راہ پیا جانڑے

June 8, 2008
از :  
زمرات: نیو یارک

مغربی دُنیا کے بارے میں لکھے گئے اردو سفر نامے پڑھنے سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ مغرب میں رہنے والے بہت قانون پسند ہوتے ہیں، اور اُن میں ایک دلیل جو بہت عام استعمال کی جاتی ہے وہ ہے رات دو بجے کسی مضافاتی قصبے میں سرخ بتی پر ایک ہی گاڑی تھی اور بتی پر کھڑی تھی ۔ پتہ نہیں یہ سب سفر نامہ لکھنے والے رات دو بجے جا کر بتیوں پر کیوں کھڑے ہوتے ہیں؟
پنجابی میں ایک کہاوت ہے ” راہ پیا جانڑے تے واہ پیا جانڑے” آسان مطلب کہ سر  پڑنے پر ہی  کسی کے بارے میں درست اندازہ ہوتا ہے ۔ بتانے والے ایک بات بتانا بھول جاتے ہیں کہ سرخ اشاروں پر کیمرے بھی لگے ہوتے ہیں، ہر جگہ نہیں، لیکن جب آپ کسی علاقے میں نہیں رہتے ہوں تو آپ کو نہیں معلوم کہاں کیمرہ ہے اور کہاں نہیں، اس کے علاوہ پولیس کو یہاں چھپ کر بیٹھنے کا بہت شوق ہے، اور ایسی کوئی بھی غلطی نہ صرف پیسے بلکہ دو تین سال تک لائسنس کے ریکارڈ میں بھی مخفوظ ہو جاتی ہے۔ قانون کو ہمیشہ لاگو کیا جاتا ہے بعد میں لوگ قانون کی عزت بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں، لیکن ان سب باتوں کے باوجود نیویارک شہر جہاں ہر چوراہے پر پولیس ہو سکتی ہے وہاں بھی آپ کو لوگ قانون ہاتھ میں لیتے نظر آتے ہیں ۔
اب اسی طرح میرا “واہ” بھی پولیس سے پڑ گیا اور ایک ایسی شکل سامنے آئی کہ میں سوچنے لگ گیا کہ آیا میں نیویارک میں ہوں یا سرگودھا میں ۔ کل رات ایک شرابی نے میری گاڑی کو ہائی وے پر ٹکر مار دی، عموماً میں بھی عام امریکیوں کی طرح حد رفتار سے دس پندرہ میل اوپر ہی گاڑی چلاتا ہوں اور کبھی کبھی بیس پچیس میل بھی اُوپر چلا جاتا ہوں ۔ اِن حالات میں اگر کوئی آپ کی گاڑی کو پیچھے سے ٹکر مار دے اور پوری ہائی وے سنسان پڑی ہو تو پہلے تو آپ کو سمجھ ہی نہیں لگتی ہوا کیا ہے، خیر میری گاڑی گھومتے ہوئے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ شاید ایکسڈنٹ ہو گیا ہے، اور میری گاڑی سیدھی ہونے تک قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ٹکر مارنے والا اپنی گاڑی سیدھی کر کے بھگانے کامیاب ہو گیا تھا، کبھی کبھی حفاطتی انتظامات اُلٹے پڑ جاتے ہیں، کیونکہ میری کار کو ٹکر پیچھے سے ماری گئی تھی، اور فیول ٹینک بھی پیچھے ہی ہوتا ہے، ایسی حالت میں فیول پمپ کا سیفٹی بٹن بند ہو جاتا ہے اور جب میں پیچھا کرنے لگا تو کار ہائی وے کے بیچوں بیچ کھڑی ہو گئی، اور یہی سب سے بڑی مصیبت تھی ۔ ہائی وے پر گاڑی چلاتے ہوئے ہوئے اکثر لوگوں کو لگتا ہے کہ پتہ نہیں ٹریفک اتنی سست رو کیوں ہے، لیکن جب آپ ہائی وے کے بیچ کھڑے ہوں، اور ایک ایٹین ویلر آپ کے دائیں سے گزرے اور دوسرا بائیں سے تو دل دھل جاتا ہے جس کو آیت الکرسی نہیں آتی وہ بھی اُس کا وِرد شروع کر دیتا ہے ۔
عموماً نیویارک سٹی میں ایمرجنسی سروسز کا رسپانس کا اوسطاً وقت تیس سکینڈ ہے، مطلب اگر آپ ایمرجنسی کال کرتے ہیں، اور فوری نوعیت کی ایمرجنسی ہے، گھر سے چوہا نکالنے والی ایمرجنسی نہیں تو پولیس اور طبی عملہ تیس سکینڈ میں پہنچ جاتا ہے۔ اب میں نے فوراً سے پہلے نو گیارہ پر فون ملایا، ایمرجنسی بتائی کہ ہائی وے پر ہٹ اینڈ رن ایکسڈنٹ ہوا ہے اور میں ہائی وے کے بیچوں بیچ پھنس گیا ہوں، اور یہ کہ میں ٹھیک ہوں، کوئی چوٹ نہیں آئی اس لئے ایمبولینس کی ضرورت نہیں ہے، اب اگلا سوال تھا کہ میں کِس مقام پر ہوں اور یہیں سے باقی سب کچھ شروع ہو گیا ۔ میں نے ہائی وے کے حساب سے اپنی لوکیشن بتائی کہ فلاں اور فلاں ایگزٹ کے درمیان ساؤتھ سائیڈ آف ہائی وے، سوال کیا گیا کہ کیا مجھے معلوم ہے کہ یہ کونسا ٹاؤن ہے؟ جو کہ مجھے معلوم تھا، میں نے بتایا کہ یانکرز ۔ اب اُس نے مجھے کہا کہ میں تمہیں یانکرز پولیس ڈیپارٹمنٹ سے منسلک کرتا ہوں ۔
یانکرز کا جغرافیہ اب میں آپ کو سمجھاتا ہوں، نیویارک میٹرو ایریا یا آسان لفظوں میں نیویارک شہر جہاں ختم ہوتا ہے، شمال میں وہاں سے یانکرز شروع ہوتا ہے ۔ اور میں وہیں پر تھا ۔
جب یانکرز پولیس نے فون اُٹھا کر مقام دریافت کیا اور میرے بتانے پر پھر پوچھا گیا کہ آیا یہ ہائی وے کے شمالی طرف ہوا ہے یا جنوبی طرف، میرے جنوبی طرف بتانے پر مجھے کہا گیا کہ یہ نیویارک سٹی کا علاقہ ہے اور مجھے وہاں کال کرنا چاہیے ۔ میں نے فون بند کرنے کے بعد دوبارہ کال ملا کر آپریٹر کو سب صورتحال بتائی تو اُس نے مجھے نیویارک سٹی پولیس سے منسلک کر دیا، مقام پوچھنے کے بعد کہا گیا کہ انتظار کریں، فلیشر آن رکھیں اور ہائی وے پر باہر مت نکلیں، ہم وہاں پہنچ رہے ہیں ۔خیر خدا خدا کر کے پندرہ منٹ میں نیویارک سٹی پولیس وہاں پہنچ گئی، اور آ کر گویا ہوئے کہ یہ یانکرز کا علاقہ ہے، آپ کو یانکرز پولیس کو کال کرنا چاہیے ۔ اب مجھے غصہ آ گیا، میں نے کہا کہ انہوں نے ہی کہا ہے کہ یہ نیویارک سٹی کا علاقہ ہے، اُس کے بعد میں نے آپ لوگوں سے رابطہ کیا ہے ۔ جواب میں پولیس آفیسر نے کہا کہ پریشان مت ہوں میں یانکرز پولیس کو خود رابطہ کر کے کہہ دیتا ہوں، لیکن اُس نے ایک کام کیا کہ میری گاڑی کو دھکیل کر ہائی وے کے شولڈر پر کر دیا ۔اُس کے یہ جا وہ جا ۔ دس پندرہ منٹ انتظار کے بعد جب پولیس نہیں آئی تو میں نے دوبارہ ایمرجنسی فون ملا دیا، اچھا یہ ہوا کہ ہر بار ایک ہی آپریٹر میرا فون اٹھا رہا تھا، میں نے اُسے پھر باقی آدھی کہانی سنائی کہ نیویارک پولیس والے آئے تھے اور مجھے کہہ کر چلے گئے ہیں کہ یہ یانکرز کا علاقہ ہے، اُس نے مجھے دوبارہ یانکرز سے ملا دیا، وہاں پھر وہی بندہ جس سے میری پہلے بات ہوئی تھی، اُس نے پھر وہی کہا کہ یہ نیویارک سٹی کا علاقہ ہے، میں نے کہا کہ وہ آ کر چلے گئے ہیں اور کہہ کر گئے ہیں کہ یہ یانکرز ہے، اُس نے مجھے ہولڈ کروا کر بعد میں نیویارک ریاست مطلب سٹیٹ پولیس سے منسلک کر دیا، سٹیٹ پولیس والوں نے ایکسڈنٹ کا مقام پوچھا، اور جب میں نے بتایا تو کہنے لگے یہ نیویارک تھرو وے ہے، ہم آپ کو تھرووے پولیس سے منسلک کر رہے ہیں، تھرووے پولیس سے منسلک کرنے کے بعد مقام بتانے کے بعد پھر بتایا گیا کہ یہ یانکرز میں آتا ہے اور مجھے دوبارہ یانکرز پولیس سے منسلک کر دیا گیا، جہاں دوبارہ سے وہی بندہ موجود تھا، جب اُس نے کہا کہ میں کیسے آپ کی مدد کر سکتا ہوں، میں نے جواب دیا کہ میں اُمید ہی کر سکتا ہوں ۔ میری آواز سُن کر کر کہنے لگا کہ تم وہی ہو نا جو فلاں جگہ پر ہے؟ میں نے کہا ہاں تو کہنے لگا پہلے بھی دو دفعہ ہماری بات ہو چکی ہے اور یہ یانکرز نہیں ہے، تب مجھے بہت زیادہ غصہ آ گیا اور میں نے کہا کہ یہ میرا مسلہ نہیں ہے کہ یہ علاقہ نیویارک سٹی میں آتا ہے یا یانکرز میں، میرا مسلہ یہ ہے کہ میری گاڑی اس وقت ہائی وے پر کھڑی ہے، ایک دفعہ میں بچ گیا ہوں، اور دوسری دفعہ کا پتہ نہیں۔ پانچ لوگوں سے بات کرنے پر ہر دفعہ مجھے یانکرز سے منسلک کر دیا جاتا ہے، مجھے مدد چاہیے ۔ تب جا کر اُس نے کہا کہ میرے ساتھ لائن پر رہو، میں خود تھرووے پولیس سے بات کرتا ہوں ۔ اور اُس کے بعد بتایا گیا کہ پولیس آ رہی ہے ۔اِس سب کے بعد اُس نے مجھ سے میرا فون نمبر پوچھا، تو میرے ذہن میں اپنا نمبر نہیں آ رہا تھا، تو وہ یہ سمجھنے لگا کہ شاید میری یاداشت کھو گئی ہے اور یہ پوچھے جائے کہ تم واقعی ٹھیک ہو؟ واقعی تمہیں میڈیکل اسسٹنس نہیں چاہیے ۔
اس سے پہلے میں صرف یہ سمجھتا تھا کہ علاقوں کا امتیاز صرف پاکستان میں پولیس جان چھڑانے کے لئے کرتی ہے ۔ سچ کہا ہے نا “راہ پیا جانڑے تے واہ پیا جانڑے” ۔