یومِ اقبال

November 9, 2008
از :  
زمرات: پاکستان, اردو

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر


خدا اگر دِل فطرت شناس دے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر


اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں
سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر


میں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر
مرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر


مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر