تنور کی روٹیاں

April 5, 2008
از :  
زمرات: کمپیوٹر, پاکستان

دُنیا میں ہر علاقے کے رہن سہن میں تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے، چھوٹی چھوٹی باتیں اور چیزیں کسی خاص علاقے سے مخصوص ہوتی ہیں، اور سب باتیں مِل کر کلچر کی تشکیل کرتی ہیں ۔ لیکن کسی علاقے کے رہنے والے اپنے علاقہ سے منسوب بہت سی چیزوں کو اہمیت نہیں دیتے، کیونکہ اُن کے لئے یہ ایک روزمرہ کا معمول ہے، جب تک کہ وہ کسی دوسرے علاقہ منتقل نہیں ہو جاتے۔
میں پنجاب کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتا ہوں، ہمارے ہاں دوپہر اور رات کو ہمیشہ تنور میں پکی ہوئی روٹیاں کھائی جاتی ہیں ۔ کراچی میں افغانیوں کے تنور پر جو نان اور مختلف انواع کے کلچے وغیرہ ملتے ہیں، میں اُن کی بات نہیں کر رہا ،کیونکہ اُن کو پنجابی ربڑ کی روٹیاں یا چِٹے آٹے کی روٹیاں کہتے ہیں، سوا مجبوری کے اُن کے قریب نہیں جاتے ۔ تنور پورے گاؤں کا خبر نامہ ہوتا ہے، جہاں گاؤں کی عورتیں ہر گھر سے باخبر رہتی ہیں ۔ جیسے کہتے ہیں کہ کسی محلے کے گھر کی معلومات محلے کے دکان دار یا پان کے کھوکھے والے سے مِل سکتی ہیں۔ اسی طرح گاؤں میں ہونے والے کسی بھی کام سے آگاہ رہنے کے لئے بےبے فاطمہ کا تنور سب سے اہم جگہ ہے ۔
بےبے فاطمہ اللہ بخشے ہمارے گاؤں کی ماچھن تھی، اور اُسے پرلوک سدھارے بھی کوئی دس سال ہو چکے ہیں، لیکن اُس کی روٹیاں میرے والد صاحب کو نہیں بھولتی ہیں ۔ جب بھی کبھی بات ہو اُنہیں ہمیشہ تنور کی روٹیاں یاد آ جاتی ہیں ۔ یہاں امریکہ میں اب تنور تو دستیاب نہیں ہے، لیکن میری والدہ نے اوون میں آج تنور جیسی روٹیاں پکانے کا تجربہ کیا ہے، جو ماشااللہ کامیاب ہو گیا ہے ، اور بڑے مزے سے ہم نے آج روٹیاں کھائی ہیں ۔
اس کے علاوہ آج میں نے اپنا پوسٹ ای میل کرنے کا سانچہ بنایا ہے، پلگ اِن کو ورڈپریس 2.5 جیسا بنایا ہے ۔اپنا فیڈ نیوز لیٹر جیسا بنایا ہے، اور بس دِن ختم روٹی ہضم ۔ آپ اگر چاہیں تو کسی مضمون کو اپنے آپ کو میل کر کے مجھے مشورہ دے سکتے ہیں، فیڈ اگر کسی نے ای میل سبسکرائب کروایا ہے تو یوں نظر آئے گی ۔