باشعور قوم

Wednesday,11 August 2010
از :  
زمرات : پاکستان, سیاست, سیاست

ایک ہندو واقف کار نے مجھ سے سوال کیا  “کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کی بہ نسبت پنجاب کے رہنے والے ہندوستان کے زیادہ مخالف ہیں؟” میں نے اسکا جواب دیا کہ شائد پنجاب والوں نے تقسیم کے دوران سب سے زیادہ فسادات کا سامنا کیا تھا، اور میرے والد کی نسل تک کے افراد نے  اپنی آنکھوں سے اجڑے ہوئے خاندان دیکھے تھے ۔ جس کا ردعمل ناگزیر تھا ۔

پھر ہمارے ملک کی “باشعور” جماعت کے ادنی کارکن کے انہی اہل پنجاب کی طرف اشارہ کر کے ” جو لوگ سوئے تو ہندوستان کا حصہ تھے اور جاگے تو پاکستان کا حصہ، انہیں پاکستان کا مطلب کیا معلوم؟” جیسے سنہرے ارشاد پڑھنے کا بھی اتفاق ہوا ۔ جن پر لعنت بھیج کر میں اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا ۔

لیکن اس “باشعور طبقہ” کے افراد  بے سروپا باتوں کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، اور مجبور کرتے ہیں کہ ان کی تاریخ ان کے منہ پر دے ماری جائے ۔ خاور کے بلاگ کی تحریر پر تبصرہ فرماتے ہوئے “باشعور قوم” کے  ایک فرد نے جو تبصرہ کیا ہے، اسے بلاگستان میں ایک کلاسیکی تبصرہ کا درجہ حاصل ہے ۔ جس تبصرے کا آغاز تحریر کو متعصب قرار دینے سے ہوا، اُسکا پیٹ صرف تعصب ہی سے بھرا گیا ہے اور اختتام اس بات پر کہ میرا تو کسی تنظیم سے تعلق نہیں بلکہ ہم تو حق کو حق کہنے والے ہیں، اسی موقع کی مناسبت سے پنجابی میں محاورہ ہے “رووے یاراں نوں لے لے ناں بھرواں دے” ۔

تو میرے باشعور قوم کے فرد جب آپ کے اجداد درختوں میں اُلٹا لٹک کر رات بسر کیا کرتے تھے، اس وقت ہمارے ہاں کئی تہذبیں جنم لے چکی تھیں جنہیں آپ گندھارا، ہڑپہ اور موہنجو دڑو کے نام سے شائد پہنچانتے ہوں گے ۔ جب آپ کے اجداد کو قبیلہ کی “ق” کا بھی علم نہیں تھا ہمارے ہاں شہر بسائے جا رہے تھے جسے آپ دریائے سندھ کی تہذیب کے نام سے شائد جانتے ہوں ۔ لیکن شائد آپ کے علم کی وسعت یہاں تک پہنچنے سے قاصر ہو، یا حقیقت میں ان زمانوں تک جاتے وقت  آپ کی نسل ہی کہیں بیچ میں روپوش ہو جاتی ہو، کیونکہ اس وقت تک آپ کے اجداد لکھنے سے بھی قاصر تھے ۔ تو جس شعور کی باتیں آپ کر رہے ہیں وہ آپ کے آباء نے ہمارے آباء سے مستعار لیا ہے ۔

اب دیکھیں نہ جس زبان پر آپ اتنا فخر کرتے ہیں، اس کا آغاز بھی انہیں علاقوں سے ہوا جہاں پنجابی بولی جاتی تھی، کہنے والے تو آپ کی زبان کو جدید پنجابی بھی کہتے ہیں ۔ اب اس باشعور قوم کے بارے میں میں کیا عرض کروں جس کو نہ صرف پاکستان کا تصور  “جاہل قوم” کے فرد نے دیا بلکہ نام اور قومی ترانہ تک اسی “جاہل قوم” کے افراد نے دیا ۔
آپ کے اجداد کا الم ناک باب جو ہجرت کے نام منسوب ہے اور جسے آپ کسی موقع پر استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے، تاریخ انہیں پنجاب کے فسادات کے نام سے جانتی ہے، اور جن ۲۰ لاکھ کا رونا آپ روتے ہیں ان کی اکثریت پنجابی تھی، جو اپنا سب کچھ لٹا کر یہاں آ گئے تھے ۔ ان میں سے کسی کا ماموں، پھوپھی، تائی اور نانی وہاں موجود نہیں ہے ۔ آپ کے اجداد چونکہ باشعور تھے اس لئے آدھے خاندان وہاں اور باقی جہازوں اور ریل پر بیٹھ کر یہاں بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے مطلب کلیم حاصل کرنے  اس غرض سے یہاں آئے تھے کہ بعد میں سب کچھ دوبارہ ٹھیک ہو جائے گا ۔ اسی وجہ سے آپ کی باشعور جماعت کا ایک مشن “کھوکھرا پار” کھلوانا ہے  تاکہ عزیزوں سے رابطہ بحال ہو جائے ۔ جن کو آپ مشورہ نما طعنہ “احسان مانو انکا کے انہوں نے تمہیں گھر بیٹھے ہی آزادی دلوادی” دے رہے ہیں، وہ سب تو اپنا سب کچھ لٹا کر یہاں آئے تھے، پورے پورے خاندان میں ایک آدمی یہاں تک پہنچ پایا تھا ۔ آپ یا آپ کے اجداد نے ان پر کونسا احسان عظیم کیا ہے؟

وضاحت: یہ تحریر خالصتاً تعصب پر مبنی ہے، اور اس مقصد کے تحت لکھی گئی ہے کہ شائد “باشعور لوگ” اپنے گریبانوں میں جھانک سکیں ۔ ہر انسان میں تاریک اور روشن دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں، اسی طرح یہ دونوں مجھ میں بھی موجود ہیں، البتہ تاریک پہلووں کو منظر عام پر اس نہج سے پیش کرنا کہ ان میں فخر کی جھلک ہو کبھی میرا مقصود نہیں رہا ۔ اس تحریر سے بلاشبہ بہت سے ہجرت کر کے آنے والوں کی دلشکنی ہو گی اور میں اس سلسلے میں ان سے معذرت خواہ ہوں ۔ تحریر کا اصل محرک جند مخصوص افراد ہیں جو کہ سیاسی مقاصد کے لئے ہجرت کا نہ صرف پرچار کرتے ہیں بلکہ اس کی بنیاد پر دیگر طبقہ کو کم تر اور اپنے احسان مند ثابت کرنے کی ہر ناچار کوشش کرتے ہیں ۔ میری درخواست ہے کہ تحریر کو پڑھنے کے بعد متعلقہ تبصرہ پڑھ لیا جائے، تا کہ تحریر کا اصل محرک اور سیاق و سباق سمجھنے میں آسانی ہو ۔

تبصرہ جات

“باشعور قوم” پر 49 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. عثمان says:

    خوب جواب دیا ہے۔
    سینتالیس میں ہجرت کرنے والوں کی اکثریت پنجابیوں اور بنگالیوں پر مشتمل تھی۔ باقی سب تو اللہ بخشے لیاقت علی خان کی مہربانیاں ہیں جو سخت وقت گزرجانے کے بعد لوگوں کو سرحد کے اسطرف سیٹل کرواتے رہے۔
    میں تو کہتا ہوں کہ دفع کریں اس سارے معاملے کو۔ احساس کمتری کے مارے چیخنا کبھی بند نہیں کریں۔

  2. مجھے اميد نہيں تھی کہ آپ ايسی تحرير لکھيں گے
    حقيقت يہ ہے کہ ايسی تحرير کی اشد ضرورت تھی اور گاہے بگاہے لکھی جانا چاہئيں تاکہ پروپيگنڈہ کے زور پر پلنے والے شايد کبھی اپنے گريبان ميں منہ تو جھانکيں
    ويسے ميں نے خاور صاب کی وہ تحرير نہيں پڑھی ۔ اب پڑھنتا ہوں

  3. ميں نے اب خاور صاحب کی تحارير پڑھی ہيں ۔ ان کے لکھنے کا انداز بعض اوقات پريشان کُن ہوتا ہے ۔

  4. خاور says:

    یه هوتا ہے ناں جی تعلیم کا فرق
    جو بات میں نے پینڈؤں کی طرح لکھ دی اپ نے اس کو اچھے الفاظ ميں بیان کردیا
    اسی لیے میں نےلکھا ہے که لہو لگا کر شہیدوں میں شامل یه مہاجرین
    مرے بھی پنجابی برے بھی پنجابی اور سب سے زیادھ روادری بھی پنجابی کی هے که اب میں ایک پنجابی هوتے هوئے اردو مین لکھ رها هوں که پنجابی نے اپنی نسلوں تک کو ان کی تقلید میں لگا دیا لیکن ابھی بھی برا ہے، پنجابی
    اور کیا چاەتے هیں یه لوگ
    ٹٹے چھتر وانگوں……

  5. جہانزیب اشرف صاحب، پڑھتی ہوں اور سر دھنتی ہوں۔ جس زمانے کی تاریخ آپ بیان کر رہے ہیں اس زمانے کی تاریخ ہمارے نصاب کا حصہ نہیں۔ کیونکہ کچھ لوگوں کے بقول اسکا پنجاب سے کچھ لینا دینا نہیں۔ اس تاریخ کا حوالہ دینے پہ سب سے زیادہ اہل پنجاب کو شرمندگی ہوتی ہے اور یہ انکا ہی جذبہ ہے جسکی بناء پہ پاکستان کی تاریخ کو محمد بن قاسم سے شروع کیا گیا۔ تو اس تاریخ پہ آپکا فخر، انتہائ سے زیادہ غلط بیانی پہ مبنی ہے۔
    یہ تاریخ دراوڑوں کی تاریخ ہے اور اگر اسے آُ پنجاب سے ملا رہے ہیں تو جان لیجئیے کہ پنجاب کی اکثریت آریاءووں سے تعلق رکھتی ہے نسلی طور پہ۔ حتی کہ لفظ پنجاب کے مائخذ بھی ہزار سال سے پہلے نہیں ملتے۔ پنجابی زبان کا وجود بھی بارہویں صدی سے پہلے ثابت نہیں ہوتا۔
    پنجابی، ہندی، اردو اور دیگر علاقائ زبانوں کو سسٹر لنگوایجز کہا جاتا ہے ان میں سے کوئ پہلے اور کوئ بعد میں وجود میں آئ۔ آاور یہ سب زبانیں ایک ہی زبان سے وجود مین آئین جو پانچ ہزار سال قبل بھی یہاں بولی جاتی تھی۔ آپنی زبان کی محدودیت اور رسم الخط کی غیر موجودگی کی وجہ سے اسکے آگے نہ بڑھ پانے کو تاریخی حقائق مسخ کرنے کے لئے استعمال نہ کریں۔
    آپکی تصحیح کے لئے آج تک ماہرین اس بات پہ یکجا نہیں ہو سکے کہ اردو نے کہاں سے جنم لیا۔
    روزنامہ ڈآن میں اب سے دو تین پہینے پہلے رءوف پاریکھ صاحب کی تحقیق کے مطابق یہ پنجابی نہیں بلکہ سرائیکی زبان تھی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس سے اردو نے جنم لیا۔ آپ اگر مستند معلومات حاص کرنے میں دلچسپی رکھتے ہوں جو کہ آپکے بزرگ ہم زبان بلاگر صاحب کے پیش کئے گئے نظرئیے سے قطعی الگ ہے تو ڈآن کے پچھلے شماروں میں اسے چھانئیے۔ مگر آپ بھی ایسا نہیں کریں گے۔ اس سے آپے غلط پیش کئے گئے نظرئیے کو ٹھیس جو لگے گی۔
    آریا اس زمین پہ ڈیڑھ ہزار سال قبل تشریف لائے۔ تو اس ساری تہذیب پہ اگر کوئ فخر کرے تو وہ آپ نہیں بلکہ اہل سندھ ہیں۔
    اگر آپ تاریخ اٹھا کر پڑھیں تو پتہ چلے گا کہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے دریائے سندھ اور اسکا اطراف لکا علاقہ سندھو اور اسکی دوسری طرف کا علاقہ ہند کہلاتا تھا۔ اس وقت پنجاب کا نام و نشاں بھی نہ تھا۔ آپکی تہذیب کا تو سوال ہی کیا۔
    جب بابر بے ہندوستان فتح کیا تو اسے ندوستان سخت نا پسند تھا اور اپنی تزک میں وہ لکھتا ہے کہ یہاں کے باشندوں میں ذوق جمالیات کی سخت کمی ہے لشکر جب کہیں پڑاءو کرتا ہے تو دریا کے رخ پہ خیمے کی پیٹھ کیجاتی ہے۔
    ہندوستان کو مغلوں نے ایک اعلی تہذیب دی، جس میں چیزوں کو حسن اور آراستگی دینے کا کام آتا ہے۔ باقی یہ کہ اگر آپ ہندوستان کے باشندوں پہ اس کے حملہ آوروں کے اثرات پڑھیں تو آپکو اندازہ ہوگا کہ یہ کیا تھا۔ آپ نے کسے بندر کہا وہ جو آپکو بندر کہتے ہیں۔ یہ تہذیبی ارتقاء ہر قوم کا حصہ رہا ہے۔ ورنہ تمام اقوام پہلے جانوروں کی طرح غاروں میں ہی رہتے تھے۔ آپ کے قابل فخر آباء اجداد بھی اس سے محروم نہیں رہے ہونگے۔ یا پھر جنت سے جن آدم و حوا کو اتارا گیا وہ آپکے آباءاجداد تھے اور باقیوں کے کوئ اور۔
    تو آپکو اپنے اس مضمون پہ شاباش متعصب قسم کے لوگوں سے ہی مل سکتی ہے جو سنی سنائ باتوں کو آگے پہنچاتے ہیں اور جب انکا دل چاہے تو دن کو رات اور رات کو دن دکھائیں۔
    آپ کو مہاجروں کے اوپر لعنت بھیجنے سے اپنا میدان ضرور صاف کرنا چاہئیے تھا اور اسے اپنے لئے محفوظ بنانا چاہئیے تھا۔ مگر آپ ٹہرے اپنی زعم میں مبتلا ایک ایسی قوم کا حصہ۔ جو پنجاب میں فسادات کا شکار ہونے والو کی وجہ سے تو پاکستان کو اپنی ملکیت سمجھتی ہے، لیکن اسکی وجہ سے ان لوگوں کی لاشیں اورخاندانوں اور ایک تہذیب کا خاتمہ، یہ سب آپ اپنی متعصب نظر سسے نہیں دیکھ پاتے۔ پنجاب کے ایک طرف سے دوسری طرف جانے والے لوگ تو آپکے ہم زبان اور ہم تہذیب تھے انہیں آپ اپنی اعلی تہذیبی خصوصیات کی بناء پہ فورا جذب کر لیا مگر وہ لوگ جو آپ سے الگ تہذیب، زبان اور ثقافت رکھتے تھے ان سے نفرت آپ کا فرض اول ٹہری اور آپکے بزرگوں کے لئے آپ قابل فخر اولاد بن گئے۔
    بہت خوب، تو پھر عصبیت کی جڑیں کون گہری کر رہا ہے، کون دوسرے کو حقیر سمجھتا ہے۔
    افسوس صد افسوس، آپ لوگ اپنے تعصب میں کیا بزرگ اور کیا جوان اور کیا نوجوان ایک خاص حد سے آگے کچھ دیکھنے کے قابل نہیں اور اسکے لئے تاریخ کو مروڑنے تروڑنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
    افسوس، اردو بلاگستان میں ایسی تحریریں اس وقت آرہی ہیں جب قوم اپنا تریسٹھواں جشن آزادی منانے جا رہی ہے۔ لیکن ظاہر سی بات ہے کہ پاکستان کی باقی تمام قوموں کو سمجھنا چاہئیے کہ جشن آزادی کون جوش جذبے سے منائے گا وہ جو ابھی اس تحریر پہ آ کر لکھنے والے کو شاباشی دیں گے۔
    اور پھر کہیں گے، آخر دوسرے لوگ اتنے تعصبی کیوں ہیں۔ آپ سب کو معلوم ہونا چاہئیے کہ پاکستانیون کی سب سے بڑی برائ منافقت ہے۔
    آج کے دن ہندوستان میں بچ جانے والے دیگر مسلمان خدا کا شکر ادا کرتے ہونگے کہ ہم پاکستان نہیں گئے۔ کیونکہ وہ تو ایسے اعلی باسیوں کی جگہ ہے جو اپنا مطلب ختم ہونے کے بعد دوسروں کی تہذیب کے نقائص گنانے لگتے ہیں۔
    اللہ اکبر، آپ سب یہ سب باتیں لکھ کر بھی مہذب، سچے مومن ، نسلی پاکستانی رہیں گے۔ اور دوسرے ان تمام باتوں کو نا پسند کرنے کے باوجود مردود پاکستان کہلائیں گے۔ خدا آپ سب کو اس پہ ثابت قدم رہنے کی توفیق دے تاکہ ہمارا خاتمہ بالخیر جلد ہو۔ اور اس سارے چکر سے چھٹی ہو کر سب کوئ کام کا کام کریں۔
    کم از کم یہی سوچیں کہ سیلاب کا زور ٹوٹنے کے بعد کروڑوں پاکستانیوں کا جس میں آپکی نسل کے اعلی لوگ بھی شامل ہیں انکا کیا ہوگا۔ نہ مال، نہ مویشی، سال بھر کا جمع کی گیا غلہ بھی گیا، فصل بھی نہیں۔ اب آپکی اعلی تذیب کے حامل لوگ تو باقی سبکے برابر ہو گئے۔ مگر نہیں ابھی انکے پاس زمین کا حق ملکیت ہے۔ پیروں تلے زمین ہونا بڑی بات ہے جی۔ اسکی وجہ سے درختوں سے الٹا نہیں لٹکنا پڑتا۔ کاش یہ بات ان لوگوں نے ہندوستان سے ہجرت کرتے وقت سوچی ہوتی جن کی مادری زبان اردو نہیں تھی۔ اور جنکی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ حکومت پاکستان آپکے لوگوں کو شروع کے سالوں میں کھانے کے لئے پیسے مہیا کر سکے۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جب پاکستان آئے تو یہ بھول گئے کہ انکے پیسے اور انکی کوششوں کو صرف اردو بولنے والے مہاجر پہ خرچ ہونا چاہئیے۔ انسان سے بندر بننے کے لئے ایسی ہی بے وقوفانہ سوچوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اب بندر مل کر سوچیں کہ دوبارہ اعلی انسانوں کی پسند کا انسان کیسے بنا جائے۔

    • محترمہ عنیقہ ناز صاحبہ ۔ اگر اسی سے ملتے جلتے جذبات کا اظہار اگر آپ اپنے بھائی بندوں کے فرمودات پر کبھی کبھار کر دیا کریں تو ایسی تحاریر کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں نکلتی ۔
      آپ نے جذبات میں شائد غلط تاریخیں پڑھ لیں ہیں ۔ آریاوں کے اس خطہ میں آنے کی درست تاریخ تقریباً ۲۰۰۰ سال قبل میسح کی ہے ۔ آپ ڈیڑھ ہزار سال لکھتے وقت شائد قبل میسح پڑھنا لکھنا بھول گئی ہیں ۔ لیکن بعد کا تبصرہ بیان کرتا ہے کہ ایسا جان بوجھ کر تعصب کی وجہ سے کیا گیا ہے ۔ تو ایک تھیوری ہے، جسے آریاوں کی ہندوستان پر یلغار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، یہ تھیوری سترہوں صدی میں پروان چڑھی اور اس کی انتہا جرمنی میں یہودیوں کے قتل عام پر منتج ہوئی ۔ اس تھیوری کے مطابق بھی آریائی تقریباً پانچ ہزار سال قبل ہندوستان آئے تھے ۔ اب ہڑپہ، گندھارا اور موہنجو داڑو کے بارے میں بتائے گا کہ یہ اس کے بعد کے ہیں یا پہلے سے؟ ہمارے آباء نے ان تہذیبوں کی ابتداء کی اس میں کیا کلام ہے؟
      ڈراوڑ اور آریاوں کے بارے میں جو غلط فہمیاں سترہوں اٹھاروں صدی میں پیدا کی گئی، جدید تاریخ اب اسے بھی نہیں مانتی ۔ مطلب آریاوں کی ہندوستان پر یلغار صرف افسانہ ہے ۔ حقیقت میں وہی یہاں کے رہنے والے تھے ۔ جبکہ درواڑ نسل کے لوگ پیدل افریقہ سے جنوبی ہند تک پہنچے تھے ۔ یہ اب آپ کا نیا پراجیکٹ ہے، آریاوں اور دراوڑ قوم پر جدید تاریخ کیا کہتی ہے؟ جس میں جنیاتی تحقیق کا سہارا لیا گیا ہے ۔

      اب پنجاب کے تعصب کی طرف آتے ہیں، میں نے یا کسی پنجابی نے کب کہا ہے کہ اس خطہ کا نام پمیشہ سے پنجاب تھا؟ مختلف ادوار میں یہ مختلف نام کا حامل رہا ہے اور زیادہ تر یہ فارس سے مختلف ناموں کے ساتھ منسلک رہا ہے ۔

      پنجابی زبان کے رسم الخط کے بارے میں آپ کا تعصب آپ کے بلاگ پر ایک دفعہ پہلے ہی پڑھ چکا ہوں ۔ البتہ سب سے پہلے پنجابی زبان لکھنے کا جو سرا ملتا ہے وہ گیارہوں صدی عیسوی میں بابا فرید کی شاعری ہے ۔ اسے فارسی رسم الخط ہی میں لکھا گیا تھا ۔ اپنے تعصب کی وجہ سے اگر آپ پنجابی کو گرمکھی رسم الخط میں سمجھتی رہی ہیں تو یہ آپ جنابہ کی کم علمی ہے ۔ گرمکھی رسم الخط سترہویں صدی میں سکھوں کے گرو گوبند نے ایجاد کیا تھا اور سکھوں میں اس نے مقبولیت انسویں صدی میں حاصل کی تھی ۔ اس سے پہلے تک پنجابی صرف ایک ہی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی جسے شاہ مکھی کہتے ہیں ۔ البتہ تاریخ سے اردو گیارہوں صدی تک لکھے جانے کا سراغ نہیں ملتا ۔ اس لئے میرا یہ کہنا بھی درست ہے کہ آپ نے رسم الخط ہم سے مستعار لیا ۔

      اب پہلے آپ اور رووف پاریکھ صاحب یہ ثابت کریں کہ آج سے چالیس سال پہلے تک سرائیکی نام کی زبان موجود تھی؟ اس سے پہلے جسے آپ سرائیکی کہتی ہیں اسے ملتانی بولا جاتا تھا ۔ اور اس دور میں بھی اگر آپ کا سامنا کسی ہندوستانی سکھ سے ہو جائے تو اسے ملتانی ہی کہتے ہیں جو ایک علیحدہ زبان نہیں بلکہ پنجابی کا ہی ایک لہجہ ہے ۔ آپ کو شائد یہ بات معلوم نہ ہو کہ سب پنجابی اپنا تعلق سندھ سے جوڑتے ہیں اور اسے تاریخ میں ایک ہی علاقہ گردانہ جاتا رہا ہے،اور یہ بھی مانا جاتا ہے کہ پنجابی سندھ سے ہجرت کر کے آئے ہیں، اس لئے آپ کو پنجاب میں سندھو صاحب بکثرت مل جائیں گے ۔ اس لئے سندھ کی تہذیب بلاشبہ میرے آباء کی تہذیب ہے ۔

      سرراہ آپ نے بابر کے خیالات پیش کر کے اپنے بھائی بندوں کی ترجمانی کر دی ہے، بھائیوں اور باپ کو بوقت ضرورت قتل کر کے فائدہ حاصل کرنے والے لوگ آج آپ کی وجہ سے معزر ٹھہرے ۔ تو آپ کا بھی اپنے بھائی بندوں جیسا عقیدہ ہے کہ ہم بے شعوروں کو اردو بول بول کر شعور آیا ہے؟

  6. Jafar says:

    آپ کی تحریر اور اس پر تبصروں سے دو باتیں سمجھ میں‌آتی ہیں
    ایک یہ کہ یہ بحث ہی فضول ہے
    اور دوسری یہ کہ چند لوگوں‌کا یہاں‌مشن ہی یہ ہے کہ گالی دے کے گالی سنی جائے
    اس لئے بھائی جان ۔۔۔۔ ایسے لوگوں‌ کو در شاباش کہہ کے بات ختم کردیا کریں۔

  7. Jamal says:

    عنيقہ بولتی بند کردی آپ نے تو- اب ديکھيں لاجواب ہونے پہ پنجاب کی اعلی تہذيب کے کيسے کيسے نمونے سامنے آتے ہيں-

  8. جہانزیب says:

    آریائی اور دڑاوڑ نظریہ کے بارے میں ایک مضمون یہاں پڑھا جا سکتا ہے ۔

  9. Abdullah says:

    میں صرف آپکی اس بات کا جواب دوں گا!
    ایک ہندو واقف کار نے مجھ سے سوال کیا “کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کی بہ نسبت پنجاب کے رہنے والے ہندوستان کے زیادہ مخالف ہیں؟” میں نے اسکا جواب دیا کہ شائد پنجاب والوں نے تقسیم کے دوران سب سے زیادہ فسادات کا سامنا کیا تھا، اور میرے والد کی نسل تک کے افراد نے اپنی آنکھوں سے اجڑے ہوئے خاندان دیکھے تھے ۔ جس کا ردعمل ناگزیر تھا ۔

    پہلی بات جنہوں نے قتل عام کیا وہ تو سکھ تھے جن کی محبت آج بھی آپکے لوگوں کے گٹے گوڈوں میں بیٹھی ہے!
    دوسری بات جو وہ یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ پنجابیوں نے ہمارے ساتھ کیا ہم نے صرف اس کا جواب دیا اور یہی بات پاکستانی پنجاب کے لوگ بھی کہتے ہیں!

    اب بات آتی ہے ہندوستان سے محالفت کی تو سب سے زیادہ کاروبار ہندوستان سے کرنے والے کہاں بستے ہیں ؟؟؟؟؟
    سب سے زیادہ زوق و شوق سے ہندوستانی چینل کہاں دیکھے جاتے ہیں؟؟؟؟
    سب سے زیادہ ہندوستانی اداکاروں کے عاشق کہاں پائے جاتے ہیں؟؟؟؟
    پھر کونسی نفرت؟؟؟
    یہ وہ نفرت ہے جو آپکے علاقے کے جاگیرداروں نے محض اس لیئے دلوں میں بوئی تاکہ آپ ان کے مظالم خاموشی سے برداشت کریں ،جو خوف بنگالیوں سے تھا وہی خوف اردو بولنے والون سے بھی تھا کہ یہ آذاد ذہن کے لوگ ہمارے لوگوں کو بھی غلامی سے نہ نکال لیں ،جہاں ذات برادریوں پر پہلے ہی لوگوں کو تقسیم کیئے رکھا ہووہاں ایک دوسری قوم سے نفرت کا بیج بونا کونسا مشکل کام تھا!
    وہ جنکے رشتہ دار فوج میں اعلی عہدوں پر فائض کیئے گئے مہاجروں کو ہٹا ہٹاکر ہندوستان سے جنگ کے نام پر ملکی وسائل کا بڑا حصہ ہڑپ کرتے رہے،اور آج بھی وہ یہی چاہتے ہیں کہ ان کا غاصبانہ قبضہ ختم نہ ہو متحدہ کا قصور کیا ہے یہی نا کہ وہ چاہتی ہے کہ سرائیکی ،ہزارہ وال،سندھی ،بلوچی اوریہاں تک کے پنجاب کے بھی عام لوگ اپنے وسائل کے خود مالک ہوں!!!!

    • Abdullah says:

      اور ایسی ہی نفرت ہندوستان میں بھی لوگوں سے پیدا کی گئی جسکا سب سے زیادہ نشانہ وہاں کے مسلمان ہیں!!!
      آپ نے بہتی گنگا کا زکر کیا ہے کونسی بہتی گنگا ایک ایسا ملک جس کا مستقبل بھی مخدوش تھا ،جس کو آج بھی ہندو بھک منگا ملک کہہ کہہ کر پکارتے ہیں!!!

      • Abdullah says:

        جس آریائی اور دراوڑ نظریہ کا اپ ذکرکررہے ہیں وہ تو ہم سندھیوں کا ہے !اور ہم سندھیوں کو آنے والوں پر اتنا اعتراض نہیں جتنا آپ پنجابیوں کو ہے؟؟؟؟
        ہمارے دل مین بھی نفرت کے بیج آپ ہی کے سیاست دانوں نے بوئے تھے ورنہ ہم تو بڑے کھلے دل والے لوگ تھے اور ہیں !!!

  10. جعفر سے سو فیصد متفق ہوں۔
    در شاباش نہیں تو۔
    در فٹے منہ کہہ دیں۔
    پنجابی کا لہجہ ہر دس کلومیٹر بعد بدل جاتا ھے۔
    ھزارہ والے جسے ھند کو کہتے ہیں وہ بھی پشتو، پنجابی، کوہستانی پوٹھواری اردو وغیرہ کا مکسچر ھے۔حتی کہ فارسی کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ اور ھند کو کافی حد تک پنجابی کے قریب ہے۔
    میرے خیال میں پاکستان میں بولی جانے والی ہر زبان اور بولی ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔
    یہاں پر تاریخ سے زیادہ جنہوں نے تعصب کے گند کی ابتدا کی ھے۔ان کے متعلق لکھا گیا ھے۔
    انہیں سمجھنا چاھئے اگر اس ملک سے محبت ھے تو اپنے آپ کو اعلی ثابت کرکے دوسروں کی تحضیک نہ کریں۔ اب ایک ملک بن چکا ھے تو ایک نئی تاریخ راوی لکھے گا۔
    جو اچھی اور محبت بھری تاریخ میں رنگ بھرے گا وہی تا ریخ میں امر ہو گا۔
    سب ایک دوسرے سے ہیں۔ بس احساس کی ضرورت ھے۔ سب کے اباو اجداد نے ہجرت کی جس کو جہاں رزق ملا وہ وہاں جا بسا۔
    ہاں اگر کوئی بضد ھے کہ اس کے ابا واجداد درختوں سے لٹکنے والے تھے۔تو کیا کہہ سکتے ہیں۔خود دعوی کرتے ہیں۔ ہم تو نہیں کہتے۔اللہ میاں کی مرضی جی جس کو جیسی سمجھ دے دے۔

  11. یہ مشرف شاہ جی

    تو مجھے خاور جی کا رشتہ دار لگتا ھے!!۔

  12. میں اس وقت آپ سے یہ سوالات کرتی ہوں کہ آپ مجھے پنجابی لکھ کر دکھائیں۔ تو اسکا آپکے پاس کیا جواب ہوگا۔ پورے پنجاب میں کتنے پنجابی میڈیم اسکول ہیں انکی تعداد بتائیں۔ کسی اور تعلیمی ادارے کی بات چھوڑیں۔
    میں نے یا کسی اور نے کب آپکو کہا کہ آپ جا کر ایم کیو ایم کی پارٹی کے لئے کام کریں یا انکے فرمودات کی ترسیل کریں۔ یا الطاف حسین کو اپنا پیر مان کر انکے ہاتھ پہ بیعت ہوں۔
    اپکے ساتھ یہ کیوں ہوتا ہے کہ آپکا بلاگ ہمیشہ کسی ایسے جذبے کے اظہار کے لئے ایکٹو ہوتا ہے جس میں ایم کیو ایم یا کراچی کے حوالے سے سخت باتیں کی جائیں اسکے بعد آپ یہ دعوی کرتے ہیں کہ پاکستان کی فکر بھی آپکو رہتی ہے۔ بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ آپکو صرف پنجاب کی فکر رہتی ہے۔
    یقینی طور پہ اب میں اس چیز پہ ضرور لکھنا چاہونگی کہ پورے برصغیر میں جینیاتی تقسیم کس طرح ہے اور یہاں دنیا کے مختلف حصوں سے کو ن کون سی قومیں آ کر آباد ہوئ ہیں اور یہ کہ پنجاب میں جو قومیں آباد ہیں انہیں الل تعلای نے براہ راست نہیں اتار یہ بھی کسی اور جگہ سے آ کر آباد ہوئ ہیں دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں دنیا میں انسان کا وجود سب سے پہلے افریقہ میں نظر آتا ہے۔
    یہ موضوع خود ابھی تک تحقیق کے مراحل میں ہے۔ اور یہ جو آپ نے ایک لنک دے دیا ہے کسی تحقیقی جرنل کا نہیں ہے۔
    یہاں کی اپنی تہذیب مختلف تہذیبوں کا آمیزہ ہے۔ اگر آپکو اپنی تہذیب پہ فخر ہے تو کریں مگر اسکے لئے دنیا کو کیوں محدود کرتے ہیں۔ یہ اتنی محدود نہیں کہ آپ کسی کو بندر کہہ کر بیٹھ جائیں۔ یہ بندر گھومتے گھومتے آپکی جینز میں بھی نکل آئے گا۔
    اور آپ بھی کسی درخت سے الٹے لٹکے ملیں گے۔
    صرف پاکستانی تاریخ کو اگر آپ صحیح سے پڑھیں تو یہ سر سید احمد خان تھے جنہوں نے سب سے پہلے دو قومی نظرئیے کی بنیاد رکھی۔ اقبال سے پہلے ایک نہیں کئ درجن لوگ یہ خیال پیش کر چکے تھے۔ لیکن چونکہ آپ کے اجداد نے خدا جانے کیا سوچ کر یہ اعزاز انکے حصَ میں ڈال دیا۔ تاریخ خود یہ سوال کرتی ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔
    آپکی بہت ساری باتوں کے جواب میں یہی کہنا چاہونگی کہ بہتر یہ ہے کہ آپ ایک بہتر مستقبل کی طرف دیکھنے کی دعوت دیں۔ ایسی زہریلی باتوں کے جواب بہت زہریلے ہوتے ہیں۔
    اگر آپ اپنی تہذیب کو اتنے ہی اعلی مقام پہ سمجھتے ہیں تو تنزلی کے ایسے ثبوت کیوں پیش کرتے ہیں جن سے دوسروں کو آپکے دعوی پہ شبہ ہو۔ اگر آپ اپنے جھوٹے اور غلط زعم سے باہر نکلنے کی توفیق نہیں رکھتے تو دوروں سے کیوں توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس سے باہر نکلیں۔ اگر وہ حقیر ہیں اور آپ اعلی تو اس وقت یہ فرق کس چیز سے پتہ چلے گا۔ اس چیز سے کہ آپکی قوم کے لوگ بے درماں پڑے ہیں اور آپ بتا رہے ہیں کہ آِک زمانے میںجب آپکو قاف نہیں بولنا آتا تھآ ہم یہ تھے۔ سوال یہ ہے کہ آپ اس وقت کیا ہیں۔ اپنے تعصب مِں ڈوبے ہوئے ایسے شخص جو دو حرف اپنی قوم کے ڈوبے ہوئے لوگوں کے لئیے لکھنے سے قاصر ہے مگر عصبیت کے اعلی مظاہرے کے لئے اپنا قیمتی وقت لگانے کے لئے بے تاب۔ ہزاروں سال کی اعلی تہذیب نے یہ سپوت پیدا کئے ہیں۔
    چار تحایر کچھ اچھے موضوعات پہ بھی لکھ لیا کریں۔ تاکہ اسکے صدقے میں ان جیسی تحاریر پہ آپکو چھٹی مل سکے۔

  13. Abdullah says:

    مقابلہ کرنے کا شوق ہے تو اس شخص سے کیجیئے!!!

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/08/100811_heroic_man_floods_di_khan.shtml

  14. ارے یہ کیا ہوا؟!!!!!!!
    یہ کام کچھ الٹا شروع ہو گیا ھے!!!!؟

    وہ جی اقبال پنجابی تھےنا۔
    پاکستان کا نظریہ وغیرہ بھی انہیں کاہوا۔

    آپکی بہت ساری باتوں کے جواب میں یہی کہنا چاہونگی کہ بہتر یہ ہے کہ آپ ایک بہتر مستقبل کی طرف دیکھنے کی دعوت دیں۔ ایسی زہریلی باتوں کے جواب بہت زہریلے ہوتے ہیں۔

    یہ بات تو اس طرح کہہ دی گئی کہہ جیسے یہ سب گند پنجابیوں نے شروع کیا تھا۔

    میں تو یہ بات تڑپ تڑپ کر کہہ رہا تھا اور انہیں حضرات سے!!

    اب جب پنجابی جاہلوں نے صرف سٹارٹ ہی لیا تو نصیحتوں پر اتر آئے۔

    یا گرو جی کی انکھیاں مٹکاتی نصحیت کام کر گئی۔

  15. شازل says:

    تحریر اور جواب تحریر دونوں اچھے ہیں
    ماشااللہ

  16. Jamal says:

    “وہ جی اقبال پنجابی تھےنا۔
    پاکستان کا نظریہ وغیرہ بھی انہیں کاہوا۔”

    konsa nazriyya? aaj tak samajh aaya hai kisee ku?

  17. سوتے کو جگايا جا سکتا ہے مگر اسے جگانا بہت مشکل ہے سوائے لِتر کے استعمال کے جو سويا بنا ہوا ہو ۔
    پنجاب جو انگريز حکمرانوں نے بنايا اور آج ہے يہ وہ نہيں جو مغلوں نے بنايا تھ اور مغلوں سے پہلے پنجاب نام کا کوئی علاقہ نہ تھا اور انگريزوں سے پہلے پنجابی نام کی کوئی زبان نہ تھی ۔ جس زبان ميں فارسی اور ترکی کو ملا کر اردو بنايا گيا وہی زبان تھی شمال مغربی ہندوستان کی ۔ کراچی ميں بسنے والے مہاجرين جو پاکستان بننے کے فوری بعد يا ايک سال کے اندر آئے وہ اپنے آپ کو مہاجر نہيں کہتے ۔ وہ لُٹے پُٹۓ ہی آئے تھے ۔ مگر جو لوگ پاکستان بننے کے کئی سال بعد آئے يا جو کراچی ميں پيدا ہوئے وہ مہاجر کہلوانے لگے پھر ان ميں بھی تقسيم ہوئی تو جو باقی رہ گئے وہ متحدہ والے ہو گئے ۔ اس سلسلہ ميں ميری مندرجہ ذيل تحارير بھی ديکھئے
    http://www.theajmals.com/blog/2009/11/05
    http://www.theajmals.com/blog/2009/11/17
    http://www.theajmals.com/blog/2009/11/25

    • Abdullah says:

      افتخار اجمل وہ لوگ کیوں نہ آتے کیا پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کے لیئے نہیں بنایا گیا تھا؟؟؟؟؟

  18. پہلے تو خاور کی پوسٹ کی سخت مذمت اور پھر اس پر فکر پاکستان صاحب کی انتہاءی مذمت اور اس کے بعد جذباتیت میں لکھی جہانزیب کی پوسٹ کی مذمت جس میں گو تاریخی پس منظر بیان کیا گیا ہے اور بہت سی باتیں ٹھیک بھی ہیں مگر کچھ جگہوں پر رویہ طعن و تشنیع والا ہے جو کہ قطعی غلط ہے۔

    اس کے بعد حسب معمول عنیقہ ناز صاحبہ نے اپنی من پسند تاریخ کھولی ہے اور جو جو بندہ پسند ہے وہ پاس ہے اور جو نہیں پسند وہ چاہے کتنا ہی قابل اور جید تھا ان کی لغت میں فیل ہے حتی کہ علامہ اقبال تک کو نہیں بخشا۔

    وادی سندھ کی تہذیب پر اس پوسٹ میں سے مواد نکال کر ایک تاریخی اور اچھی پوسٹ کی جا سکتی ہے جس سے اردو بلاگ میں قابل قدر اضافہ ہو گا اور تاریخی طور پر تصحیح بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ایک فرد واحد بہرحال تمام حقائق کا احاطہ نہیں کر سکتا۔

    عنیقہ ناز کے لیے اطلاعا عرض ہے کہ پنجاب کا نام و نشام قبل از مسیح میں مہا بھارت میں بھی درج ہے

    پنچہ ندا ( پانچ دریاؤں کا ملک ) کے نام سے جو کہ فارسی لفظ پنجاب کا سنسکرت متبادل ہے۔ دوسرا جہانزیب نے وادی سندھ کی تہذیب کی بات کی ہے جو کہ موجودہ پنجاب اور سندھ کے علاقوں پر زیادہ تر مشتمل ہے اور یہ مشترکہ تہذیب ہے ۔ اس سے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان بھی ایک حد تک مستفید ہوئے ہیں مگر پنجاب اور سندھ کا تو پورا علاقہ اس کے ساتھ جڑا ہے جس کی وجہ سے دونوں زبانوں میں کافی قدریں مشترک ہیں، پنجابی اور سندھی میں۔  

  19. سب سے اہم بات کہ مقابلے کی مجھے تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی البتہ تاریخی طور پر بیان کرنا تاریخ جمع کرنے اور مطالعہ کے لیے مفید ہو سکتا ہے مگر یہ کہنا کہ ہم زیادہ تہذیب یافتہ ہیں اور پھر اس کے بعد اس کے لیے آباؤ اجداد کا ذکر کرنا صریحا غلط ہے۔ کوئی بھی تہذیب ہمیشہ نہیں رہی اور کوئی بھی تہذیب ایسی نہیں رہی جس نے دوسروں سے اثر قبول نہ کیا ہو۔

    اس پوسٹ سے البتہ جو مفید کام لیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ باقی بلاگران سندھی ، اردو ، پنجابی اور سندھ تہذیب پر آیندہ پوسٹ کریں بغیر تعصب کے اور اس طرح شر میں سے خیر نکالیں جو کہ اتنا مشکل نہیں۔

  20. Jafar says:

    محب بھائی کا جذبہ قابل قدر ہے
    اپنی تہذیب کی برتری کا خناس مجھے ابلیس کی یاددلاتا ہے
    کہ میں اس مٹی سے بنے ہوئے کو سجدہ کروں؟؟؟؟؟؟؟
    میں تو آگ سے بنا ہوں اور اس سے برتر ہوں۔۔۔

  21. جہانزیب says:

    عنیقہ ناز اگر آپ مجھ سے فرمائش کریں کہ میں آپ کو پنجابی لکھ کر دکھا دوں، تو جواب میں، میں آپ کو پنجابی لکھ کر دکھا دوں گا بلکہ اسی تحریر میں ایک کہاوت پنجابی زبان میں لکھی ہے ۔ اس کے علاوہ اگر آپ اس بلاگ کے زمرہ پنجابی میں جائیں تو چند تحاریر پنجابی میں لکھی مل جائیں گی ۔ لیکن اس سے ہو گا کیا؟ بھائی لوگوں کو اعتراض ہو گا کہ سب آسانی سے دوسری زبانیں تحریر کر لیتے ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتیں لیکن ہم جو بھی لکھتے ہیں دوسرے اسے آسانی سے سمجھ لیتے ہیں، چنانچہ ایک اور “ف کی بولی” ایجاد کرنا پڑے گی کہ ہم بھی اپنی باتیں آسانی سے کر سکیں ۔

    پنجاب والوں نے اردو کو جس طرح اپنایا ہے ویسے تو “اردو اسپیکنگ” والوں نے بھی اردو کو نہیں اپنایا، اور آپ کے شہر کی جامعہ میں بھی پنجابی میں ایم اے کروایا جاتا ہے، اگر آپ کرنا چاہیں تو ۔ آپ کے پاس تو کسی دوسری زبان کی “چوائس” نہیں تھی، ہمارے پاس تھی ہم نے پھر بھی اردو کو ترجیع دی، یہ سننے کے لئے کہ آپ کے پاس رسم الخط نہیں ۔ پنجاب والوں کو چڑ اردو سے نہیں بلکہ آپ اور آپ کے بھائی لوگوں کے ان رویوں سے ہے کہ جی ہم تو عالم فاضل ہیں، آپ کس کھیت کی مولی ہیں ۔

    محترمہ میرا بلاگ ۲۰۰۵ سے منظر پر ہے جس پر تین سو کے قریب تحاریر ہیں جن کا ایک فیصد تین بنتا ہے، آپ اس بلاگ پر صرف تین عدد ایسی تحاریر دکھا دیں جن میں، میں نے کراچی کے حوالے سے سخت باتیں کی ہوں ۔ آپ کو میرا بلاگ جانے دو سال کا عرصہ ہوا ہے ان دو سالوں میں صرف ان تحاریر کے روابط دکھا دیں جن میں کراچی کے لوگوں کے خلاف سخت باتیں کی گئی ہوں؟ یہ صرف آپ کے خیالات اور خواب ہیں، حقیقت میں اس بلاگ پر آپکے مفروضات موجود نہیں ہیں ۔ اور رہ گئی ایم کیو ایم کی بات تو پورے بلاگ پر دو تحاریر ایم کیو ایم کے حوالے سے ہیں، وہ بھی جہاں مصطفی کمال ایک عورت کو بری طرح جھاڑ رہا تھا ۔ اب اس بات کا مجھے علم نہیں تھا کہ ایسا کرنا گناہ ہے ۔ اور چونکہ لگے ہاتھوں آپ نے تحریر میں زور پید کرنے کے لئے پنجاب کا تڑکا بھی لگا دیا تو پورے بلاگ میں یہ تحریر چھوڑ کر ایک تحریر پنجاب یا پنجابیوں یا ان کے کسی لیڈر کی مدح سرائی میں دکھا دیں ۔ اب آپ نے الزام لگایا ہے تو میں بھی تو دیکھوں برسر الزام کیا تھا، کچھ نہ کچھ تو ایسا ہو گا ہی تو آپ نے یہ کہا ہے، اب ایسا کیا تھا وہ آپ کا فرض ہے مجھے دکھائیں ۔

    یہ بتانے کے لئے کہ دیا گیا ربط جو دے مارا گیا تھا کسی تحقیقی جرنل کا نہیں، آپ کا بہت شکریہ ۔ میں بھول گیا تھا کہ ڈان انگلش اخبار میں رووف پاریکھ صاحب کے تحقیقی جرنل کا حوالہ دے کر غلط تاریخ بیان کرنا زیادہ مناسب ہوتا، اور اس زعم میں رہنا کہ اب تو کسی کو آریا اور دراوڑ کی تقسیم کا پتہ نہیں ہو گا ۔ اب آپ اہل زبان ہیں اس تحریر کی تشریح کرتے ہوئے مجھے شرمندگی ہو رہی ہے کہ اہل زبان کو سمجھ نہیں آئی تو دیگر تو زبان کے حامل نہیں انہیں خاک سمجھ آیا ہو گا؟ جس جملے کو آپ نے پکڑا ہے اس کا کہنے سے مراد تھی کہ ان علاقوں کے لوگ کم تہذیب یافتہ تھے، اب آپ انہیں بندر بنانے پر بضد ہیں تو آپ کے اجداد ہیں جو مرضی سلوک کریں ۔

    میں نے تو اس نظریہ کی بات کی تھی کہ جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں ان پر مشتمل ایک الگ مملکت بنائی جائے، یہ دو قومی نظریہ نہیں بلکہ نظریہ پاکستان تھا اور الہ آباد کے جلسہ میں اقبال نے پیش کیا تھا، اب اگر تعصب سے ہٹ کر سوچیں تو آپ کے اجداد ہی نے یہ بتایا تھا ۔

    میں نے اس تحریر میں یا کبھی اپنی کسی تحریر میں اپنے یا اپنی نسل کے اعلی ہونے کا اعلان نہیں فرمایا ۔ اس تحریر میں یہ عرض کیا تھا کہ جو اپنے آپ کو اعلی کہتے ہیں وہ اتنے اعلی نہیں ۔

    باقی اگر آپ آٹھ تحاریر اس بلاگ پر پیچھے چلی جائیں تو بتائے گا کہ اس مد میں آپ نے کیا کیا ہے؟ صرف “نان اردو سپیکر” ہی کار خیر میں حصہ لیتے رہیں گے؟ اور آپ جئے متحدہ سے ہی فارغ ہو کر دے رہے ۔

    • Abdullah says:

      عبداللہ لوگوں کے ترجمان بننا چھوڑ دیں، جن سے پوچھا گیا ہے ام کے منہ میں بھی زبان ہے ۔
      بلاگ منتظم

  22. محب صاحب تنقید اور نصحیت اس طرح کر تے ہیں۔کہ بندہ شرم سے پانی پانی ہو جاتا ھے۔
    اس تنقید سے کچھ حاصل ہی ہوتا ھے۔

  23. Abdullah says:

    تہزیب یافتہ،غیرت مندوں کی غیرت کی بے شمار مثالوں میں سے ایک مثال!

    http://www.dw-world.de/dw/article/0,,5827096,00.html

  24. جہانزیب says:

    عبداللہ آپ جتنے تعصب میں آگے نکل چکے ہیں وہاں آپ کے لئے دعا ہی کی جا سکتی ہے، کسی کی تحریر کھیر پکانے کے متعلق ہو وہاں بھی آپ ایم کیو ایم اور اردو اسپیکنگ کا کٹا لے کر گھس جاتے ہو ۔
    آپ کے دماغی تعصبی دنیا میں، جرائم صرف پنجاب میں ہوتے ہیں اور جو علاقے پنجاب میں نہیں وہاں یا تو جرائم ہوتے نہیں یا پنجابی ہجرت کر کے آنے والے نے کئے ہیں ۔
    آپ کے تبصرہ جات حذف کئے گئے ہیں، اگر آپ اپنی روش سے باز نہ آئے تو آپ سے لنک پوسٹنے کی سہولت بھی چھہن لی جائے گی ۔

    • Abdullah says:

      بہت خوب جب سچائی بتائی جاتی ہے تو آپ اور آپکے بھائی بند تبصرے حذف کرنا شروع کردیتے ہیں ،
      مینے یہ نہیں کہا کہ اور جگہوں پر جرائم نہیں ہوتے مگر آپکو دوسروں کے بارے میں بات کرتے وقت اپنے اوپر بھی نظر رکھنا چاہیئے میرا سچ لکھا تعصب ہے اور آپ کی من گھڑت کہانیاں حقائق ،
      پہلے خود کو سدھاریں پھر دوسروں پر آنکھیں نکالیں کیا سمجھے ،
      مجھے کوئی شوق نہیں آپ جیسوں کی بکواس پر تبصرہ کرنے کا!

      • جہانزیب says:

        اور آپ کو یہ بیماری بھی ہے کہ بکواس کئے بغیر رہ بھی نہیں سکتے ۔

  25. Abdullah says:

    اس میں کچھ اتنا جھوٹ بھی نہیں ہے تمام جرائم کی جڑ میں جاکر دیکھین کون بیٹھا ہوگا،جعلی پاسپورٹ سے لے کر جعلی شناختی کارڈ تک جعلی دواؤن سے لے جعلی دودھ تک،جعلی حکیموں سے لے کر جعلی ڈاکٹر اور جعلی پیروں فقیروں تک،
    اسلحے اور منشیات کے کاروبار مین مشہور پٹھان ہیں مگر انہین فیسیلیٹیٹ کون کرتا ہے؟؟؟؟
    ہر دو نمبری کام مین کون سب سے آگے ہے؟؟؟
    کونسا صوبہ کرپشن میں ہمیشہ اول نمبر رہا ہے؟؟؟
    معصوم بچے اور بچیون کے ساتھ جرائم،عورتوں کے ساتھ مظالم،کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں؟؟؟
    پہلےاپنے دودھ سے مینگنیاں نکالیں پھر دوسرے کے دودھ کو گندہ کہیں!

  26. جہانزیب صاحب، آپ نے رءوف پاریکھ کے تحقیقی مضمون کا تذکرہ کیا۔ میں نے اسی لئے اسکے بارے میں لکھا کہ جس طرح کے لنکس آپ نے فراہم کئے وہ اس موضوع کے بارے میں کیا بتا سکتے ہیں جبکہ اب تک یہ موضوع کسی بھی طور اپنے نتیجے پہ نہیں پہنچ سکا۔ اسکی مثال انکا وہ موضوع ہے۔ تحقیقداں وہ ہوتا ہے جس نے اپنی تحقیق پہ کوئ مقالہ لکھا ہو ۔ وہ کسی جرنل میں موجود ہو یا اسکے تھیسس میں۔
    آپ بات برائے بات کر رہے ہیں اسکے علاوہ کچھ نہیں۔
    آپکی اور خاور صاحب کی تحاریر محض اپنے آپکو اعلی نسل ثابت کرنے کے لئے لکھی گئیں۔
    جب اہل پجناب کی تعداد آپکے بقول ہندوستان سے سب سے زیادہ نفرت کرتی ہے تو پھر آپ نے اس پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کیوں پناہ لینی چاہی جو ہندءووں کی تاریخ ہے۔
    جب آپکے بزرگ بلاگر اپنی خاصی تحریروں میں ہندءووں کو کوڑھ مغز ثابت کر چکے ہیں اور اس پہ ایک حلقے کی طرف سے تحسیسن بھی پا چکے ہیں تو انہی ہندءووں کی تخلیقی اپچ کو آپ نے فوراً اپنی اجدادی وراثت کیوں بنالیا۔
    ہر خیال ایک ارتقائ مرحلے سے گذرتا ہے۔ آزادی ء پاکستان بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ اقبال نے اپنے طور پہ کسی وحی کی ہوئ چیز سے نتیجہ نہیں نکالا بلکہ چونکہ ان سے پہلے بہت سے لوگ کہہ چکے تھے کہ اگر یہ حالات رہے تو مسلمان اور ہندءووں کا مل کر رہنا نا ممکن ہوگا۔ اور انہیں علیحدہ مملکتوں میں رہنا ہوگا۔ اسی چیز پہ اقبال آگے بڑھے اور مسلم اکثریتی علاقوں کا نام لے ڈالا۔ ورنہ اس تحریک کا جو بنیادی لیڈر ہے وہ آپکی سر زمین سے تعلق نہیں رکھتا۔ بلکہ اس تحریک کے بیشتر رہ نما جنہوں نے تن، من دھن سے اسکے لئے کام کیا انکا تعلق اس سرزمین سے نہیں ہے۔
    قائد اعظم کو تو موجودہ پاکستان میں موجود علاقوں کے جاگیرداروں، وڈیروں اور سرداروں سے ڈیل کرنی پڑی۔ جسکے نتیجے میں انکی جاگیر اور سرداریت کو کوئ نقصان نہیں پہنچایا گیا۔
    ورنہ پنجاب میں یونینیسٹ پارٹی اور بلوچستان اور سرحد میں مقامی سرداروں کے متعلق آپ کہیں بھی جا کر پڑھ سکتے ہیں۔
    لوگ اگر پنجاب کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں تو اسکی وجہ انکا پاکستان کی آبادی میں سب سے بڑا حصہ ہے اور اسی طرح وسائل پہ بھی حصہ ہے۔ افواج پاکستان کو سب کوسنے کے لئے تیار نظر آتے ہیں مگر اس میں بھی اہل پنجاب کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔
    ٹی وی کے ایک پروگرام میں انورمقصود سے کسی نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے انڈیا میں مارشل لاء نہیں لگتا اور پاکستان مارشل لاء کے بغیر نہیں رہ پاتا۔ انہوں نے کہا کہ انڈین فوج سول زبانیں بولنے والے لوگوں پہ مشتمل ہے اور پاکستانی فوج ایک زبان بولنے والی پہ۔
    بہرحال، ا سب نے اپنی حد سے زیادہ متعصب اتحاد اور زبان سے ایک دفعہ پھر ثابت کیا کہ اگر ملک کے دوسرے حصوں میں لوگ آپ کے بارے میں منفی خیالات رکھتے ہیں تو اسکی چند ٹھوس وجوہات ہیں۔ بلاگرز کی اکثریت جو ایم کیو ایم کے خلاف لکھتی ہے انہیں کراچی کے بارے میں ابتدائ معلومات بھی نہیں ہیں۔ انکی معلومات انکے بزرگوں کے ذریعے ان تک پہنچی ہیں جس میں تعصب کی مقدار زیادہ ہے اور حقائق کی کم۔ جیسے ابھی اوپر کسی صاحب نے آپکے پیش کردہ حقائق کوتو ٹھیک اور عنیقہ کے پیش کردہ حقئق کو غلط قرار دے دیا۔ جبکہ آپ پیش کردہ حقائق کا حقیقت سے نہیں آپکے تعصب سے تعلق ہے۔ چونکہ میری باتیں انکے تعصب سے نہ مل سکیں تو وہ غلط ہوگئیں۔
    مثلاً آپکی یہ بات تو غلط ہو گئ کہ پنجاب کے علاقے کو مغلوں کے زمانے میں پنجاب کا نام دیا گیا۔ اور پنجابی نام کی زبان نے آج سے آٹھ سو سال پہلے جنم لیا جب با با فرید نے اس زبان میں شاعری کی۔
    لیکن آپکا یہ دعوی صحیح ہو گیا کہ آپ پانچ ہزار سال کی تاریخ رکھتے ہیں۔
    یہ بات تو غلط ثابت ہو گئ کہ آریا یہاں باہر سے آئے تھے اور یہاں کی مقامی قوم دراوڑ ہیں۔ لیکن یہ بات صحیح ثابت ہو گئ کہ پنجابی اس وقت پنجاب میں ذریعہ ء تعلیم ہے۔ جو چاہے آپکا حسن کرشمہ ساز کرے۔ میں اسکے بعد آپکی اس پوسٹ پہ لکھنے کا کچھ ارادہ نہیں رکھتی۔

  27. تصحیح کر لیں، میری یہ بات غلط ثابت ہو گئ کہ پنجاب کے علاقے کو مغلوں کے زمانے میں پنجاب کا نام ملا اور پنجابی زبان————-

  28. ماشاء اللہ عنیقہ پھر سے سب کو متعصب اور اپنی روایتی پنجاب دشمنی کو اصولی ثابت کر کے واپس چلی گئی ہیں اور ایک بار پھر خوبصورتی سے علامہ اقبال کو محض وقت کی دھار کو پہچانتے ہوئے دو قومی نظریہ اپنے نام کیش کروانے والا بنا دیا اور اصل کریڈٹ کسی اور قدیم مگر غیر پنجابی کو دے دیا۔

    کیا اعلی اصول پسندی اور غیر متعصبانہ رویہ ہے۔

  29. مجھے تو کچھ عجیب معا ملہ لگتا ھے۔
    آخری پنجابی ہی برے کیوں؟
    جب مان لیتے ہیں۔کہ پنجابی بہت برے ہیں
    تو پھر پٹھان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔
    سندھی اور بلوچی سےجو سلوک کر تے ہیں وہ بھی سب کو معلوم۔
    اس علم دریاو میں سب بہہ جاتے ہیں۔
    اصل موضوع کیا تھا؟
    کھیت کے کھیت کاٹ ڈالے مولیوں کے اور ابھی بھی کاں چٹا ہی ھے۔

    اس موضوع کا ذرا عوامی زبان میں حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    سب کھوتے یا گھوڑے ہیں۔ یعنی اصلی تے نسلی۔
    اسی حساب سے بولی بھی ھے۔
    جو کھوتا اور گھوڑا نہیں وہ خچر ہے۔
    یعنی یہ بھی اصلی تے نسلی۔
    خچر کی بولی بھی ھے کھوتے اور گھوڑے کی بولی کا مکسچر۔
    اب سب اپنی اپنی برتری ثابت کریں۔
    یہاں سے بحث شروع کرتے ہیں کہ خچر کا ابا کون تھا۔
    کھوتا یا گھوڑا؟
    لیکن جو بعد میں نسل ہوئی یعنی خچر اور کھوتے کی یا خچر اور گھوڑے کی
    اس میں اور ابتدائی نسل میں کیا فرق ھے؟

    اب کون سی والی اعلی نسلی ھے اور کونسی والی گھٹیا؟
    اور رگڑا رگڑی میں جو پیدا ہوتے گئے ان کی بولی کونسی والی ھے۔
    جد امجد کی یا بعد میں گڑبڑ کرنے والوں کی؟ا
    اور ان میں سے کون اعلی نسل کا کھوتا گھوڑا یا خچر ھےاور کونسا والا گھٹیا؟
    ان کی کونسی والی زبان یا بولی اعلی ھے اور کونسی گھٹیا؟
    برائے مہربانی اسے ثابت کریں۔
    اورثابت کریں کہ عبد اللہ نامی شخص کا شجرہ نصب کیا ھے۔

  30. عنیقہ ناز صاحبہ ، یہ تحریر لکھی ہی تعصب کی بنیاد پر گئی تھی اس لئے اس میں تعصب کا اظہار ہونا لازم ہوتا ہے، لیکن آپ نے تحریر کی اصل روح کو سمجھے بغیر اسے تاریخ میں رگیدنے کی کوشش کی ۔
    متعصب شخص کی حالت وہی ہوتی ہے جو آپ کی ہے، کہ اپنوں کا سب اچھا نظر آتا ہے، جھوٹی زبان سے بھی آپ کے منہ سے فکر پاکستان کے تبصرہ پر تبصرہ وارد نہیں ہو سکا، بلکہ یہ ثابت کرنے پر زور صرف کر رہی ہیں کہ ہماری نسل اور تاریخ وہ نہیں جو یہاں بیان کی گئی ہے جبکہ اس تحریر کا یہ مقصد ہی نہیں تھا ۔
    آپ کے تعصب کا تو یہ حال ہے کہ آپ کے بلاگ پر اگر کوئی کسی قوم کو سیدھا گدھا کہہ دے تو آپ کا تبصرہ آتا ہے “انٹرسٹنگ” لیکن کسی دوسرے کے بلاگ پر جا کر آپ صفائیاں دینے میں ہلکان ہوئے حاتی ہیں ۔اور جو کسی نے کہا نہیں بھی ہوتا وہ تلاش کرتی پھرتی ہیں کہ میرے بڑوں کو کسی نے بندر کہہ دیا ہے ویسے ابھی تک آپ نے جو مجھ پر ذاتی الزام لگایا کہ میرا بلاگ صرف کراچی اور ایم کیو ایم کے خلاف ایکٹو ہوتا ہے، اس کا ثبوت ادھار ہے ۔ یہی آپ کا تعصب ہے کہ لوگوں کو مخصوص سانچوں میں دیکھتی ہیں، اس بات سے کوئی غرض آپ کو نہیں ہوتی کہ اگلا کہہ کیا رہا ہے ۔ اس شخص کا جو مفروضی خاکہ آپ نے اپنے تعصب زدہ ذہن میں بنایا ہوتا ہے اسی پر تقریر جھاڑ کے چلی جاتی ہیں ۔ لیکن اتنی آسانی سے جان چھوٹنے والی نہیں ۔
    اپنے قوم کے ذہن میں اپنی تعلیم سے وہ بھرا زہر نکالنے کی کوشش کریں کہ جو سمجھتے ہیں کہ “مہاجروں” میں کوئی جرائم میں ملوث ہی نہیں، سب باہر والے کرتے ہیں ۔ اتنا پراگندہ ذہن ہو چکا ہے تعصب سے ان کا ۔
    اب اوپر کس نے کہا ہے کہ پنجابی پنجاب میں ذریعہ تعلیم، یہ بھی صرف تعصب والی عینک سے نظر آ سکتا ہے جو مجھے بہرحال نظر نہیں آیا ۔ خاور اور میں نے تو چلو اب آ کے اپنی نسل کو اعلی ثابت کیا ہے اور آپ کو پتنگے لگ گئے ہیں، آپ کے اپنے بلاگ پر جو اپنی قوم کی ذلالت دکھا رہے ہیں، ذرا ان کی مذمت میں مجھے ایک پیراگراف لکھا دکھا دیں ۔
    اس تعصب زدہ تحریر کا ایک فائدہ یہ ہو رہا ہے کہ آپ کا تعصب کھل کر سامنے آ رہا ہے، حالانکہ وہ اس وقت بھی ظاہر ہو رہا تھا جب آپ کو بند کمروں میں مہاجر لڑکوں کو بندوقیں تھمانے کا خیال آ رہا تھا اور جماعت اسلامی کے ہمدرد لوگوں نے کہا اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ تعلیم کا فائدہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ لڑکوں کو بندوقیں تھامنے کی بجائے قانونی اداروں کو مضبوط کرنے کی باتیں میٹنگز میں ہوتی ۔ لیکن آپ کی باتوں میں تو تعصب ہوتا ہی نہیں، وہ صرف خطہ پنجاب میں بسنے والوں میں پایا جاتا ہے ۔
    والسلام اور جان چھوڑنے کا شکریہ ۔

  31. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    تحریرکامقصدکیاہوتاہےلیکن لوگ اس کواپنے مقصدکےلیےاستعمال کرتےہیں۔ محب بھائي، کی بات ٹھیک تھی اگراس تحریرمیں کچھ غلطیاں تھی بجائے اسکی نشاندہی کرنےکےیہاں توہرتحریرکوتعصب کی آنکھ سےدیکھتاہے۔خداراان نفرتوں کوچھوڑئيے۔آپ ماشاء اللہ پڑھے لکھےہیں کوئی انپڑھ جاہل نہیں کہ آپ کوسمجھایاجائے۔کہ یہ سب دشمن کی چال ہےکہ ان سب کوکبھی اکٹھےنہ ہونےدیناجب یہ اکٹھےہوئےتولفظ پاکستان کی تعبیرہوجائےگی کیونکہ اتفاق میں برکت ہے۔ اسی لیئےتوسب اپنےمطلب کی بات کرتاہےہرکسی نےاپنی اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجدبنائي اوروہ اپنےآپ کوسب سےسجااورسب سےاعلی وارفع سمجھتاہے۔ اللہ تعالی میرےملک پراپنارحم وکرم کردےاورتمام لوگوں کےدل کوبلکہ تمام دنیاکےمسلمانوں کوایک رسی میں پرودے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

  32. محسن حجازی says:

    اس بلاگ پوسٹ پر کیے جانے والے تبصروں میں جنیاتی برتری وغیرہ کی بھی بات کی گئی اور مجھے ہٹلر اور نازیوں کے میڈیکل کیمپ یاد آگئےجہاں اعلی نسل کے جرمن پیدا کیے جاتے تھے۔
    ہر علاقے کی اپنی تہذیب ہوتی ہے۔ ایک کاؤ بوائے اور ایک حیدر آبادی پان میاں دو مختلف چیزیں ہیں ان میں تقابل یا برتری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    سندھی پنجابی بلوچی یا اردو بولنے والوں کو کاٹ کر دیکھا جائے تو خون کا رنگ مختلف نہیں، کروموسومز کی تعداد مختلف نہیں، تولید و انہضام مختلف نہیں تو پھر زعم کاہے کا ہے۔

  33. میں نے اسی پوسٹ کو دیکھ کر ، پڑھ نہیں پایا تھا پوری۔۔
    میں میں لکھی تھی

  34. اگر آپ تاریخ اٹھا کر پڑھیں تو پتہ چلے گا کہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے دریائے سندھ اور اسکا اطراف لکا علاقہ سندھو اور اسکی دوسری

    طرف کا علاقہ ہند کہلاتا تھا۔ اس وقت پنجاب کا نام و نشاں بھی نہ تھا۔ آپکی تہذیب کا تو سوال ہی کیا۔
    عنیقہ ناز says: August 11, 2010 at 9:31 am

    بی بی! مجھے نہائت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی آپ کے تعصب کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ایک ایسا متعصبانہ

    مکالمہ جس کی اؤل اول ابتدا آپ نے اپنے بلاگ پہ اور دوسرے بلاگرز کے بلاگز پہ اپنی متعصبانہ رائے اپنی پی ایچ ڈی کے عالمانہ

    زعم میں بغیر کسی علی حوالے اور دلیل کےشروع کی ۔ جس میں پٹھانوں کو آپکے بقول دنیا کی ناپسندیدہ ترین مخلوق اور احمق قرار

    دیا گیا ۔ چند ایک لوگوں نے آپ سے استدعا کی کہ آپ یہ طرز تکلم بدل لیں کہ یہ آپ کے اور آپکے سو کال علمی بوجھ کے شایان

    شان نہیں مگر آپ نے اپنی ضد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۔ ضد جسے آپ نے ناحق پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نتھی کرتے ہوئے ۔ اپنی

    علمی بصیرت یعنی ویژن کا نام دیا۔ جبکہ ایسا ویژن بجائے خود علم کی ضد ہوتا ہے جس میں محض ذاتی انا و تعصب شامل ہو۔

    آپکے حوصلے بڑھے۔ آپ نے اپنے فرمودات کو مہمیز کیا اور لگے ہاتھوں جعلی تمدنی تفاخر کی حامل ظاہر کرتے ہوئے آپ کے

    بلاگ پہ آپ کی تحریر پہ پنجابیوں کو گدھا وغیرہ کہا گیا ۔آپ نے آپکی حمایت اور پنجابی قوم کے خلاف متعصبانہ اور اور بعض

    اوقات گمنام تبصروں پہ کمال انسباط اور مسرت کا اظہار کیا ۔ جبکہ اپنے علمی بوجھ کا ۔ جس بوجھ کا اظہار آپ جابجا موقع بے موقع

    کرتی نظر آتی ہیں۔ جبکہ ہم بلامبالغہ درجنوں عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹیز کے پی ایچ ڈیز کو جانتے ہیں۔ جن سے گاہے گاہے مختلف

    امور پہ تبادلہ خیال بھی رہتا ہے۔ مگر اُنکا علمی بوجھ کبھی بھی انکے لئیے تفاخر کا سبب نہیں بنا بلکہ انکسار کا یہ علام ہوتا ہے کہ جب تک

    اُن سے کسی خاص نکتے پہ رائے طلب نہ کی جائے وہ زبان تک نہیں کھولتے اور پاس پڑوس بیٹھے ناواقف لوگوں کو یہ علم تک نہیں

    ہوتا کہ وہ کسی پی ایچ ڈی کے ساتھ مخاطب ہیں یا بُندو پنواڑی کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ اور عموما وہ رائے بھی صرف اپنے موضوع یا

    ٹاپک کی حد تک دیتے ہیں۔ نہ وہ ہر فن مولا ہوتے ہیں اور نی ہی وہ ہر موضوع میں ٹانگ اڑاتے ہیں۔ اور انکی رائے معتبر حوالوں

    سے آراء ہوتی ہے ۔ انکے علمی مآخذ ڈان اخبار کے اقبال پاریکھ جیسے نہیں ہوتے۔ بعض مجلسوں میں یون بھی ہوا کہ کسی ایک خاص

    موضوع پہ دو پی ایچ ڈیز حضرات کا ایک دوسرے سے علمی اختلاف بھی ہوا مگر ہر ایک نے اپنا علمی نکتہ نظر پیش کیا اور خاموش

    بیٹھ گئے ۔ نہ تو وہ کف اڑاتے ایک دوسرے کے گریبان تک پہنچے اور نہ ہی ایک دوسرے کی مادرِ علمی یا علاقائی تہذیب و تمدن کی

    بناء پہ متعصب ہوئے اور اس بناء پہ زہر آلو جواب آں غزل شروع کی۔حیرت ہوتی ہے کہ جب آپ فزکس میں پی ایچ ڈی کا بوجھ

    اٹھائے بغیر کسی علمی دلیل اور معلومات کے محض اپنے انیس سو چھیاسی میں آپ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی بناء پہ

    پٹھانوں کو دنیا کی بدترین مخلوق قرار دیتی ہیں۔ اس ضمن میں اور ایک لسانی جمائت سے اپنی وابستگی اور وفاداری ظاہر کرنے کے

    لئیے زیادہ ترواقعات آپ کے اپنے مبینہ تجربوں پہ مبنی ہوتے ہیں۔ جنہیں بڑی آسانی سے دلیل کی بنیاد پہ مفروضہ قرار دیا جاسکتا

    ہے۔

    بی بی! میں پہلے بھی کہیں آپ کو یہ لکھ چکا ہوں کہ آپ کے باطنی عزائم کیا ہیں اسکے بارے میں کم از کم میں لاعلم ہوں مگر اپنی

    تحاریر اور ان پہ آنے والے متعصب تبصرہ جات کی ستائش کے ذریعے آپ نفرت کی آگ بھڑکا رہی ہیں ۔تعصب کو ہوا دے رہی

    ہیں۔ ایک پوری قوم کو گدھا کہنے پہ میں نے آپ سے گزارش کی تھی کہ ایسے تبصروں کو حذف کردیں ۔ جب کہ آپ کے علمی

    بوجھ کے شایان شان یہ ہوتا کہ آپ غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر دو طرف سے متعصب روئیوں کی حوصلہ شکنی کرتیں

    اور اپنے تجربات بیان کرنے کے بعد کچھ مثبت چیزیں اپنے پڑھنے والوں کے سامنے رکھتیں ۔ اور اپنی علمی قابلیت کا مظاہرہ کرتیں

    جو اہل علم کا شیوہ ہے۔

    اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہوئے گزارش کرونگا کہ آگر آپ پنجاب یا پنجابی قوم کی تاریخ جاننا چاہتی ہیں تو اقبال پاریکھ اور وکی

    پیڈیا جیسے علمی حوالوں سے کچھ اوپر ہو کر آزاد ذہن سے کھوج لگائیں ۔ انشاءاللہ آپ کو شافی انکشافات ہونگے۔

    بی بی! کسی کی ٹانگ کھینچنا میرا مشغلہ کبھی بھی نہیں رہا لیکن آپ سے ایک بات گذارش کر دوں جعلی قسم کے تمدنی تفاخر آخر کار

    انسان کو ذلیل کرتے ہیں۔ آپکے پاس پنجاب اور پنجابی قوم کے بارے میں اسکے عشر عشیر تحقیقی مواد اور معلومات بھی نہ ہونگی

    جسقدر ہمارے پاس یوپی ۔ سی پی وغیرہ اور بھارت کے اندروں سے ہجرت برائے مسلمان ملک پاکستان اور پاکستان یاترا برائے کلیم

    جات اور منفعت ہیں۔ نیز کون کون سے دور میں کس کس علاقوں سے کتنی تعداد میں مہاجر آئے ۔ انھیں کراچی میں کیوں بسایا

    گیا۔ اسمیں لیاقت علی خان کا دوغلا قردار کتنا تھا۔ کیونکر اورکتنی بار ہندؤں کی چھوڑی جائئدادوں کے کلیم کی تحقیقات کے مطالبات

    کئیے گئے ، اردو کو لیاقت علی خان نے کیونکر پاکستان پہ قومی زبان کے طور پہ مسلط کیا جب کہ یہ زبان بین الصوبائی رابطے کے طور

    پہ تجویز کی گئی تھی۔ پاکستان وزارت خارجہ اور پاکستان کی دوسری بڑے اہم وزارتوں پہ لیاقت علی خان نے مخصوص لوگوں کو کس

    طرح اور کس وجہ سے قابض کیا ۔ بڑے بڑے عہدے تفویض کئیے ۔ ایسے عہدیداروں کی تعلیمی قابلیت کیا تھی۔ انکی سندیں

    بلوئیوں نے جلا دیں کہہ کر کہاں کہاں کسے کونسا عہدہ بندربانٹ کیا گیا۔ متحدہ ھندؤستان سے ایک دو سال اور تین سال تک بعد

    میں آنے والے لوگ کتنے کتنے بڑے کلیموں کے ذرئیے کڑوروں کے جائیداد کے مال اور وارث کیسے بن گئے ۔ جبکہ اپنے آبائی

    علاقوں میں وہ کون کون سے پیشے کرتے تھے۔ انکے پاس کتنی کینال اور یا بیگھے بارانی اور بنجر زمینیں تھیں ۔ جو صرف پاکستان کی

    خاطر ۔ اسلام کی خاطر ہجرت کر کے پاکستان پہنچے ان کا حق بعد میں آنے والے عیار لوگوں نے کسطرح ملی بھگت سے اڑایا ۔ اصل

    حقدار اور قابل احترام مہاجروں کو نام نہاد مہاجروں نے کس طرح انکے حق سے محروم کیا ۔ پاکسان میں کتنی بار ایسے لوگوں کی

    جائیدادوں کی تحقیق و تفتیش کے لئیے مطلبات اٹھتے رہے۔ پاکستان کی جڑوں میں حرام کی جائیدادیں کس طرح شامل ہوئیں جس

    کا خمیازہ آج تک کیون کر بھگتا جارہا ہے۔ کراچی میں وہ کون کون سی قابل صد احترام مہاجر شخصیات تھیں جنہوں نے اپنی زندگی کا

    مشن ہی ناجائز کلیموں سے حاصل کی گئیں جائیدادں کو انکے اصل حقدار مہاجروں کو دلوانے میں اپنی زندگی بتا دی۔ وغیرہ وغیرہ

    یہ وغیرہ وغیرہ بہت لمبا ہے اور مشکوک قسم کے ذاتی مبینہ تجربات پہ مبنی نہیں بلکہ ٹھوس معلومات پہ مبنی ہے ۔ جس میں قابل

    احترام بہت سے مہاجروں کے حوالے بھی شامل ہیں۔پاکستان کی موجودہ اور غیر صحیتمندانہ علمی و تحقیقی ماحول کو مدِ نظر رکھتے

    ہوئے کسی خاص ماحول کے بغیر اسطرح کی معلومات عام کرنے سے ہمیشہ گریز کیا ہے کیونکہ اس سے فائدے کی بجائے نقصان کا

    احتمال زیادہ ہے۔ اگر آپ بھی کوشش کریں تو آپ کو بھی معلومات مل جائیں گی۔ مگر جو انسان اپنے لئیے ٹریفک کے اصول توڑنا

    جائز اور دوسروں اسطرح کرنے پہ تنقید کرے ایسے کسی انسان سے غیر جانبداری اور دیانتداری کی توقع عبث ہے۔۔

    اسلئیے بی بی! سیانے کہتے ہیں جس بارے معلوم نہ ہو اس بارے اپنی زبان کھولنے سے پہلے سوچنا چاہئیے ۔ مانا کہ آپ فزکس میں

    ایک عدد پی ایچ ڈی ڈگری کی حامل ہیں مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ پنجاب اور پاکستان کے دیگر صوبوں یا قوموں پہ دوسروں کو

    چیلنج کرتے اپنی موہوم سی معلومات کو ٹھونسے کی کوشش کریں ، نہ صرف کوشش کریں بلکہ انتہائی تعصب کا مظاہر کرتےہوئے

    تحضیک اڑائیں۔

    آپ نے تعصب کے ہاتھوں علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ جیسی غیر متنازعہ مسلمان شخصیت سے بھی دو دو ہاتھ کرنے کی کوشش کی

    ہے اور نظریہ پاکستان کو سرسید احمد خان جیسےانگریزی غلام اور ملت اسلامیہ کے غدارروں کے سر باندھنے کی کوشش کی ہے۔جبکہ

    ازراہ تذکرہ عرض کرتا چلوں کہ علیگز یعنی علی گڑھ یونی ورسٹی کے قابل قدر اور لائق صد احترام طلباء کا تحریک پاکستان میں معتبر

    کرادر ہے جسے تمام پاکستان سراہتا ہے مگر اس کے باوجود پاکستان میں عقل سلیم رکھنے والے لوگ سرسید احمد خان کو جس نے

    ملت اسلامیہ کو انگریزوں کی غلامی کا خوگر کرنے کے لئیے اپنی زندگی وقف کی ۔ اس سرسیداحمد خان کو ملت اسلامیہ ہندوستان کا

    ہیرو نہیں سمجھتے ۔

    جہانزیب صاحب! سے بھی گزارش کرؤنگا کہ وہ بھی وسیع قلبی کا مظہر کریں اور پاکستان کے بہترین مفاد میں متعصبانہ رویہ اور

    تحاریر سے اختراز کریں کیونکہ چند ایک افراد خواہ وہ کس قدر ہی متعصب کیوں نہ ہوں ایک پورے طبقے یعنی کراچی میں بسنے والے

    اردو بولنے والوں کی کسی طور نمائیندگی نہیں کرتے ۔بہت ممکن ہے کہ ایسے افراد کے درپردہ مقاصد ہوں جس پہ وہ یہ کہہ سکیں

    دیکھا صاحب ہم نہ کہتے تھے۔ کہ ہپ پنجابی پٹھان وغیرہ کس ذہنیت کے لوگ ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ

    عنصر بھی ذہن میں رکھنا چاہئیے کہ پاکستان میں پاکستان کے کچھ دیدہ و نادیدہ دشمنوں کی یہ انتھک کوششیں ہیں کہ وہ کسی طور

    پاکستان میں مسلکی ، لسانی ، صوبائی یا ہر اسطرح کی تقسیم ابھار سکیں جس سے پاکستان کی طاقت منتشر ہو ۔ عوام میں انتشار پھیلے ۔

    انارکی یا لاقانونیت عام ہو۔ اور ان مذموم عناصر کو مختلف اہداف دئیے جاتے ہیں جن پہ ایسے لوگ دل وجان سے کام کرتے ہیں

    اور ہر اس اساس کو نشانہ بناتے ہیں جو پاکستان کی ملی یکجہتی کے لئیے ضروری ہے مثلا اسلام ، نظریہ پاکستان، افواج پاکستان۔ وغیرہ

    ایسی کوششوں میں پاکستان کے بیرونی دشمنوں کو پاکستان مین بہت سے اندرونی دشمن بھی میسر ہیں اور چونکہ انٹر نیت ایک تیزی

    سے ابھرتی ماس کمونیکیشن کا ذریعہ ہے ۔ اسلئیے کچھ عجب نہیں کہ کچھ لوگ اس پہ بھی مسلمانوں اور پاکستانیوں کے بیچ صوبائی ،

    مسلکی ، اور لسانی تعصب پھیلانے کا ملک دشمن زور شور سے کر رہے ہوں لہٰذا ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اور

    انکی سازشوں کا شکار ہونے سے بچا جائے کیونکہ یہی تو وہ چاہتے ہیں کہ تعصب کا جن بوتل سے باہر آجائے۔

    عام قارئین سے گذارش ہے کہ پنجابیوں یا پنجاب کی کراچی کے اردو بولنے والوں سے کوئی رنجش نہیں اور آبادی میں پاکستان کا

    سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے کراچی کی اردو بولنے والی قابل صد احترام آبادی کسی صورت میں بھی پنجاب کے لئیے خدشہ

    نہیں کہ خدانخواستہ پنجاب میں کراچی اور حیدر آباد میں بسنے والی اردو بولنے والوں کے خلاف تعصب پایا جائے۔ اسکے لئیے سب بڑا

    ثبوت اردو زبان ہے جسے پنجاب نے اسطرح اپنایا ہے کہ کراچی کی کُل اردو بولنے والی آبادی سے زیادہ لوگ اردو جانتے ہیں ۔ اردو

    میں لکھتے ہیں اور اردو بولنے والوں سے بڑھ کر اردو لکھتے ہیں۔ اسلئیے اگر کوئی فرد انی ذاتی حیثیت میں رعسب کا مظاہرہ کرتا ہے تو

    یہ اسکا ذاتی فعل ہے قومی فعل نہیں گردانا جانا چاہئیے۔ بعین اسی طرح جس طرح اردو بولنے والے چند ایک لوگوں کو پنجاب سے

    مفت کی چڑ ہے۔ ،

    محب علوی صاحب ! انکی تحقیق کی غرض سے پنجاب اورپاکستان میں بسنی والی مختلف قومیتوں کے بارے تحقیق کی تجویز ابہت

    مناسب ہے مگر اسکے لئیے علمی اور صحت مند ماحول پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔

    خدا پاکستان کو سیالب کی تباہ کاریوں سے نجات دے ہمیں سیدھے رستے پہ چلائے اور اچھے پاکستانی بننے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم

    سیلاب ذدگان کی مدد کر سکیں۔ امین

    جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

  35. Mansoor says:

    Bohat Umda Tabsara kia hay…. Waqyee Blogss daikh kar DIL khush ho gaya..:) Keep It Up..

    http://pakinokia.blogspot.com/

  36. wajiha says:

    kitney afsos ki baat hy ke hum apney Pakistani honey ko consider krney k bjaey adhi sadi se zyada ka arsa guzarney k bad bhi Sindhi or Punjabi ki behas me uljhey huey hn agr aisia mubahisa kisi ilmi maqsad se kya jaey to koi harj nhi magar is behas ka maqsad mehaz aik doosrey par keechar uchalna hy. Is behas ko parhney ke bad mujhey Baghdad me rehney waali wo qaum yad a gai jo Halaku Khan ki apni sarhad pr majudgi ke bawajud is behas me uljhi hui thi k BURRAQ halal hy ya haram

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔