مُحاسبہ

October 19, 2008
از :  
زمرات: متفرق

پاکستان میں کچھ باتیں ایسی ہیں جن کو بلا چوں چراں کے حقائق کے طور پر مانا جاتا ہے، ایسے ہی حقائق میں سے ایک زبان زدِ عام غیر ممالک میں پاکستانیوں کے ساتھ روا رکھا جانا والا امتیازی سلوک ہے ، غیر ممالک سے مراد ہمیشہ مغربی یا لادین ممالک ہی لیا جاتا ہے اور مسلمان ممالک کو اس تعریف سے نکال دیا جاتا ہے ۔خلیجی ممالک کی بلند و بالا عمارات اور ترقی کے پیچھے چھپے گھناؤنے سچ کو “عرب متعصب ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں” کے عنوان سے تزئین جاوید نے اپنے بلاگ کی زینت بنایا ہے ۔

اکیسویں صدی کے غلام

خلیجی ممالک میں شہریت کے قوانین پہلے ہی کافی متنازعہ ہیں، جہاں شہریت کے لئے آپ کا عرب ہونا ضروری ہے ۔ اسی حوالے سے وہاں تعصب بھی عربی اور عجمی کی بنیاد پر روا رکھا جاتا ہے ، عجمیوں میں سب سے نچلے درجے پر جنوبی ایشیاء اور افریقہ کے مکینوں کو رکھا جاتا ہے، یہاں پر بھی گوری چمڑی والوں(ترقی یافتہ مغربی ممالک) کے مکین اوپر والے درجے میں آتے ہیں، اسی حوالے سے دبئی ان ممالک میں رہنے والوں میں سیاحوں کی جنت کا درجہ حاصل کرتا جا رہا ہے، جہاں وہ، وہ سب بھی کر سکتے ہیں جو اپنے ممالک میں نہیں کر سکتے، اور قانون کی گرفت سے بھی مخفوظ رہ سکتے ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف جنوب ایشائی اور مشرق بعید کے ممالک کے باشندے ہیں، جن کو بنیادی انسانی حقوق بھی میسر نہیں ہیں، ان میں نچلے درجے کا مزدور طبقہ قابلِ رحم ہے۔ ان لوگوں کی رہائش کا اور کھانے کا انتظام عموماً جس کمپنی میں کام کرتے ہیں، ان کی جانب سے کیا جاتا ہے، اور ایک ایک کمرے میں بیس بیس لوگ رہنے پر مجبور ہیں، ان کو کسی قسم کی مزدور یونین بنانے کی اجازت نہیں ہے، اسی وجہ سے حادثات کی صورت میں بھی انہیں کچھ نہیں ملتا ۔ پھر کفیل کی صورت میں ان کو دہرے عذاب میں مبتلا کر دیا گیا ہے، ان لوگوں کے پاسپورٹ کفیل کے ملکیت ہوتے ہیں، اور کمپنی براہ راست کفیل کو ادائیگی کرتی ہے، جو آگے ان کو تنخواہ دیتا ہے، بعض اوقات لوگوں کو چھ چھ مہینے کی تنخواہ بھی ادا نہیں کی جاتی ہے ۔ اور ان مزدوروں کی اوسط آمدن ستر سے نوے ڈالر مہینہ ہے ۔ ان سب خصوصیات کی بناء پر ان مزدوروں کو اکیسویں صدی کے غلام بھی کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے ۔
لیکن یہ سب جاننے کے باوجود بھی لوگ کیوں ان ممالک میں جانا چاہتے ہیں؟ جبکہ ان مزدوروں کی اوسط آمدن سے زیادہ تو لوگ پاکستان میں کما لیتے ہیں ۔یہی اصل سوال ہے، جس پر غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی ۔ یہ لوگ ان حالات میں جانتے پوجھتے اس لئے جاتے ہیں، کہ پاکستان میں ان کی حالت اس سے کہیں بدتر ہے ۔
ہم کسی دوسرے پر تعصب کا الزام کس طرح لگا سکتے ہیں، جبکہ ہمارے آباؤ اجداد نے انسانوں کو نہ صرف درجوں میں بانٹ دیا تھا، بلکہ صدیوں تک کامیابی سے چلایا بھی ہے، جو آج بھی کئی صورتوں میں ہمیں نظر آتا ہے ۔اس کے علاوہ صوبائی تعصب الگ ہے اگر آپ پنجابی ہیں تو کسی دوسرے کے نزدیک یہی آپ کے بے وقوف ہونے کی دلیل ہے، اگر مہاجر ہیں تو کام چور ہیں، غدار ہیں۔ پٹھان ہیں، تو پنجابیوں سے بھی ایک ہاتھ آگے بے وقوف ہیں، اور یہ سب جملے معاشرے میں اتنے عام ہیں، اور ایسے یقین کے ساتھ بولے جاتے ہیں کہ یہی سچ ہے، پھر بھی ہم تعصب کا الزام دوسروں کے سر دھرنے میں شیر ہیں ۔
اب ان مزدوروں کی حالت کہ، گرمی میں انہیں، اے سی بسیں نہیں ملتیں، ایک کمرے میں بیس بیس لوگ رہنے پر مجبور ہیں، اور بعض اوقات چھ چھ مہینے تنخواہ نہیں ملتی، اور اگر کوئی زیادتی ہو جائے تو کوئی اس کی بات نہیں سُنتا ۔ ہم فرض کرتے ہیں یہ محمد اقبال کی کہانی ہے ۔
محمد اقبال پنجاب کے ایک گاؤں سے تعلق رہتا ہے، قوم کا مسلم شیخ (مسلی) ہے، اس کا واحد معاش کا ذریعہ گاؤں کے کسی زمیندار کی زمینوں پر کام کرنا ہے، جو وہ نسلوں سے کرتے آ رہے ہیں، اور پتہ نہیں کب تک کرتے رہیں گے ۔ بظاہر یہاں لیبر قوانین موجود ہیں، اور ہر سال محمد اقبال کا خاندان کام کے کنٹریکٹ کی تجدید کرتا ہے، جو کہ زبانی کلامی ہوتا ہے۔ اس کنٹریکٹ میں اسے رہنے کی جگہ، سال بھر کا اناج دیا جاتا ہے، کپڑوں کے کچھ جوڑے وغیرہ، پیسہ ضرورت پڑنے پر مل سکتا ہے ۔اب محمد اقبال اور اس کا پورا خاندان چوبیس گھنٹے کا ملازم ہے، اور عزت اتنی ہے اسکی کہ کسی کے سامنے اس کے برابر نہیں بیٹھ سکتا، زمین پر بیٹھنا اس کا مقدر ہے، چویدری کا پانچ سال کا پتر بھی اس کی عزت افزائی کر دیتا ہے ۔ لیکن سب سے اعلی بات یہ ہے کہ سال کے اخیر میں، محمد اقبال پر بیس سے پچیس ہزار روپے کا قرض چڑھا ہوتا ہے، اور اسے ادا کئے بغیر وہ کہیں جا نہیں سکتا، لیکن اس کی ایک اور صورت ہے کہ کوئی اور زمیندار وہ قرض ادا کر دے اور محمد اقبال اب اس کا نوکر ہے، یہ غلامی نہیں ہے کیا؟ لیکن ہم اس پر بولتے نہیں ہیں، یا بولنا چاہتے نہیں ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ سندھ میں ہاری بھی ایسے ہی حالات کا شکار ہیں ۔
اب اس محمد اقبال کا کوئی جاننے والا دبئی چلا جاتا ہے، پھر پانچ چھ سال میں اس کے گھر دنیا کی سب آسائشیں آنا شروع ہو جاتی ہیں، بجلی، فریج، ٹی وی اور زندگی میں پہلی بار وہ چوہدریوں کے چنگل سے بھی نکل جاتا ہے ۔ تو محمد اقبال کیوں دبئی کا نہیں سوچے گا، صرف اپنے بیوی بچوں سے دور ہو کر وہ ان کا مستقبل بہتر بنا سکتا ہے تو یہ قربانی کوئی اتنی بڑی نہیں ہے، باقی سب جس پر عربوں کو الزام دیا جاتا ہے، وہ یہاں بھی اس کے ساتھ ہو رہا ہے ۔
عرب جو سلوک کر رہے ہیں، وہ انتہائی غلط ہے، لیکن ہم ان سے، اِن کاموں میں کہیں آگے ہیں ۔ ہم اگر کام کرنے والوں کی اپنے ملک میں عزت کریں گے تو دنیا بھی ہماری عزت کرنا شروع ہو جائے گی ۔ کئی لوگ پوچھتے ہیں کہ پاکستان کب ترقی کرے گا، میرے مطابق جب کام کرنے والوں کو جائز مقام ملنا شروع ہو جائے گا۔یہ جو اوپر پنجاب کے ایک گاؤں کے حالات ہیں، ایسا نہیں کہ دیگر ملک میں یہ حالات نہیں ہیں، لاہور، کراچی میں اپنی آنکھوں دیکھے ایسے واقعات ہیں، جہاں مزدوری کرنے والوں سے حقارت سے پیش آیا جاتا ہے، کوئی اپنی انسپکٹری کے زعم میں کسی کنڈیکٹر کو تھپڑ مار رہا ہے، تو کوئی اپنی ٹھیکداری کے رعب میں کسی مزدور کے ساتھ یہی کر رہا ہے ۔ ایسے واقعات روز سڑک چلتے آپ کو نظر آ جائیں گے، کم از کم اپنی حد تک ہم اس کو بدل سکتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو عزت دیں ۔
دوسری بات، ہم وطنوں سے کئی بار بات کرتے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ترقی کا نام، اونچی عمارات، کشادہ سڑکیں اور موبائل فون ہے، اور یہ سب حقائق بتا کر کہا جاتا ہے کہ پاکستان بہت ترقی کر رہا ہے، جبکہ اصل ترقی انسانی شعور میں بیداری ہے، اور اس سے میرے خیال میں ابھی ہم بہت دور ہیں ۔