کیا کہیے گا؟

July 12, 2010
از :  
زمرات: پاکستان, مذہب, امریکہ

ایرک ہولڈر امریکہ کے اٹارنی جنرل ہیں، امریکی حکومت کے اقدامات پر قانونی مشورہ جات اور ان کی پیروی کرنا ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے ۔ ان کے پاس جعلی ڈگریوں اور ان سے نپٹنے جیسے اہم مسائل تو نہیں آتے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس پر امریکی حکومت کے موقف جیسے چھوٹے چھوٹے مسائل درپیش رہتے ہیں، حالانکہ دونوں طرح کے واقعات میں ہر فریق کو خوش بھی رکھنا ہوتا ہے، جو بذات خود ایک علیحدہ درد سری ہے ۔

صدر اوبامہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے امریکی حکومت نے دہشت گردوں سے نپٹنے کے لئے ایک نئی حکمت عملی اختیار کی ہے، دہشت گردوں کو کسی مذہب سے نتھی کئے بغیر صرف دہشت گرد کہنے پر زور دینا اس حکمت عملی کا ایک حصہ ہے ۔ اور اس بارے میں استدلال یہ ہے کہ دہشت گرد ایک بہت چھوٹا گروہ ہے جو خود کو مذہب کے لبادے میں لپیٹ کر اپنے دائرہ کار کو مذہبی بنیادوں پر بڑھانا چاہتے ہیں، جبکہ حکومت کی طرف سے نادانستگی میں انہیں مذہب سے جوڑ کر ایک طرح سے ان لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے، ایک دہشت گرد کو بنیاد پرست مسلم دہشت گرد کہنے سے کسی حد تک باقی مسلمان اسے مختلف انداز سے دیکھنے لگتے ہیں، اور دہشت گرد جس مقام یعنی کہ مسلمان حلقوں میں پذیرائی کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں، اس کے زیادہ قریب ہو جاتے ہیں ۔

اس کے برعکس قدامت پرست حلقوں کی جانب سے یہ استدلال کیا جاتا ہے، کہ جب تک ہم دشمن کو صیحیح سے پہچان نہیں لیتے اس کے خلاف اقدامات کیسے کئے جا سکتے ہیں؟ دہشت گردوں کے اقدامات کے پیچھے ایک واضح سوچ اور فکر ہے جو کہ بنیاد پرست اسلام ہے، اور دشمن کی درست شناخت کے لئے بنیاد پرست اسلام کہنا درست قدم ہے، اور ساتھ یہ بھی کہ یہ درست ہے کہ سب مسلمان دہشت گرد نہیں نہ ہی ان سے ہمدردی رکھتے ہیں لیکن یہاں ہم بنیاد پرست اسلام کی بات کر رہے ہیں نہ کہ سب مسلمانوں کی ۔ سب مسلمان ہمارے دشمن نہیں ۔

اس ضمن میں ایک دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ٹائمز اسکوائر کار بم کے ناکام منصوبہ کے بعد ایرک ہولڈر ہاوس جوڈیشری کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، لیمر سمتھ جو قدامت پسند ہیں وہ بار بار ہولڈر کو بنیاد پرست اسلام کہنے پر اکساتے رہے، ایرک ہولڈر ہر دفعہ سوال کو ٹالتے رہے ۔ اس مکالمے کی ویڈیو ملاحظہ فرمائیں ۔

اب کم وبیش ایسی ہی صورتحال سے پاکستان بھی دوچار ہے، کہ آیا یہ جو دہشت گردی کہ نئی لہر اٹھ رہی ہے اسے ہم کیا کہیں؟ طالبان، پاکستانی طالبان کہ آیا پنجابی طالبان یا صرف دہشت گرد؟ کم و بیش اس سلسلہ میں دونوں جانب سے دئے جانے والے دلائل بھی امریکی دلائل سے ملتے جلتے ہیں ۔ لیکن یہاں تھوڑا سا فرق ہے۔ پہلا تو یہ کہ جو مسلمان امریکہ کے دہشت گردی کو بنیاد پرست اسلام سے جوڑنے کو اسلام کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں اس صورت میں دہشت گردوں کو قومیت سے ملانے کی کوشش کیسے کر رہے ہیں؟ دوسرا یہ کہ امریکہ میں جس شدومد سے قدامت پرست حلقے دہشت گردی کو مذہب سے جوڑنے میں کوشاں نظر آتے ہیں، پاکستان میں اس کے بر خلاف لبرل حلقے اسی ضمن میں زیادہ کوشاں ہیں ۔
اس سے تو یہ نتجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی لبرل بھی امریکہ میں قدامت پرست ہیں ۔

تبدیلی

January 28, 2009
از :  
زمرات: پاکستان, امریکہ

امریکہ میں تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے، اس وقت سب سے بڑی تبدیلی وہائٹ ہاؤس کے اندر آئی ہے جہاں لورا بش اور جارج بش کی بجائے براک اوبامہ اور میشل اوبامہ سوتے ہیں ۔ باقی تبدیلیوں کی ابھی صرف امید ہے ۔بین الاقوامی سطح پر “سر منڈاتے ہی اولے پڑے” کے مصداق اوبامہ کے صدر نامزد ہوتے ساتھ ہی اسرائیل نے غزہ پر چڑھائی کر دی،اپنی آبائی ریاست ہوائی میں چھٹیاں مناتے ہوئے اوبامہ سے جب اس بارے استفسار کیا گیا تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ۔جبکہ اِس سے پہلے ممبئی میں دہشت گردی کے واقعہ پر براک اوبامہ کھل کر اِس واقعہ کی مذمت کر چکے ہیں ۔بعد میں بھی غزہ کے حالات پر بات کرتے ہوئے روایتی امریکہ کی طرح اس سب کا الزام حماس کے سر دھر گیا ۔
اِس کے بعد ایک اور بین الاقامی محاذ جو امریکہ کو درپیش ہے” پاکستان” وہاں پر امریکی لائحہ عملی میں جیسے کہ پاکستان کے بہادر وزیرِ اعظم سوچ رہے تھے کہ براک اوبامہ کے آنے سے شمالی علاقہ جات میں امریکی ڈرون حملے بند ہو جائیں گے، یہاں بھی کسی تبدیلی کی توقع نہیں ہے ۔ امریکی ڈیفنس سیکریٹری رابرٹ گیٹس نے سینٹ کے ارکان کو بتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے اندر حملے جاری رکھیں جائیں گے ۔ اور ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے کہ یہ حملے روک دئے جائیں،کیونکہ یہ حملے کافی نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہیں ۔سب سے مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ سینیٹر کارل لِیون نے جب یہ سوال پوچھا کہ کیا حکومت پاکستان کو اس بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے؟ تو رابرٹ گیٹس نے اس کا اثبات میں جواب دیا ۔
اب پتہ نہیں یوسف رضا گیلانی اگلے امریکی انتخابات کا انتظار کریں گے

میرا ایک خواب ہے ۔

January 20, 2009
از :  
زمرات: امریکہ

براک حیسن اوبامہ،سرکاری طور پر امریکہ کے چوالسیویں صدر بن چکے ہیں۔بلاشبہ آج کا دن امریکی تاریخ میں یاد گار کی حثیت رکھتا ہے، امریکیوں پر لگا نسل پرستی کا داغ آج دھل گیا ہے ۔مارٹن لوتھر کنگ کا دیکھا خواب آج امریکہ میں حقیقت بن چکا ہے ۔

امریکہ سے باہر زیادہ لوگوں کو براک اوبامہ کے صدر بننے سے زیادہ خوشی جارج بش کے جانے کی ہے، اور لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جس جادو کی چھڑی کے نہ ہونے کا گلہ بش نے کیا تھا، شائد وہ اوبامہ کے پاس ہو ۔ آج بی بی سی اردو پر قارئین کے تبصرے پڑھ کر ایسے لگا کہ شائد امریکہ میں صدر، پاکستان کے کام سدھارنے کے لئے بنایا جاتا ہے ۔ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں انہیں یہ باور کروانے کی کوشش کروں گا کہ براک اوبامہ امریکہ کا صدر ہے، اور امریکی مفاد ہی اُن کی اولین ترجیع ہے ۔
امریکہ میں قیام کے دوران یہ میرے دوسرے انتخابات تھے، اور حقیقی معنوں میں ۲۰۰۸ کے انتخابات ہی پہلے انتخابات تھے، جس میں نہ صرف میں نے عملی طور پر حصہ لیا بلکہ امریکی انتخابی نظام کو قریب سے سمجھنے کی بھی کوشش کی ۔ان انتخابات کے دوران کئی لوگوں کے لئے میرے دل میں عزت بڑھی، جن میں جان مکین سرِ فہرست ہیں ۔ اس طویل ترین انتہابی مہم کے دوران کئی مراحل ایسے آئے جہاں جان مکین کو اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کی تراکیب بتائی گئیں، لیکن انہوں نے معزر طریقہ اپناتے ہوئے اِن پر کوئی کان نہیں دھرے ۔ اسی وجہ سے جان مکین کو انہی کے حامیوں کی طرف سے جان مک شیم جیسے القابات بھی نوازے گئے ۔ انتخابات کی شام جب براک اوبامہ کی جیت یقینی ہو گئی تو جان مکین کے خطاب نے ان کی عزت اور زیادہ بڑھا دی ۔ اگر مجموعی طور پر پڑے ووٹوں کے تناسب کو دیکھا جائے تو جان مکین نے بش کے آٹھ سالہ دور کی ناکامیوں، خاص طور پر اقتصادی ناکامیاں جو عین انتخابات کے دوران وقوع پذیر ہونا شروع ہوئی تھیں، کے باوجود صرف سات فی صد ووٹوں کے فرق سے الیکشن ہارا ہے ۔یہ کہنا مناسب ہو گا کہ براک اوبامہ کی جیت میں سب سے بڑا ہاتھ سابق صدر جارج بش کا ہے، جیسا کہ سارہ پیلن، انتخابات کے بعد سے کہے جا رہی ہیں ۔
دوسری بات جس سے میں متاثر ہوا ہوں، اس کا تعلق جارج بش اور اقتدار کی منتقلی سے ہے، پاکستان سے تعلق ہونے کی بناء پر ذہن میں ایسا تصور تھا کہ اب اقتدار سونپنے سے پہلے بش، شائد اوبامہ کی راہ میں روڑے اٹکائیں گے ۔ بلکہ کئی کانسپریسی تھیوریز کے مطابق اوبامہ کے حلف لینے سے پہلے پہلے، اسرائیل ایران پر حملہ کر سکتا ہے کا شد ومد کے ساتھ پرچار کیا جا رہا تھا، اور گارڈین کی ستمبر میں آنے والے خبر سے یہ بھی پتہ چلا کہ ایسا ہونا، ناممکن نہیں تھا، لیکن بش انتظامیہ نے اسرائیل کے بار بار پو چھنے کے باوجود اس امر کی اجازت نہیں دی تھی ۔
میرے خیال میں ہمیں ان اوپر دو باتوں سے سیکھنے کی ازحد ضرورت ہے، اول کہ سیاست دشمنی نہیں ہوتی، اور دوسرا انتخابات کے بعد اقتدار کی پرامن منتقلی، بجائے بچوں کی طرح شور مچانے سے کہ “سر اس نے چیٹ کیا ہے ”
بہرحال امریکہ کے سامنے اب نیا افق ہے اور مجھے امید ہے کہ براک حسین اوبامہ توقعات پر پورا اتریں گے، جس میں سرفہرست معاشی صورتحال سے باہر نکلنا ہے ۔براک حیسن اوبامہ کا حلف اٹھانے کے بعد مکمل خطاب یہاں پڑھ سکتے ہیں ۔

انتخاب

October 31, 2008
از :  
زمرات: امریکہ

امریکہ میں انتخابات میں چار روز رہ گئے ہیں، اور بش اب بس ایک نگران صدر ہی رہ چکے ہیں ۔ میرے لئے انتخابات میں شروع میں فیصلہ کرنا اتنا مشکل نہیں تھا، کہ میرا خیال تھا ہیلری کلنٹن آخری مرحلہ میں بھی امیدوار ہوں گی،  لیکن یہ ہو نا سکا اور تب سے میں اس کشمکش میں تھا، کہ کس کے ہاتھ پر “بیعت” کروں۔ کچھ عرصہ یہ بھی سوچا، چلو مٹی پاؤ، چھڈو نہیں ڈالتے ووٹ، کونسا میرے ووٹ سے کوئی فرق پڑ جانا ہے، تب مجھے پاکستان کے انتخابات یاد آئے جہاں میں سب کی مخالفت کے باوجود لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر اکساتا رہا ۔ اس کے علاوہ آخرت میں اس سوال کا بھی جواب کہ ۲۰۰۸ میں تم نے ووٹ کیوں نہیں ڈالا؟ویسے بھی امریکہ میں یہ ایک عہد ساز انتخابات ہیں، اس لئے بھی پیچھے نہیں ہٹا جا سکتا۔
باراک حیسن اوبامہ
پاکستان میں یہ مرحلہ بڑی آسانی سے طے ہو جاتا ہے، عموماً آپ کی بجائے آپ کی برادری فیصلہ کرتی ہے کہ “ووٹ کِنوں پانڑا اے” ، مجھے کبھی اس مرحلہ سے تو گزرنا نہیں پڑا، لیکن چشم دید گواہ ضرور رہا ہوں، پاکستان میں ووٹ ڈالنے سے پہلے ہم امریکہ منتقل ہو گئے، پچھلے انتخابات میں میرے پاس شہریت نہیں تھی، سب باتوں کی ایک بات کہ زندگی میں یہ میرا پہلا ووٹ ہو گا، اگر پرائمری الیکشن ملائے جائیں تب دوسرا ۔پہلے ووٹ کے مرحلے پر میں نے سوچا کم از کم مجھے ووٹ سے پہلے تحقیق کر لینی چاہیے کہ دونوں جماعتوں کے نظریات کیا ہیں، اور میرے نظریات کس کے زیادہ قریب تر ہیں، اور پھر سب کچھ خراب ہوتا گیا ۔ کیوں کہ بیشتر معاملات میں یا تو میرے نظریات ریپبلکن پارٹی سے ملتے تھے یا قریب تر تھے ۔اس کے باوجود میں ریپبلکن کو ووٹ نہیں دے رہا ہوں، وجہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کی مثال ہے ۔ آپ نے ضرب مثل سُنی ہو گی کہ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے، اور ریپبلکن پارٹی کے دوستوں (ٹالک ریڈیو) نے مجھے متنفر کیا ہے ۔

سو ان سب باتوں کی ایک بات، میں ۴ نومبر ۲۰۰۸ کو براک حسین اوبامہ کو ووٹ دوں گا ۔ ووٹ ڈالوں کس وقت، اس بات کا تعین کرنا ہے، پرائمریز میں رات کے آٹھ بجے ووٹ ڈالا تھا، ابھی بھی ہجوم سے پہلے یا چھٹننے کے بعد کا انتظار کروں گا ۔

ہریکین سارا ۔

September 4, 2008
از :  
زمرات: امریکہ

امریکی انتخابات میں روز بروز بدلتی صورتحال میں اب تک سب سے بڑا طوفان گورنر سارا(سیرہ) پیلن کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔ اب تک کی مہم میں جان مکین کا سب سے اہم اور درست فیصلہ ہے، جب سے امریکہ میں انتخابی مہم کا آغاز ہوا ہے، میڈیا نے جان مکین کے ساتھ یتمیوں والا سلوک ہی روا رکھا ہے، حتیٰ کہ فاکس نیوز جیسے رپبلکن کے حامی چینل پر بھی زیادہ وقت باراک اوبامہ پر ہی صرف کیا جاتا رہا ہے(بے شک جھوٹا پراپیگنڈہ ہی ہو) ۔اسی پر پہلے بھی میں نے لکھا تھا کہ یوں لگتا ہے کہ مقابلہ باراک اوبامہ اور ہیلری کلنٹن کے مابین ہے، نا کہ ڈیموکریٹک کا ریپبلکن سے، لیکن سارہ پیلن کی نامزدگی کے بعد سے جو کوریج جان مکین کی انتخابی مہم کو نہیں مل رہی تھی، وہ حاصل ہو گئی ہے، اور جس اخبار میں جان مکین چوتھے صحفہ پر ہوتا تھا، سارہ پیلن وہاں فرنٹ پیج پر ہے، اور پوری انتہابی مہم میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ باراک اوبامہ سے زیادہ کسی کی کوریج کی جا رہی ہے ۔

میں ایک رجسٹرڈ ڈیموکریٹ ہوں اور اپنی زندگی کا پہلا ووٹ میں نے ہیلری کلنٹن کو پرائمری الیکشن میں دیا تھا، ہیلری کے الیکشن سے باہر ہو جانے کے بعد بھی (ابھی تک) مجھے امید ہے کہ میں شاید ڈیموکریٹک کو ہی ووٹ دوں گا، لیکن اس کی وجہ باراک اوبامہ سے زیادہ موجودہ ریپبلکن پارٹی کا ٹولہ (بش، چینی) ہیں ۔ خارجہ امور کے علاوہ داخلی طور امریکہ میں جو ایشوز ہیں(ٹیکسز، ہم جنسوں کی شادی، ابارشن وغیرہ وغیرہ )، میرا موقف ان پر ڈیموکریٹک کی نسبت ریپبلکن کے زیادہ قریب ہے، اور پچھلے الیکشن سے پہلے تک مسلمانوں کی بھاری اکثریت ریپبلکنز کی ہی حمایت کرتی رہی ہے ۔

باراک اوبامہ کے جادو میں پتہ نہیں میں کیوں مبتلا نہیں ہو پا رہا ہوں، باراک اوبامہ تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے ہیں، لیکن جہاں پہلے وہ تبدیلی لا سکنے کی پوزیشن مطلب سینٹ میں تھے وہاں انہوں نے ہاں یا نہیں کی بجائے سکول کے بچوں کی طرح ایک سو تیس بار “حاضر جناب” کہنے پر ہی اکتفا کیا ہے، اور سینٹ میں کوئی موقف نہ اپنانے والوں میں سرفہرست رہے ہیں ۔
پھر دوسرا واقعہ جس پر میں اوبامہ سے انتہائی متنفر ہوا ہوں، وہ ان کا اپنے چرچ اور پادری سے لا تعلقی کا اظہار تھا، باراک اوبامہ کا جب تک یہ موقف رہا ہے کہ جرمایاہ رائٹ یا ان کے چرچ کے جو بھی خیالات ہیں ضروری نہیں کہ وہ بھی ان سے متفق ہوں، اور جب یہ مسلہ عروج پر تھا تو اوبامہ نے خاص طور پر تقریر کی تھی کہ جیسے میں اپنی دادی سے لا تعلقی اختیار نہیں کر سکتا ویسے ہی میں جس چرچ اور پادری کو بیس سال سے جانتا ہوں اس سے بھی لاتعلق نہیں رہ سکتا، لیکن جب تنقید کا زور بڑھا تو دو ہفتوں میں ہی دونوں سے اپنے لاتعلق ہونے کا اعلان کر دیا ۔ مطلب یہ کہ اپنے مطلب سیدھا کرنے کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، میں اس معاملے میں اوبامہ کے پہلے موقف سے متفق تھا، لیکن دوسرے سے ہرگز نہیں اور اگر ایسا ہی تھا تو اس موقف کو اپنانے میں بیس سال کا عرصہ چہ معنی دارد؟
اس کے علاوہ جوزف بڈن کے ساتھ مشترکہ ٹکٹ سے کونسی خارجہ امور میں تبدیلی آئے گی، جو بڈن پچھلے پینتیس سال سے سینٹر ہیں اور خارجہ امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، مطلب پچھلے پینتیس سال سے آزمودہ پالیسی کے ساتھ تبدیلی کا خواب؟

باراک اوبامہ کے حامی افراد پتہ نہیں سارہ پیلن کے نا تجربہ کار ہونے کا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ باراک اوبامہ کا تجربہ ایک سوانحی خاکے پر مبنی کتاب اور دو سال سینٹ میں “حاضر جناب” کہنے سے کہیں زیادہ تجربہ ایک شہر کا دو دفعہ میئر اور امریکہ کی سب سے مقبول گورنر (الاسکا میں پیلن کا اپرول ریٹ اسی فی صد) کا ہے ۔ یہ دونوں عہدے انتظامی ہیں، برعکس اس کے اوبامہ کا کسی انتظامی عہدے کا تجربہ صفر ہے ۔ گورنر پیلن کا اتنا ہی تجربہ ہے جتنا اس سے پہلے بہت سے صدور کا جو پہلے گورنر تھے کا تھا ، یہ خصوصیات خاتون ہونے کے علاوہ ہیں ۔

گورنر سارہ پیلن پر ایک اور الزام جو عائد ہوا ہے وہ اس کی سترہ سالہ بیٹی کا بغیر شادی کے حاملہ ہونا ہے، جس ملک میں پچیس سے چالیس فی صد بچے اور افریقن امریکن کمیونٹی میں اسی فی صد بچے بغیر شادی کے پیدا ہوتے ہیں، وہاں یہ الزام؟ اس میں گورنر کیا کر سکتی تھی کہ لبرلز کی طرح بیٹی کو حمل گرانے کا مشورہ دیتی، جس کے وہ خود خلاف ہے ۔میرے خیال میں تو یہ چاہے بیٹی کا یا ماں باپ جس کا بھی فیصلہ ہے کہ جو کیا ہے اس کی ذمہ داری بھی اٹھاو ایک بہترین فیصلہ ہے بجائے کہ سیکس کرو لیکن ذمہ داری کو قریب نہیں آنے دو ۔

لیکن اس سب کے بعد بھی شائد میں اوبامہ کو ہی ووٹ(فی الحال) ڈالوں گا ۔