجمنٹ سسٹم جیسے پوسٹ نیوک اور جملہ اپنا اپنا تھیم سسٹم استعمال کرتے ہیں ۔ اوپر بیان کئے گئے تمام سافٹ وئیر کے لئے تھیم تیار کرنا، تھوڑی بہت ردوبدل کے بعد ایک ہی جیسا ہے ۔ جیسے بلاگر کے پرانے ورژن کا تھیم ہم صرف انڈیکس فائل میں بلاگر کے ٹیگز کا اضافہ کر کے استعمال کر سکتے ہیں، پوسٹ نیوک میں اسی انڈیکس فائل کو مختلف بلاک میں توڑ کر اور پھر پوسٹ نیوک کے ٹیگز کا استعمال کر کے تھیم بنا سکتے ہیں۔ لیکن یہاں ہمارا مقصد ورڈپریس تھیم تیار کرنا ہے ۔ ہم اپنی توجہ اسی پر مرکوز رکھیں گے ۔
ورڈپریس تھیم کے لئے جو نظام استعمال کرتا ہے، اُس کو تفصیلاً یہاں بیان کیا گیا ہے، ہم مختصراً اس کا جائزہ لیتے ہیں ۔ ورڈپریس تھیم بہت سے چھوٹے سانچوں کو ملا کر مکمل صحفہ کا سانچہ مکمل کرتا ہے، یہ چھوٹے سانچے آپس میں پزل کے ٹکڑوں کی طرح ایک دوسرے سے جڑتے جاتے ہیں،ہم کو صرف بدلی گئی انڈیکس فائل میں یہ ٹکڑے تیار کرنا ہیں، اُن میں ورڈپریس ٹیگز کا اضافہ کرنا ہے اور پھر بعد میں اُن کو دوبارہ سے ورڈپریس کے طریقہ سے جوڑنا ہے ۔
ورڈپریس تھیم بنانے سے پہلے ہم ورڈپریس کے سانچہ کی فائلوں کو جانچتے ہیں، ورڈپریس سانچہ کی فائلوں کے کچھ نام ایسے ہیں،جن کو ورڈپریس بچپن سے جانتا ہے، اِن کو ہم ڈیفالٹ فائل کہتے ہیں ۔لیکن ضروری نہیں کہ آپ صرف انہی فائلوں کا استعمال کریں،آپ تمام سانچوں کی فائلوں کا اپنی پسند کا نام رکھ سکتے ہیں، لیکن ان کو بلانے کا طریقہ علیحدہ ہے ۔ ہم یہاں ورڈپریس کی جانی پہچانی فائلوں کے نام ہی استعمال کریں گے، اور ایک آدھ فائل ایسی رکھیں گے جس کو ورڈپریس نہ پہنچانتا ہو، تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ ایسی فائل کو ورڈپریس میں کس طرح بلایا جائے گا ۔ پڑھنا جاری رکھیں

سٹائل شیٹ

April 21, 2008
از :  
زمرات: ایچ ٹی ایم ایل

صحفہ کو اردو میں بدلنے کے لئے ہمیں زیادہ تر تبدیلیاں اس فائل میں کرنا ہوں گی ۔ اس سبق کا مقصد سی ایس ایس سکھانا نہیں ہے،اس لئے تفصیلا یہاں ہم سی ایس ایس کے بارے میں بحث نہیں کریں گے ۔ اگر آپ کو سی ایس ایس کے بارے میں تھوڑا بہت علم ہے تو آپ کو کسی مشکل کا سامنا نہیں ہونا چاہیے، لیکن اگر آپ سی ایس ایس سے مراد سول سروس لیتے ہیں تو تب بینادی اسباق یہاں پر دستیاب ہیں، جہاں آپ آسانی سے سی ایس ایس کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں ۔ یہاں ہم صرف انہیں سی ایس ایس خصوصیات کا ذکر کریں گے جن کی ضرورت ہمیں سانچہ کو اردو میں ڈھالتے وقت پیش آ سکتی ہے ۔

سی ایس ایس فائل کی بناوٹ

اس فائل میں تبدیلیاں کرتے وقت پہلے ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ یہ فائل بنائی کیسے جاتی ہے ،سی ایس ایس فائل کی بنیادی شکل کچھ یوں ہوتی ہے ۔

selector{property: value;}

جہاں سلیکٹر عموماً وہ ٹیگ ہوتا ہے جو کہ انڈیکس فائل میں ایچ ٹی ایم ایل میں استعمال کیا جاتا ہے، پراپرٹی اُس ٹیگ کا وہ حصہ ہوتا ہے جس کو ہم تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور ویلیوو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ہم کیا تبدیلی کرنا چاہتے ہیں ۔ اب ہم اوپر والی سطر میں درست ٹیگز، پراپرٹی اور ویلیوو کا استعمال یوں کریں گے ۔

body{color: black;}

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے صحفہ میں لکھی گئی عبارت کا رنگ کالا ہونا چاہیے ہے ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کے پاس سی ایس ایس فائل کھلی ہے تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں دو یا تین قسم کے مختلف نشانات سلیکٹر سے پہلے آتے ہیں اب ہم ان کا جائزہ لیں گے ۔ پہلی قسم کے سلیکٹر کو ہم انڈیکس فائل میں ٹیگز کے بیچ آئی ڈی کے نام سے بلاتے ہیں اور اسے سی ایس ایس میں مندرجہ ذیل طریقہ سے ظاہر کیا جاتا ہے ۔

#left{text-align: left;}

جب اس طرح کے سلیکٹر کو ایچ ٹی ایم ایل میں دکھانا مقصود ہو تو درج ذیل طریقہ سے بلایا جائے گا ۔

<p id=”left”>This is sample text</p>

یہ ایک ویب ڈیزائنر پر منحصر ہے کہ وہ آئی ڈی سیلکٹر کا استعمال کہاں کرتا ہے ۔ عموما میں آئی ڈی سلیکٹر کو صحفہ کی ساخت کے لئے استعمال کرتا ہوں، جیسے صحفہ کا ہیڈر یا اوپری حصہ، مرکزی متن یا کونٹینٹ والا حصہ ، صحفہ کی دائیں طرف یا سائیڈبار اور صحفہ کا نچلا حصہ یا فٹر ۔ ان کی ساخت کے لئے میں آئی ڈی سیلکٹر استعمال کرتا ہوں تاکہ دوبارہ دیکھتے وقت مجھے آسانی ہو ۔
اب ہیڈر کے اندر سائٹ کا عنوان اور مینو بار یا مرکزی متن میں پوسٹ کا عنوان، متن اور تاریخ وغیرہ کے لئے جس سلیکٹر کا استعمال میں کرتا ہوں اُسے “کلاس” کے نام سے ایچ ٹی ایم ایل میں بلایا جاتا ہے اور اسے مندرجہ ذیل طریقہ سے لکھا جاتا ہے ۔

.left{text-align: left;}

اور ایچ ٹی ایم ایل میں اسے مندرجہ ذیل طریقہ سے بلایا جائے گا ۔

<p class=”left”>This is sample text</p>

اس کے علاوہ کچھ لوگ آئی ڈی سلیکٹر کو یوں بھی لکھتے ہیں ۔

div#left{text-align: left;}

اس کو بھی ایچ ٹی ایم ایل میں پہلے والے طریقہ سے ہی بلایا جاتا ہے، صرف لکھنے کا فرق ہے ۔ اب امید ہے کہ آپ کو سی ایس ایس فائل کی کچھ سمجھ آ گئی ہو گی ۔اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں کہ سی ایس ایس میں کونسی تبدیلیاں کر کے ایک بنے بنائے سانچہ کو اردو کے قابل بنایا جا سکتا ہے ۔ ہم بنے ہوئے سانچہ کے سلیکٹرز پر توجہ نہیں دیں گے، بلکہ صرف پراپرٹی اور ویلیووز ہی کو تبدیل کریں گے ۔ اب آپ پہلے یاد کر لیں کہ سلیکٹر،پراپرٹی اور ویلیوو کِس چیز کو کہتے ہیں ۔

صحفہ کا خط
سانچہ کو اردو میں ڈھالتے وقت سب سے پہلا مرحلہ اس قابل بنانا ہے کہ وہ اردو خط درست طور پر دکھا سکے ۔ خط دکھانے کے لئے سی ایس ایس میں جو پراپرٹی استعمال ہوتی ہے وہ مندرجہ ذیل ہے ۔

font-family: veranda,sans-serif;

یا

font: 13px #fff veranda,sans-serif;

اوپر دی گئی دونوں مثال خط دکھانے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں، پہلی مثال میں صرف خط دکھائے گئے ہیں جبکہ دوسری مثال میں خط کا حجم، خط کا رنگ اور پھر خط سب کو ایک ہی پراپرٹی میں استعمال کیا گیا ہے، ہم ان تمام پراپرٹیز کو علیحدہ علیحدہ استعمال کر سکتے ہیں، لیکن پھر وہی بات کہ ہر سانچہ بنانے والا کا اپنا طریقہ ہوتا ہے، جیسے وہ پسند کرے ۔ اوپر والی دونوں مثالوں میں انگریزی کے خطوط ہیں، آپ کے سانچہ میں یہ کچھ اور بھی ہو سکتے ہیں ۔ ان خطوط کو ہم نے اردو خط سے بدلنا ہے ۔ ویب پر اس وقت سب سے زیادہ استعمال ہونے والے اردو خط ایک تو بی بی سی کا خط ہے، دوسرا کرلپ کا نفیس ویب نسخ خط ہے۔ اس کے علاوہ ٹاہوما جو کہ ونڈوز میں پہلے سے ہی نصب شدہ ہوتا ہے وہ بھی اردو عبارت دکھانے کے قابل ہے ۔ صحفہ اردو میں بناتے وقت بہتر یہی ہے کہ ہم ان تینوں خطوط کا استعمال کریں، تاکہ اگر کسی کے پاس کوئی ایک خط نصب نہیں ہے تب بھی وہ اردو عبارت پڑھنے کے قابل ہو ۔ میں عموماً درج ذیل ترتیب میں ان خطوط کا استعمال کرتا ہوں ۔

font-family: urdu naskh asiatype,nafees web naskh,tahoma;

آپ اپنے سانچہ میں موجود خط دکھانے کے لئے مندرجہ بالا پراپرٹی کی ویلیوز کو اردو خطوط سے بدل دیں، پوری فائل میں ایک ہی دفعہ ایسا کرنے کے لئے آپ کھلی فائل میں کنٹرول اور ایف بٹن اکٹھا دبا کر تلاش کے خانہ میں فانٹ یا فانٹ فیملی، جو بھی پراپرٹی آپ کی فائل میں استعمال ہوئی ہے لکھ کر سب کو اردو خط سے بدل دیں ۔

عبارت کی سمت ۔

ہم نے صحفہ کے خط تو اردو کے مطابق کر لئے ہیں، لیکن فی الحال عبارت دائیں سے بائیں جانب نہیں کی، جو کہ اردو کے لئے ایک ضروری چیز ہے ۔ عبارت کی سمت بدلنے کے لئے ہمیں ایک دو باتوں کا دھیان رکھنا پڑے گا ۔ باڈی کا سلیکٹر تمام صحفہ کو دکھانے کے کام آتا ہے، اگر ہم یہاں عبارت کی سمت کی پراپرٹی کو دائیں جانب کر دیں تو تمام صحفہ میں پھر اس کو دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، لیکن زیادہ تر سانچوں کی بناوٹ یوں ہوتی ہے کہ صحفہ کے دائیں اور بائیں جانب کچھ حصہ خالی ہوتا ہے جیسے میرے بلاگ پر ہے اور متن درمیان میں ہوتا ہے، ایسی صورت میں اگر ہم باڈی سلیکٹر کے سامنے متن کی سمت کو دائیں جانب سے بدل دیں گے تو تمام صحفہ خراب ہو جائے گا۔ اس لئے اگر آپ کے باڈی سلیکٹر کے سامنے متن کی سمت درج ذیل ہو ، تو اُسے تبدیل مت کریں بلکہ ایسا ہی رہنے دیں،

text-align: center;

اس کی بجائے باڈی سیلکٹر کے علاوہ جہاں جہاں اس پراپرٹی کا استعمال ہوا ہے وہاں اسے ذیل سے بدل دیں ۔

text-align: right;

یوں صحفہ کی بناوٹ بگاڑے بغیر ہم نے متن کی عبارت کو دائیں جانب کر دیا ہے ۔ ایک اور صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ کے سانچہ میں سرے سے اس پراپرٹی کا استعمال ہی نہیں ہو، اور یہ آسان صورت ہے، جب صحفہ میں کسی پراپرٹی کا استعمال نہیں کیا جائے تو براؤزر ہمیشہ اسے مقرر کردہ معیار کے مطابق دکھاتا ہے، عبارت کے لئے اگر پراپرٹی کا استعمال نہیں کیا گیا تو تمام براؤزر ہمیشہ اُسے بائیں جانب سے شروع کریں گے، ایسی صورت میں آپ صرف باڈی سلیکٹر کے سامنے متن کی عبارت کو دائیں جانب سے دکھانے والی پراپرٹی اور ویلیوو کا استعمال کریں گے ۔
ایک اور صورت یہ ہے کہ آپ کا صحفہ بجائے درمیان میں رہنے کے پورے براؤزر میں نظر آتا ہو، تب بھی آپ باڈی سلیکٹر کے سامنے دائیں طرف والی قیمت کا استعمال کر سکتے ہیں

اردو میں انگریزی الفاظ کی ملاوٹ ۔

چونکہ ہم لوگ کبھی کبھی اردو میں انگریزی الفاظ کی ملاوٹ کرتے ہیں اور بعض اوقات ایسا کرنا نا گزیر ہو جاتا ہے، تب اگر اردو عبارت کے درمیان اگر ہم انگریزی کا لفظ لکھیں تو پوری عبارت کا ستیا ناس ہو جاتا ہے ۔اس چیز سے بچنے کے لئے ایک پراپرٹی موجود ہے جو درج ذیل ہے ۔

dir: rtl; direction: rtl;

یعنی ڈائریکشن رائٹ ٹو لفٹ ۔ اس پراپرٹی کو ہم باڈی سیلکٹر کے سامنے استعمال کر کے پورے صحفہ میں ایک ہی دفعہ یہ صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں، لیکن اگر آپ کے سانچہ میں بے تحاشہ گرافکس کا استعمال ہوا ہے اور خاص طور پر اگر آپ کے سانچہ میں کونے بیضوی ہیں تو سب کچھ اُلٹا ہو جائے گا۔ اس کو حل کرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ جہاں جہاں فائل میں تصاویر کا استعمال ہوا ہے اُسے ایک ایک کر کے جو دائیں طرف تصویر استعمال ہو رہی ہے اُسے بائیں جانب کر دیں اور بائیں جانب والے کونے کو دائیں جانب والی تصویر سے بدل دیں ۔
لیکن آسان حل یہ ہے کہ بجائے باڈی سلیکٹر کے سامنے اس پراپرٹی کو لکھا جائے، اس پراپرٹی کا استعمال صرف انہی سلیکٹڑ کے سامنے کیا جائے جو عبارت دکھانے کے لئے سٹائل شیٹ میں استعمال ہو رہے ہوں، جیسے پیراگراف دکھانے کے لئے ہیڈنگ کے لئے، روابط اور لسٹ کے لئے اس پراپرٹی کا علیحدہ علیحدہ استعمال کیا جائے۔
اور اگر آپ کے سانچہ کی بناوٹ میں تصاویر کا استعمال نہیں ہے تو باڈی سلیکٹر کے سامنے اس پراپرٹی کا استعمال جائز اور حلال ہے ۔

خط کا حجم ۔
ایک اہم بات اردو خط کا حجم ہے، عموما سولہ پکسلز حجم کا خط اردو دکھانے کے لئے مناسب ہے لیکن خط دکھانے کے لئے پکسلز کے علاوہ پوائنٹ اور ای ایم کی اکائیاں بھی استعمال کی جاتی ہیں ۔پوائنٹ کی اکائی عموما پرنٹ کرنے کے لئے ہوتی ہے، اس لئے ہم اس کا استعمال نہیں کریں گے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ لوگ آپ کی ویب سائٹ کو پرنٹ کر کر کے پڑھتے ہیں تب آپ پوائنٹ کا استعمال کر سکتے ہیں، تاکہ پرنٹر میں عبارت درست طور پر نظر آئے ۔ لیکن سکرین پر دکھانے کے لئے عموماً پکسلز اور ای ایم کی اکائی استعمال کی جاتی ہے ۔اگر آپ حساب میں تیز ہیں تو ای ایم کا استعمال کریں ورنہ پکسلز کا، ذیل میں ہم ای ایم کو تھوڑا سمجھنے کی کوشش کریں گے ۔مقرر کردہ معیار کے مطابق اگر کسی صحفہ میں خط کے حجم کا تعین نہیں کیا گیا ہو تو براؤزر ہمیشہ عبارت کو سولہ پکسلز میں دکھاتا ہے، اس لئے اگر ہم باڈی سلیکٹر کے سامنے خط کا حجم درج ذیل طریقہ سے لکھیں تو اس کا مطلب ہو گا سولہ پکسلز ۔

body{font-size: 100%;}

لیکن فرض کریں کہ آپ خط کا حجم دس پکسلز رکھنا چاہتے ہیں تب اس کو درج ذیل طریقہ سے لکھیں گے ۔

body{font-size: 62.5%;}

اسی طرح آپ خط کا حجم مختلف سائز میں متعین کر سکتے ہیں، اب آپ صرف پہلے والی قیمت یعنی سو فی صد کو ذہن میں رکھیں ، ایسی صورت میں ہم اگر مضمون کی عبارت کے سامنے ایک ای ایم قیمت لکھیں گے تو اس کا مطلب ہو گا مضمون کی عبارت کا حجم سولہ پکسلز ہے، دوسری مثال میں جہاں صحفہ کی عبارت کا حجم ساڑھے باسٹھ فی صد ہے ایسی صورت میں ایک ای ایم دس پکسلز کے برابر ہو گا ۔ اب ہم عنوان میں عبارت کو بڑا رکھنا چاہتے ہیں اور مصنف کا نام مضمون کی عبارت سے چھوٹا رکھنا چاہتے ہیں ۔ مثلا پہلی مثال میں جہاں ایک ای ایم سولہ پکسلز کے برابر ہے اور ہم عنوان اٹھارہ پکسلز کا اور مصنف کا نام بارہ پکسلز کا رکھنا چاہتے ہیں تو ای ایم میں ایسا کیسے کیا جائے گا ۔ اس کا ایک آسان طریقہ ہے کہ چاہے جانے والے حجم کو مقرر کردہ حجم سے تقسیم کر دیا جائے، مثلا

18/16=1.125em
12/16=0.75em

لیکن اگر آپ یہ سب حساب کتاب نہیں کر سکتے تو سیدھی طرح پکسلز کا استعمال کریں ۔ خط کا حجم دکھانے کے لئے درج ذیل پراپرٹی استعمال ہوتی ہے، اپنے سانچہ کے حساب سے جہاں جہاں اس کا استعمال ہو رہا ہے اس کا اچھی طرح جائزہ لے کر اسے ضرورت کے مطابق تبدیل کر لیں ۔

font-size: 16px;

سطروں کا درمیانی فاصلہ ۔

اردو صحفہ میں ایک اور بات سطروں کا آپس میں درمیانی فاصلہ ہے، اگر آپ اس پراپرٹی کا استعمال نہیں کریں گے تو بعض اوقات سطروں کا فاصلہ نا پسندیدہ حد تک بڑھ جائے گا ۔ سطروں کے درمیان فاصلہ کا تعین کرنے کے لئے ہم باڈی سلیکٹر کے سامنے مندرجہ ذیل پراپرٹی کا استعمال کریں گے ۔

line-height: 1.5em;

یہ تمام مراحل طے کرنے کے بعد ہم مکمل طور پر ایک سانچہ اردو ویب سائٹ بنانے کے قابل بنا چکے ہیں، اب اگلے مرحلہ میں ایک سادہ ایچ ٹی ایم ایل سانچہ کو ایک تھیم میں کس طرح تبدیل کیا جاتا ہے، سیکھیں گے ۔

پچھلا صفحہ »