عید مبارک

آج خیر سے پورے امریکہ میں اکھٹی عید ہے ۔ اس خوشگوار موقع پر میری طرف سے سب بلاگ پڑھنے والوں کو عید مبارک اور میری عیدی سیلاب فنڈ میں جمع کروانا نہیں بھولئے گا ۔

کیا کہیے گا؟

July 12, 2010
از :  
زمرات: پاکستان, مذہب, امریکہ

ایرک ہولڈر امریکہ کے اٹارنی جنرل ہیں، امریکی حکومت کے اقدامات پر قانونی مشورہ جات اور ان کی پیروی کرنا ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے ۔ ان کے پاس جعلی ڈگریوں اور ان سے نپٹنے جیسے اہم مسائل تو نہیں آتے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس پر امریکی حکومت کے موقف جیسے چھوٹے چھوٹے مسائل درپیش رہتے ہیں، حالانکہ دونوں طرح کے واقعات میں ہر فریق کو خوش بھی رکھنا ہوتا ہے، جو بذات خود ایک علیحدہ درد سری ہے ۔

صدر اوبامہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکی حکومت نے دہشت گردوں سے نپٹنے کے لئے ایک نئی حکمت عملی اختیار کی ہے، دہشت گردوں کو کسی مذہب سے نتھی کئے بغیر صرف دہشت گرد کہنے پر زور دینا اس حکمت عملی کا ایک حصہ ہے ۔ اور اس بارے میں استدلال یہ ہے کہ دہشت گرد ایک بہت چھوٹا گروہ ہے جو خود کو مذہب کے لبادے میں لپیٹ کر اپنے دائرہ کار کو مذہبی بنیادوں پر بڑھانا چاہتے ہیں، جبکہ حکومت کی طرف سے نادانستگی میں انہیں مذہب سے جوڑ کر ایک طرح سے ان لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے، ایک دہشت گرد کو بنیاد پرست مسلم دہشت گرد کہنے سے کسی حد تک باقی مسلمان اسے مختلف انداز سے دیکھنے لگتے ہیں، اور دہشت گرد جس مقام یعنی کہ مسلمان حلقوں میں پذیرائی کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں، اس کے زیادہ قریب ہو جاتے ہیں ۔

اس کے برعکس قدامت پرست حلقوں کی جانب سے یہ استدلال کیا جاتا ہے، کہ جب تک ہم دشمن کو صیحیح سے پہچان نہیں لیتے اس کے خلاف اقدامات کیسے کئے جا سکتے ہیں؟ دہشت گردوں کے اقدامات کے پیچھے ایک واضح سوچ اور فکر ہے جو کہ بنیاد پرست اسلام ہے، اور دشمن کی درست شناخت کے لئے بنیاد پرست اسلام کہنا درست قدم ہے، اور ساتھ یہ بھی کہ یہ درست ہے کہ سب مسلمان دہشت گرد نہیں نہ ہی ان سے ہمدردی رکھتے ہیں لیکن یہاں ہم بنیاد پرست اسلام کی بات کر رہے ہیں نہ کہ سب مسلمانوں کی ۔ سب مسلمان ہمارے دشمن نہیں ۔

اس ضمن میں ایک دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ٹائمز اسکوائر کار بم کے ناکام منصوبہ کے بعد ایرک ہولڈر ہاوس جوڈیشری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، لیمر سمتھ جو قدامت پسند ہیں وہ بار بار ہولڈر کو بنیاد پرست اسلام کہنے پر اکساتے رہے، ایرک ہولڈر ہر دفعہ سوال کو ٹالتے رہے ۔ اس مکالمے کی ویڈیو ملاحظہ فرمائیں ۔

اب کم وبیش ایسی ہی صورتحال سے پاکستان بھی دوچار ہے، کہ آیا یہ جو دہشت گردی کہ نئی لہر اٹھ رہی ہے اسے ہم کیا کہیں؟ طالبان، پاکستانی طالبان کہ آیا پنجابی طالبان یا صرف دہشت گرد؟ کم و بیش اس سلسلہ میں دونوں جانب سے دئے جانے والے دلائل بھی امریکی دلائل سے ملتے جلتے ہیں ۔ لیکن یہاں تھوڑا سا فرق ہے۔ پہلا تو یہ کہ جو مسلمان امریکہ کے دہشت گردی کو بنیاد پرست اسلام سے جوڑنے کو اسلام کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں اس صورت میں دہشت گردوں کو قومیت سے ملانے کی کوشش کیسے کر رہے ہیں؟ دوسرا یہ کہ امریکہ میں جس شدومد سے قدامت پرست حلقے دہشت گردی کو مذہب سے جوڑنے میں کوشاں نظر آتے ہیں، پاکستان میں اس کے بر خلاف لبرل حلقے اسی ضمن میں زیادہ کوشاں ہیں ۔
اس سے تو یہ نتجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی لبرل بھی امریکہ میں قدامت پرست ہیں ۔

سیب اور دو دو

August 25, 2009
از :  
زمرات: نیو یارک

نیویارک اور بڑا سیب مترادف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، اتوار کو بڑے سیب میں سیبوں کی نمائش کھلے عام کی گئی، پر میرا تو روزہ تھا ۔

پاکستانی جرگہ

March 24, 2009
از :  
زمرات: پاکستان

افتحار چوہدری اپنے عہدے پر بحال ہو چکے ہیں، اور بطور چیف جسٹس انہوں نے اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے ۔ پاکستانی لوگ بڑے “بھولے” ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ شائد پاکستان میں دائر ہونے والے ہر مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس خود کریں گے، اور اُن کے ساتھ انصاف ہو گا ۔ چیف جسٹس ایک شخص ہیں، جبکہ عدلیہ ایک پورا ادارہ ہے ۔ میرا ماننا یہ ہے کہ صرف چیف جسٹس کی بحالی سے عدلیہ آزاد نہیں ہو گئی، البتہ عدلیہ کی آزادی کی سمت یہ ایک اہم پیش رفت ضرور ہے ۔ آنے والے کل میں اگر چیف جسٹس حکومتی اقدامات کے سامنے ڈٹ جانے والا نہ ہوا تو ایک بار پھر یہ سفر صفر سے شروع ہو جائے گا ۔
انگریزی مقولہ ہے “ Power corrupts, absolute power corrupts absolutely” جس کی تشریح یوں ہو گی کہ اگر ہم ایک ہی ذات میں تمام طاقت کو مرکوز کر دیں تو امکان یہی ہے کہ وہ ذات اس طاقت کا غلط استعمال کرے گی ۔ اس کا توڑ مغرب میں یہی کیا گیا ہے کہ اختیارات کی تقسیم یوں ہو کہ بجائے ایک شخص کو اختیارات سونپنے کے ادارے کو اختیارات دئے جائیں ۔ اگر صدر کو سب سے بڑا عہدہ دیا جاتا ہے تو ساتھ ہی سینیٹ یا پارلیمنٹ کی صورت میں اس پر قدغن لگا دی گئی ہے کہ قوانین کے لئے ان سے منظوری ضروری ہے۔ اسی طرح عدالت کو اگر اختیارات دئے گئے ہیں، ساتھ ہی ان اختیارات کو تقسیم کر کے جیوری کو سونپ دیا گیا ہے، جہاں فیصلے جیوری کرتی ہے اور اس فیصلے کی روشنی میں جج قانون کے مطابق سزا یا جزا سناتا ہے ۔

انصاف سب کے لئے۔

انصاف سب کے لئے۔


اب پاکستان میں عدالتی نظام سے متعلق شکایات کا جائزہ لیں، تو سب سے پہلی شکایت انصاف میں تاخیر ہے، خاص طور پر سول کیسز بعض اوقات دہائیوں تک لمبے ہو جاتے ہیں، میرے اپنے ننھیال کی زمین کے تنازعہ کا فیصلہ تقریباً دس سال سے زائد عرصہ میں ہوا، وجہ ہائیکورٹ لاہور میں تھی، جہاں پورے پنجاب سے ایسے ہی مقدمات ایک جگہ اکٹھے ہوئے تھے، اور بعض اوقات ایک “پیشی” کے بعد اگلی تاریخ کئی کئی مہینے بعد کی ملتی تھی، اور اس تاریخ پر پھر لاہور جا کر عدالت حاضر ہونے پر اگلا فریق موجود نہ ہونے پر کئی ماہ بعد کی ایک اور تاریخ ۔ اب اس کا جائزہ یہاں کے تناظر میں لیا جائے، نیویارک شہر پانچ شہروں کو مِلا کر بنتا ہے، اور ہر شہر کی اپنی سپریم کورٹ ہے ۔ اب اگر آپ کو کسی عدالتی کاروائی کا سامنا ہے تو آپ کا فیصلہ اپنے شہر میں ہی نپٹا دیا جائے گا، اس کے خلاف اگر اپیل کرنی ہے تو بھی اس کا فیصلہ اسی شہر کی عدالت میں ہی مکمل ہو گا ۔ صرف کسی وفاقی مقدمہ کی صورت میں شائد آپ کو اپنے علاقہ سے باہر کسی عدالت میں جانا پڑے ۔ ان شکایات کے ازالہ کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم پاکستان میں ہر ضلع میں ہائیکورٹ قائم کی جائیں، اور ہر ضلع کا فیصلہ اسی ضلع کی عدالت میں ہو نہ کہ لاہور، کراچی،کوئٹہ، پشاور یا اسلام آباد ۔ اس سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بھی تقسیم ہو جائے گا اور مقدمات نمٹانے کی رفتار بھی تیز رفتار ہو گی ۔
دوسری عام شکایت جج حضرات و خواتین کی کرپشن ہے، یہ کرپشن رشوت کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے، اور ججوں کو ڈرا دھمکا کر بھی کی جاتی ہے ۔پاکستان کا مسلہ یہ ہے کہ آزادی تو حاصل کر لی ہے، لیکن پولیس اور عدالتوں کے قوانین وہی ہیں جو ایک غلام ہندوستان پر نافذ کئے گئے تھے، یا انہی قوانین کی بنیاد پر نئے قوانین اخذ کئے گئے ہیں، جن کا مقصد عوام کو کی خدمت سے زیادہ انہیں دبا کر رکھنا تھا، عدالتوں میں مرضی کے جج لگوا کر مرضی سے کسی کو باغی قرار دے کر فیصلے لینا تھا، اور یہی آج تک چلتا آ رہا ہے ۔ اس کا حل صرف ایک ہے کہ ہم اپنی عدالتوں میں پنچائت یا جرگہ نافذ کریں ۔ اس سے پہلے کہ آپ جرگہ یا پنچائت کا نام سن کر ہتھے سے اکھڑ جائیں، یہ تحریر پڑھنا مفید ہو گا ۔ خود غور کریں کہ ایک جج کی بجائے جب ایک مقدمہ کے ثبوت پندرہ سے اکیس افراد کے سامنے پیش کئے جائیں گے، تو کیا ایک فرد کو کرپٹ کرنا مشکل ہے یا پندرہ افراد کو؟ جب پندرہ افراد بھی انجانے ہوں، عام لوگ ہوں، جنہیں ثبوت دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا ہو کہ یہ جو شخص جس نے کسی راہ جاتی عورت کو لوٹا ہے، اگر میں اسے چھوڑ دوں گا تو کل کو میری بہن، میری بیٹی، ماں یا بیوی اس کا شکار ہو سکتی ہے ۔ آپ کیا کہتے ہیں وہ عام بندہ اسے رشوت لے کر چھوڑ دے گا؟ میرا ایسا خیال نہیں ہے ۔ میرا یہ یقین ہے کہ پاکستان میں فوری طور پر عدلیہ کو حقیقی معنوں میں آزاد کروانے کی ضرورت ہے، اور غریب آدمی کو انصاف فراہم کروانے کے لئے ضروری ہے کہ غریب آدمی کو عدلیہ کا لازمی جزو بنایا جائے ۔ ہمارے حکمران کبھی نہیں چاہیں گے کہ حقیقی معنوں میں عدلیہ آزاد ہو، اس کے لئے بھی تحریک عوام کو چلانا ہو گی، نہیں تو کیا پتہ اگلا چیف جسٹس افتحار چوہدری جیسا ہو کہ ڈوگر جیسا؟

برف

February 5, 2009
از :  
زمرات: میری زندگی

گرتی ہوئی برف بہت اچھی لگتی ہے، جب آپ ٹیلیویژن پر دیکھ رہے ہوں ۔ حقیقت میں برف سے جڑا رومان صرف اپنی گاڑی صاف کرتے ہی پُھر ہو جاتا ہے ۔



نیویارک میں، میری پہلی برف باری کا نظارہ مجھے اب بھی یاد ہے، میں نے خاص گھر فون کر کے والدہ کو بتایا کہ باہر دیکھیں برف گِر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا جلدی گھر آؤ اِس میں کیا نیا ہے ۔ خیر گھر آنے کے بعد بیلچہ پکڑ کر صفائی کرنا پڑی تو سارا شوق ختم ۔
ویسے بچپن کی سرد شاموں کے ساتھ برف کی بجائے کُہر کی یادیں وابستہ ہیں، سرگودھا میں جم کر دھند پڑتی ہے، جب کہ یہاں صرف ایک دفعہ دھند سے پالا پڑا ہے ۔ ویسے گرمیوں میں پاکستان میں مٹی بھری جو آندھیاں چلتی ہیں وہ بھی یہاں نہیں آتی، حالانکہ ہوا تقریباً ہر وقت ہی تیز رفتار ہوتی ہے، البتہ پچھلے سال گرمیوں میں ہلکا سا ڈسٹ بھرا طوفان آیا تھا، اور فون پر ہم دوست ایک دوسرے سے کہتے پائے گئے، پاکستان جیسی آندھی آئی ہے ۔



امریکی جرگہ

November 20, 2008
از :  
زمرات: نیو یارک, امریکہ

کہتے ہیں دو امور انجام دیتے وقت آپ کو امریکی شہری ہونے کا احساس ہوتا ہے، ایک رائے دہی کا حق استعمال کر کے اور دوسرا منصفی کے فرائض انجام دے کر ۔پچھلے مہینے یکے بعد دیگرے ان دونوں امور سے میرا واسطہ رہا ۔
فرائض منصفی یا عرف عام جیوری ڈیوٹی کی امریکی  انصاف میں کلیدی حثیت  ہے، لیکن اچنبھا تب ہوتا ہے، جب عدالت کی طرف سے آپ کو طلبی کا پروانہ آنا ہے اور آپ اپنے اردگرد جاننے ولے لوگوں سے اس بارے استفسار کریں، تو کوئی درست معلومات نہیں ملتی، لیکن سب ملی معلومات سے آپ ایک نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں، کہ عدالت میں مقدمہ پر دونوں طرف فریقین کے دلائل اور ثبوت دیکھ اور سن کر آپ کو فیصلہ سنانا ہوتا ہے، اور عموماً مقدمہ ایک ہفتہ کے اندر ختم ہو جاتا ہے جو غلط نہیں  لیکن نا مکمل ہے ۔ امریکہ میں دو مختلف قسم کی جیوری عدالتی امور میں فرائض انجام دیتی ہیں ۔

گرینڈ جیوری کا کمرہ

پیٹٹ یا ٹرائل جیوری ۔
یہ وہ جیوری ہے جس کا ذکر شروع میں کیا تھا،یا ایک عام شخص کے ذہن میں عدالت کا جو تصور ہوتا ہے، جس میں ایک جج، دو وکیل، ملزم، گواہ، پولیس اور ثبوت اور ان کے متعلق مباحث اور دلائل موجود ہوتے ہیں، یہ جیوری نیویارک میں نو سے بارہ افراد پر مشتمل ہوتی ہے، جو سب دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہیں، جس کی روشنی میں جج سزا یا رہا کرنے کا فیصلہ سناتا ہے ۔ یہ بات یاد رکھیں کہ معصوم یا مجرم کا فیصلہ جیوری کرتی ہے نا کہ جج، اور فیصلے کو جج نہیں بدل سکتا، جج قانون کے مطابق اس پر سزا سناتا ہے ۔اور انصاف کے مراحل میں یہ سب سے آخری مرحلہ ہوتا ہے ۔ٹرائیل جیوری صرف ایک مقدمہ سنتی ہے، اور عموماً چار سے پانچ دن میں اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جاتی ہے ۔

گرینڈ جیوری ۔
نیویارک میں گرینڈ جیوری 23 افراد پر مشتمل ہوتی ہے، اور کسی فیصلے پر پہنچنے کے لئے 12 افراد کی حمایت درکار ہوتی ہے، جبکہ کسی بھی مقدمہ پر کم از کم 16 افراد کا موجود ہونا لازمی ہے ۔
ٹرائل جیوری کے برعکس گرینڈ جیوری میں جج، وکیلِ صفائی اور زیادہ تر مقدمات میں ملزم موجود نہیں ہوتا ۔ یہ انصاف کا دوسرا مرحلہ ہے، سب سے پہلے پولیس کسی شخص کو گرفتار کرتی ہے، یا اس کے خلاف ثبوت تیار کرتی ہے، جسے ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس میں بھیجا جاتا ہے، ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس اس مقدمہ پر ایک وکیل کے فرائض لگاتا ہے، جسے پراسیکیوٹر کہتے ہیں ۔ یہ پراسیکیوٹر مقدمہ گرینڈ جیوری کے سامنے پیش کرتا ہے، مقدمہ میں ثبوت اور گواہان اور پولیس افسران جنہوں نے مقدمہ تیار کیا ہے، جیوری کے سامنے پیش ہوتے ہیں ۔ گرینڈ جیوری نہ صرف ان سب کے دلائل اور ثبوت سنتی ہے، بلکہ سوالات پوچھ سکتی ہے، کسی ابہام کی صورت میں مزید گواہوں کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود گرینڈ جیوری مقدمہ میں کسی کو بری یا مجرم نامزد نہیں کر سکتی، بلکہ تمام مہیا کردہ ثبوتوں کی روشنی میں اس بات کا تعین کرتی ہے کہ آیا مقدمہ اس قابل ہے کہ اسے عدالت میں پیش کیا جائے، جہاں پھر ٹرائل جیوری دونوں فریقین کا نکتہ نظر سنے گی ۔ یا پھر مقدمہ کو رد کر دیا جائے، گرینڈ جیوری سے رد کیا جانے والا مقدمہ عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا، اور اگر کسی ملزم کو گرفتار کیا گیا ہو، تو وہ اسی وقت آزاد اور اس پر لگائے الزامات واپس لے لئے جاتے ہیں ۔ گرینڈ جیوری ایک مہینے تک فرائض انجام دیتی ہے، اور اس دوران مختلف مقدمات پر شواہد اور ثبوت دیکھتی ہے ۔

جیورر یا منصف بننے کے مرحلے کا آغاز ایک عدد خط سے ہوتا ہے، جو آپ کو جس ریاست میں آپ میں رہائش پذیر ہیں کے محکمہ انصاف کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے، یہ ایک عام سا خط ہوتا ہے لیکن پندرہ دن کے اندر اس کا جواب دینا لازم ہے، اس خط کے جواب میں آپ اپنی معلومات لکھتے ہیں، اور یہ بتاتے ہیں کہ آیا آپ جیوری ڈیوٹی انجام دینا چاہتے ہیں کہ نہیں؟ اور اگر نہیں تو کیوں، وجوہات میں امریکی شہری نہیں، انگریزی بول اور سمجھ نہیں سکتا، یہ انکار کی سب سے سہل وجوہات ہیں، اگر آپ پر ان کا اطلاق نہیں ہوتا تو پھر آپ دیگر وجوہات کے خانہ میں اپنی معذوری کی وجہ بیان کر سکتے ہیں، جیسے ایک ماں جس پر ۱۲ سال سے کم عمر کے بچوں کی ذمہ داری ہے اس سے مستثنیٰ ہے ۔ مجھے پچھلے پانچ سال سے یہ خطوط آ رہے تھے، پہلے میں امریکی شہری نہیں تھا، بہت سے دیسی دوسری ترجیع کا استعمال بھی کرتے ہیں، لیکن اب یہ اتنی قابل قبول نہیں کہ امریکی شہری بننے کی ایک شرط انگریزی بھی ہے ۔

میرا جیورر کارڈ
یہ کرنے کے بعد آپ جب سب کچھ بھول جاتے ہیں، تو ایک عدد خط اور آ جاتا ہے، لیکن یہ طلبی کا پروانہ ہوتا، جس میں اپنے علاقے کی سپریم کورٹ میں کمشنر آف جیوررز کے آفس میں بقلم خود جانا ہوتا، اس کے لئے بھی آپ کے پاس پندرہ دن ہوتے ہیں ۔وہاں ایک دفعہ پھر آپ اپنی معلومات دیتے ہیں، اور اگر جیوری ڈیوٹی نہیں کر سکتے تو اپنا عذر پیش کرتے ہیں ۔
تیسرے مرحلہ میں پکے وارنٹ مطلب عدالت کی طرف سے طلبی کا نوٹس آتا ہے، جہاں پر دن، وقت اور مقام بتایا گیا ہوتا ہے، اور آپ کس قسم کی جیوری میں فرائض انجام دیں گے لکھا ہوتا ہے ۔
مقررہ دن حاضر ہونے پر، عدالتی عملہ آپ کو خوش آمدید کہتا ہے، میرے ساتھ 150 افراد اور لوگ بھی موجود تھے، سب لوگوں کے آ جانے پر ایک جج فرائض ادا کرنے پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہے، اور گرینڈ جیوری کے متعلق ابتدائی معلومات دیتا ہے، اور پھر جیوری کا چناو کرتا ہے ۔ ہم 150 لوگوں میں سے چھ عدد جیوررز کے پینل بنائے گئے، ہر پینل 23 افراد پر مشتمل تھا، یعنی 12 افراد کو پینل میں نہیں چنا گیا، یہ اضافی لوگ، کسی کے نہ آنے کی صورت میں بلوائے جاتے ہیں ۔چناؤ کے لئے سب کے نام ایک ڈبے میں ڈال کر، باری باری ایک ایک نام نکالا جاتا ہے ۔ ہر پینل باری باری ایک مہینہ تک فرائض انجام دیتا ہے ۔ اس کے بعد جس پینل میں آپ کا انتخاب ہوا ہو، اس کی مقرر کردہ تاریخ پر آپ کو واپس عدالت جانا ہونا ہے ۔
مقررہ تاریخ کو پہلا دن تو صرف ویڈیوز دیکھتے، گزر جاتا ہے، اس کے علاوہ کمشنر آف جیوررز آپ کو فرائض کے بارے میں بتاتا ہے، اور اسکی اہمیت کو انصاف کے حصول کے لئے اجاگر کرتا ہے، ساتھ میں آپ کو ایک عدد کتابچہ فراہم کیا جاتا ہے، جس میں وہی باتیں دوبارہ لکھی ہوتی ہیں ۔
اصل کام اگلے دن سے شروع ہوتا ہے، پراسیکیوٹر، ایک عدد سٹینوگرافر کے ساتھ وارد ہوتا ہے، اور اپنا کیس پیش کرتا ہے، اس کے بعد گواہان کو ایک ایک کر کے سامنے لایا جاتا ہے، جیوری سب کو سنتی ہے، ان کے بیانات کا موازنہ کرتی ہے، مزید سوالات پوچھتی ہے، اور اگر پھر بھی کچھ واضح نہ ہو تو مزید گواہ طلب کر سکتی ہے، لیکن ایسا کرنے کے لئے 12 افراد کی حمایت ہونا لازمی ہے ۔ ایک اور بات جو گرینڈ جیوری میں ہے، فرض کریں پہلا پراسیکیوٹر پہلا مقدمہ لاتا ہے، اور ساتھ ایک گواہ پہلے دن پیش کرتا ہے، لیکن ہو سکتا ہے مقدمہ میں دوسرا گواہ ایک، یا دو ہفتہ بعد آئے، تو مقدمات کو گڈمڈ کرنے کی بجائے گرینڈ جیورر ہر مقدمے کے نوٹس تیار کرتے ہیں، ایک مقدمہ پر تمام ثبوت مکمل ہونے پر، پراسیکیوٹر جیوری سے ووٹنگ کی درخواست کرتا ہے، لیکن جب جیوری ووٹنگ کے مرحلہ میں ہو، تو سوا جیوری کے کسی بھی فرد کو جیوری کے کمرہ میں موجود ہونے کی اجازت نہیں، یہاں سب جیوررز بحث کرتے ہیں، پھر ووٹ دے کر کہ مقدمہ کو آگے بھیجا جائے یا یہیں خارج کر دیا کا فیصلہ کرتے ہیں ۔
اس ایک مہینے میں ہمارے پینل نے 81 مقدمات سنے، اور اسی معاشرے میں رہتے ہوئے جو تصویر آپ کی آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے، کا بغور مشاہدہ کیا ۔جب آپ جیوری روم میں بیٹھے ہوتے ہیں تو اکثر اوقات منظر جذباتی ہوتا ہے، مثلاً ایک مقدمہ ہمارے پاس آیا جس میں ایک لڑکی جب نو سال کی تھی، تب سے اس کا باپ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا، اور اس وقت اسکی عمر 17 سال تھی ۔ اس مقدمہ سے پہلے میں سوچتا تھا کہ جن خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہ عدالت کا رخ کیوں نہیں کرتی ہیں؟ اور جواب مقدمہ دیکھ کر مل گیا، کہ انہیں دہری تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ بہت اچھا تجربہ تھا، جہاں آپ کو محسوس ہوتا ہے، کہ ملک کی اصل طاقت عوام کے ہاتھ میں ہے ۔

ابراہم لنکن کے خط کی نیلامی

April 3, 2008
از :  
زمرات: نیو یارک, امریکہ

آپ نے سُنا ہو گا کہ الفاظ بہت قیمتی ہوتے ہیں، لہذا انہیں برتتے وقت اختیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ لیکن کیا آپ اس بات کا درست اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کے الفاط کتنے قیمتی ہیں؟
آج نیویارک میں ابراہم لنکن کے ایک خط کی نیلامی ہو رہی ہے، خط میں کل چھیاسی الفاظ ہیں اور امید ہے کہ اس کے نیلامی سے تقریباً پانچ ملین ڈالر تک کی آمدن ہو گی ۔یہ خط ابراہم لنکن نے اٹھارہ سو چونسٹھ میں کنکارڈ، میساچیوسٹ کے سکول کے ایک سو پچانوے بچوں کی درخواست ” تمام چھوٹے بچے جو غلام ہیں کو آزاد کیا جائے” کے جواب میں لکھا تھا ۔
ابراہم لنکن کی فروخت ہونے والی دستاویزات میں سے اب تک اس خط کی قیمت سب سے زیادہ ہے ۔

بیس بال سیزن کا آغاز

April 2, 2008
از :  
زمرات: کھیل, نیو یارک

Yankees Picture
اپنے بلاگ پر سب سے کم میں نے کھیلوں کے متعلق لکھا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مجھے کھیلوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔
پاکستان میں رہتے ہوئے ہر دوسرے بندے کی طرح مجھے بھی کرکٹ کا شوق تھا، اور پہروں کرکٹ کھیلتے وقت گزر جاتا تھا ۔ پاکستان سے امریکہ منتقل ہونے کے بعد ابھی بھی کرکٹ کا شوق ضرور ہے لیکن اب جنون نہیں، سچ یہی ہے کہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ۔ نہ ہی امریکہ میں کرکٹ کے میچیز آتے ہیں نہ ہی اُن پر تبصرہ کرنے والے مبصر ۔
لیکن پچھلے تین سالوں سے میں بیس بال سیزن کو خاص طور پر نیویارک ینکیز اور نیویارک مٹس کے تمام میچوں کا پتہ ضرور رکھتا ہوں۔ کل ینکیز کا بلیو جیز سے مقابلہ تھا، جو ینکیز نے حسب توقع جیت لیا ہے، دعا یہی ہے کہ یہ آغاز اس سیزن کے اختتام تک یوں ہی رہے اور ینکیز یہ اس دفعہ ورلڈ سیزیز جیت لیں،کیونکہ میرے یہاں آٹھ سال قیام میں ینکیز صرف ایک مرتبہ ہی ورلڈ سیزیز جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ لیکن پھر بھی جتنی دفعہ ینکیز نے ورلڈ سیزیز جیتی ہے کوئی دوسری ٹیم اُس کے قریب تک بھی نہیں پہنچ سکی ۔ گو ینکیز ون مور ٹائم ۔
نیویارک ینکیز کی طرف سے کھلینے والے جاپانی کھلاڑی ہدیکی مٹسوئی، جاپان میں سپر سٹار کی طرح مشہور ہیں۔ ینکیز کے کھیل کے دوران جاپان کا میڈیا صرف اُنہیں کو دکھاتا رہتا ہے ۔ لیکن دور کے ڈھول سہانے کے مصداق یہ میڈیا کوریج جب حد سے زیادہ ہو جاتی ہے تو وبال جان بن جاتی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ مٹسوئی کی شادی ہوئی ہے، اور انہوں نے میڈیا سے بچانے کے لئے اپنی بیوی کی مندرجہ ذیل تصویر دکھائی ہے، تاکہ جاپانی میڈیا اُن کی بیوی کی جان کو نہ آ جائے ۔

ویسے اچھا آئیڈیا ہے، لیکن کیا اس سے مٹسوئی کی بیوی کی جان میڈیا سے بچ جائے گی؟ میرا نہیں خیال ۔