يُوسف يوحنا کا قبول اسلام

Monday,19 September 2005
از :  
زمرات : کھیل, مذہب

پا کستان کرکٹ ٹيم کے مايہ ناز بلے باز يوسف يوحنا نے اسلام قبول کر ليا ہے۔ ابھی ميرے ايک دوست کی ای ميل ميں يہ پڑھا تو پہلے اس کو ايک افواہ سمجھا تصديق کے لئے فورا بی بی سی اردو کا صحفہ ديکھا تو واقعی خبر درست نکلی۔
يوسف يوحنا کا نيا نام محمد يوسف ہے اور انہيں مشرف بہ اسلام ہوئے تين سال ہو چکے ہيں۔ اس بارے ميں باقی خبريں تو آتی رہيں گی ميری اللہ پاک سے دُعا ہے کہ وہ يوسف کو اس راہ پر استقامت دے۔ ايک دفعہ اپنی جاب پر ميری اپنی يہودی منيجر سے بات ہو رہی تھی جو کہ مجھے جان بوجھ کر تنگ کر رہی تھی۔ ميں نے کہا تم جو مرضی کہہ لو دنيا ميں سب سے زيادہ لوگ اگر اپنا مذہب چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختيار کر رہے ہيں تو وہ اسلام ہی ہے۔ تو جواب ميں اس نے کہا ايسے لوگوں کا ذہنی توازن درست نہيں ہوتا جو اپنے نظريات چھوڑ کر کسی دوسرے نظريے کو مان ليں۔ اور اسی محترمہ ان کا نام ايتی (Etti) ہے نے ايک دفعہ ہمارے ساتھ کام کرنے والی لڑکی کو کسی نے قرآن کا سپينش ترجمہ لا کر ديا تو اسے منع کرنے لگی کہ اسے نہيں پڑھنا۔ اس ميں فلاں ہے فلاں ہے۔ بعد ميں اس لڑکی نے مجھے کہا کہ ايتی ايسے کہہ رہی ہے۔ ميں نے کہا تمہارے پاس قرآن کا ترجمہ تمہاری اپنی زبان ميں ہے پڑھ کر ديکھ لو کہ جيسا وہ کہہ رہی ہے ويسا کچھ ہے بھی يا نہيں۔
يُوسف کے والد نے کہا ہے کہ اُنکی بہو اس معاملے ميں بے قصور ہے کيونکہ شوہر کے قبول اسلام کے بعد بہو کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہيں تھا۔ يوسف کے والد کے بقول اس سب کے پيچھے سعيد انور کے بھائی جاويد انور کا ہاتھ ہے جن کا کچھ عرصہ سے يُوسف کے ساتھ اُٹھنا بيٹھنا تھا اور تب ہی سے انہيں اپنے بيٹے کی حرکات پر شک گزرنا شروع ہوا تھا۔
جب کہ ايک اورذريعے کے مطابق يہ شايد يوسف ٹيم ميں اپنی نائب کپتانی اور کپتانی کے معاملے پر عمران خان کے بيان پر رد عمل کے طور پر کيا ہے جس ميں انہوں نے يونس خان کو نائب کپتانی دينے کی بات کرتے وقت يوسف کی ذات کو انکی مذہب کے حوالے سے قابل اعتبار قرار نہيں ديا تھا۔

تبصرہ جات

“يُوسف يوحنا کا قبول اسلام” پر ایک تبصرہ ہوا ہے
  1. urdudaaN says:

    ہسپانوى = spanish

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔