عبداللہ دیوانہ

July 10, 2010
از :  
زمرات: میری پسند, موسیقی

نوٹ : یہاں لفظ شادی استعمال کیا گیا ہے، اسے بلاگ سُنا اور سمجھا نہ جائے ۔
شادی کسی کی ہو دل اپنا گاتا ہے 😀

ماحول کا اثر

July 8, 2010
از :  
زمرات: پاکستان, اردو

آپ اسی کی دہائی میں پاکستان میں پیدا ہوئے ہوں، اور لفظ خلاصہ سے نامانوس ہوں، ممکن ہی نہیں ۔ سونے پر سہاگہ کے مصداق دوران تعلیم اگر کسی ایسے استاد کے ہتھے چڑ جائیں جو ایک عدد خلاصے کے ادیب بھی ہوں، تو کیا کہنے ۔ جماعت نہم میں ہمارے ایک استاد تھے، انہوں نے بھی ایک عدد خلاصہ چھپوایا ہوا تھا، ظاہر سی بات ہے نصاب کی کتابوں کے علاوہ ان کا لکھا ہوا خلاصہ خریدنا بھی شاگرد پر قرض تھا، اور امتحانات میں خلاصہ سے اقتباسات پیش کرنے پر اضافی نمبر ملنے کے مواقع یقنی تھے ۔ وہ ہمیں اردو پڑھاتے تھے ۔ چند جملے خلاصہ میں ایسے تھے کہ ردوبدل کے بغیر ہی ہر جگہ بخوبی استعمال کئے جا سکتے تھے ۔

ایک جملہ جس کا استعمال میں نے ہر بڑے انسان پر مضمون لکھنے سے لے کر غالب کے اشعار کی تشریح لکھتے وقت، ہر مقام پر اتنا کیا ہے کہ ابھی تک خواب میں مجھے اس کی بازگشت دیکھائی دیتی ہے، جملہ کچھ یوں تھا “ہر ادیب اور شاعر اپنے ماحول اور گردوپیش کا عکاس ہوتا ہے” چاہے غالب کے شعر کی تشریح ہو یا الطاف حیسن حالی پر مضمون لکھنا ہو، یہ جملہ تمام مقاصد پورا کرتا ہے ۔

میں نے زندگی میں کبھی کسی لڑکی کو نہیں چھیڑا، وجہ میری شرافت نہیں بلکہ اس چھترول کا خوف تھا جو عموماً ہمارے علاقہ میں ایسے مواقع پر ہو جانے کا اندیشہ رہتا تھا ۔ بعد میں پنجاب میں ہر بڑے شہر اور حتی کہ کراچی میں دوران قیام اس بات کا اندازہ ہوا کہ کم و بیش ہر جگہ اس چھترول کا خوف کسی نہ کسی حد تک موجود ہے ۔ بحثیت قوم ہمارے ہاں ایسے مواقع پر خواتین کے خدائی مددگار نمودار ہو جاتے ہیں، ان کا جوش دیدنی ہوتا ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل افراد سے اس “دبڑ کٹ” کی زیادہ تفصیلات سنی جا سکتی ہیں ۔

اب اردو بلاگستان کو دیکھ لیں، ایک خاتون فرانس سے ایک تحریر لکھتی ہیں ۔ تحریر پر ایک تبصرہ نگار امریکہ سے تبصرہ کرتا ہے، جبکہ اُس تبصرے کا جواب کینیڈا سے موصول ہوتا ہے، اور یوں ایک نئی کہانی چل پڑتی ہے ۔ خلاصے کی بات بلاگستان کے لئے بھی درست لگتی ہے کہ “پر ادیب اور شاعر اپنے ماحول اور گردوپیش کا عکاس ہوتا ہے” ۔

دیسی مرد

January 22, 2010
از :  
زمرات: پاکستان, امریکہ

دیسی خواتین کی شکایت
مگر اس بات پہ بہت غصہ آتا ھے یورپ میں چاھے ھم شلوار قمیض میں ھوں یا سکارف یا جینز میں کوئ نہیں دیکھتا اگر کہیں کوئ پاکستانی ھو تو وہ ضرور آپ کو دیکھے گا
دیسی مرد کا جواب
آپ اس چکر میں مجھے کیوں دیکھتی ہیں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ نہیں؟

جلن

October 13, 2009
از :  
زمرات: میری زندگی

عرصہ دراز بعد مجھے بخار نے آ گھیرا ہے، اور ایسا وقت چنا ہے جب ایچ ون این ون نامی بَلا سے بندے کا پہلے ہی “تراہ” نکلا ہو ۔ نیویارک کے اطراف میں تین افراد اِس موذی وائرس کا شکار بن چکے ہیں ۔ ویسے بھی بیماری کی حالت میں لوگ شکرانہ بجا لاتے ہیں کہ اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جھڑ جاتے ہیں، سات آٹھ سال بیمار نہ پڑنے سے مجھے شک سا ہونے لگا تھا کہ میں کوئی چھوٹا گناہ کرتا ہی نہیں ۔
بیماری کی حالت اور جیل جانے میں ایک مماثلت اپنے ساتھ وقت گزارنا بھی ہے، جو روزمرہ کے معمولات کے باعث انسان کو کم میسر ہوتا ہے ۔ امریکی جیل خانوں (یہاں خان سے مراد قوم نہیں) متعین مذہبی علماء کے مطابق اسی تنہائی اور یکسوئی کی بدولت انسان کا رجحان مذہب کی جانب زیادہ ہو جاتا ہے جبکہ پاکستانی جیلوں میں کہنے والے کہتے ہیں کہ عادی مجرم بن کر نکلتا ہے ۔
بیمار بھی خدا کے قریب ہوتا ہے اسی لوگ دعا کروانے بھی عیادت کو پہنچ جاتے ہیں،گھر میں بیمار پڑنے اور جیل جانے میں ایک فرق کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا بھی ہے، اس لئے بیماری میں خدا کے قریب ہوتے ہوئے بھی جیل جیسی ذہنی یکسوئی حاصل نہیں ہو پاتی۔ البتہ اس بارے سوچنے کا وقت ضرور مل جاتا ہے کہ میں بیمار ہوا کیوں؟
کافی سوچ بیچار کے بعد معلوم ہوا کہ حسد سے، اوپر تلے کچھ بلاگ ایسے پڑھے جنہوں نے ذہن میں ایک ہی سوال کو ابھارا “یار مُجھ میں کیا کمی ہے؟” لیکن جاننے والے کہتے ہیں کہ کمی کا تو نہیں البتہ فریق مخالف کے ساتھ جو زیادتی ہو گی اُس کا ضرور معلوم ہے، اللہ غارت کرے بورن اندسٹری والوں کو سب راز افشاء کر دئے ۔ البتہ اب اگر کوئی آپ کو “آئی لَوو یُو” کہے، سر راہ “مسز بننے ” کی دعوت دے یا “سکور کردہ سینچری” کے جوش میں میچ کو نشر مکرر سے پہلے اُن کا سوچ لیا کریں جن کے ہاتھ ابھی بیٹ ہی نہیں لگا بقول محبوب عزمی


لڑکی کہاں سے لاؤں میں شادی کے واسطے
شاید کہ اس میں، میرے مقدر کا دوش ہے
عذرا، نسیم، کوثر و تسنیم بھی گئیں
“اِک شمع رہ گئی ہے،سو وہ بھی خموش ہے”

ایسے “بیچارے” جلن سے بیمار ہو سکتے ہیں ۔

سیب اور دو دو

August 25, 2009
از :  
زمرات: نیو یارک

نیویارک اور بڑا سیب مترادف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، اتوار کو بڑے سیب میں سیبوں کی نمائش کھلے عام کی گئی، پر میرا تو روزہ تھا ۔

لاہور کے شیر

August 24, 2009
از :  
زمرات: متفرق

مزاح لکھنا آسان نہیں ہے، مزاح لکھنے کے لئے انسان کا ڈفر یا پھر رانا ہونا ضروری ہے، ویسے تو بلو یا بلا سے بھی کام چل جاتا ہے ۔
میرے جیسے انسان مزاح میں بھی “گیس پیپر” کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر “بوٹیاں” لے کر مزاح لکھتے ہیں، جیسے میرا ایک تکیہ کلام بلکہ کئی ایک “تکیے” بوٹیوں کی بدولت ہیں، زیادہ تر مزاحیہ بوٹیاں میں نیویارک کے ایک اردو کالم نگار کے کالموں سے اڑاتا ہوں نام یاد نہیں آ رہا اور فی الوقت میرے پاس اخبار موجود نہیں، شائد وجاہت کر کے نام ہے ۔ (وجاہت علی عباسی ۔ ترمیم)
ویسے تو میں نے سُنا ہے کہ پنجابی کے فی البدیہہ واہیات ڈرامے جنہیں مزاحیہ کہہ کر بیچا اور دیکھا جاتا ہے وہ بھی یونس بٹ یا گل نو خیز اختر جیسے لوگوں کی بوٹیاں ہی لگاتے ہیں، جب سے میں نے گل نو خیز اختر کی ٹائیں ٹائیں فِش پڑھی ہے، مجھے یقین ہے یہی بندہ پنجابی ڈراموں کی جگتیں لکھتا ہے ۔
ویسے حقیقت میں مجھے سمجھ بھی انہی کی جگتوں ، معاف کجیئے گا مزاح کی آتی ہے، نہیں تو عطاء الحق قاسمی یا مشتاق احمد یوسفی کے مزاح پر تو ایک دن بعد بلکہ بعض اوقات ہفتہ بھر بعد اُس کی کسی سے تشریح کروا کر ہنسی آتی ہے ۔
دماغی حالت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ ہماری ایک نئی نویلی اردو بلاگر عنیقہ یا انیقہ؟ ناز کی تحریریں پڑھنا شروع کروں تو لگتا ہے سب کچھ سمجھ آ رہا ہے، تحریر کے اختتام تک پہنچ کر تبصرہ کرنے لگو تو دماغ ساتھ چھوڑ جاتا ہے کہ کہا کیا گیا ہے ۔
“اینی وے” مزاح کے لئے میں ابھی ایک ویڈیو کی بوٹی لگا رہا ہوں، کچھ لوگوں کو یہ جگتیں یا چوولیں بھی لگ سکتی ہیں، پر میرا تو ہاسا نکل جاتا ہے عزیزی انکل کی باتیں سُن کر ۔



میرا مدرسہ

August 17, 2009
از :  
زمرات: میری زندگی

سیدہ شگفتہ، اگر آپ انہیں اردو محفل کے توسط سے جانتے ہیں تو یہ اِن کے توجہ دلاو والے اعلانات کو بھی جانتے ہوں گے ۔ فی الوقت اردو بلاگستان پر انہوں نے ہفتہ بلاگستان منانے کی تحریک چلائی ہے، اب کی بار بلاگرز نے اس تجویز کو مان بھی لیا ہے، حیرت ہے ۔

میرا بچپن اور میرا اسکول، کہاں سے شروع کروں کہاں ختم کروں، کیونکہ مجھے تو پہلا دِن بھی یاد ہے جب مجھے بابا محمد خان جو ہمارے گاوں میں چوکیدار تھے کے ہمراہ اسکول بھیجا گیا تھا ، رونے دھونے والی کوئی بات ہی نہیں تھی، اسکول گاوں ہی میں تھا، گھر سے پانچ منٹ کی پیدل ڈرائیو پر، ہم جماعت سارے محلے کے تھے یا پچھلے محلے کے یا سامنے والے محلے کے ۔ آدھی چھٹی پر سب بچے گھر آ کر کھانا کھاتے تھے، اُن میں سے پھر آدھے واپس آ جاتے تھے اور باقی آدھے بیمار پڑھ جاتے تھے ۔
ہمارا اسکول بہترین تھا، اوپن ائیر جس میں عمارت کے نام پر ایک کمرہ تھا، جہاں اسکول کا فرنیچر مطلب اساتذہ کے لئے تین چار عدد کرسیاں پڑی ہوتی تھیں ۔ طالب علم اپنا فرنیچر مطلب ایک عدد بوری، سونا یوریا کا گٹو یا تروڑا اپنے ساتھ لے کر آتے تھے ۔ بارش میں اسکول میں چھٹی ہو جاتی تھی، گرمیوں میں تقریباً سب بچے بارش سے ٹیلکم پاوڈر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پِت (گرمی دانے) ختم کرتے تھے ۔
ہمارے اسکول میں پانچ جماعتیں اور تین عدد استاد تھے، اِن میں سے دو استاد دو دو جماعتیں جبکہ ہیڈ ماسٹر صاحب پانچویں جماعت کو پڑھاتے تھے ۔ چونکہ تمام عملہ دوسرے گاوں سے آتا تھا، اس لئے صبح جس راستے سے انہوں نے آنا ہوتا تھا، وہاں اکثر بچے ان کا انتطار کرتے تھے، تا کہ ان کی سائیکل پکڑ کر اسکول تک لے کر آئیں اور جسے سائیکل مل جاتی تھی وہ پھولا نہیں سماتا تھا۔
ہمارے اسکول کے کل چار عدد میدان تھے جنہیں درختوں کی قطاروں نے الگ الگ کیا تھا، اسکول کے ارد گرد تین اطراف سرکاری زمین تھی جہاں پر خود رو چھوٹا سا جنگل بن چکا تھا، یہ جنگل اسکول کے لئے بہت اہم تھا چونکہ اسے باتھ روم کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، علاوہ ازیں سردیوں میں یہاں سوکھی جھاڑیوں اور سرکنڈوں کو آگ لگا کر وہاں اجتماعی تختیاں سکھانے کا انتظام بھی تھا ۔
اسکول کا آغاز لب پر آتی ہے دعا سے ہوتا تھا اور اختتام اِک دونڑی دونڑی تے دو دونڑی چار پر ہوتا تھا، درمیان میں بہت کچھ ہوتا تھا جیسے دارا کا اسکول، میرا مدرسہ حساب، کلمے نماز اور سب سے بڑھ کر دوپہر کو ریڈیو پروگرام سُننا ۔
کھیلوں کے معاملے میں اسکول کچھ کم نہیں تھا، ہر ہفتہ میں ایک دن کھیلوں پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی، کھیلوں میں اس وقت صرف تین کھیل تھے جو اسکول میں مقبول تھے،اُن سے ایک کشتی پنجابی میں کول، کبڈی اور تیسرا ہاکی نما جسے ہم کھدو پھنڈی کہتے تھے ۔ گلی ڈنڈا نان آفیشل طور پر مقبول تھا، اور اسکول کے بعد بچے زیادہ گلی ڈنڈا کھیلنا پسند کرتے تھے ۔
اسکول کا سب سے اہم دن اکتیس مارچ ہوتا تھا، جس دن نتیجہ نکلنا ہوتا تھا، اکتیس مارچ سے پہلے سب بچے پورے گاوں میں بلکہ ہمارے ساتھ والے گاوں میں ہائی اسکول تھا جہاں باغیچوں میں پھول لگے ہوتے تھے، وہاں سے پھول جمع کر کے انہیں پرو کر ہار بناتے یا بنواتے تھے اور نتیجہ میں پاس ہونے والے انہیں اساتذہ کو پہناتے تھے ۔ اخیر میں سب کو جلیبیاں اور چائے یعنی کہ پارٹی کا انتظام ہوتا تھا ۔
بس یہی تھا میرا پرائمری اسکول جو مجھے بڑا پسند ہے اور اب تک جوں کا توں ہے ۔ لیکن اب ہمارے گاوں میں تین عدد اسکول ہیں، ہمارے وقت سب بچے ایک اسی اسکول میں جاتے تھے جبکہ اب چوہدریوں کے بچے پرائیویٹ اسکولوں میں جاتے ہیں ۔

آزادی، حال اور حسبِ حال

August 15, 2009
از :  
زمرات: پاکستان, میری پسند

اُلٹی گنگا

April 2, 2008
از :  
زمرات: متفرق

سوکنوں کے بیچ دشمنی تو آپ نے اکثر سُنی ہو گی، بلکہ ہمارے معاشرے میں سوکنوں کے درمیان چپقلش تسلیم شدہ حقییت کے طور پر مانا جاتا ہے، جیسے سوکنیں ایک دوسرے کی دوست نہیں ہو سکتی ۔
اگر آپ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں اور چار شادیاں کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں تو تنبیح کی خاطر ملائیشا کے راسلن ناگاہ کی کہانی سے عبرت حاصل کریں ۔ خبر کے مطابق کوالالمپور کے رہائشی راسلن ناگاہ کی دونوں بیگمات میں اس قدر دوستی پروان چڑھی کہ دونوں نے مل کر راسلن سے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔
راسلن اس سبق کے بعد بھی تیسری شادی کے لئے پر تول رہے ہیں ۔ اب اسے آپ کیا کہیں گے؟