تبدیلی

Saturday,6 November 2010
از :  
زمرات : پاکستان, امریکہ, سیاست

صدر براک اوبامہ کی شخصیت کے سحر سے امریکی عوام آہستہ آہستہ نکل رہے ہیں، جس کا اندازہ حالیہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے لگایا جا سکتا ہے، جس میں ریپبلکن پارٹی نے ہاوس میں اکثریت حاصل کر لی ہے ۔ اور بہت سے لوگ اب براک اوبامہ کو یک مدتی صدر کہنا شروع ہو گئے ہیں، حالانکہ یہ بات بعید از قیاس ہے، اس سے پہلے سابق صدر بل کلنٹن بھی انہی حالات سے گذر کر دوسری مدت کے لئے صدر منتخب ہو چکے ہیں، اور اس کے علاوہ فی الحال ریپبلکن پارٹی کے اندر سے ایسی کوئی شخصیت سامنے نہیں آ پا رہی جو براک اوبامہ کی ذاتی مقبولیت کے لئے خطرہ ہو، آ جا کر سارہ پیلن ہے جو فائدہ سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کے کرتا دھرتا سارہ پیلن کو ۲۰۱۲ سے پہلے غیر متحرک رکھنے کی تدابیر سوچ رہے ہیں ۔

لیکن اوبامہ تبدیلی کے دلکش نعرے کے ساتھ میدان میں آئے اور اپنی صدراتی مہم کے دوران پاکستانی افواج کے طرف سے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کی صورت میں امریکی افواج کا بذات خود پاکستان میں آپریشن کا عندیہ دے کر اپنے خیالات کا واضح اظہار کر چکے تھے، مگر پھر بھی پاکستانیوں کو ان سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں، حیرت انگیز طور پر اپنی صدارتی مہم کے دوران اوبامہ بیرونی ممالک میں امریکہ سے زیادہ مقبول تھے ۔

امسال براک اوبامہ بحثیت امریکی صدر پہلے افغانستان گئے، اور اب ان کا حالیہ دورہ جاری ہے جس میں چار ایشائی ممالک کا دورہ جاری ہے ۔ پاکستان کے بارے میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ پہلی دفعہ کوئی امریکی صدر ہندوستان تو جا رہا ہے لیکن پاکستان جو کہ خطہ کا اہم ملک ہے اور نیٹو ممالک کے بعد امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی ہے کا دروہ نہیں کیا جا رہا، اس سے پہلے سابق صدر بل کلنٹن کے دور میں بدترین حالات میں جب ملک میں مارشل لا تھا اور جمہوری حکومت ختم کر کے پرویز مشرف چیف ایگزیکٹو بنے ہوئے تھے، تب بھی صدر کی جانب سے دونوں ممالک کا دورہ کیا گیا تھا ۔ حالانکہ اس وقت خیال کیا جا رہا تھا کہ مارشل لاء کی وجہ سے امریکی صدر پاکستان کا دورہ شائد نہیں کرِیں گے ۔ ویسے تو ڈیموکریٹ پارٹی ہمیشہ سے پاکستان کی نسبت ہندوستان کے زیادہ قریب تصور کی جاتی ہے، لیکن ان حالات میں جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم اتحادی، جسے سب سے زیادہ ڈو مور کا الاپ سنایا جاتا ہے کا دورہ نہ کرنا کیا مثبت تبدیلی ہے؟ کیونکہ تبدیلی مثبت اور منفی دونوں طرح کی ہو سکتی ہے اور پاکستان کے حوالے سے حالیہ تبدیلی مثبت بالکل بھی نہیں ہے ۔

حالانکہ پاکستان کو یہ کہہ کر تسلی دی جا رہی ہے کہ اگلے سال ملیں گے اور تب ہندوستان نہیں جائیں گے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان سے اس طرح قطع نظر کرنا حکومت پاکستان کی کوتاہی ہے یا امریکہ کی ہٹ دھرمی؟

تبصرہ جات

“تبدیلی” پر 7 تبصرے کئے گئے ہیں
  1. عثمان says:

    میرے نزدیک تو یہ بڑی احسن بات ہے کہ امریکی صدر پاکستان کا دورہ نہیں کررہے۔ پچھلے دو دورے اور ان کے اثرات انتہائی تضحیک آمیز تھے۔ چند گھنٹوں پر مشتمل ایک سرد مہرانہ انداز میں دورہ کرنے سے بہتر ہے کہ دورہ نہ ہی ہو۔ اچھا ہے کہ اب کی بار پاکستانیوں پر صورتحال واضح ہے کہ علاقے اور عالمی سیاست میں ان کا اثر کس قدر کم ہے۔
    جہاں تک امریکی الیکشن کی بات ہے تو آپ مجھ سے بہتر جانتے ہوں گے۔ لیکن پھر بھی میرا خیال ہے کہ کانگریس کا الیکشن صدارتی مقبولیت کا صحیح پیمانہ نہیں۔ کلنٹن کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اگر میں غلطی پر نہیں تو غالبا اسی کی دہائی میں بھی کانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ تھا لیکن اس کے باوجود ریگن انتہائی مقبول صدر تھا۔ یہ بھی درست ہے کہ اس وقت رپبلکنز کے پاس کوئی قد آور شخصیت صدارت کے لئے موجود نہیں۔

  2. وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد اوبامہ کی تقریر دیکھی اور ایسا محسوس ہوا کہ اب امریکی صدر کی ترجیحات میں سرفہرست فقط “دہشت گردی” کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح اور موجودہ اقتصادی صورتحال بھی ہے۔ اس کی بڑی واضح مثال آج ممبئی پہنچنے کے بعد کی جانے والی اوبامہ کی تقریر سے ملتی ہے جس میں انہوں نے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت تو کی لیکن پاکستان یا کسی دوسری تنظیم کو براہ راست نام لے کر نشانہ نہیں بنایا۔ اس کے علاوہ بھارت سے ممکنہ دس ارب ڈالر کی تجارتی معاہدے بھی امریکی اقتصادیات کو بہتر کرنے کی ایک کوشش ہوسکتی ہے۔

    اور صاحب! مائی باپ کو یہاں آنے کی ضرورت ہی کیا، گر وہ یہاں آگئے تو ہمیں وائٹ ہاؤس کے طواف کا موقع کیسے ملے گا؟

  3. Faisal says:

    Sorry for english, I am currently on a pc not having urdu keyboard.
    As far as this election is concerned, there are few things to be considered.
    First, this is said to be the most expensive mid term election (around $4 billion) with the bailed out companies going against Obama and funding Republicans. So the buck stopped there 🙂
    Also, with very strong lobbies in the US and operating through media and major financial and energy giants, Israelis are not happy with the mid-eastern policies where settlement construction has been rejected by Obama and his team, time and again. Like it or not, he had to face it. Keep in mind the BP disaster and how they were made to pay almost $20 billion. On top of that, the bail out was done with strong conditionalities and a lot fo money was allocated for health sector too. So if you connect the dots, the nexus is quite obvious.
    Another conspiracy?
    🙂

  4. mussa baloch says:

    اسلام وعلیکم بھای صاحب کیا حال ہے میرا پہلے والا ویب لاگ ہک ہو گیا ہے اور اب نیا ویب لاگ یہ ہے آہند اس کو دیکھ لینا اور اپنے دوستوں کو ارسال کرنا
    http://daaljan.wordpress.com/ دالبندین آنلاین

  5. کیا اس بلاگ پر ہمیشہ ہی اتنی دیر بعد تحریر لگائی جاتی ہے۔
    اچھا لکھا گیا ہے اگر روانی جاری رہے تو خوشی ہو گی۔

  6. DAUD KHAN says:

    I WANT TO SORRY BECAUSE I M DOING POST IN ENGLISH.BECAUSE I HAVEN’T URDU KEYBOARD..
    AMERICAN PRESIDENT BETTER THAN PAKISTANI POLITICIAN BECAUSE HE TAKE CARE OF THEIR PUBLIC.

  7. السلام علیکم !!

    اسد بھائی کی بات میں جان ہے ۔ واقعی اب امریکہ معاشی بدحالی کی اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ وہ دہشت گردی کے علاوہ بھی کچھ دوسری ضروری سمتوں پر غور کرنا شروع کر چکا ہے

    اور یہ صرف عوامی سطح پر ہی نہیں بلکہ کانگریس اور امریکی صدر کی اپنی ترجیحات میں صاف نظر آرہا ہے

    واللہ اکبر ۔۔

تبصرہ کیجئے

اس بلاگ پر آپ کے تبصرہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
اگر آپ اپنے تبصرہ کے ساتھ تصویر لگانا چاہتے ہیں، تو یہاں جا کر تصویر لگائیں ۔