جدت ۔

بلاگ کے پرانے قارئین کو بلاگ اب نئی شکل میں نظر آ رہا ہے ۔ بنیادی طور پر یہ وہی سانچہ ہے جو میں پہلے استعمال کر رہا تھا، لیکن اُسے بہتر بنایا گیا ہے، ظاہری شکل کو اِس سانچہ کے مطابق ڈھالا گیا ہے، جو کہ مبلغ دو سو ڈالر میں دستیاب تھا ۔ اِس میں کافی حد تک کامیاب رہا ہوں اور بعض جگہ میرے خیال میں یہ اصل سانچہ سے بھی بہتر ہے ۔ چوری تو ہے لیکن سینہ زوری نہیں، کیونکہ ورڈپریس میں یہ تھیم ایک آغاز سے خود ترتیب دیا ہے، اور اسے مکمل کرنے میں تقریباً تین ماہ لگے ہیں ۔ پہلے مکمل کرنے کے بعد انٹرنیٹ ایکسپلورر میں درست نظر نہیں آرہا تھا، جس کی وجہ سے سب کام دوبارہ سے کرنا پڑا ۔
ظاہری تبدیلیوں کے علاوہ بہت سی تبدیلیاں ایسی ہیں جو کہ قاری سے مخفی ہیں اِس بارے میں اس ہفتہ کے اختتام پر تفصیل سے لکھنے کا اردہ ہے، سب سے پہلے تو ورڈپریس کا جدید ورژن بلاگ پر استعمال کیا جارہا ہے، پھر پہلی دفعہ سانچہ میں ایچ ٹی ایم ایل کو پی ایچ پی ٹیگز میں لپیٹ کر بنایا گیا ہے ۔ سب سے اہم تبدیلی جس کی وجہ سے سانچہ تبدیل کرنا پڑا وہ بلاگ کو سرچ انجن میں بہتر نتائج دینے کے لئے اس میں جدت ہے، ایک وقت ایسا بھی تھا جب گوگل پر اردو بلاگ تلاش کرنے سے میرا بلاگ پہلے تین چار نتائج میں ظاہر ہوتا تھا، جو اب کہیں پچھلے صفحات میں کھو گیا ہے، وجہ یہ تھی کہ پہلے سانچہ کو انٹرنیٹ ایکسپلورر اور فائر فاکس دونوں میں درست دکھانے کے لئے بلاگ کے اصل متن کو اخیر میں رکھا گیا تھا، جبکہ اس سانچہ میں اصل متن بلاگ کا سورس دیکھنے پر سب سے پہلے نظر آئے گا ۔ پھر پچھلے سانچہ میں ہیڈنگ ٹیگز کا استعمال نہیں کیا جارہا تھا، جیسے بلاگ کا عنوان اور تحاریر کے عنوانات کو ہیڈنگز ٹیگز لگانے کی بجائے صرف سی ایس ایس کے استعمال سے چھوٹا بڑا دکھایا جا رہا تھا، جبکہ اس سانچہ میں عنوانات کے لئے ہیڈنگز ٹیگز کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے گوگل اور سرچ انجن ہیڈنگز کو زیادہ اہمیت دیں گے ۔ پہلے جب فیض احمد فیض تلاش کرتے تھے تو سب سے پہلا ربط میرے بلاگ کا کھلتا تھا، جو کہ پچھلے سانچہ میں ہیڈنگز کا استعمال نہ کرنے کی وجہ سے گم ہو چکا تھا، امید ہے اِن تبدیلیوں سے بلاگ کے تلاش میں نتائج بہتر ہو جائیں گے ۔
پھر بلاگ میں دیسی کے ساتھ بدیشی تڑکہ لگایا ہے، پچھلی دو تحاریر میں نے اپنی انگریزی میں خامیاں دکھانے کے لئے نہیں لکھی ، بلکہ بدیشی زبان کو آزمانے کے لئے لکھی ہیں، اس میں فی الحال ایک خامی باقی ہے کہ انگریزی تحاریر کے ساتھ تبصرہ کا خانہ بھی صرف انگریزی میں ہونا چاہیے، اپنے لوکل ہوسٹ پر تو میں اسے کامیابی سے آزما چکا ہوں، وقت ملنے پر اگلے ہفتہ اسے یہاں بھی چڑھا دوں گا ۔ انگریزی حصہ میں کیا لکھنا ہے؟ اِس کا فیصلہ وقت کرے گا ۔
اِن تبدیلیوں کے علاوہ بلاگ میں اور بھی تبدیلیاں کرنے کا اردہ ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوں گی ۔آپ کو سانچہ کیسا لگا؟ اِس میں کیا کیا خامیاں موجود ہیں، آراء کا انتظار رہے گا ۔

تنور کی روٹیاں

April 5, 2008
از :  
زمرات: کمپیوٹر, پاکستان

دُنیا میں ہر علاقے کے رہن سہن میں تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے، چھوٹی چھوٹی باتیں اور چیزیں کسی خاص علاقے سے مخصوص ہوتی ہیں، اور سب باتیں مِل کر کلچر کی تشکیل کرتی ہیں ۔ لیکن کسی علاقے کے رہنے والے اپنے علاقہ سے منسوب بہت سی چیزوں کو اہمیت نہیں دیتے، کیونکہ اُن کے لئے یہ ایک روزمرہ کا معمول ہے، جب تک کہ وہ کسی دوسرے علاقہ منتقل نہیں ہو جاتے۔
میں پنجاب کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتا ہوں، ہمارے ہاں دوپہر اور رات کو ہمیشہ تنور میں پکی ہوئی روٹیاں کھائی جاتی ہیں ۔ کراچی میں افغانیوں کے تنور پر جو نان اور مختلف انواع کے کلچے وغیرہ ملتے ہیں، میں اُن کی بات نہیں کر رہا ،کیونکہ اُن کو پنجابی ربڑ کی روٹیاں یا چِٹے آٹے کی روٹیاں کہتے ہیں، سوا مجبوری کے اُن کے قریب نہیں جاتے ۔ تنور پورے گاؤں کا خبر نامہ ہوتا ہے، جہاں گاؤں کی عورتیں ہر گھر سے باخبر رہتی ہیں ۔ جیسے کہتے ہیں کہ کسی محلے کے گھر کی معلومات محلے کے دکان دار یا پان کے کھوکھے والے سے مِل سکتی ہیں۔ اسی طرح گاؤں میں ہونے والے کسی بھی کام سے آگاہ رہنے کے لئے بےبے فاطمہ کا تنور سب سے اہم جگہ ہے ۔
بےبے فاطمہ اللہ بخشے ہمارے گاؤں کی ماچھن تھی، اور اُسے پرلوک سدھارے بھی کوئی دس سال ہو چکے ہیں، لیکن اُس کی روٹیاں میرے والد صاحب کو نہیں بھولتی ہیں ۔ جب بھی کبھی بات ہو اُنہیں ہمیشہ تنور کی روٹیاں یاد آ جاتی ہیں ۔ یہاں امریکہ میں اب تنور تو دستیاب نہیں ہے، لیکن میری والدہ نے اوون میں آج تنور جیسی روٹیاں پکانے کا تجربہ کیا ہے، جو ماشااللہ کامیاب ہو گیا ہے ، اور بڑے مزے سے ہم نے آج روٹیاں کھائی ہیں ۔
اس کے علاوہ آج میں نے اپنا پوسٹ ای میل کرنے کا سانچہ بنایا ہے، پلگ اِن کو ورڈپریس 2.5 جیسا بنایا ہے ۔اپنا فیڈ نیوز لیٹر جیسا بنایا ہے، اور بس دِن ختم روٹی ہضم ۔ آپ اگر چاہیں تو کسی مضمون کو اپنے آپ کو میل کر کے مجھے مشورہ دے سکتے ہیں، فیڈ اگر کسی نے ای میل سبسکرائب کروایا ہے تو یوں نظر آئے گی ۔

2.5 ورڈپریس

March 30, 2008
از :  
زمرات: کمپیوٹر

ورڈ پریس کا نیا ورژن اب ڈاؤن لوڈ کے لئے دستیاب ہے۔ بدتمیز نے میری توجہ اس طرف دلائی تھی کہ میں ورڈپریس کو تروتازہ کرلوں، نہیں تو میں ابھی تک ورڈپریس ۲۔۱ ہی استعمال کر رہا تھا۔
نئے ورژن میں انٹرفیس بدل دیا گیا ہے، شاید پرانے استعمال کنندگان کو یہ نیا چہرہ فی الحال پسند نہیں آئے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی بھی عادت ہو جائے گی۔میں نے شروع ہی سے سوا Akismet کے کبھی کوئی پلگ اِن استعمال نہیں کیا تھا، مگر اس تھیم کے ساتھ میں آٹھ پلگ اِن کا استعمال کر رہا ہوں۔ ورڈپریس اپگریڈ کے بعد ورڈپریس ای میل پلگ اِن کام نہیں کر رہا۔ جب آپ یہ تحریر اپنے احباب کو ای میل کریں پر کلک کریں تو صحفہ ناموجود والا صحفہ کھُل جاتا ہے ۔
اب ایک شکایت، میں نے چار پانچ روز پہلے اپنا تھیم بدلا تھا۔ چونکہ میں اوبنٹو استعمال کرتا ہوں، اس لئے میرے پاس انٹرنیٹ ایکسپلورر نامی شے بھی نہیں ہے ۔ تھیم بنا کر میں اوبنٹو میں فائرفاکس، اوپرا اور کانکرر میں اُس کا مشاہدہ کرتا ہوں کہ آیا تھیم ویسا ہی ہے جیسا میں چاہتا ہوں یا نہیں۔ کل میں اپنی بہن کے گھر کمپیوٹر ٹھیک کرنے گیا تھا وہاں انٹرنیٹ ایکسپلورر پر اپنا بلاگ کھولا تو دایاں حصہ بالکل نیچے تھا۔ خیر سے اب میں نے دوبارہ انٹرنیٹ ایکسپلورر کے لئے علیحدہ سے سٹائل شیٹ بنا کر اُسے ٹھیک کیا ہے ۔ اگر آپ کو انٹرنیٹ ایکسپلورر استعمال کرتے ہوئے تھیم میں گڑبڑ نظر آتی ہے تو اپنی رائے دیتے گبھرائیں نہیں۔ کیونکہ فیڈ بیک سے کافی مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔

ورڈ پریس روابط اور ایڈ سینس

ایڈسینس کے اشتہارات بلاگ پر آنے کے ساتھ میں نے کچھ تجربات کئے ہیں ۔ورڈ پریس کا روابط دکھانے کا مجوزہ طریقہ http://example.com/?p=N اس طرح کے روابط دکھاتا ہے ۔ لیکن اگر اردو بلاگ میں روابط کی یہی صورت برقرار رکھی جائے تو اشتہارات کم نظر آتے ہیں ۔
تجربہ کے طور پر میں نے اپنے روابط کو جِسے ورڈپریس والے خوبصورت روابط کا نام دیتے ہیں میں تبدیل کیا تو اشتہارات کی تعداد بھی بڑھ گئی، اس کے علاوہ جیسے میری یہ پوسٹ ہیلری کلنٹن کے بارے میں ہے تو آنے والے اشتہارات بھی امریکی الیکشن سے متعلق نظر آنے لگتے ہیں ۔
اپنے روابط کو خوبصورت بنانے کےلئے ورڈپریس میں یہاں طریقہ بیان کیا گیا ہے ، اگر آپ کا سرور اپاچی ہے تو روابط کی شکل تبدیل کرنے میں آپ کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ ایک نقصان کہ اگر آپ کا بلاگ کافی عرصہ سے انٹرنیٹ پر ہے تو روابط تبدیل کرنے سے سرچ انجن پر وہ دوبارہ سے انڈیکس کیا جائے گا، جس سے سرچ انجن سے آنے والی ٹریفک کافی حد تک کم ہو جائے گی، دوسرا اگر آپ کے بلاگ کی تحاریر کے روابط دوسرے بلاگ پر دیے گئے ہیں تو وہ کام کرنا چھوڑ دیں گے ۔
اس کے علاوہ اردو تحاریر کے عنوانات کو براؤزر ایک بہت لمبے تحریر جو انسان نہیں پڑھ سکتے اُس میں بدل دے گا جیسے %aa%d9%85%db%8c%d8%b2 ۔ اس سے بچنے کے لئے آپ تحریر لکھتے وقت دائیں ہاتھ کی طرف پوسٹ سلَگ کا استعمال کر کے اپنی تحریر سے یا عنوان سے ملتا عنوان انگریزی میں لکھ سکتے ہیں جیسے اس تحریر کا سلَگ میں نے wordpress-permalinks-and-adsense رکھا ہے ۔
اس کے علاوہ ایک اہم بات کہ روابط کی تشکیل اس طرح کریں کہ اُن کے مِلنے کا امکان کم سے کم ہو، میں نے پہلے جو شکل روابط کی بنائی تھی وہ یوں تھی /category/post-tile/ لیکن میں نے بعد میں محسوس کیا کہ صرف عید مبارک کی چھ تحاریر میرے بلاگ پر ہیں جو کہ ایک ہی زمرہ میں ہیں، اب اگر ہر ایک کا سلگ میں eid-mubarak رکھوں گا تو گڑبڑ ہو جائے گی ۔ تب میں نے ساتھ سال کا اضافہ کر کے روابط کی نئی شکل /year/category/post-tile/ بنائی ہے، جس میں ربط ملنے کا امکان کم ہو گیا ہے۔ اگر آپ ہفتے میں دو تین بار لکھتے ہیں تو سال کے ساتھ آگے مہنہ کا اضافہ بھی کر سکتے ہیں ۔