عید مبارک

آج خیر سے پورے امریکہ میں اکھٹی عید ہے ۔ اس خوشگوار موقع پر میری طرف سے سب بلاگ پڑھنے والوں کو عید مبارک اور میری عیدی سیلاب فنڈ میں جمع کروانا نہیں بھولئے گا ۔

تماش بین

August 21, 2010
از :  
زمرات: پاکستان

کسی نے شاعر نے کہا تھا “ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے” یہ کیسا اندھیر ہے جس کا اخیر ہی نہیں ہو رہا ۔ جس امت کا منشور ہی برائی کو روکنا ٹھہرایا گیا تھا، ہاتھ سے زبان سے وہ امت تماش بین بن گئی ۔ اور جو قومیں ظلم ہوتا دیکھ کر تماش بین بن جاتی ہیں اں کی بربادی کا تماشہ دنیا دیکھتی ہے ۔
اتنی بے حسی دو نوجوانوں کو سرعام قتل کر دیا جائے اور کوئی روکنے والا موجود نہیں، سب تماشا دیکھنے والے ۔ جس دین نے دشمنوں کی لاشوں کو بھی حرمت بخشی اس کے پیرو اپنے ہی امت کے لوگوں کی میتوں کو سربازار رسوا کرنے لگ گئے ہیں ۔ جو مثالیں تو عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی دیں کہ اگر ایک کتا بھی بھوک سے مر جائے تو عمر اس کا جوابدہ ہے، وہ دو انسانوں کی بے بسی کا تماشا دیکھنے لگیں ۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو گا؟ ایسے ہی حالات کے بارے میں قانون قدرت ہے کہ ایسی قوموں پر کسی دوسرے گروہ کو مسلط کر دیا جاتا ہے ۔
بٹر کے مکینو، کیا ایک بھی خدا خوفی رکھنے والا تم میں موجود نہیں رہا؟ ایسا ظلم کمایا ہے تم لوگوں نے کہ تمہاری پوری بستی بھی اجڑ جائے تو غم نہیں ۔ وحشت اور بربریت کا ایسا الم ناک مظاہرہ کہ وحشی بھی لرز اٹھیں، انسان اتنا بے رحم کیسے ہو سکتا ہے؟
میری اللہ سے التجا ہے کہ اس ظلم کے کمانے والوں کو دنیا میں عبرت کا نشان بنا دے اور آخرت میں ذلیل و رسوا کرے ۔

کیا کہیے گا؟

July 12, 2010
از :  
زمرات: پاکستان, مذہب, امریکہ

ایرک ہولڈر امریکہ کے اٹارنی جنرل ہیں، امریکی حکومت کے اقدامات پر قانونی مشورہ جات اور ان کی پیروی کرنا ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے ۔ ان کے پاس جعلی ڈگریوں اور ان سے نپٹنے جیسے اہم مسائل تو نہیں آتے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس پر امریکی حکومت کے موقف جیسے چھوٹے چھوٹے مسائل درپیش رہتے ہیں، حالانکہ دونوں طرح کے واقعات میں ہر فریق کو خوش بھی رکھنا ہوتا ہے، جو بذات خود ایک علیحدہ درد سری ہے ۔

صدر اوبامہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکی حکومت نے دہشت گردوں سے نپٹنے کے لئے ایک نئی حکمت عملی اختیار کی ہے، دہشت گردوں کو کسی مذہب سے نتھی کئے بغیر صرف دہشت گرد کہنے پر زور دینا اس حکمت عملی کا ایک حصہ ہے ۔ اور اس بارے میں استدلال یہ ہے کہ دہشت گرد ایک بہت چھوٹا گروہ ہے جو خود کو مذہب کے لبادے میں لپیٹ کر اپنے دائرہ کار کو مذہبی بنیادوں پر بڑھانا چاہتے ہیں، جبکہ حکومت کی طرف سے نادانستگی میں انہیں مذہب سے جوڑ کر ایک طرح سے ان لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے، ایک دہشت گرد کو بنیاد پرست مسلم دہشت گرد کہنے سے کسی حد تک باقی مسلمان اسے مختلف انداز سے دیکھنے لگتے ہیں، اور دہشت گرد جس مقام یعنی کہ مسلمان حلقوں میں پذیرائی کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں، اس کے زیادہ قریب ہو جاتے ہیں ۔

اس کے برعکس قدامت پرست حلقوں کی جانب سے یہ استدلال کیا جاتا ہے، کہ جب تک ہم دشمن کو صیحیح سے پہچان نہیں لیتے اس کے خلاف اقدامات کیسے کئے جا سکتے ہیں؟ دہشت گردوں کے اقدامات کے پیچھے ایک واضح سوچ اور فکر ہے جو کہ بنیاد پرست اسلام ہے، اور دشمن کی درست شناخت کے لئے بنیاد پرست اسلام کہنا درست قدم ہے، اور ساتھ یہ بھی کہ یہ درست ہے کہ سب مسلمان دہشت گرد نہیں نہ ہی ان سے ہمدردی رکھتے ہیں لیکن یہاں ہم بنیاد پرست اسلام کی بات کر رہے ہیں نہ کہ سب مسلمانوں کی ۔ سب مسلمان ہمارے دشمن نہیں ۔

اس ضمن میں ایک دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ٹائمز اسکوائر کار بم کے ناکام منصوبہ کے بعد ایرک ہولڈر ہاوس جوڈیشری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، لیمر سمتھ جو قدامت پسند ہیں وہ بار بار ہولڈر کو بنیاد پرست اسلام کہنے پر اکساتے رہے، ایرک ہولڈر ہر دفعہ سوال کو ٹالتے رہے ۔ اس مکالمے کی ویڈیو ملاحظہ فرمائیں ۔

اب کم وبیش ایسی ہی صورتحال سے پاکستان بھی دوچار ہے، کہ آیا یہ جو دہشت گردی کہ نئی لہر اٹھ رہی ہے اسے ہم کیا کہیں؟ طالبان، پاکستانی طالبان کہ آیا پنجابی طالبان یا صرف دہشت گرد؟ کم و بیش اس سلسلہ میں دونوں جانب سے دئے جانے والے دلائل بھی امریکی دلائل سے ملتے جلتے ہیں ۔ لیکن یہاں تھوڑا سا فرق ہے۔ پہلا تو یہ کہ جو مسلمان امریکہ کے دہشت گردی کو بنیاد پرست اسلام سے جوڑنے کو اسلام کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں اس صورت میں دہشت گردوں کو قومیت سے ملانے کی کوشش کیسے کر رہے ہیں؟ دوسرا یہ کہ امریکہ میں جس شدومد سے قدامت پرست حلقے دہشت گردی کو مذہب سے جوڑنے میں کوشاں نظر آتے ہیں، پاکستان میں اس کے بر خلاف لبرل حلقے اسی ضمن میں زیادہ کوشاں ہیں ۔
اس سے تو یہ نتجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی لبرل بھی امریکہ میں قدامت پرست ہیں ۔

ماحول کا اثر

July 8, 2010
از :  
زمرات: پاکستان, اردو

آپ اسی کی دہائی میں پاکستان میں پیدا ہوئے ہوں، اور لفظ خلاصہ سے نامانوس ہوں، ممکن ہی نہیں ۔ سونے پر سہاگہ کے مصداق دوران تعلیم اگر کسی ایسے استاد کے ہتھے چڑ جائیں جو ایک عدد خلاصے کے ادیب بھی ہوں، تو کیا کہنے ۔ جماعت نہم میں ہمارے ایک استاد تھے، انہوں نے بھی ایک عدد خلاصہ چھپوایا ہوا تھا، ظاہر سی بات ہے نصاب کی کتابوں کے علاوہ ان کا لکھا ہوا خلاصہ خریدنا بھی شاگرد پر قرض تھا، اور امتحانات میں خلاصہ سے اقتباسات پیش کرنے پر اضافی نمبر ملنے کے مواقع یقنی تھے ۔ وہ ہمیں اردو پڑھاتے تھے ۔ چند جملے خلاصہ میں ایسے تھے کہ ردوبدل کے بغیر ہی ہر جگہ بخوبی استعمال کئے جا سکتے تھے ۔

ایک جملہ جس کا استعمال میں نے ہر بڑے انسان پر مضمون لکھنے سے لے کر غالب کے اشعار کی تشریح لکھتے وقت، ہر مقام پر اتنا کیا ہے کہ ابھی تک خواب میں مجھے اس کی بازگشت دیکھائی دیتی ہے، جملہ کچھ یوں تھا “ہر ادیب اور شاعر اپنے ماحول اور گردوپیش کا عکاس ہوتا ہے” چاہے غالب کے شعر کی تشریح ہو یا الطاف حیسن حالی پر مضمون لکھنا ہو، یہ جملہ تمام مقاصد پورا کرتا ہے ۔

میں نے زندگی میں کبھی کسی لڑکی کو نہیں چھیڑا، وجہ میری شرافت نہیں بلکہ اس چھترول کا خوف تھا جو عموماً ہمارے علاقہ میں ایسے مواقع پر ہو جانے کا اندیشہ رہتا تھا ۔ بعد میں پنجاب میں ہر بڑے شہر اور حتی کہ کراچی میں دوران قیام اس بات کا اندازہ ہوا کہ کم و بیش ہر جگہ اس چھترول کا خوف کسی نہ کسی حد تک موجود ہے ۔ بحثیت قوم ہمارے ہاں ایسے مواقع پر خواتین کے خدائی مددگار نمودار ہو جاتے ہیں، ان کا جوش دیدنی ہوتا ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل افراد سے اس “دبڑ کٹ” کی زیادہ تفصیلات سنی جا سکتی ہیں ۔

اب اردو بلاگستان کو دیکھ لیں، ایک خاتون فرانس سے ایک تحریر لکھتی ہیں ۔ تحریر پر ایک تبصرہ نگار امریکہ سے تبصرہ کرتا ہے، جبکہ اُس تبصرے کا جواب کینیڈا سے موصول ہوتا ہے، اور یوں ایک نئی کہانی چل پڑتی ہے ۔ خلاصے کی بات بلاگستان کے لئے بھی درست لگتی ہے کہ “پر ادیب اور شاعر اپنے ماحول اور گردوپیش کا عکاس ہوتا ہے” ۔

جنت براستہ خود کش جیکٹ

July 5, 2010
از :  
زمرات: پاکستان, مذہب, سیاست

اولیاء کرام سے عقیدت برصیغر میں بسنے والے مسلمانوں میں رچی بسی ہے، اسی عقیدت کی بدولت تقریباً ہر علاقہ میں صوفیاء کے مزار اور خانقاہیں مل جاتی ہیں ۔ اجمیر شریف سے لے کر بھٹ شاہ تک لوگ ان صوفیاء کی محبت کا دم بھرتے ہیں ۔ اسی عوامی پذیرائی کی بدولت ہمارے ایک “بھائی” کو بھی پیر بننے کا شوق چرایا تھا اور عباسی شہید اسپتال میں دوران علاج پتوں پر معجزاتی طور پر ان کے نقوش ابھر آئے تھے وہ علیحدہ بات ہے کہ ڈبہ پیروں کی طرح بعد میں انہیں علاقہ سے فرار ہونا پڑا، بہرحال یہ لطیفہ نہیں حقیقت ہے۔

لاہور نے مغلوں سے لے کر رنجیت سنگھ تک مختلف ادوار میں کئی شاہی دربار دیکھے ہیں، لیکن جو مقام لاہور میں داتا دربار کو حاصل ہے، باقی دربار اس کی گرد کو بھی نہیں چھو سکے۔ اسی داتا دربار میں بد بختوں نے کتنے ہی معصوم لوگوں کی جان لے لی ۔ اس سے بڑا بھیانک مذاق کیا ہو گا کہ جس شخص کی تعلیمات امن کا درس دیتی ہوں وہاں بربریت کی انتہا کر دی جائے ۔

لیکن ٹھہرئے، سوالات تو ذہن میں بہت سے اٹھتے ہیں ،لیکن سب سے اہم سوال یہ کون لوگ ہیں؟ کچھ لوگ بتاتے ہیں کہ دراصل دو عدد “قوموں” کے درمیان یہ تخریب کار چھپے ہیں، جبکہ قرائن بتاتے ہیں کہ یہ بلا تخصیص علاقہ کراچی سے خیبر تک موجود ہیں، اور ایک نظریہ پر متفق ہیں ۔ دوسروں کو پکا سچا مسلمان بنانے کا نظریہ، ان کے نظریے ہیں شائد خود مسلمان بننا شامل نہیں کیونکہ اس طریقہ سے جنت کمانے کے لئے کافی محنت کی ضرورت ہے ۔ مسلمان بننے کے لئے حقوق العباد کو ادا کرنا مقدم جبکہ دوسروں کو مسلمان بنانے کے لئے صرف ایک خود کش جیکٹ کی ضرورت ہے ۔ شارٹ کٹ سے متاثرہ قوم میں جنت کے شارٹ کٹ کے طریقہ ایجاد کر لیا ہے ۔

نوٹ: ڈیٹا بیس کی خرابی کی وجہ سے اس تحریر کے تمام تبصرے خذف ہو گئے ہیں۔ معذرت

یکیاں

June 23, 2010
از :  
زمرات: اردو

یک سطری باتیں کرنے میں گزرے ہوئے دانشوروں کو کمال حاصل ہے، زندہ دانشوروں کو شائد مختصر بات کرنے میں الجھن ہوتی ہے یا پھر جب تک وہ گزر نہیں جاتے لوگ ان کو دانشور کا درجہ دینے کو تیار نہیں ہوتے ۔ آپ اس پر تحقیق کر لیں جتنے اقوال زریں آپ پڑھتے ہیں، ان کے خالق اپنے خالق سے جا ملے ہوتے ہیں ۔
البتہ ایک بات طے ہے کہ ان سب اقوال میں آسانی سے بہت ہی گہری بات کہہ دی جاتی ہے کہ پڑھنے والا دیر تک عش عش کرتا رہ جاتا ہے، اور جب بھی عش عش کرنے والی بات کی مثال دینے کا پوچھا جائے تو مجھے وارث شاہ کا ایک شعر ہی ہمیشہ یاد آتا ہے، وہی ادھر ایک دفعہ پھر یہاں چھاپ دیتا ہوں ۔
وارث مانڑ نہ کر وارثاں دا
رب بے وارث کر ماردا ای۔

لیکن اب اردو بلاگستان میں بھی ایسے دانشور پیدا ہو گئے ہیں جو یک سطری تبصرے سے زیادہ زخمت گوارہ نہیں کرتے ۔ اپنے تئیں یک سطری تبصروں کے ان دانشوران کے تبصرے “یکی” [پنجابی۔ اس کی اردو ایجاد نہیں ہوئی] کے سوا کچھ نہیں ہوتے ۔ ان کے تبصروں کی سب سے خاص بات تبصرہ کردہ تحریر سے میل نہ کھانا بلکہ اس تحریر کے تبصروں پر تبصرے ہونا ہے بلکہ تبصروں کی بجائے تبصرہ نگاروں پر تبصرے کرنے کا رجحان، دانشوران میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ بالفرض محال اگر آپ کے پاس پانچ منٹ سوچنے کا وقت ہے تو “تنی منٹی” آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ تبصرہ اصل میں ایک اعلی نسل کی “چول” کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ تبصرے کا مقصد صرف دوسرے فریق کو زچ کرنا تھا ۔

لیکن یہ حیرت کا دور ختم ہونے سے پہلے ہی اس یک سطری “چول” پر چھ سو چونسٹھ الفاظ پر مشتمل ایک عدد تبصرہ وارد ہو جاتا ہے اور جواب آں غزل کی صورت میں ایک “چوندی چوندی” یک سطری “چول” پھینک کر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا بلاگی دانشور منہ پھاڑ کر قہقہہ لگاتا ہے۔ مجھے یک سطری دانشوران کی نسبت چھ سو چونسٹھ الفاظ والے تبصروں پر دکھ ہوتا ہے، کیونکہ یک سطری دانشوران کی مثال ایسے دیکھنے والے کی طرح ہے جو دیکھ کر کچھ نہیں دیکھتا اور سن کر بھی کچھ نہیں سنتا، جس تبصرے کا مقصد ہی زچ کرنا مقصود ہو اُس پر اپنی توانائیاں ضائع کرنے کا فائدہ، کیونکہ پنجابی میں کہتے ہیں کچھ لوگوں کا “کاں” ہمیشہ چٹا ہی رہنا ہے، لہذا تسی احتیاط کرو۔ کیچڑ سے بچ کر چلنے سے ہی کپڑے صاف رہ سکتے ہیں “چھال” مارنے سے نہیں ۔

دیسی مرد

January 22, 2010
از :  
زمرات: پاکستان, امریکہ

دیسی خواتین کی شکایت
مگر اس بات پہ بہت غصہ آتا ھے یورپ میں چاھے ھم شلوار قمیض میں ھوں یا سکارف یا جینز میں کوئ نہیں دیکھتا اگر کہیں کوئ پاکستانی ھو تو وہ ضرور آپ کو دیکھے گا
دیسی مرد کا جواب
آپ اس چکر میں مجھے کیوں دیکھتی ہیں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ نہیں؟

آپ کتنے بہادر ہیں؟

October 17, 2009
از :  
زمرات: پاکستان

تنہائی اور نیٹ گردی میں راز داری کی قدر مشترک ہے، کسی دوسرے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اِس دوران آپ کیا گل کھلاتے ہیں ۔ جو صارف پچھلے سات آٹھ سال سے مسلسل نیٹ گردی کی عادت میں مبتلا ہیں، وقت کے ساتھ ان کی ترجیحات میں بھی یقیناً بہت تبدیلی آئی ہو گی ۔
میری نیٹ گردی میں اب تقریباً نوے فی صد وقت یو ٹیوب پر گزرتا ہے، اتنا کہ میں گوگل میں تلاش کرنے سے پہلے میں یو ٹیوب میں تلاش کرتا ہوں ۔ بالفاظ دیگر میری نیٹ گردی کو یو ٹیوب گردی کا نام دیا جا سکتا ہے ، جس کا عکس اب بلاگ پر بھی اکثر ویڈیوز کی صورت نظر آتا رہتا ہے ۔
Fear Factor کسی زمانہ میں ٹیلی ویژن پر میرا پسندیدہ پروگرام تھا، سو ایک دِن اس کی ویڈیوز دیکھتے ہوئے متعلقہ ویڈیوز میں ایک باپردہ لڑکی کو دیکھ کر تجسس سے اُسے کھولنے پر خلاصہ کچھ یوں نکلا “آپ کا Dare ہے کہ اس بھینس کے ہونٹوں پر Kiss کرنا ہے”
لو جی Fear Factor کا دیسی چربہ بنام Living on the Edge آپ کے سامنے ہے ۔ پھر مزید ویڈیوز دیکھنے پر آیڈیشن کی ویڈیوز دیکھنے کا اتفاق ہوا، جس میں محب وطن پاکستانی لڑکی، پھر ایسی لڑکی جو کیمرہ کے سامنے وہ سب کرنے کو بہادری کہہ رہی تھی جو بقول اس کے باقی کیمرہ کے پیچھے کرتی ہیں اور سب سے بہترین حیدر آباد کا لڑکا جو برہنہ حیدرآباد میں دوڑ لگانے پر نہ صرف تیار تھا بلکہ آڈیشن میں باقاعدہ طور پر برہنہ ہو بھی گیا ۔
اور میں یہ سوچ رہا تھا، کہ پاکستان ہے تو میں کہاں رہتا رہا ہوں ۔ اور جو امریکہ میں کھلم کھلا میڈیا پر نہیں دکھایا جاتا وہ پاکستانی میڈیا پر کیسے چل رہا ہے؟ بلکہ شائد مقبول بھی ہے ۔
خیر اب جو اس بہادری کی ویڈیو ملی ہے، اسے دیکھتے ہیں ۔

کیا پاکستان میں میڈیا کے لئے کچھ ضوابط ہیں؟
زنا بالجبر کے اعتراف پر قانون کی کیا ذمہ داری ہے؟

جلن

October 13, 2009
از :  
زمرات: میری زندگی

عرصہ دراز بعد مجھے بخار نے آ گھیرا ہے، اور ایسا وقت چنا ہے جب ایچ ون این ون نامی بَلا سے بندے کا پہلے ہی “تراہ” نکلا ہو ۔ نیویارک کے اطراف میں تین افراد اِس موذی وائرس کا شکار بن چکے ہیں ۔ ویسے بھی بیماری کی حالت میں لوگ شکرانہ بجا لاتے ہیں کہ اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جھڑ جاتے ہیں، سات آٹھ سال بیمار نہ پڑنے سے مجھے شک سا ہونے لگا تھا کہ میں کوئی چھوٹا گناہ کرتا ہی نہیں ۔
بیماری کی حالت اور جیل جانے میں ایک مماثلت اپنے ساتھ وقت گزارنا بھی ہے، جو روزمرہ کے معمولات کے باعث انسان کو کم میسر ہوتا ہے ۔ امریکی جیل خانوں (یہاں خان سے مراد قوم نہیں) متعین مذہبی علماء کے مطابق اسی تنہائی اور یکسوئی کی بدولت انسان کا رجحان مذہب کی جانب زیادہ ہو جاتا ہے جبکہ پاکستانی جیلوں میں کہنے والے کہتے ہیں کہ عادی مجرم بن کر نکلتا ہے ۔
بیمار بھی خدا کے قریب ہوتا ہے اسی لوگ دعا کروانے بھی عیادت کو پہنچ جاتے ہیں،گھر میں بیمار پڑنے اور جیل جانے میں ایک فرق کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا بھی ہے، اس لئے بیماری میں خدا کے قریب ہوتے ہوئے بھی جیل جیسی ذہنی یکسوئی حاصل نہیں ہو پاتی۔ البتہ اس بارے سوچنے کا وقت ضرور مل جاتا ہے کہ میں بیمار ہوا کیوں؟
کافی سوچ بیچار کے بعد معلوم ہوا کہ حسد سے، اوپر تلے کچھ بلاگ ایسے پڑھے جنہوں نے ذہن میں ایک ہی سوال کو ابھارا “یار مُجھ میں کیا کمی ہے؟” لیکن جاننے والے کہتے ہیں کہ کمی کا تو نہیں البتہ فریق مخالف کے ساتھ جو زیادتی ہو گی اُس کا ضرور معلوم ہے، اللہ غارت کرے بورن اندسٹری والوں کو سب راز افشاء کر دئے ۔ البتہ اب اگر کوئی آپ کو “آئی لَوو یُو” کہے، سر راہ “مسز بننے ” کی دعوت دے یا “سکور کردہ سینچری” کے جوش میں میچ کو نشر مکرر سے پہلے اُن کا سوچ لیا کریں جن کے ہاتھ ابھی بیٹ ہی نہیں لگا بقول محبوب عزمی


لڑکی کہاں سے لاؤں میں شادی کے واسطے
شاید کہ اس میں، میرے مقدر کا دوش ہے
عذرا، نسیم، کوثر و تسنیم بھی گئیں
“اِک شمع رہ گئی ہے،سو وہ بھی خموش ہے”

ایسے “بیچارے” جلن سے بیمار ہو سکتے ہیں ۔

فوجی عدالت

October 1, 2009
از :  
زمرات: پاکستان

ہاتھیوں کی لڑائی میں فصلوں کے نقصان کا سُنا تھا، ویڈیو شئرنگ ویب سائٹ کی بدولت دیکھ پہلی دفعہ رہے ہیں ۔طالبان کے ہاتھوں ایک لڑکی کو سرعام کوڑے مارنا ظلم تھا تو ذیل کی ویڈیو میں دکھایا گیا فوجی انصاف اُس سے کہیں بدتر ہے ۔

سوال وہیں ہے کہ معاشرے میں انصاف ہونا چاہیے، لیکن انصاف کا مطلب صرف چیف جسٹس کی بحالی نہیں، بلکہ ایسا نظام کا نفاذ ہے جس میں لوگوں کو یقین ہو کہ ان پر ظلم کرنے والے کو پوچھا جائے گا ۔

پچھلا صفحہ »