حکومتِ پاکستان

October 14, 2008
از :  
زمرات: پاکستان

کچھ معلومات کے سلسلے میں کچھ عرصہ قبل مجھے حکومتِ پاکستان کی ویب سائٹ پر جانے کا اتفاق ہوا، ایک تو وہی گِھسا پٹا اعتراض جو میرے جیسے عوام اکثر کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ویب سائٹ مکمل طور پر انگریزی زبان میں ہے، اردو میں حکومت ،حکومتی اداروں یا سرکاری دستاویزات حاصل کرنے کی کوئی سہولت نہیں ہے ۔ عموماً یہاں امریکہ میں رہتے ہوئے اگر آپ کو کسی قسم کی سرکاری دستاویزات حاصل کرنا ہوں تو متعلقہ ریاست کی ویب سائٹ پر سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے، جیسے ڈرائیور لائسنس، ووٹ کا اندراج، کاروبار شروع کرنے سے متعلق دستاویزات اور لائسنس کے حصول کے متعلق کاغذات اور ریاست میں رہتے ہوئے بنیادی قوانین کے متعلق معلومات وغیرہ سب ریاست کی ویب سائٹ سے حاصل کی جا سکتی ہیں ۔
بظاہر اس قسم کی تمام معلومات حکومتِ پاکستان کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں، لیکن انگریزی میں ہونے کی وجہ سے عوام الناس کو اس کا کتنا فائدہ ہو سکتا ہے؟ جب کہ ملک میں کچھ عرصہ پہلے تک (جب تک میں پاکستان میں تھا) حالت یہ ہے کہ اردو میں شناختی کارڈ کی عرضیوں کے لئے بھی لوگ کچہری جا کر وہاں بیٹھے لوگوں سے عرضیاں بھرواتے تھے۔
دوسری حیران کن وجہ ذرا تکنیکی قسم کی ہے، آپ دنیا کے کسی ملک کی سرکاری ویب سائٹ دیکھیں، وہ اسی ملک کے اندر ہی ہوسٹ کروائی گئی ہوتی ہے اور جن سرورز پر ہوسٹ کی گئی ہوتی ہے وہ سرکاری ملکیت ہوتے ہیں ۔حکومتِ پاکستان کی ویب سائٹ کے سرور امریکہ میں ہیں جو کہ میرے لئے حیران کن بات ہے ۔ پھر فرداً فرداً ہر صوبے کی ویب سائٹ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ سوا صوبہ پنجاب کے باقی تمام صوبوں کے سرور بھی امریکہ میں موجود ہیں ۔ البتہ صوبہ بلوچستان کی ویب سائٹ میں کچھ حد تک تصویری اردو میں تھوڑا بہت مواد بھی موجود ہے ۔صوبہ پنجاب کی ویب سائٹ کے پہلے صحفہ پر Suggestion Box کو Suggesstion Box لکھا ہوا ہے ۔ اب یہ باکس کتنا کارآمد ہے، میں نے پوچھا تھا کہ سرکاری ویب سائٹ قومی زبان میں نہ ہونے کی کیا وجوہات ہیں اور پاکستان کے عوام کو ان ویب سائٹس کا کیا فائدہ ہے، اور ایک مہینہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک جواب ندارد ۔ جب کہ اسی طرح ریاست نیو یارک میں سوال پوچھنے کے تین دن کے اندر اندر آپ کو جواب موصول ہو جاتا ہے ۔
میں نے یہ بھی سوچا کہ شائد میں ہی اردو کے معاملے میں ذرا دقیانوسی ہو رہا ہوں، ہمارے ارد گرد کے ممالک میں بھی سب کچھ انگریزی میں ہی ہو گا ، لیکن ایران، افغانستان، چین اور بھارت کی ویب سائٹس دیکھنے کے بعد یہ خیال بھی بدلنا پڑا ۔ بھارت کی ویب سائٹ، حکومت پاکستان کے قریب تر ہے، جس میں مرکزی صحفہ ایک ویب ڈرائکٹری کا حامل ہے جہاں آگے تمام دیگر شعبوں تک رسائی کے روابط دیے ہوئے ہیں، وہاں بھارتی صدر اور نائب صدر کی ویب سائٹس میں ہندی اور انگریزی دونوں زبانیں موجود ہیں، اور استعمال کنندہ پر منحصر ہے کہ آیا ہندی میں معلومات حاصل کرے یا انگریزی میں ۔ ایران، چین اور افغانستان کی ویب سائٹس پر بھی استعمال کنندہ کو یہی اختیار حاصل ہے کہ اپنی مرضی کی زبان کا انتخاب کر سکے، علاوہ ازیں افغانستان کے علاوہ دیگر تمام ممالک کے سرور بھی انہی ممالک میں موجود ہیں، اور پاکستان کی طرح افغانستان حکومت کا سرور بھی امریکہ میں موجود ہے ۔
یہ سب دیکھنے کے بعد میں اب اس مخمصے کا شکار ہوں کہ شائد میں ہی ترقی مخالف (انگریزی=ترقی) خیالات کا حامل ہوں، آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟